شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
جهان تست در دست خسی چند
کسان او به بند ناکسی چند
تیرا جہان چند کمینوں کے ہاتھ میں ہے ۔ اس کے کسان (دولت و زمین) چند نا اہل لوگوں کی قید میں ہیں ۔
Your world is in the hands of a few mean fellows, Its people are in fetters of inhuman persons;
هنرور میان کارگاهان
کشد خود را به عیش کرکسی چند
کاریگر لوگ کارخانوں میں ہیں اور کچھ گدھوں (سرمایہ داروں ) کے لیے خود کو مار رہے ہیں ۔
a skilful man, in factories, kills himself for a few vultures’ pleasure.
مریدی فاقه مستی گفت با شیخ
که یزدان را ز حالِ ما خبر نیست
ایک بھوکے مرید نے پیر و مرشد کو کہا کہ خدا ہمارے حال سے واقفیت نہیں رکھتا ۔ یعنی ہمارے حال کی خبر نہیں (پیر و مرشد سے مراد وہ جعلساز پیر ہیں جو خود تو عیش میں ہیں لیکن رعایا غربت کا شکار ہے) ۔
A hungry disciple said to his master: ‘God does not know of our state:
Translation: مستنصر میر
به ما نزدیکتر از شهرگِ ماست
ولیکن از شکم نزدیکتر نیست
خدا تو ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے لیکن کیا وہ پیٹ سے زیادہ نزدیک نہیں ہے ۔
He is closer to us than our jugular veins, But not as close as our bellies.’
Translation: مستنصر میر