صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »مثنوی پس چه باید کرد ای اقوام شرق
  3. »بخش 6 - لا اله الا الله

بخش 6 - لا اله الا الله

اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں

There Is No God But Allah

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: مخدوم حسان، حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، بشیر احمد
صداکار: مخدوم حسان لاهوری
بند 1
Toggle stanza 1
11
نکته ئی میگویم از مردان حال
امتان را «لا» جلال «الا» جمال

میں صاحب حال بزرگوں کی بات بتاتا ہوں —

امتوں کا جلال لا سے ہے اور جمال الا سے ہے۔

I tell you a significant point known only to the people of ecstasy —

The majesty of nations springs from "Lā", but their splendor flows from "illā".

22
لا و الا احتساب کائنات
لا و الا فتح باب کائنات

لا و الا سے کائنات کا احتساب ہے —

لا و الا سے کائنات (کی برکتوں) کا دروازہ کھلتا ہے۔

"Lā" and "illā" together signify control of the cosmos —

They are the keys to the doors of the cosmos.

33
هر دو تقدیر جهان کاف و نون
حرکت از لا زاید از الا سکون

ان دونوں ( الفاظ ) سے اس جہانِ کن کی تقدیر بنتی ہے —

لا سے حرکت میں اضافہ ہوتا ہے اور الا سے سکون میں۔

From these two words, the world of “Kūn” takes form —

“Lā” gives it motion, “illā” makes it calm.

44
تا نه رمز لااله آید بدست
بند غیر الله را نتوان شکست

جب تک لاالہ کا نکتہ ہاتھ نہ آئے —

غیر اللہ کے بند توڑے نہیں جا سکتے۔

Unless the secret of "Lā ilāha" is grasped —

The shackles of the “other-than-God” cannot be shattered.

55
در جهان آغاز کار از حرف لاست
این نخستین منزل مرد خداست

دنیا میں کام کا آغاز لا سے ہے —

یہ مرد خدا کی پہلی منزل ہے۔

In this world, each quest begins with the word “Lā” —

This is the first station of the man of God.

66
ملتی کز سوز او یک دم تپید
از گل خود خویش را باز آفرید

وہ ملّت جو ایک لمحہ کے لیے لا کے سوز میں تڑپی —

اس نے اپنی مٹی سے اپنے آپ کو (از سر نو ) پیدا کر لیا۔

A nation that for a moment burned with the flame of “Lā” —

Forged itself anew from its own dust and clay.

77
پیش غیر الله «لا» گفتن حیات
تازه از هنگامهٔ او کائنات

غیر اللہ کے سامنے لا کہنا زندگی ہے —

اسی کے ہنگامے سے کائنات میں تازگی پیدا ہوتی ہے۔

To say “Lā” before all else but God, that is life! —

From that upheaval, the cosmos draws its freshness.

88
از جنونش هر گریبان چاک نیست
در خور این شعله هر خاشاک نیست

لا کے جنوں سے ہر (ایک کا) گریباں چاک نہیں —

ہر خاشاک اس شعلے کے لائق نہیں۔

Not every person is affected by its madness —

Not every haystack is fit to catch its fire.

99
جذبهٔ او در دل یک زنده مرد
می کند صد ره نشین را ره نورد

اس کا جذبہ جب ایک زندہ مرد کے دل میں پیدا ہوتا ہے —

تو وہ سینکڑوں رہ نشینوں کو (منزل کی جانب) گامزن کر دیتا ہے۔

When the ecstasy of “Lā” strikes the heart of a living person —

He compels the sluggards sitting on the roadside to march toward the goal.

1010
بنده را با خواجه خواهی در ستیز
تخم «لا» در مشت خاک او بریز

تو غلام کو آقا کے خلاف لڑانا چاہتا ہے تو—

اس کی مشت خاک میں لا کا بیج بو دے۔

Do you wish the servant to fight the master? —

Then sow the seed of "Lā" in his handful of dust.

1111
هر کرا این سوز باشد در جگر
هولش از هول قیامت بیشتر

جس شخص کے جگر میں اس کا سوز ہو گا —

اس کی ہیبت قیامت کی ہیبت سے بڑھ کر ہو گی۔

Whoever has this burning ardour in his heart —

Is more awe-inspiring than the awe of Doomsday.

1212
لا مقام ضربهای پی به پی
این غو رعد است نی آواز نی

لا ضرب ہائے پے بہ پے کا مقام ہے —

یہ بجلی کی کڑک ہے، بانسری کی آواز نہیں۔

"Lā" is the station of relentless strikes —

This is the rumbling of thunder, not the piping tune of a flute.

1313
ضرب او هر «بود» را سازد «نبود»
تا برون آئی ز گرداب وجود

اس کی ضرب ہر موجود کو مٹا دیتی ہے —

تاکہ تو موجود کے بھنور سے باہر آ جائے (لا موجود الا اﷲ)۔

Its blow changes every being into non-being —

So that you come out of the whirlpool of Existence.

بند 2
Toggle stanza 2
1414
با تو میگویم ز ایام عرب
تا بدانی پخته و خام عرب

میں تمہیں عرب کی تاریخ بتاتا ہوں —

تاکہ اس کے پختہ اور خام ایّام سے آگاہ ہو۔

I recount to you the days of the Arabs —

That you may know their raw and ripened epochs.

1515
ریز ریز از ضرب او لات و منات
در جهات آزاد از بند جهات

اس کی ضرب سے (سب) لات و منات ریزہ ریزہ ہو گئے —

اور وہ قوم جہات کے اندر رہتی ہوئی بھی جہات کی بندشوں سے آزاد ہو گئی۔

Their strokes broke Lat and Manat into pieces —

Confined within dimensions, yet they lived free of all shackles.

1616
هر قبای کهنه چاک از دست او
قیصر و کسری هلاک از دست او

اس کے ہاتھوں ہر پرانی قبا چاک ہوئی —

اس نے قیصر و کسری ( کی سلطنتوں ) کو خاک میں ملا دیا۔

Every old garment was torn off by them —

Khosrows and Caesars met their doom at their hands.

1717
گاه دشت از برق و بارانش بدرد
گاه بحر از زور طوفانش بدرد

کبھی اس کی برق و باراں نے صحرا کو ہلا دیا —

اور کبھی اس کے زور طوفاں نے سمندر کو جھنجوڑ دیا۔

At times deserts were overrun by their thunder showers —

At other times seas were churned by their storms.

1818
عالمی در آتش او مثل خس
این همه هنگامه «لا» بود و بس

جملہ عالم اس کی آگ کے سامنے خس کی مانند تھا —

یہ سارا لا ہی کا ہنگامہ تھا۔

The whole world, before their fire, like straw ablaze —

This grand uproar was but the fierce wrath of 'Lā!'.

1919
اندرین دیر کهن پیهم تپید
تا جهانی تازه ئی آمد پدید

وہ اس پرانے بتخانے میں مسلسل تڑپے —

یہاں تک کہ ایک نیا جہان ظاہر ہو گیا۔

They were constantly astir in this ancient idolatry —

Until they brought forth a new world into existence.

2020
بانگ حق از صبح خیزیهای اوست
هر چه هست از تخم ریزیهای اوست

ان کی صبح خیزی سے بانگ حق بلند ہوئی —

جو کچھ بھی ہمیں نظر آتا ہے ان ہی کے بوئے ہوئے بیج ہیں۔

From their rising at dawn, the cry of Truth was raised —

All that we see today springs from the seeds they once laid.

2121
اینکه شمع لاله روشن کرده اند
از کنار جوی او آورده اند

یہ جو اس دور میں گل لالہ (تازہ علوم) کی شمع روشن کی گئی ہے —

یہ پودا ان ہی کی جوئے آب کے کنارے سے لایا گیا ہے۔

This torch of tulip-blossoms (modern knowledge) that has been lit in this era —

Its seedling was brought from the banks of their stream.

2222
لوح دل از نقش غیر الله شست
از کف خاکش دو صد هنگامه رست

جب عربوں نے اپنے دل سے غیر اللہ کا نقش دھو دیا —

تو ان کی کف خاک سے سینکڑوں ہنگامے اٹھ کھڑے ہوئے۔

When the Arabs erased all else but God from their hearts —

From their handful of dust, a hundred storms took start.

بند 3
Toggle stanza 3
2323
همچنان بینی که در دور فرنگ
بندگی با خواجگی آمد به جنگ

اس طرح تو نے دیکھا کہ فرنگیوں کے دور میں بھی —

غلامی نے آقائی سے جنگ کی ہے۔

Similarly you witnessed, even in the age of the Franks —

How slavery rose to wage war on its masters' ranks.

2424
روس را قلب و جگر گردیده خون
از ضمیرش حرف «لا» آمد برون

جب روس کا قلب و جگر خون ہو گیا —

تو اس کے ضمیر سے لا کا لفظ اٹھ کھڑا ہوا۔

As the heart of Russia was sorely afflicted —

The word “Lā” came out of the depths of her being.

2525
آن نظام کهنه را برهم زد است
تیز نیشی بر رگ عالم زد است

اس نے پرانا نظام درہم برہم کر دیا ہے —

اور جہان کی رگ حیات پر تیز نشتر لگایا ہے۔

She has shattered that ancient world order —

And applied a sharp scalpel to the veins of the world.

2626
کرده ام اندر مقاماتش نگه
لا سلاطین ، لا کلیسا ، لا اله

میں نے اس ( انقلاب) کے مقامات پر نظر ڈالی ہے —

اس نے پہلے سلاطین پھر کلیسا اور آخر میں اللہ تعالیٰ کی نفی کی ہے۔

I have examined the trajectory of this (revolution) —

It began by rejecting monarchs, then the church, and ultimately, Allah the Almighty.

2727
فکر او در تند باد «لا» بماند
مرکب خود را سوی «الا» نراند

اس کا فکر لا کی تیز آندھی ہی میں رہا —

اس نے اپنی سواری کا رخ الا کی طرف نہ موڑا۔

Her thoughts remained stuck in the stormy winds of “Lā” —

And she never steered her stallion toward “illā”.

2828
آیدش روزی که از زور جنون
خویش را زین تند باد آرد برون

ایک دن آئے گا جب وہ زور جنوں سے —

اپنے آپ کو اس آندھی سے نکال لے گا۔

Maybe a day will come when through force of ecstasy —

She may extricate herself from this whirlwind.

2929
در مقام «لا» نیاساید حیات
سوی الا می خرامد کائنات

کیونکہ زندگی لا کے مقام میں آسودگی نہیں پاتی —

کائنات خود بخود الا کی طرف چل نکلتی ہے۔

For life finds no rest in the station of "Lā" —

The universe itself, inevitably, journeys toward “illā”.

3030
لا و الا ساز و برگ امتان
نفی بی اثبات مرگ امتان

لا اور الا قوموں کے بنیادی اوزارِ کار ہیں —

اثبات کے بغیر نفی میں قوموں کی موت ہے۔

"Lā" and "illā" are the fundamental instruments of nations —

Negation without affirmation is the death of nations.

3131
در محبت پخته کی گردد خلیل
تا نگردد لا سوی الا دلیل

اللہ کی محبت میں خلیل کیسے پختہ ہو سکتا ہے —

جب تک لا اس کی راہنمائی الا اﷲ کی جانب نہ کرے۔

How can Khalil grow ripe in divine love —

Unless ‘Lā’ guides him unto the path of ‘illā’ too.

3232
ایکه اندر حجره ها سازی سخن
نعره لا پیش نمرودی بزن

(اے صوفی!) تو جو حجرے کے اندر بیٹھ کر باتیں بناتا ہے —

(باہر نکل اور) نمرود کے سامنے لا کا نعرہ لگا۔

O you! who sit within your chamber weaving words —

Step forth! and cry the call of "Lā" before a Nimrod.

3333
این که می بینی نیرزد با دو جو
از جلال لا اله آگاه شو

یہ جو کچھ تو دیکھتا ہے اس کی قیمت دو جو کے برابر بھی نہیں —

لا الہ کے جلال سے آگاہ ہو۔

What you see around you is not worth two grains of barley —

Be acquainted with the might of “Lā ilāha”.

3434
هر که اندر دست او شمشیر لاست
جمله موجودات را فرمانرواست

جس کے ہاتھ میں لا کی شمشیر ہے —

وہ ساری موجودات کا فرمانروا ہے۔

He who wields the sword of “Lā” in his hands —

Is the sovereign ruler of all that stands.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

حکمت ارباب دین کردم عیان

حکمت ارباب کین را هم بدان

علامہ اقبال»مثنوی پس چه باید کرد ای اقوام شرق»بخش 5 - حکمت فرعونی

اگلی نظم

چیست فقر ای بندگان آب و گل

یک نگاه راه بین یک زنده دل

علامہ اقبال»مثنوی پس چه باید کرد ای اقوام شرق»بخش 7 - فقر

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

تصاویر

◆

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00