صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »ارمغان حجاز
  3. »حضور حق
  4. »بخش 7 - مسلمان، فاقه مست و ژنده‌پوش است

بخش 7 - مسلمان، فاقه مست و ژنده‌پوش است

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: وشاست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: بشیر احمد
بند 1
Toggle stanza 1
1

مسلمان، فاقه مست و ژنده‌پوش است

ز کارش جبرئیل اندر خروش است

عہد حاضر کا مسلمان بھوکا اور پھٹے پرانے کپڑے پہننے والا ہے ۔ اس کے اعمال دیکھ کر جبرئیل علیہ السلام کے دل میں شور و غل برپا ہے ۔

Muslim, clad in rags and given to starvation, Gabriel is all protest at his deeds;

2

بیا نقشِ دگر ملت بریزیم

که این ملت، جهان را بارِ دوش است

آوَ ، ہم ایک نئی قوم کا نقش بنائیں کیونکہ یہ قوم دنیا کے کندھوں کا بوجھ ہے ۔

come, let us lay the foundation of a new millat, for this millat has become an unbearable burden.

بند 2
Toggle stanza 2
3

دگر ملت که کاری پیش گیرد

دگر ملت که نوش از نیش گیرد

دوسری قوم جس کے سامنے کوئی مقصد ہو ، وہ دوسری قوم جو مقصد کی خاطر تکلیفوں سے خوشی حاصل کرے ۔

Another millat that sets a new task for herself, that sucks elixir out of thorns,

4

نگردد با یکی عالم رضامند

دو عالم را به دوش خویش گیرد

وہ قوم جو ایک جہان سے خوش نہ ہو بلکہ دونوں جہانوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے ۔

is not content with this one world and carried two worlds on her shoulders.

بند 3
Toggle stanza 3
5

دگر قومی که ذکر لاالهش

برآرد از دل شب صبحگاهش

دوسری مسلمان قوم جو اپنے لا الہ کے ذکر سے رات کے دل سے اس کے صبح کے وقت پر روشنی لے آئے ۔ یعنی رات اور دنیا کی تاریکی دور کرے ۔

Another people whose dhikr of la ilah comes out from night’s heart at morn time;

6

شناسد منزلش را آفتابی

که ریگ کهکشان روبد ز راهش

وہ قوم جس کی منزل کو سورج پہچانتا ہے کیونکہ کہکشاں کی ریت اس کے راستے سے صاف ہو جاتی ہے ۔ یعنی راستے کی رکاوٹیں دور ہو جاتی ہیں ۔

the sun knows her destination and cleans the sand of Milky Way from her path!

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

عطا کن شورِ رومی، سوزِ خسرو

عطا کن صدق و اخلاصِ سنایی

علامہ اقبال»ارمغان حجاز»حضور حق»بخش 6 - عطا کن شور رومی، سوز خسرو

اگلی نظم

جهان تست در دست خسی چند

کسان او به بند ناکسی چند

علامہ اقبال»ارمغان حجاز»حضور حق»بخش 8 - جهان تست در دست خسی چند

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

بهل افسانهٔ آن پا چراغی

حدیث سوز او آزار گوش است

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 27

خرد زنجیری امروز و دوش است

پرستار بتان چشم و گوش است

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 44