صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »مثنوی پس چه باید کرد ای اقوام شرق
  3. »بخش 8 - مرد حر

بخش 8 - مرد حر

مرد حر

The Free Man

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: مخدوم حسان، حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، بشیر احمد
صداکار: مخدوم حسان لاهوری
Toggle stanza 1
11
مردِ حُر، محکم ز وِردِ «لاتَخَف»
ما به میدانْ سر به جَیب، او سر به کف

مرد حر "لاتخف" کے ورد سے قوی ہے —

ہم میدان میں سر جھکائے آتے ہیں اور وہ سر بکف نکلتا ہے۔

The free man is fortified by the Quranic chant “Fear not” —

We enter the field with lowered heads, he steps forth with his head in his hand.

22
مردِ حُر از «لااِلَهْ» روشنْ ضمیر
می نگردد بندهٔ سلطان و میر

مرد حر کا ضمیر لاالہ سے روشن ہے —

وہ کسی بادشاہ یا امیر کا غلام نہیں ہوتا۔

His conscience is lit by “There is no god but God” —

He serves neither king nor noble.

33
مرد حُر چون اُشتران باری بَرَد
مردِ حر باری بَرَد، خاری خورد

مرد حر اونٹ کی طرح بوجھ اٹھاتا ہے —

وہ بوجھ اٹھاتا ہے اور کانٹے کھا کر گزارا کرتا ہے۔

Like a camel he bears the load —

He shoulders burdens and lives by swallowing thorns.

44
پای خود را آن‌چنان محکم نَهد
نبضِ ره از سوز او بر می جَهَد

وہ (رہ حیات میں) اتنی مضبوطی سے قدم رکھتا ہے کہ —

اس کے سوز سے راستے کی نبض تیز ہو جاتی ہے۔

He plants his foot so firm upon the path —

The pulse of the path leaps with his burning fire.

55
جان او پاینده تر گردد ز موت
بانگ تکبیرش برون از حرف و صوت

موت سے اس کی جان اور پائیندہ ہو جاتی ہے —

اس کی بانگِ تکبیر، الفاظ اور آواز میں نہیں سماتی۔

By death his soul grows even more abiding —

His cry of takbir lies beyond letter and sound.

66
هر که سنگِ راه را داند زُجاج
گیرد آن درویش از سلطان، خراج

جو راستے کی رکاوٹوں کو شیشہ کی طرح (کمزور) سمجھتا ہے —

وہ درویش سلطان سے خراج وصول کرتا ہے۔

Who deems the stones of the way as brittle glass —

That dervish takes tribute from the king.

77
گرمی طبع تو از صَهبای اوست
جوی تو پروردهٔ دریای اوست

تیری طبیعت کی گرمی ایسے (درویش) کی شراب سے ہے —

تیری ندی اسی کے دریا سے پرورش پاتی ہے۔

Your spirit’s warmth is from his sacred wine —

Your stream is reared by his ocean.

88
پادشاهان در قَباهای حریر
زرد رو از سهم آن عریان فقیر

ریشمی قباؤں میں ملبوس پادشاہوں (کے چہرے) —

ایسے عریاں فقیر کی ہیبت سے زرد پڑ جاتے ہیں۔

Kings in their silken robes —

Turn pale before the awe of that naked faqir.

99
سِرِّ دینْ ما را خبر، او را نظر
او درون خانه، ما بیرون در

دین کا راز ہمارے لیے خبر ہے اور اس کے لیے مشاہدہ —

گویا وہ گھر کے اندر ہے اور ہم دروازے سے باہر کھڑے ہیں۔

For us the secret of faith is report, for him it is vision —

He stands within the house while we wait outside the door.

1010
ما کلیسا دوست، ما مسجد فروش
او ز دست مصطفی پیمانه نوش

ہم کلیسا کے دوست اور مسجد فروش ہیں —

وہ حضور اکرم ﷺ کے دست مبارک سے شراب (الست) پیتا ہے۔

We are fond of churches and traders of mosques —

He drinks the cup from the hand of Mustafa, peace be upon him.

1111
نی مُغان را بنده، نی ساغر به دست
ما تُهی پیمانه، او مست اَلَست

نہ وہ پیر مغاں کا غلام ہے، نہ وہ ہاتھ میں جام لیے ہے —

وہ شراب الست سے مست ہے اور ہم اس سے تہی پیمانہ۔

He is not the slave of the wine-seller, nor does he hold a goblet —

He is drunk on the wine of “Alast” while we are empty of that cup.

1212
چهرهٔ گل از نَم او اَحمر است
ز آتش ما دود او روشن‌تر است

پھول کی سرخی اس (مرد حر) کے اشکوں کی مرہون منت ہے —

اس کا دھواں ہماری آگ سے زیادہ روشن ہے۔

The flower’s cheek is red from his tears —

His smoke is brighter than our fire.

1313
دارد اندر سینه تکبیر اُمَم
در جَبین اوست تقدیر اُمم

اس کے سینے کے اندر امتوں کی تکبیر (عظمت) ہے —

اور اس کی پیشانی پر ان کی تقدیر (رقم) ہے۔

Within his breast resounds the takbir of nations —

Upon his brow is written the destiny of peoples.

1414
قبلهٔ ما گه کلیسا، گاه دِیر
او نخواهد رزق خویش از دست غیر

ہمارا قبلہ کبھی کلیسا ہے کبھی بتخانہ —

لیکن وہ غیر اللہ سے رزق کا طالب نہیں ہوتا۔

Our qibla shifts from church to cloister —

He seeks no sustenance from another’s hand.

1515
ما همه عبد فرنگ او عَبدُه ُ
او نگنجد در جهانِ رنگ و بو

ہم سب فرنگیوں کے بندے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کا بندہ ہے —

(اس لیے) وہ اس جہانِ رنگ و بو میں نہیں سماتا۔

We are servants of the West, he is servant of God —

He does not fit within the world of color and scent.

1616
صبح و شامِ ما به فکر ساز و برگ
آخرِ ما چیست؟ تلخی‌های مرگ

ہم صبح و شام رزق کی فکر میں رہتے ہیں —

ہمارا انجام کیا ہے؟ موت کی تلخی۔

Morning and night we fret about gear and means —

What is our end? The bitterness of death.

1717
در جهانِ بی ثبات، او را ثبات
مرگْ او را، از مقاماتِ حیات

اس جہانِ بے ثبات میں صرف اس کو ثبات ہے —

موت اس کے لیے زندگی کے مقامات میں سے ایک مقام ہے۔

In a fleeting world he alone finds firmness —

For him death is among the stations of life.

1818
اهل دل از صحبت ما مُضمَحِل
گل ز فیضِ صحبتش، دارای دل

ہماری صحبت سے اہل دل پراگندہ خاطر ہو جاتے ہیں —

اس کی صحبت کے فیض سے مٹی بھی صاحب دل ہو جاتی ہے۔

The people of heart grow dim in our company —

By his company even clay receives a heart.

1919
کار ما وابستهٔ تخمین و ظنّ
او همه کردار و کم گوید سخن

ہمارے سارے کام تخمین و ظن سے متعلق —

وہ سراپا کردار اور مختصر بات کرتا ہے۔

Our deeds are bound to guess and doubt —

He is all action and speaks but little.

2020
ما گدایان، کوچهْ گَرد و فاقه مست
فقر او از «لااِلَهْ» تیغی به دست

ہم گلی گلی پھرنے والے اور فاقہ مست گداگر ہیں —

اس کا فقر لاالہ کی تلوار ہاتھ میں لیے ہے۔

We are beggars, alley rovers, dazed with hunger —

His poverty bears the sword of “There is no god but God”.

2121
ما پرِ کاهی، اسیر گِردْ باد
ضَربش از کوهِ گران، جویی گشاد

ہم اس تنکے کی مانند ہیں جو بگولے میں گرفتار ہے —

اس کی ضرب کوہ گراں کے اندر سے ندی نکال لیتی ہے۔

We are straws, captives of the whirlwind —

His strike cleaves rivers from mighty mountains.

2222
محرم او شو، ز ما بیگانه شو
خانه ویران باش و صاحبْ‌خانه شو

ہم سے کنارہ کشی اختیار کر اور اس کا دامن تھام لے —

(اپنا) گھر ویران کر کے (ابدی) گھر کا مالک بن جا۔

Become his intimate and be a stranger to us —

Ruin your house and become master of the true Home.

2323
شِکوِه کم کُن از سپهرِ گِرد گَرد
زنده شو از صحبت آن زنده مرد

اس گھومتے متغیر آسمان کی شکایت چھوڑ —

اور اس زندہ مرد کی صحبت سے زندگی حاصل کر۔

Complain less of the circling firmament —

Come alive through the company of that living man.

2424
صحبت از علمِ کتابی خوش‌تر است
صحبت مردانِ حُرّ، آدمْ‌گر است

بندگان خدا کی صحبت کتابی علم سے بہتر ہے —

مردان حر کی صحبت آدمی کو انسان بنا دیتی ہے۔

Sweeter than bookish learning is the discourse —

Of free men whose company shapes true men.

2525
مردِ حُرّ، دریای ژرف و بیکران
آبْ گیر از بحر و نیٖ از ناودان

مرد حر عمیق اور بے کراں سمندر ہے —

پرنالوں کو چھوڑ اور اس بحر سے پانی حاصل کر ۔

The free man is a deep and boundless sea —

Draw water from the ocean, not from the spout.

2626
سینهٔ این مرد، می جوشد چو دیگ
پیش او کوه گران، یک توده ریگ

ایسے مرد کا سینہ دیگ کی مانند جوش مارتا ہے —

اس کے سامنے کوہ گراں بھی ریت کا تودہ ہے۔

The breast of such a man boils like a cauldron —

Before him a heavy mountain is a mound of sand.

2727
روز صلح آن برگ و ساز انجمن
هم چو باد فَروَدینْ اندر چمن

صلح کے ایام میں وہ رونق انجمن —

اور باغ کے اندر باد بہار کی مانند ہے۔

On the day of peace he is the grace of the gathering —

Like the spring breeze among the garden flowers.

2828
روزِ کین، آن محرم تقدیر خویش
گورِ خود می کندد از شمشیر خویش

جنگ کے وقت وہ اپنی تقدیر کا رازدان ہے —

اور اپنی تلوار سے خود اپنی قبر کھودتا ہے (شہادت کا طالب رہتا ہے)۔

On the day of wrath he is intimate with his fate —

He digs his grave with his own sword (a seeker of martyrdom).

2929
ای سرت گردم گریز از ما چو تیر
دامن او گیر و بی‌تابانه گیر

اے کہ میں تجھ پر قربان جاؤں ، ہم سے تیر کی طرح بھاگ —

اور ایسے شخص کا دامن تھام لے اور بے تابانہ تھام لے۔

O let me be your sacrifice; flee from us like an arrow —

Take his hem and take it with restless grip.

3030
می نروید تخم دل از آب و گل
بی نگاهی از خداوندانِ دل

آب و گل کے بدن سے دل کا بیج نہیں اگتا —

جب تک صاحبان دل کی نگاہ نہ ہو۔

The seed of the heart does not sprout from water and clay —

Without a glance from the men of the heart.

3131
اندر این عالم نیرزی با خسی
تا نیاویزی بدامان کسی

اس دنیا میں تیری قیمت خس کے برابر بھی نہیں ہوگی —

جب تک تو کسی مرد باخدا کے دامن سے وابستگی نہیں اختیار کرے گا۔

In this world you are worth less than chaff —

Until you cling to the hem of a man of God.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

چیست فقر ای بندگان آب و گل

یک نگاه راه بین یک زنده دل

علامہ اقبال»مثنوی پس چه باید کرد ای اقوام شرق»بخش 7 - فقر

اگلی نظم

نکته ها از پیر روم آموختم

خویش را در حرف او واسوختم

علامہ اقبال»مثنوی پس چه باید کرد ای اقوام شرق»بخش 9 - در اسرار شریعت

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

تصاویر

◆

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00