اللہ الصمد
“God, the Self-Subsistent”
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
گر به الله الصمد دل بستهای
از حد اسباب بیرون جستهای
اگر تو نے خدائے بے نیاز سے دل وابستہ کر لیا ہے تو سمجھ لینا چاہئے کہ تو اسباب کے دائرے سے نکل گیا ہے ۔
If thou hast bound thy faithful heart on God The Self-subsistent, thou hast overlept The rim of things material.
بندهٔ حق بندهٔ اسباب نیست
زندگانی گردش دولاب نیست
اس لیے کہ خدا کا بندہ اسباب کا بندہ نہیں ہو سکتا اور زندگی کی رہٹ کا چکر نہیں ۔
No slave To things material God’s servant is; Life is no turning of a water-wheel.
مسلم استی بی نیاز از غیر شو
اهل عالم را سراپا خیر شو
اگر تو مسلمان ہے تو خدا کے سوا ہر شے سے بے نیاز ہو جا اور دنیا کے لیے خیر و برکت کا سرچشمہ بن جا ۔
If thou be Muslim, be not suppliant Of other’s succour; be the embodiment Of good to all the world.
پیش منعم شکوهٔ گردون مکن
دست خویش از آستین بیرون مکن
دولت مند کے پاس جا کر گردش روزگار کے شکوے نہ کر اورا س طرح اپنے لیے سوا ل کا دروازہ نہ کھول بلکہ آستین سے باہر ہی نہ نکال ۔ (کسی سے کچھ نہ مانگ) ۔
Make not complaint Of scurvy fortune to the fortunate, Nor from thy sleeve reach out a beggar’s hand.
چون علی در ساز با نان شعیر
گردن مرحب شکن خیبر بگیر
حضرت علی کی طرح جو کی روٹی کو اپنا شعار بنا لے ۔ مرحب جیسے زور آور سردار کی گردن توڑ اور خیبر جیسے مستحکم مقام پر قبضہ کر لے ۔
Like Ali, be content with barley-bread; Break Marhab’s neck, and capture Khyber’s fort.
منت از اهل کرم بردن چرا
نشتر لا و نعم خوردن چرا
اہل کرم کا احسان کیوں لیا جائے ان کے ہاتھ سے ہاں یا نہیں کا نشتر کیوں کھایا جائے ۔ ہاں اور نہیں دونوں کی حیثیت نشتر کی ہے جس سے سوالی کے دل پر زخم لگتے ہیں ۔ اگر سوال پورا کیا گیا تو دینے والے کا احسان ہوا اور لینے والے کی خودداری کو نقصان پہنچا ۔ اگر سوال ٹھکرا دیا گیا تو مطلب یہ ہوا کہ خودداری کو مجروح کر لینے کے باوجود ضرورت بھی پوری نہ ہوئی یہ بھی بہرحال زخم ہی ہوا ۔
Why bear the favour of the bountiful, Why feel the lancet of their nay and yea?
رزق خود را از کف دونان مگیر
یوسف استی خویش را ارزان مگیر
تو اپنا رزق کمینوں کے ہاتھ سے نہ لے ۔ تو یوسف ہے تیری قیمت بہت زیادہ ہے تجھے اپنے آپ کو ارزان نہ کرنا چاہیے ۔
Take not the sustenance from mean, base hands; Thou art a Joseph; count thyself not cheap.
گرچه باشی مور و هم بی بال و پر
حاجتی پیش سلیمانی مبر
اگرچہ تیری حیثیت چیونٹی کی ہو، ساتھ ہی تو بے بال و پر بھی ہو ، پھر بھی تیرے لیے زیبا نہیں کہ تو اپنی حاجت سلیمان کے سامنے لے جائے ۔
And if thou be an ant, and lackest wings And feathers, go not unto Solomon To plead thy want.
راه دشوار است سامان کم بگیر
در جهان آزاد زی آزاد میر
زندگی کا راستہ بڑا کٹھن ہے اپنے ساتھ سامان بہت کم لے ۔ دنیا میں آزاد زندہ رہ اور آزاد ہی مر
The road is arduous; Go light-accoutred, if thou wouldst attain; Unfettered live thy days, unfettered die.
سبحهٔ «اقلل من الدنیا» شمار
از «تعش حراً» شوی سرمایه دار
حضرت عمر کا یہ کتنا اچھا ارشاد ہے وہ دنیوی ضرورتیں کم کر دے اور آزادانہ زندگی بسر کر تو اسی ارشاد کو نقشہ عمل بنا ۔ اقلل من الدنیا تعش حرا یہ قول حضرت عمر سے منسوب ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیوی ضرورتیں کم کردے اور آزادانہ زندگی بسر کر ۔ ظاہر ہے کہ انسان کی ضرورتیں جتنی زیادہ ہوں گے اتنی ہی اسے تگ و دو کرنی پڑے گی اور جب خود اس کی تگ و دو سے ضرورتیں پوری نہ ہوں گی تو وہ دوسروں کے لطف و کرم کا محتاج ہو گا اسی طرح اس کی آزادی چھن جائے گی ۔ دنیا سے بے نیاز وہی رہ سکتا ہے جس کی ضرورتیں بہت کم ہوں ۔
Count o’er the rosary of Take thou less Of this world’s goods, and thou shalt riches win In living free.
تا توانی کیمیا شو گل مشو
در جهان منعم شو و سائل مشو
جس حد تک ممکن ہو، مٹی نہ بن، کیمیا بن ۔ تجھے نعمت ہونا چاہیے جو دوسروں کو بخشش سے مالا مال کرے، سوالی نہ ہونا چاہیے ۔
So far as in thee lies Become that Stone of the philosophers, Not the base dross; a benefactor be, Not a petitioner for others’ alms.
ای شناسای مقام بوعلی
جرعه ئی آرم ز جام بوعلی
تو حضرت بو علی قلندر رحمتہ اللہ علیہ کے مقام اور مرتبے کو پہچانتا ہے ، میں انھیں کے جام ارشادات میں سے ایک گھونٹ تجھے پلاتا ہوں ۔
Thou knowest well bu Ali’s eminence, Accept from me this draught, drawn from his cup
«پشت پا زن تخت کیکاوس را
سر بده از کف مده ناموس را»
وہ فرماتے ہیں ، کیکاوَس کے تخت ٹھکرا دے ، سر دے دے مگر عزت و ناموس ہاتھ سے نہ دے ۔
“Trample Kai-Kaus’ throne beneath thy foot; Yield up thy life, but not thy self-respect!”
خود بخود گردد در میخانه باز
بر تهی پیمانگان بی نیاز
یہ سنت الہٰی ہر لحظہ پیش نظر رکھ کہ جن لوگوں کے جام شراب سے خالی ہیں اگر وہ اللہ تعالیٰ کی صفت بے نیازی اپنے اندر پیدا کرلیں گے تو ان کے لیے شراب خانے کا دروازہ خودبخود کھل جائے گا ۔
The tavern door stands open of itself To those whose bowls are empty, whose needs none.
قاید اسلامیان هارون رشید
آنکه نقفور آب تیغ او چشید
مسلمانوں کے خلیفہ ہارون الرشید کا واقعہ ہے ۔ وہی ہارون الرشید جس کی تلوار کی دھار کا مزہ نقفور نے بھی چکھا ۔ نقفور مشرقی رومی سلطنت کا بادشاہ تھا ۔ شروع میں ملکہ آئرین کے ماتحت یہ وزیر مال تھا ۔ پھر درباریوں کو ساتھ ملا کر تخت پر بیٹھ گیا ملک آئزین خراج ادا کرتی تھی ۔
Harun Rashid, that captain of the Faith Whose blade to Nicephor of Byzance proved A deadly potion
گفت مالک را که ای مولای قوم
روشن از خاک درت سیمای قوم
ہارون الرشید نے امام مالک سے کہا کہ اے قوم کے آقا آپ کے دروازے کی خاک سے قوم پیشانی روشن ہے ۔
unto Malik spoke Upon this fashion: “Master of my folk, The dust before whose door illuminates My people’s brow,
ای نوا پرداز گلزار حدیث
از تو خواهم درس اسرار حدیث
آپ حدیث کے باغ میں نغمہ سنج ہیں ، میں بھی چاہتا ہوں کہ آپ سے حدیث کے اسرار کا درس لوں ۔
melodious nightingale Carolling mid the roses of good words, I am desirous to be taught by thee The secrets of those words.
لعل تا کی پرده بند اندر یمن
خیز و در دارالخلافت خیمه زن
لعل کب تک یمن میں پردوں کے اندر چھپا رہے گا ، آئیے دارالخلافت (بغداد) میں قیام فرمائیے ۔ امام مالک مسجد النبی (مدینہ منورہ ) میں درس دیا کرتے تھے ۔
How long art thou Content in Yemen to conceal the glow Of thy bright rubies? Rise, and pitch thy tent Here, in the homestead of the Caliphate.
ای خوشا تابانی روز عراق
ای خوشا حسن نظر سوز عراق
عراق میں دن خوب روشن ہوتے ہیں اور یہاں حسن بھی بڑا نظر سوز ہوتا ہے
How fair the brightness of the shining day, The captivating beauty of Iraq!
میچکد آب خضر از تاک او
مرهم زخم مسیحا خاک او
اس کے انگور سے آب خضر (آب حیات) ٹپکتا ہے اورا س کی مٹی زخم مسیحا کے لیے مرہم ہے ۔
The Fount of Khizer gushes from its vines, Its earth is healing for the wounds of Christ.”
گفت مالک مصطفی را چاکرم
نیست جز سودای او اندر سرم
امام مالک نے جواب دیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کا ملازم ہوں ۔ حضور ﷺ کے عشق کے سوا میرے سر میں کسی کا سودا نہیں ۔
“I am the Prophet’s servant,” Malik said, “And only him I love, with all my heart.
من که باشم بستهٔ فتراک او
بر نخیزم از حریم پاک او
میں حضور ہی کے شکار بند سے بندھا ہوا ہوں اور اس پاک حرم سے اٹھ کر کہیں جا نہیں سکتا ۔
Bound to his saddle-bow, I will not quit His holy sanctuary
زنده از تقبیل خاک یثربم
خوشتر از روز عراق آمد شبم
خاک یثرب کو بوسہ دینا میری زندگی ہے اور میری راتیں عراق کے دنوں سے زیادہ خوشگوار ہیں ۔
By the kiss Of Yathrib’s dust I live; my night to me Is fairer that Iraq’s pellucid day.
عشق می گوید که فرمانم پذیر
پادشاهان را بخدمت هم مگیر
عشق حق کا فرمان تو یہ ہے کہ میرا حکم مان اور بادشاہوں کو خدمت گاری کے لیے بھی قبول نہ کر ۔
Love says, ‘Obey my ordinance; sign not The articles of service even to kings.’
تو همی خواهی مرا آقا شوی
بندهٔ آزاد را مولا شوی
تو چاہتا ہے کہ میرا آقا بن جائے اور آزاد انسانوں کا مولا کہلائے ۔
Thou wouldst become my master, overlord Of this freed slave of God, that I should wait
بهر تعلیم تو آیم بر درت
خادم ملت نگردد چاکرت
میں تعلیم دینے کے لیے تیرے دروازے پر آوَ ں ۔ قوم کا خدمت گزار ملازم نہیں ہو سکتا ۔
Upon thy door to teach thee, and no more Serve the community, being bound to thee.
بهره ئی خواهی اگر از علم دین
در میان حلقهٔ درسم نشین
اگر تو دین کا کچھ علم حاصل کرنا چاہتا ہے تو میرے حلقہ درس میں آ کر بیٹھ ۔
Be it thy wish some portion to attain Of godly knowledge, in my circle sit And study with the rest.
بی نیازی نازها دارد بسی
ناز او اندازها دارد بسی
بے نیازی میں بھی بڑے ناز ہیں اور ان نازوں سے بے شمار انداز ہیں ۔
Indifference To worldly needs engenders fine disdain, And holy pride takes many splendid shapes.”
بی نیازی رنگ حق پوشیدن است
رنگ غیر از پیرهن شوئیدن است
بے نیازی کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان حق کا رنگ اختیار کرنے اور غیر کا رنگ پیراہن سے دھو ڈالے ۔
Godly indifference is to put on The hue of God, and from thy robe to wash The dye of otherness.
علم غیر آموختی اندوختی
روی خویش از غازه اش افروختی
اے مسلمان! تو نے غیروں کا علم پڑھا اور اسی کو ذخیرہ کیا ۔ اسی غازہ سے اپنا چہرہ چمکا۔
But thou hast learned The rote of others, taking that for store, An alien rouge to beautify thy face;
ارجمندیاز شعارش میبری
من ندانم تو توئی یا دیگری
غیر ہی کے طور طریقوں کو اپنے لیے باعث عزت سمجھتا ہے ۔ میں نہیں جانتا کہ تو تو ہے یا غیر ہے یعنی تیری حقیقی حیثیت غیر کی نقالی میں گم ہو ئی ہے اور یقینا تو تو نہیں رہا ۔
In those insignia thou takest pride, Until I know not if thou be thyself Or art another.
از نسیمش خاک تو خاموش گشت
وز گل و ریحان تهی آغوش گشت
غیر کی باد نسیم نے تیری مٹی کو خشک اور بے آب و گیاہ بنا دیا ۔ وہاں گلاب اور ناز بو پیدا ہوتے تھے ۔ تیری مٹی اب ان سے محروم ہو گئی ۔
Fanned by foreign blasts Thy soil is fallen silent, and no more Fertile in fragrant roses and sweet herbs.
کشت خود از دست خود ویران مکن
از سحابش گدیهٔ باران مکن
تو اپنا کھیت اپنے ہاتھوں نہ اجاڑ اور غیر کے بادل سے بارش کی بھیک نہ مانگ ۔
Desolate not thy tilth with thy own hand; Make it not beg for rain from alien clouds.
عقل تو زنجیری افکار غیر
در گلوی تو نفس از تار غیر
تیری عقل غیر کے افکار کی قیدی ہے ۔ تیرے گلے میں جو سانس ہے وہ بھی غیر ہی کا ایک تار ہے ۔
Thy mind is prisoner to others’ thoughts, Another’s music throbs within thy throat,
بر زبانت گفتگوها مستعار
در دل تو آرزوها مستعار
تیری زبان کی گفتگو ئیں اور تیرے دل کی آرزوئیں سب مستعار ہیں ، یعنی ان میں سے کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو تیری ہو ۔
Thy very speech is borrowed, and thy heart Dilates with aspirations not thine own.
قمریانت را نواها خواسته
سروهایت را قباها خواسته
تیری قمریوں کے ترانے اور تیرے سروں کی قبائیں سب دوسروں سے مانگی ہوئی ہیں ۔
The song thy ring-doves sing, the leafy gowns That deck thy cypresses, are meanly begged;
باده می گیری بجام از دیگران
جام هم گیری بوام از دیگران
حد یہ ہے کہ تو اپنے پیالے میں شراب ہی نہیں بلکہ پیالہ بھی دوسروں سے قرض لیتا ہے
Thou takest wine from others in a bowl Itself from others taken upon loan.
آن نگاهش سر «ما زاغ البصر»
سوی قوم خویش باز آید اگر
وہ پاک ذات، جس کی نگاہ کے لیے قرآن مجید کا ارشاد ہے ، نہ کجی کی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آنکھ نے اور نہ غلطی کھائی (سورہ نجم) ۔ اگر وہ اپنی قوم کی طرف دوبارہ آئے ۔
If he, whose glance contains the mystery Erred not the sight – if he should come again Unto his people,
می شناسد شمع او پروانه را
نیک داند خویش و هم بیگانه را
وہ جس کی شمع پروانوں کو پہچانتی ہے ، جانتے ہو ، وہ تم جیسے مسلمانوں کو کیا کہے گی
he whose candle-flame Knows its own moth, who can distinguish well His own from strangers standing at the gate,
«لست منی» گویدت مولای ما
وای ما ، ای وای ما ، ای وای ما ،
تم مجھ سے نہیں تمہیں مجھ سے کسی قسم کا تعلق نہیں ۔ یہ سن کر ہم اس کے سوا کیا کہیں گے کہ افسوس ہم پر ، افسوس ہم پر
Our master would declare, Thou art not mine. Woe, woe, alas for us upon that day!
زندگانی مثل انجم تا کجا
هستی خود در سحر گم تا کجا
ستاروں کی طرح کب تک زندگی بسر کرو گے اپنی ہستی کو صبح کی روشنی میں کب تک گم رکھو گے
How long wilt thou content thyself to live The life of stars, that in the risen morn Lose all their being?
ریوی از صبح دروغی خورده ئی
رخت از پهنای گردون برده ئی
تم نے صبح کاذب کا دھوکہ کھایا اور اپنے آپ کو ختم کر لیا ۔ اپنی حقیقت پر نظر ڈالو
Thou hast been deceived By the false dawn, packed up thy goods and gone From the broad firmament.
آفتاب استی یکی در خود نگر
از نجوم دیگران تابی مخر
تم تو خود سورج ہو، پھر دوسروں کے تاروں سے روشنی کیو ں لیتے ہو ۔
Thou art the sun; Look on thy self a little; purchase not Some shreds of radiance from others’ stars!
بر دل خود نقش غیر انداختی
خاک بردی کیمیا در باختی
تم نے اپنے دل پر غیر کا نقش بٹھا لیا ۔ افسوس، مٹی کے بدلے کیمیا ہار دی ۔
Thou hast engraved thy heart with alien shapes, Gambled the alchemy and gained the dross;
تا کجا رخشی ز تاب دیگران
سر سبک ساز از شراب دیگران
تم کب تک دوسروں کی چمک دمک کے بل پر چمکتے رہو گے اپنا سر دوسروں کی شراب سے ہلکا کرو یعنی دوسروں کی شراب پی کر سرگرداں اور متوالے مت بنو ۔
How long this glittering with others’ shine? Shake off heavy fumes for foreign grapes!
تا کجا طوف چراغ محفلی
ز آتش خود سوز اگر داری دلی
تم کب تک محفل کے چراغ کے چکر لگاتے رہو گے ۔ اگر تمہارے پہلو میں دل ہے تو اپنی آگ میں جلو ۔
How long this fluttering about the flame Of party lanterns? If thou hast a heart Within thy breast, with thine own ardour burn!
چون نظر در پرده های خویش باش
می پر و اما بجای خویش باش
تم نظر کی صورت اختیار کرو، اپنی آنکھ کے پردوں ہی میں رہو ۔ اڑنا چاہتے ہو تو اڑو، مگر اپنی جگہ نہ چھوڑو ۔ نظر کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنے پردے نہیں چھوڑتی ۔ ہر جگہ گھومتی ہے مگر اپنی جگہ رہتی ہے ۔
Be like the gaze, wrapped round in thy own veils; Rise on the wing, but ever wheel back home;
در جهان مثل حباب ای هوشمند
راه خلوت خانه بر اغیار بند
اے عقلمند! دنیا میں بلبلے کی مانند اپنی خلوت کی جگہ کا راستہ غیروں پر بند کر دے ۔
Bubble-like bar thy little privacy Against the intruder, if thou wouldst be wise.
فرد ، فرد آمد که خود را وا شناخت
قوم ، قوم آمد که جز با خود نساخت
فرداس لیے فرد ہے کہ اس نے اپنی ہستی پہچان لی ۔ قوم اس لیے قوم ہوئی کہ اس نے اپنے سوا کسی سے سازگاری کا ڈول نہ ڈالا(مراد یہ ہے کہ فرد اور قوم دونوں کی ہستی احساس خودی پر موقوف ہے) ۔
No man to individuality Ever attained, save that he knew himself, No nation came to nationhood, except It spurned to suit the whim of other men
از پیام مصطفی آگاه شو
فارغ از ارباب دون الله شو
رسول اللہ ﷺ کے مقدم پیغام سے آگاہی حاصل کر اور خدا کے سوا جو معبود ہیں ان سے یک سو ہو جا ۔
Then of our Prophet’s message be apprised, And have thou done with other lords but God.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور