صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »رموز بیخودی
  3. »بخش 26 - خطاب به مخدرات اسلام

بخش 26 - خطاب به مخدرات اسلام

خطاب بہ مخدرات (خواتین) اسلام

Address to the veiled ladies of Islam

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

ای ردایت پردهٔ ناموس ما

تاب تو سرمایهٔ فانوس ما

اے مسلمان خاتون! تیری چادر ہماری عزت و ناموس کا پردہ ہے ۔ اور تیری روشنی ہمارے فانوس کے لیے چمک دمک کا سامان بہم پہنچاتی ہے (قندیل کا سرمایہ ہے) ۔

O thou, whose mantle is the covering That guards our honour, whose effulgence Our candle’s capital

2

طینت پاک تو ما را رحمت است

قوت دین و اساس ملت است

تیری پاکیزہ فطرت ہمارے لیے باعث رحمت ہے ۔ اسی سے دین کی قوت ہے اور یہی ہماری قوم کی بنیاد ہے ۔

whose nature pure To us a mercy, our religion’s strength, Foundation of our true community!

3

کودک ما چون لب از شیر تو شست

لااله آموختی او را نخست

بچے نے جب تیرے دودھ سے لب تر کئے (دودھ پینا شروع کیا) تو تو نے سب سے پہلے اسے کلمہ توحید سکھایا ۔

Our children’s lips, being suckled at thy breast, From thee first learn to lisp No god but God.

4

می تراشد مهر تو اطوار ما

فکر ما گفتار ما کردار ما

تیری ہی محبت میں ہمارے طور طریقے ، ہماری سوچ بچار، ہماری بات چیت اور ہمار ے کردار ڈھلتے ہیں ۔

Thy love it is, that shapes our little ways, Thy love that moulds our thoughts, our words, our deeds.

5

برق ما کو در سحابت آرمید

بر جبل رخشید و در صحرا تپید

ہماری بجلی، جو تیرے بادل کی آغوش میں آرام پا رہی تھی وہ پہاڑوں پر چمکی اور صحراؤں میں کڑکی ۔

Our lightning-flash, that slumbered in thy cloud, Glitters upon the mountain, sweeps the plain.

6

ای امین نعمت آئین حق

در نفسهای تو سوز دین حق

اے مسلمان خاتون! تجھے قدرت نے آئین حق کی نعمت کی امانت دار بنایا ۔ تیری سانسوں میں دین حق کی حرارت بھری ہوئی ہے ۔

O guardian of the blessings of God’s Law, Thou from whose breath the Faith of God draws fire,

7

دور حاضر تر فروش و پر فن است

کاروانش نقد دین را رهزن است

دور حاضر بڑا مکار اور عیار ہے ۔ اس کی حقیقت کچھ ہے اور ظاہر کچھ ۔ اس کے قافلے میں دن کی متاع لوٹی جاتی ہے ۔

Coxcomb and crafty is the present age, Its caravan a highwayman, well armed To seize and spoil Faith’s riches;

8

کور و یزدان ناشناس ادراک او

ناکسان زنجیری پیچاک او

یہ اندھا ہے اور اس کا فہم خدا کو نہیں پہچانتا ۔ بے حقیقت لوگ اس کے چکروں میں پڑ کر قیدی بن چکے ہیں ۔

blind its brain, That knoweth naught of God; ignoble they Who are the captives of its twisted chains;

9

چشم او بیباک و ناپرواستی

پنجهٔ مژگان او گیراستی

اس کی آنکھیں بے باک، شوخ اور بے پردہ ہیں ۔ اس کی پلکوں کا پنجہ جہاں پڑ جائے گڑ جاتا ہے ۔

Bold is its eye, and reckless; swift to snatch The talons of its lashes;

10

صید او آزاد خواند خویش را

کشتهٔ او زنده داند خویش را

جو وجود اس کا شکار ہو جاتا ہے عجیب بات یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو آزاد کہتا ہے جو اس کا کشتہ ہو جاتا ہے وہ اپنے آپ کو زندہ سمجھتا ہے ۔

its poor prey Calls itself free, its victim vaunts it lives! Thine is the hand that keepeth fresh and green

11

آب بند نخل جمعیت توئی

حافظ سرمایهٔ ملت توئی

اے مسلمان خاتون! تجھی سے امید ہے کہ اس فتنہ انگیز دور میں ہماری جمیعت کے نخل کی آبیاری کرے گی اور تو ہی ہماری ملت کے سرمائے کی نگہبان ہے ۔

The young tree of our Commonwealth, as thou Guardest inviolate the capital Of our Community.

12

از سر سود و زیان سودا مزن

گام جز بر جادهٔ آبا مزن

تو نے نفع اور نقصان کے جو پیمانے سوچے ہیں انہیں نظر انداز کر اور صرف باپ دادا کے رستے پر ہی چلنا تیرے لیے مناسب ہے ۔

Fret not thyself To calculate the profit and the loss, Being content to tread the well-worn path Our fathers went before.

13

هوشیار از دستبرد روزگار

گیر فرزندان خود را در کنار

اے مسلمان خاتون! زمانے کی لوٹ مار سے ہوشیار رہ ۔ اپنے بیٹوں کو آغوش میں لے لے۔

Be wary of Time’s depredations, and to thy broad breast Gather thy children close

14

این چمن زادان که پر نگشاده اند

ز آشیان خویش دور افتاده اند

یہ چمن میں پیدا ہوئے لیکن انھوں نے ابھی پر نہیں تولے اور اپنے گھونسلے سے بہت دور پڑے ہیں ۔ مطلب یہ کہ ان کی طرف توجہ کر ان کی صحیح اسلامی طریقے پر پرورش و تربیت کر ۔

these meadow-chicks, Unfledged as yet co fly, have fallen far From their warm nest.

15

فطرت تو جذبه ها دارد بلند

چشم هوش از اسوهٔ زهرا مبند

اے مسلمان خاتون! تیری فطرت میں بڑے بلند جذبے موجزن ہیں ۔ تو ہوش کی نظر حضرت فاطمہ کے نمونے پر جما ئے رکھ ۔

High, high the cravings are That wrestle with thy soul; be conscious still And ever of thy model, Fatima,

16

تا حسینی شاخ تو بار آورد

موسم پیشین بگلزار آورد

تا کہ تیری شاخ میں بھی امام حسین جیسا پھل لگے اور ہمارے باغ میں پہلی سی بہار پھر آ جائے ۔

So that thy branch may bear a new Husain, Our garden blossom with the Golden Age.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

مریم از یک نسبت عیسی عزیز

از سه نسبت حضرت زهرا عزیز

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 25 - در معنی اینکه سیدة النساء فاطمة الزهراء اسوه کامله ایست برای نساء اسلام

اگلی نظم

من شبی صدیق را دیدم بخواب

گل ز خاک راه او چیدم بخواب

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 27 - قل هوالله احد

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور