صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »رموز بیخودی
  3. »بخش 25 - در معنی اینکه سیدة النساء فاطمة الزهراء اسوه کامله ایست برای نساء اسلام

بخش 25 - در معنی اینکه سیدة النساء فاطمة الزهراء اسوه کامله ایست برای نساء اسلام

مسلمان عورتوں کے لیے سیدۃ النسا فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اسوہَ کاملہ ہیں

That the Lady Fatima is the perfect pattern of Muslim womanhood

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

مریم از یک نسبت عیسی عزیز

از سه نسبت حضرت زهرا عزیز

حضرت مریم تو حضرت عیسیٰ سے (مادرانہ) نسبت کی بنا پر ایک وجہ سے عزیز ہیں جبکہ فاطمۃ الزہرا ایسی تین نسبتوں سے عزیز ہیں ۔

Mary is hallowed in one line alone, That she bore Jesus; Fatima in three.

2

نور چشم رحمة للعالمین

آن امام اولین و آخرین

پہلی نسبت یہ کہ آپ حضرت رحمتہ اللعالمین کی نو ر نظر تھیں ، جو پہلوں اور پچھلوں کے امام تھے ۔

For that she was the sweet delight of him Who came a mercy to all living things, Leader of former as of latter saints,

3

آنکه جان در پیکر گیتی دمید

روزگار تازه آئین آفرید

ان کی وجہ سے دنیا کے جسم میں جان پھونکی گئی اور ایک ایسا زمانہ معرض وجود میں آیا جس کے قاعدے ،قانون اور آئین بلکل نئے تھے ۔

Who breathed new spirit into this dead world And brought to birth the age of a New Law.

4

بانوی آن تاجدار «هل اتی»

مرتضی مشکل گشا شیر خدا

دوسری نسبت یہ کہ حضرت فاطمہ ہل اتیٰ کے تاج دار کی حرم تھیں ۔ یعنی حضرت علی المرتضیٰ جو اللہ کے شیر تھے اور مشکلیں آسان کر دیتے تھے ۔

His lady she, whose regal diadem God’s words adorn Hath there come any time, The chosen one, resolver of all knots And hard perplexities, the Lion of God,

5

پادشاه و کلبه ئی ایوان او

یک حسام و یک زره سامان او

وہ بادشاہ تھے لیکن ایک تنگ و تاریک حجرہ گویا ان کا محل تھا ۔ ایک تلوار اور ایک زرہ کا کل سروسامان تھا ۔

An emperor whose palace was a hut, Accoutred with one sword, one coat of mail.

6

مادر آن مرکز پرگار عشق

مادر آن کاروان سالار عشق

تیسری نسبت یہ کہ آپ ان دو جلیل القدر بزرگوں کی والدہ تھیں جن میں سے ایک عشق حق کی پرکار کے مرکز تھے اور دوسرے کو عشق حق کی قافلہ سالاری ملی تھی ۔

And she his mother, upon whom revolves Love’s compasses, the leader of Love’s train,

7

آن یکی شمع شبستان حرم

حافظ جمعیت خیرالامم

پہلے حضرت حسن تھے جو حرم پاک کی شمع تھے ۔ انھوں نے بہترین امت یعنی ملت اسلامیہ کی جمیعت محفوظ رکھی ۔

That single candle in the corridor Of sanctity resplendent, guardian Of the integrity of that best race Of all God’s peoples;

8

تا نشیند آتش پیکار و کین

پشت پا زد بر سر تاج و نگین

اس لیے حکمرانی کو ٹھکرادیا کہ آپس میں جنگ اور عداوت کی جو آگ بھڑک اٹھی تھی وہ بجھ جائے ۔ یہاں اس خانہ جنگی کی طرف اشارہ ہے جو حضرت علی کے عہد خلافت میں شام کی طرف سے شروع ہوئی تھی ۔ حضرت علی کے بعد حضرت امام حسن خلیفہ منتخب ہوئے اور آپ کو خانہ جنگی روکنے کی اور کوئی صورت نظر نہ آئی تو خلافت چھوڑ دی ۔

who, that the fierce flame Of war and hatred might extinguished be, Trod underfoot the crown and royal ring.

9

وان دگر مولای ابرار جهان

قوت بازوی احرار جهان

دوسرے حضرت امام حسین دنیا بھر کے نیکو ں کے آقا اور احرار کے لیے قوت بازو تھے ۔

His mother too, the lord of all earth’s saints And strong right arm of every freeborn man,

10

در نوای زندگی سوز از حسین

اهل حق حریت آموز از حسین

زندگی کے نغمے میں صرف حضرت امام حسین کی وجہ سے سوز پیدا ہوا اور اہل حق نے انہیں سے آزادی کا سبق لیا ۔

Husain, the passion in the song of life, Teacher of freedom to God’s chosen few.

11

سیرت فرزند ها از امهات

جوهر صدق و صفا از امهات

بیٹوں کی سیرتیں ماؤں کی آغوش میں تیار ہوتی ہیں ۔ انسانی فطرت میں سچائی اور پاکیزگی کے جو جوہر ہیں وہ ماؤں ہی کی تربیت سے چمکتے ہیں ۔

The character, the essential purity Of holy children from their mothers come.

12

مزرع تسلیم را حاصل بتول

مادران را اسوهٔ کامل بتول

تسلیم کی کھیتی کا حاصل فاطمہ زہرہ تھیں اور آپ مسلمان ماؤں کے لیے اسوہَ کامل بن گئیں ۔

She was the harvest of the well-sown field Of self-surrender, to all mothers she The perfect pattern, Fatima the chaste.

13

بهر محتاجی دلش آنگونه سوخت

با یهودی چادر خود را فروخت

ایک محتاج کی خاطر حضرت فاطمہ کا دل کچھ اس طرح جلا (انھیں بے حد دکھ پہنچا) اتنی متاثر ہوئیں کہ اس کی امداد کے لیے اپنی چادر ایک یہودی کے ہاتھ بیچ ڈالی ۔

Her heart so grieved, because one came in need, She stripped her cloak and sold it to a Jew;

14

نوری و هم آتشی فرمانبرش

گم رضایش در رضای شوهرش

نوری اور ناری فرشتے اورر پری آپ کے فرمانبردار تھے ۔ شوہر کی فرمانبرداری کا یہ عالم تھا کہ آپ نے اپنی مرضی شوہر کی مرضی میں گم کر دی تھی (سراپا تسلیم و رضا تھیں ) ۔

Though creatures all, of light alike and fire, Obeyed her bidding, yet she sank her will In her good consort’s pleasure.

15

آن ادب پروردهٔ صبر و رضا

آسیا گردان و لب قرآن سرا

آپ نے صبر و رضا کی ادب گاہ میں تربیت پائی تھی اور صبر و رضا کی کیفیت یہ تھی کہ چکی پیستی جاتیں اور کلام اللہ کی تلاوت کرتی جاتیں ۔

Fortitude And meekness were her schooling; while her lips Chanted the Book, she ground the homely mill

16

گریه های او ز بالین بی نیاز

گوهر افشاندی بدامان نماز

آپ کے آنسو کبھی تکیے پر نہ گرے ۔ نماز کے لیے کھڑی ہوتیں تو آنکھوں سے آنسو موتیوں کی طرح گرنے لگتے ۔

No pillow needed she to catch her tears, But wept contrition’s offering of pearls Upon the skirt of prayer;

17

اشک او بر چید جبریل از زمین

همچو شبنم ریخت بر عرش برین

جبرئیل ان کے آنسووَں کو زمین سے اٹھا لے جاتے اور شبنم کی طرح عرش بریں پر ڈال دیتے ۔

which Gabriel stooped To gather, as they glistened in the dust, And rained like dew upon the Throne of God.

18

رشتهٔ آئین حق زنجیر پاست

پاس فرمان جناب مصطفی است

اللہ تعالیٰ کے قانون کی ڈوری نے میرے پاتھ پاؤں باندھ رکھے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کا پاس مجھے روک رہا ہے ۔

God’s Law a fetter locks about my feet To guard secure the Prophet’s high behest,

19

ورنه گرد تربتش گردیدمی

سجده ها بر خاک او پاشیدمی

ورنہ میں حضرت فاطمہ کے مزار کا طواف کرتا اور اس مقام پر سجدہ ریز ہوتا ۔

Else had I surely gone about her tomb And fallen prostrate, worshipping her dust.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

نغمه خیز از زخمهٔ زن ساز مرد

از نیاز او دو بالا ناز مرد

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 24 - در معنی اینکه بقای نوع از امومت است و حفظ و احترام امومت اسلام است

اگلی نظم

ای ردایت پردهٔ ناموس ما

تاب تو سرمایهٔ فانوس ما

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 26 - خطاب به مخدرات اسلام

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور