صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »لالهٔ طور
  4. »رباعی شمارهٔ 44

رباعی شمارهٔ 44

عقل آج اور کل کی زنجیر میں جکڑی ہوئی ہے

To past and present reason is a slave

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: وشاست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
صداکار: مخدوم حسان لاهوری
Toggle stanza 1
1

عقل آج اور کل کی زنجیر میں جکڑی ہوئی ہے —

آنکھ اور کان کے بتوں کو پوجنے والی ہے. (حواس ظاہر سے حاصل شدہ تاثرات کو سب کچھ سمجھتی ہے)

To past and present reason is a slave —

It worships images of the eye and ear.

2

اپنی آستین میں بت چھپائے ہوئے ہے —

یہ زنّار پوش کسی برہمن کی اولاد (معلوم ہوتی) ہے۔

It always has an idol up its sleeve —

It is a Brahmin bred and born, beware

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

سفالم را می او جام جم کرد

درون قطره ام پوشیده یم کرد

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 43

اگلی نظم

خرد اندر سر هر کس نهادند

تنم چون دیگران از خاک و خون است

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 45

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

مسلمان، فاقه مست و ژنده‌پوش است

ز کارش جبرئیل اندر خروش است

علامہ اقبال»ارمغان حجاز»حضور حق»بخش 7 - مسلمان، فاقه مست و ژنده‌پوش است

بهل افسانهٔ آن پا چراغی

حدیث سوز او آزار گوش است

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 27

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00