صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »مثنوی پس چه باید کرد ای اقوام شرق
  3. »بخش 5 - حکمت فرعونی

بخش 5 - حکمت فرعونی

فرعون کی حکمت

The Wisdom Of The Pharaohs

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: مخدوم حسان، حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، بشیر احمد
صداکار: مخدوم حسان لاهوری
Toggle stanza 1
11
حکمت ارباب دین کردم عیان
حکمت ارباب کین را هم بدان

میں نے اہل ایمان کی حکمت ظاہر کی ہے —

اب کینہ دوز (فرعونوں) کی حکمت بھی سمجھ لے۔

I have unfolded the wisdom of the people of faith —

Now learn the wisdom of the people of malice.

22
حکمت ارباب کین مکر است و فن
مکر و فن تخریب جان ، تعمیر تن

کینہ دوز (فرعونوں) کی حکمت مکر و فن ہے —

مکر و فن کیا ہے؟ روح کی تخریب اور جسم کی پرورش۔

The wisdom of the people of malice is deceit and artifice —

What are deceit and artifice? Decay of soul and nourishment of body.

33
حکمتی از بند دین آزاده ئی
از مقام شوق دور افتاده ئی

یہ ایک ایسی حکمت ہے جو دین کے بندھنوں سے آزاد ہے —

جو عشق کے مقام سے دور پڑی ہے۔

This is wisdom that has freed itself from faith’s bonds —

And has strayed far away from the station of Love.

44
مکتب از تدبیر او گیرد نظام
تا بکام خواجه اندیشد غلام

سکول اس کی تدبیر کے طفیل ایک ایسا نظام اختیار کرتا ہے —

جس سے غلام اپنے آقا کی مرضی کے مطابق سوچنے لگتا ہے۔

The school follows in his (Pharaoh’s) ways so that —

The servant learns to think in line with the master’s desires.

55
شیخ ملت با حدیث دلنشین
بر مراد او کند تجدید دین

علمائے (سوء) دلنشین حدیثیں سنا کر —

اپنے آقاؤں کی مرادوں کے مطابق دین کی تجدید کرتے ہیں۔

The religious leader of the Millat, in a charming way—

Reinterprets religion to his (Pharaoh’s) liking.

66
از دم او وحدت قومی دو نیم
کس حریفش نیست جز چوب کلیم

حکمت فرعونی کے جادو سے قوم کی وحدت پارہ پارہ ہو جاتی ہے —

عصائے موسی (علیہ السلام) کے علاوہ اس کا کوئی علاج نہیں۔

The unity of the people is sundered through his machinations —

Nothing can withstand him except Moses’ Staff.

77
وای قومی کشتهٔ تدبیر غیر
کار او تخریب خود تعمیر غیر

وہ قوم بڑی ہی بدنصیب ہے جو دوسروں کی تدبیر کا شکار ہو —

جس کا کام اپنے ہاتھوں اپنی تباہی اور دوسرے کی تعمیر کرنا ہو۔

Woe to a people that, prey to others’ stratagems —

Destroy themselves and build up others.

88
می شود در علم و فن صاحب نظر
از وجود خود نگردد با خبر

وہ علوم و فن میں تو صاحب نظر ہو جاتے ہیں —

مگر اپنے آپ سے غافل رہتے ہیں۔

They gain knowledge of science and art —

But remain unaware of their own self-identity.

99
نقش حق را از نگین خود سترد
در ضمیرش آرزوها زاد و مرد

وہ قوم اپنی انگوٹھی پر موجود اللہ کا نقش مٹا دیتی ہے —

اس کے ضمیر میں آرزوئیں پیدا ہوتی ہیں لیکن مر جاتی ہیں۔

They erase the Lord’s impress from their signet —

Aspirations arise in their heart only to die away.

1010
بی نصیب آمد ز اولاد غیور
جان بتن چون مرده ئی در خاک گور

وہ قوم غیور اولاد سے محروم ہی رہی —

اس کے جسم میں روح کی حالت گویا قبر میں دفن کوئی مردہ۔

They are not blessed with a progeny imbued with a sense of honour —

Their children have souls in their bodies like corpses in graves.

1111
از حیا بیگانه پیران کهن
نوجوانان چون زنان مشغول تن

اس کے بوڑھے حیا سے خالی ہوتے ہیں —

اور اس کے نوجوان، عورتوں کی طرح اپنے بدن کی آرائش میں مشغول رہتے ہیں۔

Of modesty, the elders are devoid —

And the youth, like women, in self-adornment employed.

1212
در دل شان آرزوها بی ثبات
مرده زایند از بطون امهات

اس کے نوجوانوں کی آرزوؤں میں ثبات نہیں (کبھی کچھ سوچتے ہیں، کبھی کچھ) —

وہ اپنی ماؤں کے پیٹ ہی سے مردہ پیدا ہوتے ہیں۔

The desires that spring from their hearts are unstable —

They are born dead from the wombs of their mothers.

1313
دختران او بزلف خود اسیر
شوخ چشم و خود نما و خرده گیر

اس قوم کی بیٹیاں خود اپنی ہی زلفوں کی اسیر ہوتی ہیں —

بے حیا آنکھوں والی، خودنمائی کی دلدادہ اور ہر شے پر اعتراض کرنے والی۔

The daughters of this nation are captives of their own tresses —

Bold-eyed, fond of display and carping;

1414
ساخته پرداخته دل باخته
ابروان مثل دو تیغ آخته

وہ بہت بنی ٹھنی، سنوری سنواری ، دل پھینک —

اور ان کی بھویں دو تنی ہوئی تلواروں کی مانند ہوتی ہیں ۔

Well-dressed, with exquisite make-up, coquettish —

Their eyebrows, like two unsheathed swords.

1515
ساعد سیمین شان عیش نظر
سینهٔ ماهی بموج اندر نگر

ان کے چاندی جیسے سفید بازو، نظروں کیلئے سامانِ عیش —

ان کے سینے، پانی میں تیرتی مچھلی کی مانند، جھلکتے ہیں۔

Their white silvery forearms pleasing to the eyes —

Their bosoms showing like fish in water.

1616
ملتی خاکستر او بی شرر
صبح او از شام او تاریکتر

یہ ایسی قوم ہے جس کی راکھ میں کوئی چنگاری باقی نہیں —

اس کی صبح اس کی شام سے بھی زیادہ تاریک ہے۔

A nation whose ashes are devoid of any live spark —

Whose morning is darker than its evening.

1717
هر زمان اندر تلاش ساز و برگ
کار او فکر معاش و ترس مرگ

وہ ہر دم روپے پیسے کی تلاش میں رہتی ہے —

اس کا کام معاش کی فکر اور موت سے ڈرنا ہے۔

It is always in search of material goods —

Its only preoccupation is anxiety for livelihood and fear of death.

1818
منعمان او بخیل و عیش دوست
غافل از مغزاند و اندر بند پوست

اس کے دولتمند بخیل اور عیش پرست —

وہ ( حقیقت کے) مغز سے غافل اور (رسوم کے) چھلکے میں گرفتار ہوتے ہیں۔

Its rich are miserly, pleasure-loving —

Heedless of the essence, trapped in the shell.

1919
قوت فرمانروا معبود او
در زیان دین و ایمان سود او

حکمران کی قوّت ان کی معبود ہے —

وہ دین و ایمان کے نقصان میں اپنا فائدہ دیکھتے ہیں۔

The ruler’s might becomes his only creed —

His gain is built on faith’s and religion’s bleed.

2020
از حد امروز خود بیرون نجست
روزگارش نقش یک فردا نبست

ایسی قوم 'آج' (فوری مفاد) کی حد سے باہر نہیں نکلتی —

اس کی زندگی میں کل کا ایک نقش بھی ثبت نہیں ہوتا۔

He never stepped beyond the bounds of today —

His life held no design for a tomorrow’s way.

2121
از نیاکان دفتری اندر بغل
الامان از گفته های بی عمل

وہ اپنے آباء (کے کارناموں ) کا دفتر بغل میں دبائے پھرتی ہے —

عمل کے بغیر باتوں اور دعووں سے اللہ کی پناہ!

With the chronicles of ancestors tucked under the arm —

I seek refuge from words devoid of action.

2222
دین او عهد وفا بستن بغیر
یعنی از خشت حرم تعمیر دیر

اس کا دین غیروں سے عہد وفا باندھنا ہے —

وہ گویا حرم ( کو گرا کر اس) کی اینٹوں سے بت کدہ تعمیر کرتی ہے۔

It’s faith is to pledge the loyalty to foes —

As if from the Kaaba’s stones, an idol-house it sows.

2323
آه قومی دل ز حق پرداخته
مرد و مرگ خویش را نشناخته

افسوس اس قوم پر جس نے اللہ تعالے سے دل ہٹا لیا —

جو مر چکی ہے، مگر اپنی موت کو پہچانتی نہیں۔

Alas! For a nation which has cut itself adrift from God —

Which is dead, but does not know that it is dead.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

تا نبوت حکم حق جاری کند

پشت پا بر حکم سلطان میزند

علامہ اقبال»مثنوی پس چه باید کرد ای اقوام شرق»بخش 4 - حکمت کلیمی

اگلی نظم

نکته ئی میگویم از مردان حال

امتان را «لا» جلال «الا» جمال

علامہ اقبال»مثنوی پس چه باید کرد ای اقوام شرق»بخش 6 - لا اله الا الله

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

تصاویر

◆

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00