صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »لالهٔ طور
  4. »رباعی شمارهٔ 163

رباعی شمارهٔ 163

بالاخر اقبال نے عقل چالاک کو چھوڑ دیا

The Tulip of Sinai - 163

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: ونکرد

صنف: قطعه

اردو ترجمہ: مخدوم حسان
انگریزی ترجمہ: آربری، مخدوم حسان
صداکار: مخدوم حسان لاهوری
Toggle stanza 1
1

بالاخر اقبال نے عقل چالاک کو چھوڑ دیا —

اور اپنے خود سر دل کو عشق سے رام کیا۔

At last from subtle reason he has fled; His self-willed heart knew passion, and it bled;

2

اقبال فلک پیما کے بارے میں کیا پوچھتا ہے —

ہمارے اس نکتہ دان فلسفی نے (عقل کی نہیں بلکہ) جنون کی باتیں کی ہیں ۔

What askest thou of Iqbal in the clouds? Our wise philosopher has lost his head.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

مرا ذوق سخن خون در جگر کرد

غبار راه را مشت شرر کرد

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 162

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00