صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »ارمغان حجاز
  3. »حضور حق
  4. »بخش 8 - جهان تست در دست خسی چند

بخش 8 - جهان تست در دست خسی چند

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: کسیچند

صنف: قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: بشیر احمد، مستنصر میر
بند 1
Toggle stanza 1
1

جهان تست در دست خسی چند

کسان او به بند ناکسی چند

تیرا جہان چند کمینوں کے ہاتھ میں ہے ۔ اس کے کسان (دولت و زمین) چند نا اہل لوگوں کی قید میں ہیں ۔

Your world is in the hands of a few mean fellows, Its people are in fetters of inhuman persons;

2

هنرور میان کارگاهان

کشد خود را به عیش کرکسی چند

کاریگر لوگ کارخانوں میں ہیں اور کچھ گدھوں (سرمایہ داروں ) کے لیے خود کو مار رہے ہیں ۔

a skilful man, in factories, kills himself for a few vultures’ pleasure.

بند 2
Toggle stanza 2
3

مریدی فاقه مستی گفت با شیخ

که یزدان را ز حالِ ما خبر نیست

ایک بھوکے مرید نے پیر و مرشد کو کہا کہ خدا ہمارے حال سے واقفیت نہیں رکھتا ۔ یعنی ہمارے حال کی خبر نہیں (پیر و مرشد سے مراد وہ جعلساز پیر ہیں جو خود تو عیش میں ہیں لیکن رعایا غربت کا شکار ہے) ۔

A hungry disciple said to his master: ‘God does not know of our state:

Translation: مستنصر میر

4

به ما نزدیک‌تر از شهرگِ ماست

ولیکن از شکم نزدیک‌تر نیست

خدا تو ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے لیکن کیا وہ پیٹ سے زیادہ نزدیک نہیں ہے ۔

He is closer to us than our jugular veins, But not as close as our bellies.’

Translation: مستنصر میر

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

مسلمان، فاقه مست و ژنده‌پوش است

ز کارش جبرئیل اندر خروش است

علامہ اقبال»ارمغان حجاز»حضور حق»بخش 7 - مسلمان، فاقه مست و ژنده‌پوش است

اگلی نظم

دگرگون کشور هندوستان است

دگرگون آن زمین و آسمان است

علامہ اقبال»ارمغان حجاز»حضور حق»بخش 9 - دگرگون کشور هندوستان است