صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »رموز بیخودی
  3. »بخش 31 - عرض حال مصنف بحضور رحمة للعالمین

بخش 31 - عرض حال مصنف بحضور رحمة للعالمین

عرض حال مصنف بحضور رحمتہ للعالمین

The author’s memorial to him who is a mercy to all living beings

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
11

ای ظهور تو شباب زندگی

جلوه ات تعبیر خواب زندگی

حضور والا! آپ کا ظہور (تشریف لانا) زندگی کا عہد شباب تھا اور آپ کا جلوہ زندگی کے خواب کی تعبیر تھا ۔

O thou, whose manifesting was the youth Of strenuous life, whose bright epiphany Told the interpretation of life’s dreams

22

ای زمین از بارگاهت ارجمند

آسمان از بوسهٔ بامت بلند

یا رسول اللہ! ہماری زمین نے صر ف اس وجہ سے اونچا درجہ حاصل کر لیا کہ آپ کی بارگاہ سے شرف پایا ۔ آسمان آپ کے لب بام کو چومنے کی بدولت سربلند ہوا ۔

Earth attained honour, having held thy court, And heaven glory, having kissed thy roof.

33

شش جهت روشن ز تاب روی تو

ترک و تاجیک و عرب هندوی تو

اس کائنات کا ہر پہلو آپ کے روئے مبارک کی چمک دمک سے روشن ہے ۔ ترک ہوں یا تاجک ہو یا عرب ہوں سب آپ کے غلام ہیں ۔

Thy face illumes the six-directioned world; Turk, Tajik, Arab—all thy servants are.

44

از تو بالا پایهٔ این کائنات

فقر تو سرمایهٔ این کائنات

اس کائنات کا رتبہ صرف آپ کی بدولت اونچا ہوا اور اس کی دولت آپ کے فقر کے سوا کچھ نہیں ۔

Whatever things have being, find in thee True exaltation, and thy poverty Is their abundant riches.

55

در جهان شمع حیات افروختی

بندگان را خواجگی آموختی

یا رسول اللہ آپ نے دنیا میں زندگی کا چراغ روشن کیا اور غلاموں کو آقائی کا طریقہ سکھایا ۔

In this world Thou litst the lamp of life, as thou didst teach God’s servitors a godly mastery.

66

بی تو از نابودمندیها خجل

پیکران این سرای آب و گل

آب و گِل کے اس مقام یعنی دنیا میں جتنے بھی وجود تھے وہ رسول اللہ ﷺ کے بغیر اپنی بے مایگی اور بے حقیقتی پر شرمسار تھے وہ خاک کے ڈھیر معلوم ہوتے تھے ۔

Without thee, whatsoever form indwelt This habitat of water and of clay Was put to shame in utter bankruptcy;

77

تا دم تو آتشی از گل گشود

توده های خاک را آدم نمود

آپ کے نفس ِ گرم نے مٹی سے آگ پیدا کی تو وہ سب آدمی بن گئے ۔

Till, when thy breath drew fire from the cold dust And Adam made of earth’s dead particles,

88

ذره دامن گیر مهر و ماه شد

یعنی از نیروی خویش آگاه شد

بے حقیقت ذرے اپنی خداداد قوتوں سے آگاہ ہو گئے اور انھوں نے اڑ کر چاند اور سورج کے دامن تھام لیے ۔

Each atom caught the skirts of sun and moon, Suddenly conscious of its inward strength.

99

تا مرا افتاد بر رویت نظر

از اب و ام گشتهٔ ئی محبوب تر

جب سے میری نظر رسول اللہ کے روئے انور پر پڑی ہے ۔ رسول اللہ ماں باپ سے بھی زیادہ محبوب ہو گئے ہیں ۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ فرمایاتم میں سے کوئی شخص صاحب ایمان نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والدین ، اولاد اور تمام انسانوں سے محبوب تر نہ ہو جاؤں ۔

Since first my gaze alighted on thy face Dearer than father and dear mother thou Art grown to me.

1010

عشق در من آتشی افروخت است

فرصتش بادا که جانم سوخت است

عشق نے میرے اندر آگ بھڑکائی ۔ اب اسے فرصت مبارک ہو کہ میری جان جل چکی ۔

Thy love hath lit a flame Within my heart; ah, let it work at ease. For all my spirit is consumed in me,

1111

ناله ئی مانند نی سامان من

آن چراغ خانهٔ ویران من

اب میرے پاس ایک آہ کے سوا کچھ نہیں ۔ اسی کو میں اپنے اجڑے گھر کا دیا سمجھتا ہوں ۔

And my sole chattel is a reed-like sigh, The lantern flickering in my ruined house.

1212

از غم پنهان نگفتن مشکل است

باده در مینا نهفتن مشکل است

یا رسول اللہ جو غم میرے رگ و پے میں رچا ہوا ہے اسے عرض کرنے سے روکے رہنا مشکل ہے ۔ شراب کس طرح صراحی میں چھپی رہ سکتی ہے

It is not possible not to declare This hidden grief; it is not possible To veil the wine in the translucent cup.

1313

مسلم از سر نبی بیگانه شد

باز این بیت الحرم بتخانه شد

مسلمان رسول اللہ ﷺ کی تعلیم سے بے بہرہ ہو گیا ۔ یہ حرم پاک پھر بت خانہ بن گیا ۔

But now the Muslim is estranged a new Unto the Prophet’s secret; now once more God’s sanctuary is an idols’ shrine;

1414

از منات و لات و عزی و هبل

هر یکی دارد بتی اندر بغل

قسم قسم کے بت ہیں ، منات ہے، لات ہے، عزیٰ اور ہبل ہے ۔ ہر شخص کوئی نہ کوئی بت بغل میں دبائے پھرتا ہے ۔

Manat and Lat, Hubal and Uzza – each Carries an idol to his bosom clasped;

1515

شیخ ما از برهمن کافر تر است

زانکه او را سومنات اندر سر است

ہمارے مذہبی پیشوا کفر میں برہمنوں سے بھی آگے نکل گئے ۔ ان میں سے ہر ایک نے دماغ میں سومنات سجا رکھا ہے ۔

Our shaykh – no Brahman is so infidel, Seeking his Somnath stands within his head.

1616

رخت هستی از عرب برچیده ئی

در خمستان عجم خوابیده ئی

انھوں نے عرب سے سروسامان اٹھا لیا اور عجم کے شراب خانے میں جا کر سو گئے ۔

Arabia deserted, he is gone With all his being’s baggage, slumberous To drowse in Persia’s wine-vault.

1717

شل ز برفاب عجم اعضای او

سرد تر از اشک او صهبای او

انکے اعضا عجم کے برف آمیز پانی سے بے حس و حرکت ہو گئے اور ان کی شراب انکے آنسووَں سے زیادہ سرد ہے ۔

Persia’s sleet Has set his limbs a-shiver; his thin wine Rune colder than his tears.

1818

همچو کافر از اجل ترسنده ئی

سینه اش فارغ ز قلب زنده ئی

وہ کافروں کی طرح موت سے ڈرتے ہیں اور ان میں سے کسی کے بھی سینے میں دل زندہ موجود نہیں ۔

As timorous Of death as any infidel, his breast Is hollow, empty of a living heart.

1919

نعشش از پیش طبیبان برده ام

در حضور مصطفی آورده ام

میں نے ان نعشوں کو طبیبوں کے سامنے سے اٹھایا اور رسول اللہ کی پیش گاہ میں لے آیا ۔

I bore him lifeless from the doctors’ hands And brought him to the Prophet’s presence;

2020

مرده بود از آب حیوان گفتمش

سری از اسرار قرآن گفتمش

یہ مر چکے تھے، میں نے انہیں آب حیات کی باتیں سنائیں اور قرآن کے بھیدوں میں سے ایک بھید انہیں بتایا کہ شاید یہ پھر زندگی سے بہرہ ور ہو جائیں ۔

dead He was; I told him of the Fount of Life, I spoke with him upon a mystery O the Quran,

2121

داستانی گفتم از یاران نجد

نکهتی آوردم از بستان نجد

میں نے نجد کے دوستوں اور رفیقوں کی داستانیں سنائیں اور نجد ہی کے باغ سے ان کے لیے خوشبو لایا ۔

a tale of the Beloved Of Najd; I brought to him a perfume sweet Pressed from the roses of Arabia.

2222

محفل از شمع نوا افروختم

قوم را رمز حیات آموختم

میں نے نغمے کی شمع روشن کر کے مجلس کو جگمگادیا اور قوم پر زندگی کا راز آشکار کرنا چاہا ۔

The Candle of my music lit the throng; I taught the people life’s enigma;

2323

گفت بر ما بندد افسون فرنگ

هست غوغایش ز قانون فرنگ

انھوں نے سنتے ہی کہا کہ یہ شخص تو ہم پر فرنگیوں کا منتر پھونک رہا ہے اور جن ترانوں کا شور اس نے بپا کر رکھا ہے وہ تو فرنگیوں کے ساز سے اٹھ رہے ہیں ۔

still He cried against me, “These are Europe’s spells He weaves to bind us with, the psaltery Of Europe that he strikes into our ears.”

2424

ای بصیری را ردا بخشنده ئی

بربط سلما مرا بخشنده ئی

آپ نے بصیری کو چادر مرحمت فرمائی تھی اور مجھے سلمیٰ کا ساز عطا کیا ۔

O thou, that to Busiri gavest a Cloak And to my fingers yielded Salma’s lute,

2525

ذوق حق ده این خطا اندیش را

اینکه نشناسد متاع خویش را

ان غلط اندیشوں کو ذوق حق عطا کیجیے ۔ افسوس کہ یہ اپنی متاع کو نہیں پہچانتے ۔

Grant now to him, whose thoughts are so astray That he can no more recognize his own, Perception of the truth, and joy therein.

2626

گر دلم آئینهٔ بی جوهر است

ور بحرفم غیر قرآن مضمر است

اگر میرے دل کا آئینہ جوہروں سے خالی ہے، اگر میری باتوں میں قرآن مجید کے سوا بھی کچھ ہے ۔

Be lusterless the mirror of my heart, Or be my words by aught but the Quran Informed,

2727

ای فروغت صبح اعصار و دهور

چشم تو بینندهٔ ما فی الصدور

تو یا رسول اللہ آپ کی روشنی تمام زمانوں کے لیے صبح کا سروسامان ہے اور آپ کی آنکھ سینے کے اندر کی سب چیزیں دیکھ رہی ہے ۔

O thou whose splendour is the dawn Of every age and time, whose vision sees All that is in men’s breasts,

2828

پردهٔ ناموس فکرم چاک کن

این خیابان را ز خارم پاک کن

آپ میری فکر کی عزت و حرمت کا پردہ چاک کر دیجیے اور ایسا انتظام فرمائیے کہ میرے کانٹے سے پھولوں کی یہ کیاری پاک ہو جائے ۔

rend now the veil Of my thought’s shame; sweep clean the avenue

2929

تنگ کن رخت حیات اندر برم

اهل ملت را نگهدار از شرم

زندگی کا لباس میرے جسم پر تنگ کر دیجئے اور ملت کو میری برائیوں سے بچائے رہیے ۔

Of my offending thorns; choke in my breast The narrow breath of life; thy people guard Against the mischief of my wickedness;

3030

سبز کشت نابسامانم مکن

بهره گیر از ابر نیسانم مکن

میرے بے سروسامان کھیت کو سبز نہ ہونے دیجیے اور اسے اپنے ابر بہار سے فیض نہ بخشئے ۔

Nurse not to verdure my untimely seed, Grant me no portion of spring’s fecund showers,

3131

خشک گردان باده در انگور من

زهر ریز اندر می کافور من

میرے انگور کی رگوں میں شراب خشک کر دیجئے اور میری کافوری شراب میں زہر ڈال دیجئے ۔

Wither the vintage in my swelling grapes And scatter poison in my sparkling wine;

3232

روز محشر خوار و رسوا کن مرا

بی نصیب از بوسهٔ پا کن مرا

قیامت کے دن مجھے ذلیل و رسوا ہونے دیجئے اور اپنے پاؤں کے بوسے سے بے نصیب رکھیئے ۔

Disgrace me on the Day of Reckoning, Too abject to embrace thy holy feet.

3333

گر در اسرار قرآن سفته ام

با مسلمانان اگر حق گفته ام

اگر میں نے صرف قرآنی اسرار کے موتی پروئے ہیں اور مسلمانوں کے سامنے سچی باتیں کہیں ہیں ۔

But if I ever threaded on my chain The pearl of the Quran’s sweet mysteries, I to the Muslims I have spoken true

3434

ایکه از احسان تو ناکس ، کس است

یک دعایت مزد گفتارم بس است

تو یا رسول اللہ آپ کا احسان ہر بے حیثیت کو صاحب حیثیت بنا دیتا ہے ۔ میں نے جو کچھ کہا اس کے بدلے میں صرف آپ کی دعا کافی ہے ۔

O thou whose bounty raises the obscure Unto significance, one prayer from thee Is ample guerdon for my word’s desert;

3535

عرض کن پیش خدای عزوجل

عشق من گردد هم آغوش عمل

عزو جلال والے خدا کی بارگاہ میں عرض کیجیے کہ میرا عشق حق عمل سے ہمکنار ہو ۔

Plead thou to God my cause, and let my love Be locked in the embrace of godly deeds.

3636

دولت جان حزین بخشیده ئی

بهره ئی از علم دین بخشیده ئی

مجھے غمگین جان کی دولت بخشی گئی ہے اور دین کے علم سے بھی حصہ ملا ہے ۔

Thou hast accorded me a contrite soul, A part of holy learning;

3737

در عمل پاینده تر گردان مرا

آب نیسانم گهر گردان مرا

خدا سے عرض کیجیے کہ مجھے عمل میں زیادہ استواری نصیب ہو اور میں ابر بہار کے پانی کا قطرہ ہوں مجھے گوہر بنا دیا جائے ۔

establish me More firm in action, and my April shower Convert to pearls of great and glittering price.

3838

رخت جان تا در جهان آورده ام

آرزوی دیگری پرورده ام

میں جب سے اس دنیا میں جان کا سامان لایا ہوں اس وقت سے ایک اور آرزو دل کی آغوش میں پرورش پا رہی ہے

Since first I cast the baggage of my soul In this world’s caravanserai, one more Desire I ever nourished,

3939

همچو دل در سینه ام آسوده است

محرم از صبح حیاتم بوده است

وہ دل کی طرح میرے سینے میں مطمئن بیٹھی ہے اور صبح حیات سے محروم ہو رہا ہوں ۔

like my heart Dwelling within my breast, mine intimate From life’s dawn;

4040

از پدر تا نام تو آموختم

آتش این آرزو افروختم

جب سے میں نے والد سے رسول اللہ کا نام مبار ک سیکھا تو ساتھ ہی اس آرزو کی آگ بھی روشن ہو گئی ۔

since first I learned thy name From my sire’s lips, the flame of that desire Kindled and glowed in me.

4141

تا فلک دیرینه تر سازد مرا

در قمار زندگی بازد مرا

میری عمر بڑھتی گئی اور آسمان زندگی کے جوئے میں مجھ سے کام لیتا رہا ۔

My roll of days As heaven lengthens, in life’s lottery Marking me loser,

4242

آرزوی من جوان تر می شود

این کهن صهبا گران تر می شود

میری یہ آرزو زیادہ جوان ہوتی رہی اور جوں جوں یہ شراب پرانی ہو تی گئی اس کی قیمت بڑھتی گئی (زیادہ قیمتی ہو گئی) ۔

ever lustier grows The youth of my desire; this ancient wine Gains greater body with the passing years.

4343

این تمنا زیر خاکم گوهر است

در شبم تاب همین یک اختر است

اس آرزو کو میری مٹی کے نیچے گوہر کی حیثیت حاصل ہے اور میری رات کی تاریکی میں صرف اسی ایک ستارے کی روشنی ہے ۔

This yearning is gem beneath my dust, A single star illumining my night.

4444

مدتی با لاله رویان ساختم

عشق با مرغوله مویان باختم

میں مدتوں لالہ رویوں سے ملتا جلتا رہا اور گھنگریالے بالوں والے حسینوں سے محبت کرتا رہا ۔

Awhile with rosy checks did I consort, Played love with twisted tresses,

4545

باده ها با ماه سیمایان زدم

بر چراغ عافیت دامان زدم

میں نے چاند جیسی پیشانی والے محبوبوں کے ساتھ بادہ نوشی کی اور اطمینان و سکون کا چراغ بجھاتا رہا ۔

tasted wines With lustrous brows, the lamp of godly peace Rudely extinguished;

4646

برقها رقصید گرد حاصلم

رهزنان بردند کالای دلم

میرے خرمن کے گرد بجلیاں منڈلاتی رہیں اور میرے دل کا سامان ڈاکو لوٹ کر لے گئے ۔

lightnings danced about My harvest; my heart’s store of merchandise By highwaymen was plundered

4747

این شراب از شیشهٔ جانم نریخت

این زر سارا ز دامانم نریخت

لیکن اس آرزو کی شراب میری جان کی صراحی سے گر نہ سکی اور یہ خالص سونا میرے دامن سے باہر نہ نکل سکا ۔

Yet this draught Was spilled not from the goblet of my soul, This gold refined not scattered from my skirt.

4848

عقل آزر پیشه ام زنار بست

نقش او در کشور جانم نشست

میری بت ساز عقل نے زنار پہن لیا اور اس کا نقش میری جان کی ولایت میں بیٹھ گیا ۔

My reason diabolical resolved To wear the Magian girdle; its impress Stamped o’er my spirit’s furrows.

4949

سالها بودم گرفتار شکی

از دماغ خشک من لاینفکی

سالہا سال میں شک میں مبتلا رہا اور یہ شک میرے خشک دماغ سے الگ نہ ہوتا تھا ۔

Many years I was doubt’s prisoner, inseparable From my too arid brain.

5050

حرفی از علم الیقین ناخوانده ئی

در گمان آباد حکمت مانده ئی

میں نے یقینی علم کا ایک حرف بھی نہیں پڑھا تھا اور فلسفے کے گمان آباد میں ہی رہا ۔

I had not read One letter of true knowledge, and abode Still in philosophy’s conjecture-land;

5151

ظلمتم از تاب حق بیگانه بود

شامم از نور شفق بیگانه بود

میری تاریکی حق کی روشنی سے ناواقف تھی اور میری شام کو شفق کا نور نصیب نہیں ہوا تھا ۔

My darkness was a stranger to the light Of God, my dusk knew not the glow of dawn.

5252

این تمنا در دلم خوابیده ماند

در صدف مثل گهر پوشیده ماند

اس حالت کے باوجود وہ آرزو میرے دل میں سوئی رہی ، گویا صدف کی آغوش میں موتی سویا ہوا تھا ۔

And yet this yearning slumbered in my heart, Close-shrouded as the pearl within the shell;

5353

آخر از پیمانهٔ چشمم چکید

در ضمیر من نواها آفرید

آخر یہ آرزو میری آنکھ کے ساغر سے ٹپک پڑی اور اس نے میرے ضمیر میں نغمے پیدا کئے ۔

But lastly from the goblet of mine eye It slowly trickled, and within my mind Created melodies.

5454

ای ز یاد غیر تو جانم تهی

بر لبش آرم اگر فرمان دهی

اسے وہ پاک ذات! جس کے سوا کسی کی یاد میری جان میں سما نہیں سکتی ، اگر اجازت ہو تو وہ آرزو زبان پر لے آوَں

And now my soul Is emptied of all memories but thee; I will be bold to speak of my desire, If thou wilt give me leave.

5555

زندگی را از عمل سامان نبود

پس مرا این آرزو شایان نبود

میری زندگی میں عمل کا کوئی سامان نہیں ہے ۔ اس لیے میں اپنے آپ کو اس آرزو کے لائق نہیں سمجھتا تھا ۔

My life hath been Unfurnished in good works, and therefore I Might not aspire to worthiness of this,

5656

شرم از اظهار او آید مرا

شفقت تو جرأت افزاید مرا

مجھے اس آرزو کے ظاہر کرنے سے شرم آتی ہے ۔ البتہ حضور کی شفقت سے میرا حوصلہ بڑھتا ہے ۔

Which to reveal I am too much ashamed; Yet thy compassion maketh me more bold.

5757

هست شأن رحمتت گیتی نواز

آرزو دارم که میرم در حجاز

رسول اللہ آپ کی شان رحمت نے دنیا کو نوازشوں سے سرفرازی بخشی ۔ میری آرزو یہ ہے کہ آخری سانس حجاز میں پورا ہو ۔

The honey of thy mercy comforteth The whole round world; and this my yearning is, That I be granted in Hijaz to die!

5858

مسلمی از ماسوا بیگانه ئی

تا کجا زناری بتخانه ئی

ایک مسلمان جو اللہ کے سوا ہر شے سے بیگانہ ہے کب تک بت خانے میں زناری بنا بیٹھا رہے

A Muslim, stranger to all else but God – How long shall he the heathen girdle wear And keep the temple?

5959

حیف چون او را سرآید روزگار

پیکرش را دیر گیرد در کنار

کتنے افسوس کا مقام ہے کہ جب اس کی زندگی کے دن ختم ہوں تو اس کا وجود بت خانے کی آغوش میں رکھا جائے ۔

O the bitter shame If, when his earthly days are at an end, A pagan shrine receives his mortal bones.

6060

از درت خیزد اگر اجزای من

وای امروزم خوشا فردای من

اگر میری خاک کے اجزا قیامت کے دن رسول اللہ کے دروازے سے اٹھیں تو میرا موجود دور کتنا ہی باث افسوس ہو لیکن آئندہ دور تو انتہائی خوش نصیبی کا ہو گا ۔

If from thy door my scattered parts arise, Woe to this day, that morrow how sublime!

6161

فرخا شهری که تو بودی در آن

ای خنک خاکی که آسودی در آن

کتنا مبارک وہ شہر ہے جہاں آپ تشریف فرما تھے ۔ کتنی پاکیزہ ہے وہ خاک جہاں آپ آرام فرما ہیں ۔

O happy city that thy dwelling was, Thrice-blessed earth wherein thou dost repose!

6262

«مسکن یار است و شهر شاه من

پیش عاشق این بود حب الوطن»

عاشق کے لیے حب وطن کا مقصد یہ ہے کہ اپنے دوست کے مسکن اور اپنے بادشاہ کے شہر میں پہنچے ۔

“My friend’s abode, the city of my king – True patriotism, the lover’s creed.”

6363

کوکبم را دیدهٔ بیدار بخش

مرقدی در سایهٔ دیوار بخش

یا رسول اللہ! میرے ستارے کو روشن آنکھ بخشیے اور میرے لیے اپنی دیوار کے سائے میں قبر کی جگہ عطا فرمایئے

Give to my star an even-wakeful eye, And in the shadow of the wall a place To slumber

6464

تا بیاساید دل بی تاب من

بستگی پیدا کند سیماب من

تا کہ میرے بے قرار دل کو قرار نصیب ہو جو کہ پارے کی طرح بے قرار ہے ۔

that my spirit’s quicksilver Be stilled;

6565

با فلک گویم که آرامم نگر

دیده ئی آغازم ، انجامم نگر

میں آسمان سے کہوں کہ دیکھ، مجھے کیسا آرام نصیب ہوا ۔ تو میرا آغاز دیکھ چکا ہے اب میرا انجام بھی دیکھ ۔

that I may say unto the skies, “Behold me, tranquil; ye who looked upon My first beginning, witness now my close.”

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

مسلم چشم از جهان بر بسته چیست؟

فطرت این دل بحق پیوسته چیست؟

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 30 - ولم یکن له کفواً احد

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور