صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »رموز بیخودی
  3. »بخش 30 - ولم یکن له کفواً احد

بخش 30 - ولم یکن له کفواً احد

ولم یکن لہُ کفواً احد

“And there is not any equal unto Him”

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

مسلم چشم از جهان بر بسته چیست؟

فطرت این دل بحق پیوسته چیست؟

مسلمان، جس نے دنیا کی طرف سے آنکھیں بند کر لی ہیں کیا ہےاللہ تعالیٰ سے اس لو لگانے والے کی فطرت کے بارے میں کیا سمجھا جائے ۔

What is the Muslim, that hath closed his eyes Against the world? This heart attached to God, What is its nature?

2

لاله ئی کو بر سر کوهی دمید

گوشهٔ دامان گلچینی ندید

اس کی مثال اس گل لالہ کی ہے جو پہاڑ کی چوٹی پر اگتا اور وہیں نشوونما پاتا ہے کسی پھول چننے والے کا گوشہ دامن اس نے نہیں دیکھا، یعنی اس تک چننے والے کا ہاتھ کبھی نہیں پہنچا ۔

On a mountain-top A tulip blowing, that hath never seen The trailing border of the gatherer’s skirt;

3

آتش او شعله ئی گیرد به بر

از نفس های نخستین سحر

اس گل لالہ کہ آگ صبح کی ابتدائی سانسوں سے بھڑکتی ہے ۔

The flame is kindled in his ardent breast From the first breaths of dawn;

4

آسمان ز آغوش خود نگذاردش

کوکب وامانده ئی پنداردش

آسمان اسے اپنی گود سے باہر نہیں جانے دیتا ۔ یہی سمجھتا ہے کہ وہ کوئی تارا ہے جو چلتے چلتے دوسروں سے پیچھے رہ گیا ہے ۔

heaven suffers not To loose him from her bosom, deeming him A star suspended;

5

بوسدش اول شعاع آفتاب

شبنم از چشمش بشوید گرد خواب

سب سے پہلے سورج کی کرن اسے چومتی ہے اور شبنم اس کی آنکھوں سے نیند کا گردوغبار دھوتی ہے ۔

the uprising sun Touches his lips with dawn’s first ray, the dew Bathes from his waking eyes the dust of sleep.

6

رشتهٔ ئی با لم یکن باید قوی

تا تو در اقوام بی همتا شوی

اے مسلمان تجھے خدا کی اس صفت سے رشتہ مستحکم کر لینا چاہیے جو لم یکن لہ کفو اً احد میں بیان ہوئی ہے ۔ یعنی اس کے برابر کوئی نہیں ۔ یہ رشتہ مستحکم ہو جائے تو تو دنیا کی قوموں میں بے مثال بن جائے گا ۔

Firm must the bond be tied with There is none If thou wouldst an unequalled people be.

7

آنکه ذاتش واحد است و لاشریک

بنده اش هم در نسازد با شریک

وہ پاک ذات ہے جو اکیلی ہے اور کوئی اس کا شریک نہیں ۔ اس کا بندہ بھی کوئی شریک گوارا نہیں کر سکتا ۔

He who is Essence One, unpartnered is; His servant too no partner can endure;

8

مؤمن بالای هر بالاتری

غیرت او بر نتابد همسری

مومن ہر بلند تر سے بلند ہے ۔ اس کی غیرت کسی ہمسر کو برداشت نہیں کر سکتی ۔

And whoso in the Highest of the High Believeth, cannot suffer any peer In his high jealousy.

9

خرقهٔ «لا تحزنوا» اندر برش

«انتم الاعلون» تاجی بر سرش

وہ لا تحزنو کا خرقہ پہنے ہوتا ہے یعنی اسے کسی چیز کا غم نہیں ہوتا اور انتم الاعلون تمہیں سب سے سر بلند ہو کا تاج اس کے سر پر ہوتا ہے ۔ اشارہ ہے سورہ آل عمران کی اس آیت کی طرف ولا تھنو ولا تحزنو انتم الاعلون ان کنتم مومنین اور دیکھو ، نہ تو ہمت ہارو ، نہ غمگین ہو، تم سب سے سر بلند ہو بشرطیکہ تم سچے مسلمان ہو ۔

Wrapt round his breast The robe of Do not grieve, borne on his brow The crown Ye are the highest

10

می کشد بار دو عالم دوش او

بحر و بر پروردهٔ آغوش او

دونوں جہانوں کا بوجھ وہ اپنے کندھے پر اٹھا لیتا ہے ۔ خشکی اور تری دونوں اس کی آغوش میں پلتی ہیں ۔

he transports On his broad back the burden of both worlds, Protects both land and sea in his embrace;

11

بر غو تندر مدام افکنده گوش

برق اگر ریزد همی گیرد بدوش

بجلی کی کڑک کے شور پر اس کے کان لگے رہتے ہیں ۔ اگر برق گرتی ہے تو اسے اپنے کندھے پر اٹھا لیتا ہے ۔

His ear attentive to the thunder’s roar, His shoulders bared to take the lightning’s scourge,

12

پیش باطل تیغ و پیش حق سپر

امر و نهی او عیار خیر و شر

باطل سے سامنا ہو جائے تو مومن تلوار بن جاتا ہے ۔ حق کی حفاظت کا موقع آ جائے تو وہ ڈھال کی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔ اسی کے امر و نہی، نیک و بند کی کسوٹی ہے یعنی مومن جس چیز کا حکم دے وہ نیکی اور جس سے روکے وہ بدی ہے ۔

Against the false he is a sword, a shield Before the truth; evil and good are proved Upon the touchstone of his ordinance And prohibition.

13

در گره صد شعله دارد اخگرش

زندگی گیرد کمال از جوهرش

اس کے انگارے کی گرہ میں سینکڑوں شعلے ہیں اور زندگی کو اسی کے جوہر سے درجہ کمال حاصل ہوتا ہے ۔

Knotted in his coals A hundred conflagrations lurk; life’s self Derives perfection from his essence pure.

14

در فضای این جهان های و هو

نغمه پیدا نیست جز تکبیر او

ہائے و ہو کے اس جہان کی فضا میں مومن کی تکبیر کے سوا کوئی نغمہ پیدا نہیں ہو سکتا ۔

Through the broad spaces of this clamorous world No music sounds but his triumphant song, His loud Allahu Akbar.

15

عفو و عدل و بذل و احسانش عظیم

هم بقهر اندر مزاج او کریم

عفو و درگزر ، عدل و انصاف اور سخاوت و احسان میں اس کا درجہ بہت اونچا ہے بلکہ غصے کی حالت میں بھی اس کے مزاج پر لطف و کرم ہی غالب رہتا ہے ۔

Great is he On justice, clemency, benevolence; Noble his temper, even in chastisement.

16

ساز او در بزم ها خاطر نواز

سوز او در رزم ها آهن گداز

مجالس میں مومن کا ساز ترانہ ریز ہوتا ہے تو دل خوش ہو جاتے ہیں ۔ میدان جنگ کا وقت آ جائے تو مومن کی حرارت ایمان لوہا پگھلا کر رکھ دیتی ہے ۔

At festival his lyre delights the mind; Steel melts before his ardour in the fight.

17

در گلستان با عنادل هم صفیر

در بیابان جره باز صید گیر

باغ میں وہ بلبلوں کا ہم نوا بن جاتا ہے ، بیابان میں شکار پکڑنے والے شہباز کی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔

Where roses blossom, with the nightingale’s His sweet song mingles; in the wilderness No falcon is more swift upon the prey.

18

زیر گردون می نیاساید دلش

بر فلک گیرد قرار آب و گلش

اس کا دل آسمان کے نیچے آسودگی نہیں پاتا ۔ وہ اپنے جسم کے ساتھ آسمان پر پہنچ کر اطمینان کا سانس لیتا ہے ۔

His heart untranquil scorns to take repose Beneath the heavens; in the spreading skies He makes his dwellings,

19

طایرش منقار بر اختر زند

آنسوی این کهنه چنبر بر زند

مومن ایک ایسا پرندہ ہے جو تاروں کو دانے سمجھ کر ان پر چونچ مارتا ہے اوراس فضا میں اڑتا ہے جو اس آسمان سے آگے ہے ۔

He rises far beyond yon ancient hoop That spans our firmament, to whet his beak Against the gleaning stars.

20

تو به پروازی پری نگشوده ئی

کرمک استی زیر خاک آسوده ئی

تو نے تو پرواز کے لیے کبھی پر نہیں کھولے، تیری کیا حیثیت ہے تو ایک کیڑا ہے جو مٹی کے نیچے اطمینان سے بیٹھا ہے ۔

Thou, with thy frail Unspread pinion, tentative to fly, Art like some chrysalis, that in the dust

21

خوار از مهجوری قرآن شدی

شکوه سنج گردش دوران شدی

جانتا ہے تو کیوں ذلیل ہے تیری ذلت کا اصل سبب یہ ہے کہ تو نے قرآن کو چھوڑ دیا اور زمانے کی گردش کے شکوے کرنے لگا ۔

Still slunmbers on; rejecting the Quran, How meanly thou hast sunk, base caviller Protesting of the turn of Fortune’s wheel!

22

ای چو شبنم بر زمین افتنده ئی

در بغل داری کتاب زنده ئی

اے شبنم کی طرح زمین پر گرنے والے! تیرے پاس ایک زندہ کتاب قرآن مجید کی شکل میں موجود ہے تو اس سے زندگی کا سبق لے ۔

Yet, lying abject as the scattered dew, Thou hast within thy grip a living Book;

23

تا کجا در خاک می گیری وطن

رخت بردار و سر گردون فکن

تو کب تک زمین سے چمٹا رہے گا اور ذلت و خواری کی موجودہ حالت برداشت کرتا جائے گا ۔ اٹھ، سروسامان اٹھا اور اسے اچھال کر آسمان پر پہنچا دے ۔

How ling shall earth content thee for thy home? Life up thy baggage; hurl it to the skies!

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

قوم تو از رنگ و خون بالاتر است

قیمت یک اسودش صد احمر است

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 29 - لم یلد و لم یولد

اگلی نظم

ای ظهور تو شباب زندگی

جلوه ات تعبیر خواب زندگی

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 31 - عرض حال مصنف بحضور رحمة للعالمین

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور