صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »مثنوی پس چه باید کرد ای اقوام شرق
  3. »بخش 7 - فقر

بخش 7 - فقر

فقر

Faqr

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: مخدوم حسان، حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، بشیر احمد
صداکار: مخدوم حسان لاهوری
بند 1
Toggle stanza 1
11
چیست فقر ای بندگان آب و گل
یک نگاه راه بین یک زنده دل

اے دنیا کے غلامو! جانتے ہو فقر کیا ہے؟ —

ایک نگاہ جو صحیح راستہ دیکھ لے، ایک دل جو اللہ کی محبت سے زندہ ہو۔

O slaves of material world! Do you know what Faqr is? —

A gaze that pierces through illusion’s veil, and a heart resurrected by Allah’s love.

22
فقر کار خویش را سنجیدن است
بر دو حرف لا اله پیچیدن است

فقرکیا ہے؟ اپنے کام کا خود محاسبہ کرنا —

اور لا الہ کو اپنے اعمال کا مرکز بنانا۔

Faqr is to hold oneself accountable in every deed —

And make 'Lā ilāha' the axis where all actions lead.

33
فقر خیبر گیر با نان شعیر
بستهٔ فتراک او سلطان و میر

فقر کیا ہے؟ جو کی روٹی کھا کر خیبر فتح کرنا —

پادشاہ اور امیر سب فقر کے فتراک میں بندھے ہوئے شکار ہیں۔

To conquer Khyber with barley-crusts as your bread — that is Faqr!

Kings and princes? All bound in Faqr's hunter's net like prey struck dead.

44
فقر ذوق و شوق و تسلیم و رضاست
ما امینیم این متاع مصطفی است

فقر کیا ہے؟ یہ ذوق و شوق و تسلیم و رضا کا نام ہے —

یہ حضور اکرم ﷺ کی متاع ہے اور ہم اس کے امین ہیں۔

Faqr is the name of ardour, ecstasy and submission to the will of God —

This treasure belongs to the Prophet (P.B.U.H), and we are but its trustees.

55
فقر بر کروبیان شبخون زند
بر نوامیس جهان شبخون زند

فقر ایک طرف فرشتوں پر شب خون مارتا ہے —

اور دوسری طرف کائنات کی پوشیدہ قوتوں پر حملہ آور ہوتا ہے۔

Faqr, a thunderbolt striking angels unaware on one flank —

While storming the hidden forces of creation on its other flank!

66
بر مقام دیگر اندازد ترا
از زجاج ، الماس می سازد ترا

فقر تجھے ایک اور ہی مقام تک پہنچا دیتا ہے —

یہ شیشے سے تجھے ایک ہیرے میں بدل دیتا ہے۔

Faqr carries you to a realm beyond mortal claim —

Transmuting glass of your being to a flawless diamond.

77
برگ و ساز او ز قرآن عظیم
مرد درویشی نگنجد در گلیم

فقر کا تمام سازوسامان اور زاد راہ، قرآن عظیم سے وجود میں آتا ہے —

مرد درویش گدڑی میں نہیں سما سکتا۔

All the provisions and equipment of Faqr are drawn from the Mighty Qur’an.

A true darwish cannot be contained in patched robes' span.

88
گرچه اندر بزم کم گوید سخن
یک دم او گرمی صد انجمن

اگرچہ صاحب فقر محفل میں کم بات کرتا ہے —

لیکن اس کی ایک سانس بھی سینکڑوں محفلوں کو گرما دیتی ہے۔

Though the faqir speaks very little in the assembly of people —

Yet this little sets a hundred assemblies aflame with ecstasy.

99
بی پران را ذوق پروازی دهد
پشه را تمکین شهبازی دهد

وہ پروں سے عاری بے عمل لوگوں میں پرواز کا ذوق پیدا کردیتا ہے —

اور مچھر کو شاہباز کا سا وقار اور زور عطا کرتا ہے۔

It breathes the longing for flight in wingless, slumbering hearts —

And crowns the feeble gnat with the grandeur of a royal hawk.

1010
با سلاطین در فتد مرد فقیر
از شکوه بوریا لرزد سریر

مرد فقیر جب پادشاہوں کے مقابلے میں کھڑا ہو جاتا ہے —

تو شکوہ بوریا سے تخت لرز جاتا ہے۔

When the Faqir stands before the mighty kings —

The splendor of his straw-mat makes thrones quake with fright.

1111
از جنون می افکند هوئی به شهر
وا رهاند خلق را از جبر و قهر

وہ اپنے جنون سے شہر میں ہنگامہ برپا کر دیتا ہے —

اور خلق خدا کو جبر و قہر سے نجات دلاتا ہے۔

With his divine madness, he stirs the city in uproar —

And liberates the creation from tyranny's crushing weight.

1212
می نگیرد جز به آن صحرا مقام
کاندرو شاهین گریزد از حمام

مرد فقیر صرف اس صحرا میں بسیرا کرتا ہے —

جہاں کبوتر کا مقابلہ کرنے سے شاہین بھی گریز کرتا ہے۔

The Faqir makes his abode only in that desert —

Where even falcons flee from confronting the dove.

1313
قلب او را قوت از جذب و سلوک
پیش سلطان نعره او «لاملوک»

فقر کا دل جذب و سلوک سے قوت پاتا ہے —

وہ پادشاہ کے سامنے لاملوک (کوئی پادشاہ نہیں) کا نعرہ بلند کرتا ہے۔

Faqr's heart draws strength from passion and spiritual wayfaring —

Before kings, it raises the cry: 'There is no king!'.

1414
آتش ما سوزناک از خاک او
شعله ترسد از خس و خاشاک او

اس کی خاک سے ہماری آگ میں تپش ہے —

اسی کے خس و خاشاک سے شعلہ ڈرتا ہے۔

It is through his sacred dust that our fire learns to blaze —

The mightiest flame before his humblest straw trembles and sways.

1515
بر نیفتد ملتی اندر نبرد
تا درو باقیست یک درویش مرد

وہ قوم جنگ میں شکست نہیں کھاتی —

جس میں ایک بھی مرد درویش باقی ہے۔

No nation is ever truly defeated in war —

So long as one Faqir-heart still beats at its core.

1616
آبروی ما ز استغنای اوست
سوز ما از شوق بی پروای اوست

مرد فقیر کے استغنا سے ہماری آبرو ہے —

اور ہمارا سوزِ جان اس کے شوقِ بے پروا کا مرہون منت ہے۔

From the Faqir's lordly contentment our honor springs —

His carefree zeal sets our soul's fire blazing on wild wings.

1717
خویشتن را اندر این آئینه بین
تا ترا بخشند سلطان مبین

اپنے آپ کو مرد فقیر کے آئینہ میں دیکھ —

تاکہ تجھے ناقابل تسخیر قوت حاصل ہو۔

Behold yourself in the Faqir’s radiant mirror-glass —

Till God anoints you with a clear authority none shall surpass.

1818
حکمت دین دل نوازیهای فقر
قوت دین بی نیازیهای فقر

دین کی حکمت، فقر کی دل نوازی ہے —

اور اس کی قوت، فقر کی بے نیازی ہے۔

Religion’s wisdom lies in Faqr’s gentle, heart-winning kindness —

Its strength flows from Faqr’s indifference to sway.

بند 2
Toggle stanza 2
1919
مؤمنان را گفت آن سلطان دین
«مسجد من این همه روی زمین»

جناب رسول پاک ﷺ نے ایمان والوں سے فرمایا کہ —

تمام روئے زمین میرے لئے مسجد ہے۔

The King of Faith, Messenger (P.B.U.H) declared to the believers: —

“The whole earth is my mosque.”

2020
الامان از گردش نه آسمان
مسجد مؤمن بدست دیگران

نو آسمانوں کی گردش سے اللہ بچائے —

کہ مومن کی مسجد یعنی یہ روئے زمین دوسروں کے ہاتھ میں ہو۔

May Allah protect us from the nine heavens’ revolution —

Lest the believer’s mosque, this earth, remain under others’ domination.

2121
سخت کوشد بندهٔ پاکیزه کیش
تا بگیرد مسجد مولای خویش

پاک فطرت بندہ زبردست جہاد کرتا ہے —

تاکہ وہ اپنے آقا کی مسجد غیروں کے قبضے سے چھڑا لے۔

Allah's pure-hearted slave wages relentless jihad —

To liberate his Master's mosque, this earth, from other’s clasp.

2222
ایکه از ترک جهان گوئی ، مگو
ترک این دیر کهن تسخیر او

اور اے وہ شخص جو ترک جہان کی بات کرتا ہے ایسا نہ کہہ —

اس پرانے بت خانے کے ترک کرنے کا مطلب اس کی تسخیر ہے۔

O you who preach the world’s renunciation, speak not so bold —

For to renounce this world is to seize its hold.

2323
راکبش بودن ازو وارستن است
از مقام آب و گل برجستن است

اس پر سوار ہو جانا ہی اسے ترک کرنا ہے —

اور آب و گل کے مقام سے باہر نکل آنا ہے۔

To be its rider is the only path to break away from its chains —

And hence to rise beyond the rank of water and clay.

2424
صید مؤمن این جهان آب و گل
باز را گوئی که صید خود بهل

یہ مٹی اور پانی کا جہان، مومن کا شکار ہے —

کیا تو باز سے کہتا ہے کہ وہ اپنا شکار چھوڑ دے؟

This world of water and clay is the Momin’s prey —

Would you bid the falcon to throw its hunt away?

2525
حل نشد این معنی مشکل مرا
شاهین از افلاک بگریزد چرا

میں یہ مشکل نکتہ حل نہیں کر سکا —

کہ شاہین کیوں افلاک سے گریز کرے۔

I cannot understand, nor see the why —

That a falcon should flee from the open sky.

2626
وای آن شاهین که شاهینی نکرد
مرغکی از چنگ او نامد بدرد

افسوس ہے اس شاہین پر جس نے شاہینی نہ کی —

کوئی پرندہ اس کے پنجے سے زخمی نہ ہوا۔

Woe to the falcon that never soared nor preyed —

No bird by its talons was ever dismayed.

2727
درکنامی ماند زار و سرنگون
پر نزد اندر فضای نیلگون

جو اپنے کنام (شاہین کا گھر) میں عاجز سر جھکائے بیٹھا رہتا ہے —

اور فضائے نیلگوں میں پرواز نہیں کرتا۔

That remains confined in its nest, in sorrow and stress —

And never soars through the sky’s vast wilderness.

بند 3
Toggle stanza 3
2828
فقر قرآن احتساب هست و بود
نی رباب و مستی و رقص و سرود

قرآن پاک کا فقر تو یہ ہے کہ اس دنیا کا احتساب کیا جائے —

یہ فقر چنگ و رباب ، مستی و رقص و سرور نہیں ہے۔

The Faqr of the Qur’an is to hold the world to account —

Not music and rapture, nor dance in mystic mount.

2929
فقر مؤمن چیست؟ تسخیر جهات
بنده از تأثیر او مولا صفات

مرد مومن کا فقر کیا ہے؟ کائنات کی تسخیر کرنا —

جس کی تاثیر سے بندے میں بھی اپنے مولا کی صفات پیدا ہوتی ہیں۔

What is a believer’s Faqr? It is the conquering of dimensions —

Through which the slave acquires the attributes of the Lord.

3030
فقر کافر خلوت دشت و در است
فقر مؤمن لرزهٔ بحر و بر است

کافر کا فقر صحرائے بیابان میں خلوت گزیں ہو جانا ہے —

مومن کا فقر بحر و بر پر لرزہ طاری کر دینا ہے۔

The Faqr of an unbeliever is retreat to the wilderness —

The Faqr of a believer is to make both land and sea tremble.

3131
زندگی آنرا سکون غار و کوه
زندگی این را ز مرگ باشکوه

اُس کی زندگی غار و کوہ کا سکون ہے —

اِس کی زندگی مرگِ باشکوہ (شہادت کی موت) ہے۔

Life for the former is solitude in caves and mountains —

Life for the latter flows from a glorious death.

3232
آن خدارا جستن از ترک بدن
این خودی را بر فسان حق زدن

وہ ترک بدن سے خدا کو ڈھوندتا ہے —

یہ اپنی خودی کو اللہ تعالیٰ کی سان پر چڑھتا ہے۔

The former is seeking God through renunciation of body —

The latter is whetting one’s khudi on the stone of God.

3333
آن خودی را کشتن و وا سوختن
این خودی را چون چراغ افروختن

وہ خودی کو مارنا اور جلا دینا ہے —

یہ خودی کو چراغ کی مانند روشن کرنا ہے۔

The former is scorching the khudi till none remains —

The latter is making it shine like lamp-lit flames.

3434
فقر چون عریان شود زیر سپهر
از نهیب او بلرزد ماه و مهر

جب کھلے آسمان تلے فقر عریاں ہو جاتا ہے —

تو اس کی ہیبت سے سورج اور چاند لرز جاتے ہیں۔

When Faqr lies bare beneath the celestial sphere —

The sun and the moon tremble in awe and fear.

3535
فقر عریان گرمی بدر و حنین
فقر عریان بانگ تکبیر حسین

غزوات بدر و حنین کی گرمی دراصل فقرِ عریاں ہی تو ہے —

حضرت حسین (رضی اللہ عنہ) کی تکبیر کی گونج دراصل فقرِ عریاں ہی تو ہے۔

Naked Faqr is the fervor of the battles of Badr and Hunayn —

Naked Faqr is the cry of Takbir from Hazrat Hussain.

3636
فقر را تا ذوق عریانی نماند
آن جلال اندر مسلمانی نماند

جب فقر کے اندر عریانی کا ذوق نہ رہا —

تو مسلمان کے اندر وہ جلال بھی باقی نہ رہا۔

When Faqr lost its zeal to stand unclad —

The Muslims lost the glory they once had.

بند 4
Toggle stanza 4
3737
وای ما ای وای این دیر کهن
تیغ لا در کف نه تو داری نه من

افسوس صد افسوس اس کہن بتخانے (دنیا) کے اندر —

لا کی تلوار نہ تیرے ہاتھ میں ہے، نہ میرے ہاتھ میں۔

Alas, a hundred times alas—in this ancient idol-shrine —

Neither your hand bears the sword of “Lā”, nor does mine.

3838
دل ز غیر الله بپرداز ایجوان
این جهان کهنه در باز ایجوان

اے جوان! غیر اللہ سے دل ہٹا —

اے جوان! اس پرانے جہان کا دروازہ کھول۔

O young man! Purge your heart of all but Allah to hold —

O young man! Throw wide the gates of this weary world of old!

3939
تا کجا بی غیرت دین زیستن
ای مسلمان مردن است این زیستن

تو کب تک غیرت دین کے بغیر زندگی بسر کرتا رہے گا —

اے مسلمان! یہ زندگی نہیں موت ہے۔

How long without faith’s fervent flame will you live, O Muslim? —

This breath you call life, is but death, O Muslim!

4040
مرد حق باز آفریند خویش را
جز به نور حق نبیند خویش را

مرد حق اپنے آپ کو از سر نو تخلیق کرتا ہے —

وہ اپنے آپ کو صرف حق تعالیٰ کے نور سے دیکھتا ہے۔

The man of faith recreates his self anew —

He sees his being only in the light of The True.

4141
بر عیار مصطفی خود را زند
تا جهانی دیگری پیدا کند

وہ جناب رسول پاک ﷺ کے معیار پر اپنے آپ کو پرکھتا ہے —

اور اس طرح ایک نیا جہان وجود میں لاتا ہے۔

He measures his soul by Mustafā's sacred scale —

And from that fire, forges world anew.

بند 5
Toggle stanza 5
4242
آه زان قومی که از پا برفتاد
میر و سلطان زاد و درویشی نزاد

افسوس اس قوم پر جس پر زوال طاری ہو گیا —

اس نے میر و سلطان تو پیدا کیے مگر کوئی درویش نہ پیدا کرسکی۔

Woe to a nation that has fallen so low —

That it gives birth to kings and lords but not to a single dervish.

4343
داستان او مپرس از من که من
چون بگویم آنچه ناید در سخن

مجھ سے اس قوم کی داستاں نہ پوچھ —

جو بات بیان میں نہیں آ سکتی میں اسے کیسے بیان کروں۔

Do not ask me to tell you its story —

Or how can I describe what is indescribable?

4444
در گلویم گریه ها گردد گره
این قیامت اندرون سینه به

گریہ و زاری میرے گلے میں گرہ بن چکی ہے، گلا گھٹ رہا ہے —

یہ قیامت سینے کے اندر ہی بہتر ہے۔

Weeping and wailing have knotted within my throat, I can barely breathe —

It is better that this doomsday remain confined within my chest.

4545
مسلم این کشور از خود ناامید
عمر ها شد با خدا مردی ندید

اس ملک کا مسلمان اپنے آپ سے نا امید ہے —

عمر گذر گئی اس نے کوئی با خدا مرد نہیں دیکھا۔

The Muslim of this land has lost all hope in himself —

For a long time he has not seen a true man of God.

4646
لاجرم از قوت دین بدظن است
کاروان خویش را خود رهزن است

لا محالہ وہ دین کی قوت سے بدظن ہے—

وہ خود ہی اپنے کاروان کے لیے رہزن بنا ہوا ہے۔

Hence he has grown skeptical about the strength of his faith —

And has started ambusing and looting his own caravan.

4747
از سه قرن این امت خوار و زبون
زنده بی سوز و سرور اندرون

تین سو سال سے یہ امت زبوں حال ہے —

اور بغیر اندرونی سوز و سرور کے دن بسر کر رہی ہے۔

For three centuries the Ummah has been wretched and helpless —

It lives on without an inner spiritual fire and ecstasy.

4848
پست فکر و دون نهاد و کور ذوق
مکتب و ملای او محروم شوق

مسلمان پست فکر ، کم ہمت اور کور ذوق ہو چکا ہے —

اس کے تعلیمی ادارے اور علما سب شوق سے محروم ہیں۔

Lowly in thought, mean of nature, vulgar in taste —

Its schools and religious scholars are stripped of passion and fervour.

4949
زشتی اندیشه او را خوار کرد
افتراق او را ز خود بیزار کرد

اس کی فکر کی خرابی نے اسے ذلیل کر دیا ہے —

باہمی اختلافات نے اسے بیزار کر دیا ہے۔

Its low thoughts have made it wretched —

And lack of unity has made it sick of itself.

5050
تا نداند از مقام و منزلش
مرد ذوق انقلاب اندر دلش

چونکہ وہ اپنے مقام و منزل کو نہیں پہچانتا —

اس لیے اس کے اندر ذوقِ انقلاب بھی ختم ہو چکا ہے۔

As he (the Muslim) is not aware of his true station —

So the zeal for revolution has died in his heart.

5151
طبع او بی صحبت مرد خبیر
خسته و افسرده و حق ناپذیر

کسی مردِ خبیر کی صحبت میسر نہ ہونے کی وجہ سے اس کی طبیعت —

بیمار، افسردہ اور حق قبول کرنے کی صلاحیت کھو چکی ہے۔

For lack of contact with a God-fearing man of knowledge —

He has become feeble, dejected, and incapable of accepting truth.

5252
بندهٔ رد کردهٔ مولاست او
مفلس و قلاش و بی پرواست او

وہ ایسا بندہ ہے کہ جس کا مولا اسے رد کرچکا ہے —

وہ مفلس بھی ہے، قلاش بھی اور لا پروا بھی۔

He is that wretched slave whom even his Lord has rejected —

Destitute, bankrupt, and utterly careless.

5353
نی بکف مالی که سلطانی برد
نی بدل نوری که شیطانی برد

نہ اس کے ہاتھ میں مال ہے کہ سلطان چھینے —

نہ اس کے دل میں نور ہے کہ شیطان لے جائے۔

He has no wealth which may be snatched away by a king —

Nor has he any spiritual light that may be taken away by a Satan.

5454
شیخ او لرد فرنگی را مرید
گرچه گوید از مقام با یزید

اس کا صوفی شیخ، فرنگی لارڈ کا مرید ہے —

اگرچہ باتیں حضرت بایزیدؒ کے مقام کی کرتا ہے۔

His Religious Sheikh kneels before Western lords —

Though his tongue speaks of Bayazid's exalted station.

5555
گفت دین را رونق از محکومی است
زندگانی از خودی محرومی است

کہتا ہے کہ دین کی رونق محکومی سے ہے —

خودی سے محرومی کا نام زندگی ہے۔

He says: Bondage gives splendour to religion —

And life consists in being devoid of khudi.

5656
دولت اغیار را رحمت شمرد
رقص ها گرد کلیسا کرد و مرد

غیروں سے ملنے والی دولت کو رحمت شمار کرتا ہے —

اور کلیسا کے گرد رقص کرتے کرتے مر جاتا ہے۔

He counted strangers' wealth as divine mercy —

And whirled, ecstatic, round the church till death.

بند 6
Toggle stanza 6
5757
ای تهی از ذوق و شوق و سوز و درد
می شناسی عصر ما با ما چه کرد

سن! تو جو ذوق و شوق و سوز و درد سے خالی ہے —

کیا تو پہچانتا ہے کہ ہمارے زمانے نے ہمارے ساتھ کیا کیا؟

O you who are devoid of passion, longing, zest, and anguish —

Do you even comprehend what our era has done to us?

5858
عصر ما ما را ز ما بیگانه کرد
از جمال مصطفی بیگانه کرد

اس دور نے ہمیں اپنے آپ سے بیگانہ کردیا ہے —

اس نے ہمیں جمال مصطفی ﷺ سے بیگانہ کردیا ہے۔

This age has severed us from our very selves —

It has torn us from the beauty of the Prophet Muhammad (P.B.U.H).

5959
سوز او تا از میان سینه رفت
جوهر آئینه از آئینه رفت

جب حضور ﷺ کے عشق کا سوز سینے سےنکل گیا —

تو گویا آئینے کے اندر سے اس کا جوہر جاتا رہا۔

When the burning love of the Prophet (P.B.U.H) left the heart —

It was as if the essence itself vanished from the mirror.

6060
باطن این عصر را نشناختی
داو اول خویش را در باختی

تو نے اس دور کی اصلیت و باطن کو بالکل نہ پہچانا —

لہذا پہلے ہی داؤ پیچ میں اس سے تو ہار بیٹھا۔

You failed to grasp this era's essence and inner reality —

Thus, from the very first move, you were checkmated.

6161
تا دماغ تو به پیچاکش فتاد
آرزوی زنده ئی در دل نزاد

جب تیرا دماغ اس کی الجھنوں میں پڑ گیا —

تو تیرا دل کوئی زندہ آرزو پیدا کرنے کے قابل ہی نہ رہا۔

When your mind became entangled in its vortex —

Your heart lost the power to kindle any living desire.

6262
احتساب خویش کن از خود مرو
یکدو دم از غیر خود بیگانه شو

اپنا احتساب کر اور اپنے اصل چہرے کو دیکھنے سے نہ بھاگ —

کچھ عرصے کیلئے دوسروں سے بیگانہ ہوجا۔

Hold yourself to account, do not flee from your true face —

For a while, become a stranger to other-than-yourself.

6363
تا کجا این خوف و وسواس و هراس
اندر این کشور مقام خود شناس

یہ خوف و ہراس اور وساوس کب تک ؟ —

اس دنیا میں اپنا مقام پہچان۔

How long will you linger in fear, dread, and doubts? —

Recognize your true station in this world.

6464
این چمن دارد بسی شاخ بلند
بر نگون شاخ آشیان خود مبند

اس چمن میں کئی بلند شاخیں ہیں —

تو انہیں چھوڑ کر نیچی شاخ پر آشیانہ نہ بنا۔

This garden (country) has many tall trees —

Therefore do not make your nest on a low branch.

6565
نغمه داری در گلو ای بیخبر
جنس خود بشناس و با زاغان مپر

اے بے خبر تو اپنے اندر نغمۂ توحید رکھتا ہے —

اپنی جنس کو پہچان اور کوؤں کے ساتھ پرواز نہ کر۔

O man unaware of yourself you have a song in your throat —

Recognize your true stock and do not fly with crows.

6666
خویشتن را تیزی شمشیر ده
باز خود را در کف تقدیر ده

پہلے اپنی خودی کو تلوار کی طرح تیز بنا —

پھر اپنے آپ کو تقدیر کے ہاتھ میں تھما دے۔

First, sharpen your Khudi like a sword —

Then hand yourself to the Hand of Destiny.

6767
اندرون تست سیل بی پناه
پیش او کوه گران مانند کاه

تیرے اندر ایک بے پناہ سیلاب ہے —

جس کے سامنے کوہ گراں تنکے کی مانند ہے۔

Within you rages a boundless tusnami —

Before which even mountains crumble like straw.

6868
سیل را تمکین ز نا آسودن است
یک نفس آسودنش نابودن است

سیلاب کی شان کبھی نہ رکنے میں ہے —

اگر وہ ایک لمحے کے لیے بھی رک جائے تو ختم ہو جاتا ہے۔

The grandeur of a tusnami lies in its ceaseless flow —

Should it pause but a moment, its power would perish.

6969
من نه ملا ، نی فقیه نکته ور
نی مرا از فقر و درویشی خبر

میں نہ ملّا ہوں ، نہ نکتہ ور فقیہ —

نہ مجھے فقر و درویشی کی کچھ خبر ہے۔

I am neither a theologian nor a jurist capable of subtle debates —

Nor am I acquainted with the intricacies of Faqr.

7070
در ره دین تیز بین و سست گام
پختهٔ من خام و کارم ناتمام

دین کے معاملے میں میری نگاہ دور رس ہے، لیکن قدم سست —

میری پختگی میں بھی خامی ہے اور میرا کام نامکمل ہے۔

In matters of faith, my vision soars far yet my steps lag —

Even my maturity bears flaws, my work remains unfinished.

7171
تا دل پر اضطرابم داده اند
یک گره از صد گره بگشاده اند

لیکن خدا نے مجھے ایک دلِ پر اضطراب دیا ہے —

جس نے سینکڑوں گرہوں میں سے ایک گرہ کھول دی ہے۔

But God gave me this heart trembling with divine restlessness —

And through it, unraveled one knot among a hundred.

7272
«از تب و تابم نصیب خود بگیر
بعد ازین ناید چو من مرد فقیر»

لہذا تو بھی میری تب و تاب سے اپنا حصّہ پا لے —

کیونکہ پھر شاید میرے بعد کوئی مجھ جیسا فقیر نہ آئے۔

“Take your share, too, of this fire that burns within me —

For there may not come after me a faqir like me.”

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

نکته ئی میگویم از مردان حال

امتان را «لا» جلال «الا» جمال

علامہ اقبال»مثنوی پس چه باید کرد ای اقوام شرق»بخش 6 - لا اله الا الله

اگلی نظم

مردِ حُر، محکم ز وِردِ «لاتَخَف»

ما به میدانْ سر به جَیب، او سر به کف

علامہ اقبال»مثنوی پس چه باید کرد ای اقوام شرق»بخش 8 - مرد حر

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

تصاویر

◆

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00