صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »رموز بیخودی
  3. »بخش 27 - قل هوالله احد

بخش 27 - قل هوالله احد

در تفسیر سورہَ اخلاص مثنوی کے مطالب کا خلاصہ سورہ اخلاص کی روشنی میں قل ھو اللہ احد

Summary of the purport of the poem in exegesis of the Surah of Pure Faith “Say: He is God, One”

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
11

من شبی صدیق را دیدم بخواب

گل ز خاک راه او چیدم بخواب

ایک رات میں نے حضرت ابوبکر صدیق کو خواب میں دیکھا اور آپ کے راستے کی خاک سے پھول چنے ۔

I dreamed one night I looked upon Siddiq And plucked a rose that blossomed at his feet

22

آن «امن الناس» بر مولای ما

آن کلیم اول سینای ما

وہ ابوبکر جن کے احسان ہمارے آقا و مولا پر انسانوں سے زیادہ ہیں ۔ وہ ابوبکر جو ہمارے کوہ سینا کے پہلے کلیم تھے ۔ پہلے مصرع کے متعلق حدیث درج ہے کہ رفاقت اور مال میں حضرت ابوبکر کے احسان سب سے بڑھ کر ہے ۔ یعنی انھوں نے سب سے بڑھ کر صحابیت کا حق ادا کیا اور انھوں نے سب سے بڑھ کر پیغام حق کی اشاعت میں مال صرف کیا ۔ امن الناس اشارہ ہے اس حدیث کی طرف کی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا امن الناس علی فی صحبتہ و مالہ ابوبکر تمام انسانوں میں سے مجھ پر رفاقت اور مال میں سب سے بڑھ کر احسان ابوبکر نے کیے ہیں ۔

He, that most generous was of all mankind Unto our Master, he that stood the first Like Moses on the Sinai of our Faith,

33

همت او کشت ملت را چو ابر

ثانی اسلام و غار و بدر و قبر

حضرت ابوبکر کی ہمت اور ان کی ایثار کی حیثیت قومی کھیت کے لیے ابر رحمت کی تھی ۔ وہ اسلام غار، بدر اور قبر میں دوسرے تھے ۔

Whose zeal was as a cloud that showered rain Upon the tilth of our community, Second to own Islam, to share the Cave, Badr, and the Tomb.

44

گفتمش ای خاصهٔ خاصان عشق

عشق تو سر مطلع دیوان عشق

میں نے عرض کیا، اے عشق حق کے برگزیدوں میں سے برگزیدہ، آپ ہی عشق حق کے دیوان کا پہلا مطلع ہے ۔

“O chosen of Love’s choice,” I cried to him, “whose love is the first line In the collected poetry of Love,

55

پخته از دستت اساس کار ما

چاره ئی فرما پی آزار ما

ہمارے کام کی بناید آپ ہی کے ہاتھ سے مضبوط ہے کیونکہ اسلام کے لیے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد پہلا مصیبت خیز دور وہ تھا جس میں مختلف گروہ بغاوت پر آمادہ ہو گئے تھے ۔ ان میں سے بعض لوگ مرتد ہو چکے تھے ۔ بعض نے نبوت کا دعویٰ کر دیا تھا اور بعض نے زکواۃ روک لی تھی ۔ حالات بڑے تشویشناک تھے ۔ میں نے عرض کیا کہ جس طرح آپ نے ہماری بنیاد درست کر دی تھی اسی طرح ہماری بیماری کیلیے جس نے ہمیں سخت پریشان کر رکھا ہے کوئی علاج تجویز فرما دیجئے ۔

Whose hand established on a firmer base A remedy for our immediate woes.”

66

گفت تا کی در هوس گردی اسیر

آب و تاب از سورهٔ اخلاص گیر

فرمایا! تو کب تک حرص و ہوس کا قیدی بنا رہے گا سورہ اخلاص سے چمک اور تابش حاصل کر ۔

“How long”, said he, “wilt thou be prisoner To base desire? Get lustre, and new light To light thee, from the Surah of Pure Faith.”

77

اینکه در صد سینه پیچد یک نفس

سری از اسرار توحید است و بس

دیکھو، سینکڑوں سینوں میں ایک ہی سانس چل رہا ہے ۔ یہ بھی توحید کے بھیدوں میں سے ایک بھید ہے ۔

This one breath, winding in a hundred breasts, Is but one secret of the Unity;

88

رنگ او بر کن مثال او شوی

در جهان عکس جمال او شوی

تم بھی اسی (خدا) کا رنگ پیدا کرو تو اسی جیسے بن جاوَ گے اور دنیا میں اسی کے عکس جمال کے آئینہ دار ہو جاوَ گے ۔

Get thee its colour, to be like to it, Reflective to its beauty in the world.

99

آنکه نام تو مسلمان کرده است

از دوئی سوی یکی آورده است

جس نے تمہارا نام مسلمان رکھا وہ تجھے کثرت سے وحدت کی طرف لایا ہے (مسلمان نام اللہ نے رکھا، قرآن میں ہے وھو سمکم المسلمین ، فرماتے ہیں کہ مسلمان نام رکھنے کا مقصد ہی یہ تھا کہ سب ایک رہو) ۔

He, who bestowed this Muslim name on thee, Drew thee to Oneness from Duality;

1010

خویشتن را ترک و افغان خوانده ئی

وای بر تو آنچه بودی مانده ئی

لیکن تو نے اپنے آپ کو ترک، افغان اور خدا جانے کیا کیا کچھ کہا ۔ تم پر افسوس ہے کہ تو جو کچھ تھا وہی رہا ۔

’Tis thou thyself hast called thee Afghan, Turk – Ah, thou remainest as thou ever wert!

1111

وارهان نامیده را از نامها

ساز با خم در گذر از جامها

قوم کو ان مختلف ناموں سے نجات دلاوَ ۔ خم (صراحی) سے ربط قائم رکھو، جام و ساغر سے کنارہ کش ہو جاوَ ۔

Deliver now the named from all the names; Have done with cups; ally thee to the jar!

1212

ای که تو رسوای نام افتاده ئی

از درخت خویش خام افتاده ئی

تم نام کے پیچھے پڑے ہوئے ہو (جو رسوائی کا سامان ہے) گویا تم اپنے درخت سے کچے پھل کی طرح گر گئے ہو ۔

Thou hast become a scandal to thy name, A leaf that fell untimely from thy tree;

1313

با یکی ساز از دوئی بردار رخت

وحدت خود را مگردان لخت لخت

تم یگانگی سے موافقت پیدا کر لو اور دوئی سے بے تعلق ہو جاوَ، اپنی وحدت کو پارہ پارہ نہ کرو(ظاہر ہے کہ اسلامی ملت کے بجائے ترکی، افغانی، عربی ملت قرار دے لینے کا مطلب یہی ہے کہ وحدت کا شیرازہ بکھر جائے) ۔

Attune thee unto Oneness; be thou gone From Twoness; nor dissect thy Unity.

1414

ای پرستار یکی گر تو توئی

تا کجا باشی سبق خوان دوئی

اے وحدت کی پرستش کرنے والو! اگر تو حقیقتا تو ہے تو تو کب تک دوئی کا سبق پڑھتا رہے گا ۔

Thou who art servant unto One, if thou Art thou, how long wilt thou to school of Two?

1515

تو در خود را بخود پوشیده ئی

در دل آور آنچه بر لب چیده ئی

تم نے اپنا دروازہ اپنے آپ پر بند کر لیا ، جو کچھ زبان سے کہتے ہو چاہے کہ اسے دل میں جگہ دو ۔

Lo, thou hast shut thy door upon thyself Take to thy heart that which thy lips imbibed.

1616

صد ملل از ملتی انگیختی

بر حصار خود شبیخون ریختی

تم نے ایک قوم کی سینکڑوں قو میں بنا ڈالیں ، گویا اپنے قلعے پر خود ہی شبخون مارا ۔

A hundred nations thou hast raised from one, On thy own fort made treacherous assault.

1717

یک شو و توحید را مشهود کن

غائبش را از عمل موجود کن

تم ایک ہو جاوَ اور توحید کا نقشہ عملی اعتبار سے دنیا کے سامنے پیش کرو ۔ کلمہ توحید میں جو مفہوم چھپا ہوا ہے اسے عمل کے ذریعےسے وجود میں لے آوَ ۔

Be one; make visible thy Unity; Let action turn the unseen into seen;

1818

لذت ایمان فزاید در عمل

مرده آن ایمان که ناید در عمل

عمل کے ذریعے سے ایمان کی لذت میں اضافہ ہوتا ہے ۔ وہ ایمان مردہ ہو جاتا ہے جس پر عمل نہ کیا جائے ۔

Activity augments the joy of faith, But faith is dead that issues not in deeds.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ای ردایت پردهٔ ناموس ما

تاب تو سرمایهٔ فانوس ما

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 26 - خطاب به مخدرات اسلام

اگلی نظم

گر به الله الصمد دل بسته‌ای

از حد اسباب بیرون جسته‌ای

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 28 - الله الصمد

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور