صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »رموز بیخودی
  3. »بخش 24 - در معنی اینکه بقای نوع از امومت است و حفظ و احترام امومت اسلام است

بخش 24 - در معنی اینکه بقای نوع از امومت است و حفظ و احترام امومت اسلام است

نوع انسانی کی بقا امومت (عورت کی مامتا )سے ہے اور امومت کا حفظ و احترام اسلام ہے

That the continuance of the species derives from motherhood, and that the preservation and honouring of motherhood is the foundation of Islam

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

نغمه خیز از زخمهٔ زن ساز مرد

از نیاز او دو بالا ناز مرد

مرد کے ساز سے عورت کا زخمہ نغمہ پیدا کرتا ہے ۔ یا آدمی کا ساز عورت کی مضراب ہی سے نغمہ سرا ہوتا ہے ۔ عورت کی نیازمندی مرد کے ناز کو دوبالا کردیتی ہے ۔

The instrument of man sings melodies When struck by woman’s plectrum; his soul’s pride Swells of her deference.

2

پوشش عریانی مردان زن است

حسن دلجو عشق را پیراهن است

قرآن مجید کے بیان کے مطابق عورتیں مردوں کی برہنگی کو چھپانے کے لیے لباس ہیں دل لبھانے والا حسن عشق کے لیے پیراہن بن گیا ۔ یہاں قرآن مجید کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے ھن لباس لکم و انتم لباس لھن عورتیں تمہار لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو ۔

The woman clothes The nakedness of man; the loveliness Of the beloved a garment weaves for love.

3

عشق حق پروردهٔ آغوش او

این نوا از زخمهٔ خاموش او

عشق حق عورت ہی کی آغوش میں پرورش پاتا ہے ۔ یہ نغمہ اسی کاخاموش زخمہ (مضراب)پیدا کرتا ہے ۔

The love of God is nourished at her breast, A lovely air struck from her silent hand;

4

آنکه نازد بر وجودش کائنات

ذکر او فرمود با طیب و صلوة

اس پاک وجود نے جس پر کائنات فخر کر رہی ہے یعنی رسول اللہ ﷺ نے عورت کا ذکر خوشبو اور نماز کے ساتھ فرمایا ۔

And he in whom all beings make their boast Declared he loved three things – sweet perfume, prayer, And womankind.

5

مسلمی کو را پرستاری شمرد

بهره ئی از حکمت قرآن نبرد

جس مسلمان نے عورت کو لونڈی سمجھا ، سمجھ لینا چاہیے کہ اسے قرآن کی حکمت سے کوئی حصہ نہیں ملا ۔

What Muslim reckons her A servant, nothing more, no part has won Of the Book’s wisdom.

6

نیک اگر بینی امومت رحمت است

زانکه او را با نبوت نسبت است

اگر تو غور کرے تو امومت سراسر رحمت ہے کیونکہ اسے نبوت سے نسبت ہے ۔

If thou lookest well, Motherhood is a mercy, being linked By close affinity to prophethood, And her compassion is the prophet’s own.

7

شفقت او شفقت پیغمبر است

سیرت اقوام را صورتگر است

وہ اس طرح کہ رسول اللہ ﷺ جس شفقت کا پیکر تھے اسی شفقت کا پرتو اللہ تعالیٰ نے ماؤں کے دلوں میں ڈالا ۔ پیغمبر قوموں کی سیرت کے سانچے تیار کرتے ہیں ۔ مائیں بھی اپنے دائرے میں یہی خدمت انجام دیتی ہیں ۔

For mothers shape the way that men shall go; Maturer, by the grace of Motherhood,

8

از امومت پخته تر تعمیر ما

در خط سیمای او تقدیر ما

امومت ہی کی بدولت ہماری حیثیت (تعمیر ) مستحکم ہوتی ہے ۔ ماں کی پیشانی پر جو خط ہوتا ہے وہی ہماری تقدیر ہے ۔

For mothers shape the way that men shall go; Maturer, by the grace of Motherhood, The character of nations is, the lines That score that brow determine our estate.

9

هست اگر فرهنگ تو معنی رسی

حرف امت نکته ها دارد بسی

اگر تیری عقل بات کی تہ تک پہنچ سکتی ہے تو لفظ امت پر غور کر ۔ اس میں بڑے نکتے ہیں ۔ یہ امومت کے حوالے سے کہا گیا ہے کیونکہ ان دونوں لفظوں کا مادہ ایک ہی ہے۔

Behind the form, our word community Hath, in the Persian, many subtleties.

10

گفت آن مقصود حرف «کن فکان»

زیر پای امهات آمد جنان

ماؤں کے قدموں میں جنت ملتی ہے ۔

He, for whose sake God said Let there be life, Declared that Paradise lies at the feet Of mothers.

11

ملت از تکریم ارحام است و بس

ورنه کار زندگی خام است و بس

قوم عورتوں کی عزت ہی سے قائم ہے ورنہ سمجھ لینا چاہیے کہ زندگی کا کام ناتمام ہے ۔

In the honouring of the womb The life communal is alone secured, Else is life raw and brutish.

12

از امومت گرم رفتار حیات

از امومت کشف اسرار حیات

زندگی کی رفتار امومت ہی کی بدولت تیز ہے اور زندگی کے بھید امومت ہی سے کھلتے ہیں ۔

Motherhood Quickens the pace of life, the mysteries Of life revealing; tortuously twists

13

از امومت پیچ و تاب جوی ما

موج و گرداب و حباب جوی ما

ہماری زندگی کی ندی میں جو پیچ و تاب یا گرداب پائے جاتے ہیں وہ سب امومت ہی سے ہیں ۔

The current of our stream, so that it flows Bubbling and whirling on its rapid course.

14

آن دخ رستاق زادی جاهلی

پست بالای سطبری بد گلی

وہ گنوار اور جاہل لڑکی جس کا قد چھوٹا، جسم موٹا اور خط و خال غیر موزوں ہیں وہ غیر مہذب بھی ہے ۔

Take any peasant woman, ignorant, Squat-figured, fat, uncomely

15

نا تراشی پرورش ناداده ئی

کم نگاهی کم زبانی ساده ئی

اس کی صحیح معنوں میں پرورش نہیں ہوئی کوتاہ نظر ہے، کم گو ہے اور بالکل سادہ ہے ۔

unrefined, Unlettered, dim of vision, simple, dumb;

16

دل ز آلام امومت کرده خون

گرد چشمش حلقه های نیلگون

تاہم وہ ماں بنی اور ماں کے تمام دکھ رنج سہہ کر دل کا خون کیا اور اس کی آنکھوں کے گرد نیلے حلقے پڑ گئے ۔

The pangs of motherhood have torn her heart, Dark, tragic rings have underscored her eyes;

17

ملت ار گیرد ز آغوشش بدست

یک مسلمان غیور و حق پرست

اگر قوم کو ایسی خاتون کے ہاتھ سے غیرت مند اور حق پرست مسلمان مل جائے ۔

If from her bosom the community Receive one Muslim zealous for the Faith, God’s faithful servant

18

هستی ما محکم از آلام اوست

صبح ما عالم فروز از شام اوست

تو ہمیں اقرار کرنا چاہیے کہ ہماری قومی ہستی اس خاتون کے رنج و غم اور درد و الم سے مستحکم ہے اسی کی شام سے ہماری صبح دنیا بھر کو چمکانے والی بنی ۔

all the pains she bore Have fortified our being, and our dawn Glows radiant in the lustre of her dusk.

19

وان تهی آغوش نازک پیکری

خانه پرورد نگاهش محشری

لیکن وہ نازک جسم والی عورت جس کی گود بچے سے خالی ہے اور محشر جس کی نگاہ کا خانہ زاد ہے ۔ قیامت جس کی نگاہوں کی لونڈی ہے

Now take the slender figure, bosomless, Close-cosseted, a riot in her glance

20

فکر او از تاب مغرب روشن است

ظاهرش زن باطن او نازن است

اس کا دماغ (فکر اور سوچ) مغرب کی چمک دمک سے روشن ہے ۔ بہ ظاہر عورت نظر آتی ہے لیکن اس کے باطن کو دیکھا جائے تو اسے عورت ہونے سے کوئی مناسبت نہیں ۔

Her thoughts resplendent with the Western light; In outward guise a woman, inwardly No woman she;

21

بندهای ملت بیضا گسیخت

تا ز چشمش عشوه ها حل کرده ریخت

اس نے ملت بیضا کے قاعدے اور ضابطے توڑ دیئے اور اپنی آنکھوں سے حل کئے ہوئے عشوے گراتی رہی (اس کی آنکھوں کی شرم و حیا نہیں رہی) ۔

she hath destroyed the bonds That hold our pure community secure; Her sacred charms are all unloosed and spilled;

22

شوخ چشم و فتنه زا آزادیش

از حیا نا آشنا آزادیش

وہ شوخ چشم ہے اس کی آزادی فتنے پیدا کرنے والی ہے اور وہ شرم و حیا سے کبھی آشنا نہیں ہوتی ۔

Bold-eyed her freedom is, provocative, And wholly ignorant of modesty;

23

علم او بار امومت بر نتافت

بر سر شامش یکی اختر نتافت

اس نے علم تو پڑھ لیا لیکن ماں ہونے کا بوجھ برداشت نہ کیا ۔ اس کی شام کی پیشانی پر ایک بھی ستارہ نہ چمکا یعنی ایک بھی بچہ پیدا نہ ہوا(نہ وہ ماں بنی اور نہ کسی بچے کو جنم دیا) ۔

Her learning is inadequate to bear The charge of motherhood, and on the dusk And evening of her days not one star shines;

24

این گل از بستان ما نارسته به

داغش از دامان ملت شسته به

ایسا پھول ہمارے باغ میں پیدا ہی نہ ہو تو بہتر ہے اور قوم کے دامن سے ایسے دھبے کا دھل ہی جانا بہتر ہے ۔

Better it were this rose had never grown Within our garden, better were her brand Washed from the skirt of the community.

25

لااله گویان چو انجم بی شمار

بسته چشم اندر ظلام روزگار

لا الہ کہنے والے تاروں کی مانند اتنے زیادہ ہیں کہ ان کی گنتی نہیں ہو سکتی ۔ اور وہ ابھی تک زمانے کی تاریکی میں آنکھیں بند کئے پڑے ہیں ۔

Stars without number whispering No god But God, ungleaming in the dark of time And not yet risen from nonentity,

26

پا نبرده از عدم بیرون هنوز

از سواد کیف و کم بیرون هنوز

انھوں نے ابھی تک عدم سے پاؤں باہر نہیں نکالا اور کیف و کم کی اس دنیا میں ابھی نہیں آئے غالباً مراد ہے کہ ابھی وہ اپنی ماؤں کے پیٹ میں ہیں ۔

Still wait without the bounded territories Of quality and quantity,

27

مضمر اندر ظلمت موجود ما

آن تجلی های نامشهود ما

جلووَں کی وہ کرنیں جو ابھی تک دیکھی نہیں گئیں ہماری موجود تیرگی کے اندر چھپی ہوئی ہیں ۔

being hid Within the shadows of our patent life, These our epiphanies still unbeheld;

28

شبنمی بر برگ گل ننشسته ئی

غنچه هائی از صبا نا خسته ئی

پھول کی پنکھڑی پر ابھی شبنم نہیں گری اور صبا نے کلیوں کو ابھی تک زخمی نہیں کیا یعنی کلیاں ابھی تک کھلی نہیں ۔

Dew not descended on the rose’s bloom, Buds not yet torn by the lascivious breeze.

29

بر دمد این لاله زار ممکنات

از خیابان ریاض امهات

ممکنات کا یہ لالہ زار ماؤں ہی کے باغ کی کیاریوں میں پھوٹے گا ۔

This garden of potentialities, These unseen tulips blossom from the bower Of fertile Motherhood.

30

قوم را سرمایه ای صاحب نظر

نیست از نقد و قماش و سیم و زر

اے حقیقت پر نظر رکھنے والے جان لے کہ قوم کا اصل سرمایہ روپیہ ، سروسامان ، چاندی اور سونا نہیں ۔

A people’s wealth Rests not, my prudent friend, in linen fine Or treasured hoards of silver and of gold;

31

مال او فرزند های تندرست

تر دماغ و سخت کوش و چاق و چست

اصل سرمایہ یہ ہے کہ اسے نوجوان ملیں ، جو تندرست ہوں ، ان کے دماغ تازہ ہوں ، سخت محنت و مشقت کے عادی ہوں اور چاق و چوبند رہیں ۔

Its riches are its sons, clean-limbed and strong Of body, supple-brained, hard-labouring, Healthy and nimble to high enterprise.

32

حافظ رمز اخوت مادران

قوت قرآن و ملت مادران

مائیں اخوت کے بھید کی نگہبان (محافظ) ہیں ۔ قرآن مجید اور ملت کے لیے تقویت(قوت) کا باعث ہیں ۔ (ماؤں کی تربیت ہی سے اولاد میں بھائی چارے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔ وہ قرآن و ملت کی تقویت کا باعث بنتی ہیں ) ۔

Mothers preserve the clue of Brotherhood, The strength of Scripture and Community.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

کودکی را دیدی ای بالغ نظر

کو بود از معنی خود بی خبر

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 23 - در معنی اینکه کمال حیات ملیه این است که ملت مثل فرد احساس خودی پیدا کند و تولید و تکمیل این احساس از ضبط روایات ملیه ممکن گردد

اگلی نظم

مریم از یک نسبت عیسی عزیز

از سه نسبت حضرت زهرا عزیز

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 25 - در معنی اینکه سیدة النساء فاطمة الزهراء اسوه کامله ایست برای نساء اسلام

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور