صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »رموز بیخودی
  3. »بخش 26 - خطاب به مخدرات اسلام

بخش 26 - خطاب به مخدرات اسلام

خطاب بہ مخدرات (خواتین) اسلام

Address to the veiled ladies of Islam

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
11

ای ردایت پردهٔ ناموس ما

تاب تو سرمایهٔ فانوس ما

اے مسلمان خاتون! تیری چادر ہماری عزت و ناموس کا پردہ ہے ۔ اور تیری روشنی ہمارے فانوس کے لیے چمک دمک کا سامان بہم پہنچاتی ہے (قندیل کا سرمایہ ہے) ۔

O thou, whose mantle is the covering That guards our honour, whose effulgence Our candle’s capital

22

طینت پاک تو ما را رحمت است

قوت دین و اساس ملت است

تیری پاکیزہ فطرت ہمارے لیے باعث رحمت ہے ۔ اسی سے دین کی قوت ہے اور یہی ہماری قوم کی بنیاد ہے ۔

whose nature pure To us a mercy, our religion’s strength, Foundation of our true community!

33

کودک ما چون لب از شیر تو شست

لااله آموختی او را نخست

بچے نے جب تیرے دودھ سے لب تر کئے (دودھ پینا شروع کیا) تو تو نے سب سے پہلے اسے کلمہ توحید سکھایا ۔

Our children’s lips, being suckled at thy breast, From thee first learn to lisp No god but God.

44

می تراشد مهر تو اطوار ما

فکر ما گفتار ما کردار ما

تیری ہی محبت میں ہمارے طور طریقے ، ہماری سوچ بچار، ہماری بات چیت اور ہمار ے کردار ڈھلتے ہیں ۔

Thy love it is, that shapes our little ways, Thy love that moulds our thoughts, our words, our deeds.

55

برق ما کو در سحابت آرمید

بر جبل رخشید و در صحرا تپید

ہماری بجلی، جو تیرے بادل کی آغوش میں آرام پا رہی تھی وہ پہاڑوں پر چمکی اور صحراؤں میں کڑکی ۔

Our lightning-flash, that slumbered in thy cloud, Glitters upon the mountain, sweeps the plain.

66

ای امین نعمت آئین حق

در نفسهای تو سوز دین حق

اے مسلمان خاتون! تجھے قدرت نے آئین حق کی نعمت کی امانت دار بنایا ۔ تیری سانسوں میں دین حق کی حرارت بھری ہوئی ہے ۔

O guardian of the blessings of God’s Law, Thou from whose breath the Faith of God draws fire,

77

دور حاضر تر فروش و پر فن است

کاروانش نقد دین را رهزن است

دور حاضر بڑا مکار اور عیار ہے ۔ اس کی حقیقت کچھ ہے اور ظاہر کچھ ۔ اس کے قافلے میں دن کی متاع لوٹی جاتی ہے ۔

Coxcomb and crafty is the present age, Its caravan a highwayman, well armed To seize and spoil Faith’s riches;

88

کور و یزدان ناشناس ادراک او

ناکسان زنجیری پیچاک او

یہ اندھا ہے اور اس کا فہم خدا کو نہیں پہچانتا ۔ بے حقیقت لوگ اس کے چکروں میں پڑ کر قیدی بن چکے ہیں ۔

blind its brain, That knoweth naught of God; ignoble they Who are the captives of its twisted chains;

99

چشم او بیباک و ناپرواستی

پنجهٔ مژگان او گیراستی

اس کی آنکھیں بے باک، شوخ اور بے پردہ ہیں ۔ اس کی پلکوں کا پنجہ جہاں پڑ جائے گڑ جاتا ہے ۔

Bold is its eye, and reckless; swift to snatch The talons of its lashes;

1010

صید او آزاد خواند خویش را

کشتهٔ او زنده داند خویش را

جو وجود اس کا شکار ہو جاتا ہے عجیب بات یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو آزاد کہتا ہے جو اس کا کشتہ ہو جاتا ہے وہ اپنے آپ کو زندہ سمجھتا ہے ۔

its poor prey Calls itself free, its victim vaunts it lives! Thine is the hand that keepeth fresh and green

1111

آب بند نخل جمعیت توئی

حافظ سرمایهٔ ملت توئی

اے مسلمان خاتون! تجھی سے امید ہے کہ اس فتنہ انگیز دور میں ہماری جمیعت کے نخل کی آبیاری کرے گی اور تو ہی ہماری ملت کے سرمائے کی نگہبان ہے ۔

The young tree of our Commonwealth, as thou Guardest inviolate the capital Of our Community.

1212

از سر سود و زیان سودا مزن

گام جز بر جادهٔ آبا مزن

تو نے نفع اور نقصان کے جو پیمانے سوچے ہیں انہیں نظر انداز کر اور صرف باپ دادا کے رستے پر ہی چلنا تیرے لیے مناسب ہے ۔

Fret not thyself To calculate the profit and the loss, Being content to tread the well-worn path Our fathers went before.

1313

هوشیار از دستبرد روزگار

گیر فرزندان خود را در کنار

اے مسلمان خاتون! زمانے کی لوٹ مار سے ہوشیار رہ ۔ اپنے بیٹوں کو آغوش میں لے لے۔

Be wary of Time’s depredations, and to thy broad breast Gather thy children close

1414

این چمن زادان که پر نگشاده اند

ز آشیان خویش دور افتاده اند

یہ چمن میں پیدا ہوئے لیکن انھوں نے ابھی پر نہیں تولے اور اپنے گھونسلے سے بہت دور پڑے ہیں ۔ مطلب یہ کہ ان کی طرف توجہ کر ان کی صحیح اسلامی طریقے پر پرورش و تربیت کر ۔

these meadow-chicks, Unfledged as yet co fly, have fallen far From their warm nest.

1515

فطرت تو جذبه ها دارد بلند

چشم هوش از اسوهٔ زهرا مبند

اے مسلمان خاتون! تیری فطرت میں بڑے بلند جذبے موجزن ہیں ۔ تو ہوش کی نظر حضرت فاطمہ کے نمونے پر جما ئے رکھ ۔

High, high the cravings are That wrestle with thy soul; be conscious still And ever of thy model, Fatima,

1616

تا حسینی شاخ تو بار آورد

موسم پیشین بگلزار آورد

تا کہ تیری شاخ میں بھی امام حسین جیسا پھل لگے اور ہمارے باغ میں پہلی سی بہار پھر آ جائے ۔

So that thy branch may bear a new Husain, Our garden blossom with the Golden Age.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

مریم از یک نسبت عیسی عزیز

از سه نسبت حضرت زهرا عزیز

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 25 - در معنی اینکه سیدة النساء فاطمة الزهراء اسوه کامله ایست برای نساء اسلام

اگلی نظم

من شبی صدیق را دیدم بخواب

گل ز خاک راه او چیدم بخواب

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 27 - قل هوالله احد

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور