صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »رموز بیخودی
  3. »بخش 29 - لم یلد و لم یولد

بخش 29 - لم یلد و لم یولد

لم یلد و لم یولد

“He begat not, neither was He begotten”

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

قوم تو از رنگ و خون بالاتر است

قیمت یک اسودش صد احمر است

اے مسلمان! تیری قوم رنگ اور خون سے بہت اونچی ہے ۔ اور اس کے ایک کالے کی قیمت سینکڑوں گورے ہیں ۔ عموماً گورے کو کالے پر ترجیح دی جاتی ہے لیکن اقبال کہتے ہیں کہ اسلام کا ایک کالا سینکڑوں گوروں پر ترجیح کا مستحق ہے ۔ یہ فضیلت اسلام کی بدولت ہے نہ کی رنگ کی بدولت ۔

Loftier than hue and blood thy people are, And greater worth one Negro of the Faith Than are a hundred redskin infidels.

2

قطرهٔ آب وضوی قنبری

در بها برتر ز خون قیصری

ہمارے کسی قنبر یعنی غلام کے آب وضو کا ایک قطرہ قیمت میں قیصر جیسے شہنشاہ کے خون سے زیادہ گراں ہے ۔

A single drop of water Qanbar took For his ablutions is more precious far Than all the blood of Caesar.

3

فارغ از باب و ام و اعمام باش

همچو سلمان زادهٔ اسلام باش

تو باپ، ماں اور چچاؤں کے رشتے سے آزاد ہو جا ۔ حضرت سلمان کی طرح اپنا رشتہ اسلام سے جوڑ لے اور اسلام کا فرزند بن جا ۔

Take no count Of father, mother, uncle; call thy self An offspring of Islam, as Salman did.

4

نکته ئی ای همدم فرزانه بین

شهد را در خانه های لانه بین

اے عقلمند دوست ۔ میں تجھے ایک نکتہ بتاتا ہوں توچھتے کے خانوں میں شہد پر نظر ڈال ۔ مکھیاں رس چوس چوس کر شہد بناتی ہیں ۔

See, my brave comrade, in the honeyed cells That constitute the hive a subtle truth;

5

قطره ئی از لالهٔ حمراستی

قطره ئی از نرگس شهلاستی

کوئی قطرہ لالے کے سرخ پھول سے لیا جاتا ہے ، کوئی نرگس شہلا سے ۔

One drop from a red tulip is distilled, One from a blue narcissus; none proclaims,

6

این نمی گوید که من از عبهرم

آن نمی گوید من از نیلوفرم

لیکن کبھی سنا ہے کہ کسی قطرے نے کہا ہو میری اصل نرگس ہے اور دوسرے نے کہا ہو میں نیلوفر کے رس سے بنا ہوں ( گویا شہد مختلف قسم کی پھولوں سے تیار ہوا مگر چھتے میں پہنچا تو ایک جنس ہو گیا ۔ یہی کیفیت ملت اسلامیہ کی ہونی چاہیے ۔ )

“I am of jasmine, of lily I!”

7

ملت ما شان ابراهیمی است

شهد ما ایمان ابراهیمی است

ہماری ملت شہد کا وہ چھتہ ہے جو حضرت ابراہیم کے ہاتھوں تیار ہوا اور اس میں شہد وہ ایمان ہے جس کا عملی ثبوت حضرت محمد نے دیا اور اسی ایمان کی دعوت حضرت کی زبان پر جاری ہوئی ۔

So our community the beehive is Of Abraham whose honey is our Faith.

8

گر نسب را جزو ملت کرده ئی

رخنه در کار اخوت کرده ئی

اگر تو نسب اور نسل کو ملت کا جزو بنائے گا تو ظاہر ہے کہ اخوت کے کاروبار میں رخنہ پیدا ہو جائے گا یعنی برادری کی وہ شان کیوں کر قائم رہے گی جو رنگ ، نسب اور خون سے بہت بالا ہے ۔

If thou hast made of our community Lineage a part essential, thou hast rent The fabric of true Brotherhood;

9

در زمین ما نگیرد ریشه ات

هست نا مسلم هنوز اندیشه ات

یاد رکھ کہ ہماری زمین میں تیرا ریشہ جڑ نہیں پکڑ سکتا کیونکہ تیرے افکار و خیالات ابھی تک نامسلم ہیں ۔

thy roots Have struck not in our soil, thy way of thought Runs counter to our Muslim rectitude.

10

ابن مسعود آن چراغ افروز عشق

جسم و جان او سراپا سوز عشق

مشہور صحابی حضرت عبداللہ ابن مسعود عشق کا چراغ جلانے والے تھے ۔ ان کا جسم اور جان دونوں سراپا عشق کی حرارت تھے ۔ ان کی مقدس ذات عشق حق کے لیے وقف ہو چکی تھی ۔

Ibn-i-Mas‘ud, that lantern bright of Love, Body and spirit blazing in Love’s flame,

11

سوخت از مرگ برادر سینه اش

آب گردید از گداز آئینه اش

ان کے بھائی نے وفات پائی، اس صدمہ سے ان کا سینہ جل اٹھا اور دل کا آئینہ پگھل کر پانی ہو گیا ۔

Being distressed upon a brother’s death Dissolved in tears, a mirror liquefied,

12

گریه های خویش را پایان ندید

در غمش چون مادران شیون کشید

ان کا رونا دھونا ختم ہی نہ ہوتا تھا اور بھائی کے غم میں وہ ماؤں کی طرح آہ و فغان کرتے تھے ۔

Nor any term to his lamentings saw But in his grief; as of her child bereaved A mother weeps

13

« ای دریغا آن سبق خوان نیاز

یار من اندر دبستان نیاز»

(کہتے تھے) افسوس، وہ عقیدت کا سبق لینے والا، جو نیاز مندی کی درس گاہ میں میرا رفیق تھا ۔

so uncontrollably He sobbed: “Ah, scholar of humility, Alas, my comrade in the schools of prayer!

14

«آه آن سرو سهی بالای من

در ره عشق نبی همپای من»

افسوس! سرو کی طرح بلند قامت میرا بھائی ، جو رسول اللہ ﷺ کے عشق میں میرے برابر چلتا تھا ۔

My tall young cypress, fellow traveller Upon the pathway of the Prophet’s love!

15

«حیف او محروم دربار نبی

چشم من روشن ز دیدار نبی»

افسوس وہ رسول اللہ ﷺ کے دربار سے محروم ہو گیا اور میری آنکھیں حضور ﷺ کے دیدار سے روشن ہیں ۔

O grief, that he is now denied the courts Of God’s Apostle, while mine eyes are bright With gazing fondly on the Prophet’s face!

16

نیست از روم و عرب پیوند ما

نیست پابند نسب پیوند ما

ہمارا باہم رشتہ روم اور عرب پر موقوف نہیں اور نہ اس سے نسب کا کوئی تعلق ہے ۔ یعنی نہ ہمارے نزدیک جغرافیائی حدود کوئی حیثیت رکھتے ہیں اور نہ نسب و خون ۔

The bond of Turk and Arab is not ours, The link that binds us is no fetter’s chain Of ancient lineage;

17

دل به محبوب حجازی بسته ایم

زین جهت با یکدگر پیوسته ایم

ہم نے حجازی محبوب (رسول اللہ ﷺ) سے دل لگایا ہے ۔ اسی سبب سے ایک دوسرے کے ساتھ ہمارا رشتہ جڑ گیا ہے ۔

our hearts are bound To the beloved Prophet of Hijaz, And to each other are we joined through him.

18

رشتهٔ ما یک تولایش بس است

چشم ما را کیف صهبایش بس است

یہی محبت ہمارے نزدیک ایسا تعلق ہے کہ اس سے زیادہ کسی تعلق کی ضرورت نہیں ۔ ہماری آنکھوں کے لیے حضور کی شراب کا نشہ کافی ہے ۔

Our common thread is simple loyalty To him alone; the rapture of his wine Alone our eyes entrances;

19

مستی او تا بخون ما دوید

کهنه را آتش زد و نو آفرید

جب اس شراب کی مستی ہمارے خون میں دوڑی تو جتنے پرانے تعلقات اور پرانے رشتے تھے اس نے جلا دییے اور ایک نیا رشتہ پیدا کر دیا ۔

from what time This glad intoxication with his love. Raced in our blood, the old is set ablaze In new creation.

20

عشق او سرمایهٔ جمعیت است

همچو خون اندر عروق ملت است

رسول اللہ ﷺ کا عشق ہی ہمارے لیے یکجا رہنے کا سامان ہے ۔ یہ عشق خون کی طرح ملت کی رگوں میں دوڑ رہا ہے ۔

As the blood that flows Within a people’s veins, so is his love Sole substance of our solidarity.

21

عشق در جان و نسب در پیکر است

رشتهٔ عشق از نسب محکم تر است

عشق جان میں اتر جاتا ہے اور نسب صرف جسم تک محدود رہتا ہے ۔ اس سے ثابت ہے کہ عشق کا رشتہ نسب کے رشتے سے زیادہ مضبوط ہے ۔

Love dwells within the spirit, lineage The flesh inhabits; stronger far than race And common ancestry is Love’s firm cord.

22

عشق ورزی از نسب باید گذشت

هم ز ایران و عرب باید گذشت

اگر تو نے رسول اللہ ﷺ سے لو لگائی ہے تو نسب سے بے تعلق ہو جا ، بلکہ ایران و عرب سے بھی رشتہ توڑ لے ۔

True loverhood must overleap the bounds Of lineage, transcend Arabia Of lineage, transcend Arabia And Persia.

23

امت او مثل او نور حق است

هستی ما از وجودش مشتق است

رسول اللہ ﷺ کی امت بھی رسول اللہ ﷺ کی طرح اللہ کا نور ہے ۔ ہماری ہستی حضور ﷺ ہی کے عشق سے پیدا ہوئی ۔

Love’s community is like The light of God; whatever being we Possess, from its existence is derived.

24

«نور حق را کس نجوید زاد و بود

خلعت حق را چه حاجت تار و پود»

جس خلعت کا تعلق حق سے ہو اسے تانے بانے کی کیا ضرورت ہے

“None seeketh when or where God’s light was born; What need of warp and woof, God’s robe to spin?”

25

هر که پا در بند اقلیم و جد است

بی خبر از لم یلد لم یولد است

جس شخص کے پاؤں ملک اور باپ دادا کے بندھنوں میں جکڑے ہوئے ہیں یقین کر لینا چاہے کہ وہ لم یلد ولم یولد کی حقیقت سے بالکل بے خبر ہے ۔ یعنی سورہ اخلاص کے اس ٹکڑے کا مطلب ہی یہ ہے کہ نہ تو مسلمان کسی جغرافیائی کشور اور ولایت کا پابند ہے نہ نسب اور رنگ کا ۔ جو مسلمان ان رشتوں میں جکڑا رہے گا وہ لم یلد ولم یولد پر سچے ایمان کامستحق نہیں سمجھا جا سکتا ۔

Who suffereth his foot to wear the chains Of clime and ancestry, is unaware How He begat not, neither was begot.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گر به الله الصمد دل بسته‌ای

از حد اسباب بیرون جسته‌ای

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 28 - الله الصمد

اگلی نظم

مسلم چشم از جهان بر بسته چیست؟

فطرت این دل بحق پیوسته چیست؟

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 30 - ولم یکن له کفواً احد

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور