صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »رموز بیخودی
  3. »بخش 31 - عرض حال مصنف بحضور رحمة للعالمین

بخش 31 - عرض حال مصنف بحضور رحمة للعالمین

عرض حال مصنف بحضور رحمتہ للعالمین

The author’s memorial to him who is a mercy to all living beings

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

ای ظهور تو شباب زندگی

جلوه ات تعبیر خواب زندگی

حضور والا! آپ کا ظہور (تشریف لانا) زندگی کا عہد شباب تھا اور آپ کا جلوہ زندگی کے خواب کی تعبیر تھا ۔

O thou, whose manifesting was the youth Of strenuous life, whose bright epiphany Told the interpretation of life’s dreams

2

ای زمین از بارگاهت ارجمند

آسمان از بوسهٔ بامت بلند

یا رسول اللہ! ہماری زمین نے صر ف اس وجہ سے اونچا درجہ حاصل کر لیا کہ آپ کی بارگاہ سے شرف پایا ۔ آسمان آپ کے لب بام کو چومنے کی بدولت سربلند ہوا ۔

Earth attained honour, having held thy court, And heaven glory, having kissed thy roof.

3

شش جهت روشن ز تاب روی تو

ترک و تاجیک و عرب هندوی تو

اس کائنات کا ہر پہلو آپ کے روئے مبارک کی چمک دمک سے روشن ہے ۔ ترک ہوں یا تاجک ہو یا عرب ہوں سب آپ کے غلام ہیں ۔

Thy face illumes the six-directioned world; Turk, Tajik, Arab—all thy servants are.

4

از تو بالا پایهٔ این کائنات

فقر تو سرمایهٔ این کائنات

اس کائنات کا رتبہ صرف آپ کی بدولت اونچا ہوا اور اس کی دولت آپ کے فقر کے سوا کچھ نہیں ۔

Whatever things have being, find in thee True exaltation, and thy poverty Is their abundant riches.

5

در جهان شمع حیات افروختی

بندگان را خواجگی آموختی

یا رسول اللہ آپ نے دنیا میں زندگی کا چراغ روشن کیا اور غلاموں کو آقائی کا طریقہ سکھایا ۔

In this world Thou litst the lamp of life, as thou didst teach God’s servitors a godly mastery.

6

بی تو از نابودمندیها خجل

پیکران این سرای آب و گل

آب و گِل کے اس مقام یعنی دنیا میں جتنے بھی وجود تھے وہ رسول اللہ ﷺ کے بغیر اپنی بے مایگی اور بے حقیقتی پر شرمسار تھے وہ خاک کے ڈھیر معلوم ہوتے تھے ۔

Without thee, whatsoever form indwelt This habitat of water and of clay Was put to shame in utter bankruptcy;

7

تا دم تو آتشی از گل گشود

توده های خاک را آدم نمود

آپ کے نفس ِ گرم نے مٹی سے آگ پیدا کی تو وہ سب آدمی بن گئے ۔

Till, when thy breath drew fire from the cold dust And Adam made of earth’s dead particles,

8

ذره دامن گیر مهر و ماه شد

یعنی از نیروی خویش آگاه شد

بے حقیقت ذرے اپنی خداداد قوتوں سے آگاہ ہو گئے اور انھوں نے اڑ کر چاند اور سورج کے دامن تھام لیے ۔

Each atom caught the skirts of sun and moon, Suddenly conscious of its inward strength.

9

تا مرا افتاد بر رویت نظر

از اب و ام گشتهٔ ئی محبوب تر

جب سے میری نظر رسول اللہ کے روئے انور پر پڑی ہے ۔ رسول اللہ ماں باپ سے بھی زیادہ محبوب ہو گئے ہیں ۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ فرمایاتم میں سے کوئی شخص صاحب ایمان نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والدین ، اولاد اور تمام انسانوں سے محبوب تر نہ ہو جاؤں ۔

Since first my gaze alighted on thy face Dearer than father and dear mother thou Art grown to me.

10

عشق در من آتشی افروخت است

فرصتش بادا که جانم سوخت است

عشق نے میرے اندر آگ بھڑکائی ۔ اب اسے فرصت مبارک ہو کہ میری جان جل چکی ۔

Thy love hath lit a flame Within my heart; ah, let it work at ease. For all my spirit is consumed in me,

11

ناله ئی مانند نی سامان من

آن چراغ خانهٔ ویران من

اب میرے پاس ایک آہ کے سوا کچھ نہیں ۔ اسی کو میں اپنے اجڑے گھر کا دیا سمجھتا ہوں ۔

And my sole chattel is a reed-like sigh, The lantern flickering in my ruined house.

12

از غم پنهان نگفتن مشکل است

باده در مینا نهفتن مشکل است

یا رسول اللہ جو غم میرے رگ و پے میں رچا ہوا ہے اسے عرض کرنے سے روکے رہنا مشکل ہے ۔ شراب کس طرح صراحی میں چھپی رہ سکتی ہے

It is not possible not to declare This hidden grief; it is not possible To veil the wine in the translucent cup.

13

مسلم از سر نبی بیگانه شد

باز این بیت الحرم بتخانه شد

مسلمان رسول اللہ ﷺ کی تعلیم سے بے بہرہ ہو گیا ۔ یہ حرم پاک پھر بت خانہ بن گیا ۔

But now the Muslim is estranged a new Unto the Prophet’s secret; now once more God’s sanctuary is an idols’ shrine;

14

از منات و لات و عزی و هبل

هر یکی دارد بتی اندر بغل

قسم قسم کے بت ہیں ، منات ہے، لات ہے، عزیٰ اور ہبل ہے ۔ ہر شخص کوئی نہ کوئی بت بغل میں دبائے پھرتا ہے ۔

Manat and Lat, Hubal and Uzza – each Carries an idol to his bosom clasped;

15

شیخ ما از برهمن کافر تر است

زانکه او را سومنات اندر سر است

ہمارے مذہبی پیشوا کفر میں برہمنوں سے بھی آگے نکل گئے ۔ ان میں سے ہر ایک نے دماغ میں سومنات سجا رکھا ہے ۔

Our shaykh – no Brahman is so infidel, Seeking his Somnath stands within his head.

16

رخت هستی از عرب برچیده ئی

در خمستان عجم خوابیده ئی

انھوں نے عرب سے سروسامان اٹھا لیا اور عجم کے شراب خانے میں جا کر سو گئے ۔

Arabia deserted, he is gone With all his being’s baggage, slumberous To drowse in Persia’s wine-vault.

17

شل ز برفاب عجم اعضای او

سرد تر از اشک او صهبای او

انکے اعضا عجم کے برف آمیز پانی سے بے حس و حرکت ہو گئے اور ان کی شراب انکے آنسووَں سے زیادہ سرد ہے ۔

Persia’s sleet Has set his limbs a-shiver; his thin wine Rune colder than his tears.

18

همچو کافر از اجل ترسنده ئی

سینه اش فارغ ز قلب زنده ئی

وہ کافروں کی طرح موت سے ڈرتے ہیں اور ان میں سے کسی کے بھی سینے میں دل زندہ موجود نہیں ۔

As timorous Of death as any infidel, his breast Is hollow, empty of a living heart.

19

نعشش از پیش طبیبان برده ام

در حضور مصطفی آورده ام

میں نے ان نعشوں کو طبیبوں کے سامنے سے اٹھایا اور رسول اللہ کی پیش گاہ میں لے آیا ۔

I bore him lifeless from the doctors’ hands And brought him to the Prophet’s presence;

20

مرده بود از آب حیوان گفتمش

سری از اسرار قرآن گفتمش

یہ مر چکے تھے، میں نے انہیں آب حیات کی باتیں سنائیں اور قرآن کے بھیدوں میں سے ایک بھید انہیں بتایا کہ شاید یہ پھر زندگی سے بہرہ ور ہو جائیں ۔

dead He was; I told him of the Fount of Life, I spoke with him upon a mystery O the Quran,

21

داستانی گفتم از یاران نجد

نکهتی آوردم از بستان نجد

میں نے نجد کے دوستوں اور رفیقوں کی داستانیں سنائیں اور نجد ہی کے باغ سے ان کے لیے خوشبو لایا ۔

a tale of the Beloved Of Najd; I brought to him a perfume sweet Pressed from the roses of Arabia.

22

محفل از شمع نوا افروختم

قوم را رمز حیات آموختم

میں نے نغمے کی شمع روشن کر کے مجلس کو جگمگادیا اور قوم پر زندگی کا راز آشکار کرنا چاہا ۔

The Candle of my music lit the throng; I taught the people life’s enigma;

23

گفت بر ما بندد افسون فرنگ

هست غوغایش ز قانون فرنگ

انھوں نے سنتے ہی کہا کہ یہ شخص تو ہم پر فرنگیوں کا منتر پھونک رہا ہے اور جن ترانوں کا شور اس نے بپا کر رکھا ہے وہ تو فرنگیوں کے ساز سے اٹھ رہے ہیں ۔

still He cried against me, “These are Europe’s spells He weaves to bind us with, the psaltery Of Europe that he strikes into our ears.”

24

ای بصیری را ردا بخشنده ئی

بربط سلما مرا بخشنده ئی

آپ نے بصیری کو چادر مرحمت فرمائی تھی اور مجھے سلمیٰ کا ساز عطا کیا ۔

O thou, that to Busiri gavest a Cloak And to my fingers yielded Salma’s lute,

25

ذوق حق ده این خطا اندیش را

اینکه نشناسد متاع خویش را

ان غلط اندیشوں کو ذوق حق عطا کیجیے ۔ افسوس کہ یہ اپنی متاع کو نہیں پہچانتے ۔

Grant now to him, whose thoughts are so astray That he can no more recognize his own, Perception of the truth, and joy therein.

26

گر دلم آئینهٔ بی جوهر است

ور بحرفم غیر قرآن مضمر است

اگر میرے دل کا آئینہ جوہروں سے خالی ہے، اگر میری باتوں میں قرآن مجید کے سوا بھی کچھ ہے ۔

Be lusterless the mirror of my heart, Or be my words by aught but the Quran Informed,

27

ای فروغت صبح اعصار و دهور

چشم تو بینندهٔ ما فی الصدور

تو یا رسول اللہ آپ کی روشنی تمام زمانوں کے لیے صبح کا سروسامان ہے اور آپ کی آنکھ سینے کے اندر کی سب چیزیں دیکھ رہی ہے ۔

O thou whose splendour is the dawn Of every age and time, whose vision sees All that is in men’s breasts,

28

پردهٔ ناموس فکرم چاک کن

این خیابان را ز خارم پاک کن

آپ میری فکر کی عزت و حرمت کا پردہ چاک کر دیجیے اور ایسا انتظام فرمائیے کہ میرے کانٹے سے پھولوں کی یہ کیاری پاک ہو جائے ۔

rend now the veil Of my thought’s shame; sweep clean the avenue

29

تنگ کن رخت حیات اندر برم

اهل ملت را نگهدار از شرم

زندگی کا لباس میرے جسم پر تنگ کر دیجئے اور ملت کو میری برائیوں سے بچائے رہیے ۔

Of my offending thorns; choke in my breast The narrow breath of life; thy people guard Against the mischief of my wickedness;

30

سبز کشت نابسامانم مکن

بهره گیر از ابر نیسانم مکن

میرے بے سروسامان کھیت کو سبز نہ ہونے دیجیے اور اسے اپنے ابر بہار سے فیض نہ بخشئے ۔

Nurse not to verdure my untimely seed, Grant me no portion of spring’s fecund showers,

31

خشک گردان باده در انگور من

زهر ریز اندر می کافور من

میرے انگور کی رگوں میں شراب خشک کر دیجئے اور میری کافوری شراب میں زہر ڈال دیجئے ۔

Wither the vintage in my swelling grapes And scatter poison in my sparkling wine;

32

روز محشر خوار و رسوا کن مرا

بی نصیب از بوسهٔ پا کن مرا

قیامت کے دن مجھے ذلیل و رسوا ہونے دیجئے اور اپنے پاؤں کے بوسے سے بے نصیب رکھیئے ۔

Disgrace me on the Day of Reckoning, Too abject to embrace thy holy feet.

33

گر در اسرار قرآن سفته ام

با مسلمانان اگر حق گفته ام

اگر میں نے صرف قرآنی اسرار کے موتی پروئے ہیں اور مسلمانوں کے سامنے سچی باتیں کہیں ہیں ۔

But if I ever threaded on my chain The pearl of the Quran’s sweet mysteries, I to the Muslims I have spoken true

34

ایکه از احسان تو ناکس ، کس است

یک دعایت مزد گفتارم بس است

تو یا رسول اللہ آپ کا احسان ہر بے حیثیت کو صاحب حیثیت بنا دیتا ہے ۔ میں نے جو کچھ کہا اس کے بدلے میں صرف آپ کی دعا کافی ہے ۔

O thou whose bounty raises the obscure Unto significance, one prayer from thee Is ample guerdon for my word’s desert;

35

عرض کن پیش خدای عزوجل

عشق من گردد هم آغوش عمل

عزو جلال والے خدا کی بارگاہ میں عرض کیجیے کہ میرا عشق حق عمل سے ہمکنار ہو ۔

Plead thou to God my cause, and let my love Be locked in the embrace of godly deeds.

36

دولت جان حزین بخشیده ئی

بهره ئی از علم دین بخشیده ئی

مجھے غمگین جان کی دولت بخشی گئی ہے اور دین کے علم سے بھی حصہ ملا ہے ۔

Thou hast accorded me a contrite soul, A part of holy learning;

37

در عمل پاینده تر گردان مرا

آب نیسانم گهر گردان مرا

خدا سے عرض کیجیے کہ مجھے عمل میں زیادہ استواری نصیب ہو اور میں ابر بہار کے پانی کا قطرہ ہوں مجھے گوہر بنا دیا جائے ۔

establish me More firm in action, and my April shower Convert to pearls of great and glittering price.

38

رخت جان تا در جهان آورده ام

آرزوی دیگری پرورده ام

میں جب سے اس دنیا میں جان کا سامان لایا ہوں اس وقت سے ایک اور آرزو دل کی آغوش میں پرورش پا رہی ہے

Since first I cast the baggage of my soul In this world’s caravanserai, one more Desire I ever nourished,

39

همچو دل در سینه ام آسوده است

محرم از صبح حیاتم بوده است

وہ دل کی طرح میرے سینے میں مطمئن بیٹھی ہے اور صبح حیات سے محروم ہو رہا ہوں ۔

like my heart Dwelling within my breast, mine intimate From life’s dawn;

40

از پدر تا نام تو آموختم

آتش این آرزو افروختم

جب سے میں نے والد سے رسول اللہ کا نام مبار ک سیکھا تو ساتھ ہی اس آرزو کی آگ بھی روشن ہو گئی ۔

since first I learned thy name From my sire’s lips, the flame of that desire Kindled and glowed in me.

41

تا فلک دیرینه تر سازد مرا

در قمار زندگی بازد مرا

میری عمر بڑھتی گئی اور آسمان زندگی کے جوئے میں مجھ سے کام لیتا رہا ۔

My roll of days As heaven lengthens, in life’s lottery Marking me loser,

42

آرزوی من جوان تر می شود

این کهن صهبا گران تر می شود

میری یہ آرزو زیادہ جوان ہوتی رہی اور جوں جوں یہ شراب پرانی ہو تی گئی اس کی قیمت بڑھتی گئی (زیادہ قیمتی ہو گئی) ۔

ever lustier grows The youth of my desire; this ancient wine Gains greater body with the passing years.

43

این تمنا زیر خاکم گوهر است

در شبم تاب همین یک اختر است

اس آرزو کو میری مٹی کے نیچے گوہر کی حیثیت حاصل ہے اور میری رات کی تاریکی میں صرف اسی ایک ستارے کی روشنی ہے ۔

This yearning is gem beneath my dust, A single star illumining my night.

44

مدتی با لاله رویان ساختم

عشق با مرغوله مویان باختم

میں مدتوں لالہ رویوں سے ملتا جلتا رہا اور گھنگریالے بالوں والے حسینوں سے محبت کرتا رہا ۔

Awhile with rosy checks did I consort, Played love with twisted tresses,

45

باده ها با ماه سیمایان زدم

بر چراغ عافیت دامان زدم

میں نے چاند جیسی پیشانی والے محبوبوں کے ساتھ بادہ نوشی کی اور اطمینان و سکون کا چراغ بجھاتا رہا ۔

tasted wines With lustrous brows, the lamp of godly peace Rudely extinguished;

46

برقها رقصید گرد حاصلم

رهزنان بردند کالای دلم

میرے خرمن کے گرد بجلیاں منڈلاتی رہیں اور میرے دل کا سامان ڈاکو لوٹ کر لے گئے ۔

lightnings danced about My harvest; my heart’s store of merchandise By highwaymen was plundered

47

این شراب از شیشهٔ جانم نریخت

این زر سارا ز دامانم نریخت

لیکن اس آرزو کی شراب میری جان کی صراحی سے گر نہ سکی اور یہ خالص سونا میرے دامن سے باہر نہ نکل سکا ۔

Yet this draught Was spilled not from the goblet of my soul, This gold refined not scattered from my skirt.

48

عقل آزر پیشه ام زنار بست

نقش او در کشور جانم نشست

میری بت ساز عقل نے زنار پہن لیا اور اس کا نقش میری جان کی ولایت میں بیٹھ گیا ۔

My reason diabolical resolved To wear the Magian girdle; its impress Stamped o’er my spirit’s furrows.

49

سالها بودم گرفتار شکی

از دماغ خشک من لاینفکی

سالہا سال میں شک میں مبتلا رہا اور یہ شک میرے خشک دماغ سے الگ نہ ہوتا تھا ۔

Many years I was doubt’s prisoner, inseparable From my too arid brain.

50

حرفی از علم الیقین ناخوانده ئی

در گمان آباد حکمت مانده ئی

میں نے یقینی علم کا ایک حرف بھی نہیں پڑھا تھا اور فلسفے کے گمان آباد میں ہی رہا ۔

I had not read One letter of true knowledge, and abode Still in philosophy’s conjecture-land;

51

ظلمتم از تاب حق بیگانه بود

شامم از نور شفق بیگانه بود

میری تاریکی حق کی روشنی سے ناواقف تھی اور میری شام کو شفق کا نور نصیب نہیں ہوا تھا ۔

My darkness was a stranger to the light Of God, my dusk knew not the glow of dawn.

52

این تمنا در دلم خوابیده ماند

در صدف مثل گهر پوشیده ماند

اس حالت کے باوجود وہ آرزو میرے دل میں سوئی رہی ، گویا صدف کی آغوش میں موتی سویا ہوا تھا ۔

And yet this yearning slumbered in my heart, Close-shrouded as the pearl within the shell;

53

آخر از پیمانهٔ چشمم چکید

در ضمیر من نواها آفرید

آخر یہ آرزو میری آنکھ کے ساغر سے ٹپک پڑی اور اس نے میرے ضمیر میں نغمے پیدا کئے ۔

But lastly from the goblet of mine eye It slowly trickled, and within my mind Created melodies.

54

ای ز یاد غیر تو جانم تهی

بر لبش آرم اگر فرمان دهی

اسے وہ پاک ذات! جس کے سوا کسی کی یاد میری جان میں سما نہیں سکتی ، اگر اجازت ہو تو وہ آرزو زبان پر لے آوَں

And now my soul Is emptied of all memories but thee; I will be bold to speak of my desire, If thou wilt give me leave.

55

زندگی را از عمل سامان نبود

پس مرا این آرزو شایان نبود

میری زندگی میں عمل کا کوئی سامان نہیں ہے ۔ اس لیے میں اپنے آپ کو اس آرزو کے لائق نہیں سمجھتا تھا ۔

My life hath been Unfurnished in good works, and therefore I Might not aspire to worthiness of this,

56

شرم از اظهار او آید مرا

شفقت تو جرأت افزاید مرا

مجھے اس آرزو کے ظاہر کرنے سے شرم آتی ہے ۔ البتہ حضور کی شفقت سے میرا حوصلہ بڑھتا ہے ۔

Which to reveal I am too much ashamed; Yet thy compassion maketh me more bold.

57

هست شأن رحمتت گیتی نواز

آرزو دارم که میرم در حجاز

رسول اللہ آپ کی شان رحمت نے دنیا کو نوازشوں سے سرفرازی بخشی ۔ میری آرزو یہ ہے کہ آخری سانس حجاز میں پورا ہو ۔

The honey of thy mercy comforteth The whole round world; and this my yearning is, That I be granted in Hijaz to die!

58

مسلمی از ماسوا بیگانه ئی

تا کجا زناری بتخانه ئی

ایک مسلمان جو اللہ کے سوا ہر شے سے بیگانہ ہے کب تک بت خانے میں زناری بنا بیٹھا رہے

A Muslim, stranger to all else but God – How long shall he the heathen girdle wear And keep the temple?

59

حیف چون او را سرآید روزگار

پیکرش را دیر گیرد در کنار

کتنے افسوس کا مقام ہے کہ جب اس کی زندگی کے دن ختم ہوں تو اس کا وجود بت خانے کی آغوش میں رکھا جائے ۔

O the bitter shame If, when his earthly days are at an end, A pagan shrine receives his mortal bones.

60

از درت خیزد اگر اجزای من

وای امروزم خوشا فردای من

اگر میری خاک کے اجزا قیامت کے دن رسول اللہ کے دروازے سے اٹھیں تو میرا موجود دور کتنا ہی باث افسوس ہو لیکن آئندہ دور تو انتہائی خوش نصیبی کا ہو گا ۔

If from thy door my scattered parts arise, Woe to this day, that morrow how sublime!

61

فرخا شهری که تو بودی در آن

ای خنک خاکی که آسودی در آن

کتنا مبارک وہ شہر ہے جہاں آپ تشریف فرما تھے ۔ کتنی پاکیزہ ہے وہ خاک جہاں آپ آرام فرما ہیں ۔

O happy city that thy dwelling was, Thrice-blessed earth wherein thou dost repose!

62

«مسکن یار است و شهر شاه من

پیش عاشق این بود حب الوطن»

عاشق کے لیے حب وطن کا مقصد یہ ہے کہ اپنے دوست کے مسکن اور اپنے بادشاہ کے شہر میں پہنچے ۔

“My friend’s abode, the city of my king – True patriotism, the lover’s creed.”

63

کوکبم را دیدهٔ بیدار بخش

مرقدی در سایهٔ دیوار بخش

یا رسول اللہ! میرے ستارے کو روشن آنکھ بخشیے اور میرے لیے اپنی دیوار کے سائے میں قبر کی جگہ عطا فرمایئے

Give to my star an even-wakeful eye, And in the shadow of the wall a place To slumber

64

تا بیاساید دل بی تاب من

بستگی پیدا کند سیماب من

تا کہ میرے بے قرار دل کو قرار نصیب ہو جو کہ پارے کی طرح بے قرار ہے ۔

that my spirit’s quicksilver Be stilled;

65

با فلک گویم که آرامم نگر

دیده ئی آغازم ، انجامم نگر

میں آسمان سے کہوں کہ دیکھ، مجھے کیسا آرام نصیب ہوا ۔ تو میرا آغاز دیکھ چکا ہے اب میرا انجام بھی دیکھ ۔

that I may say unto the skies, “Behold me, tranquil; ye who looked upon My first beginning, witness now my close.”

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

مسلم چشم از جهان بر بسته چیست؟

فطرت این دل بحق پیوسته چیست؟

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 30 - ولم یکن له کفواً احد

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور