شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
مسلمان، فاقه مست و ژندهپوش است
ز کارش جبرئیل اندر خروش است
عہد حاضر کا مسلمان بھوکا اور پھٹے پرانے کپڑے پہننے والا ہے ۔ اس کے اعمال دیکھ کر جبرئیل علیہ السلام کے دل میں شور و غل برپا ہے ۔
Muslim, clad in rags and given to starvation, Gabriel is all protest at his deeds;
بیا نقشِ دگر ملت بریزیم
که این ملت، جهان را بارِ دوش است
آوَ ، ہم ایک نئی قوم کا نقش بنائیں کیونکہ یہ قوم دنیا کے کندھوں کا بوجھ ہے ۔
come, let us lay the foundation of a new millat, for this millat has become an unbearable burden.
دگر ملت که کاری پیش گیرد
دگر ملت که نوش از نیش گیرد
دوسری قوم جس کے سامنے کوئی مقصد ہو ، وہ دوسری قوم جو مقصد کی خاطر تکلیفوں سے خوشی حاصل کرے ۔
Another millat that sets a new task for herself, that sucks elixir out of thorns,
نگردد با یکی عالم رضامند
دو عالم را به دوش خویش گیرد
وہ قوم جو ایک جہان سے خوش نہ ہو بلکہ دونوں جہانوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے ۔
is not content with this one world and carried two worlds on her shoulders.
دگر قومی که ذکر لاالهش
برآرد از دل شب صبحگاهش
دوسری مسلمان قوم جو اپنے لا الہ کے ذکر سے رات کے دل سے اس کے صبح کے وقت پر روشنی لے آئے ۔ یعنی رات اور دنیا کی تاریکی دور کرے ۔
Another people whose dhikr of la ilah comes out from night’s heart at morn time;
شناسد منزلش را آفتابی
که ریگ کهکشان روبد ز راهش
وہ قوم جس کی منزل کو سورج پہچانتا ہے کیونکہ کہکشاں کی ریت اس کے راستے سے صاف ہو جاتی ہے ۔ یعنی راستے کی رکاوٹیں دور ہو جاتی ہیں ۔
the sun knows her destination and cleans the sand of Milky Way from her path!