صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »لالهٔ طور
  4. »رباعی شمارهٔ 10

رباعی شمارهٔ 10

ہمارا جہان جس کا ہونا، نہ ہونے کے برابر ہے

The Tulip of Sinai - 10

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: ودش

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: آربری، مخدوم حسان
صداکار: مخدوم حسان لاهوری
Toggle stanza 1
11
جهان ما که نابود است بودش
زیان توام همی زاید بسودش

ہمارا جہان جس کا ہونا، نہ ہونے کے برابر ہے —

یہاں فوائد بڑھنے کے ساتھ نقصان کا بڑھنا لازم وملزوم ہے۔

This world of ours, where Loss is born with gain and dissolution is with Being twain.

22
کهن را نو کن و طرح دگر ریز
دل ما بر نتابد دیر و زودش

یہ پرانا ہو چکا ہے، اس کی بنیاد از سر نو اٹھا کر اسے نیا کر —

ہمارا دل اس سلسلے میں دیر سویر کی تاب نہیں رکھتا۔

Our heart will not endure it, soon or late: Make new the old, and build it up again!

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

سحر می گفت بلبل باغبان را

درین گِل جز نهال غم نگیرد

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 9

اگلی نظم

نوای عشق را ساز است آدم

گشاید راز و خود رازست آدم

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 11

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

تصاویر

◆

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00