صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »مثنوی پس چه باید کرد ای اقوام شرق
  3. »بخش 4 - حکمت کلیمی

بخش 4 - حکمت کلیمی

حکمتِ کلیمی

The Wisdom of Moses (A.S)

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: مخدوم حسان، حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، بشیر احمد
صداکار: مخدوم حسان لاهوری
Toggle stanza 1
11
تا نبوت حکم حق جاری کند
پشت پا بر حکم سلطان میزند

جب نبوّت اللہ تعالیٰ کا حکم جاری کرتی ہے –

تو بادشاہ کے حکم کو ٹھکرا دیتی ہے۔

As the prophet establishes God’s decrees —

He repudiates Caesar’s law.

22
در نگاهش قصر سلطان کهنه دیر
غیرت او بر نتابد حکم غیر

اس کی نگاہ میں بادشاہ کا محل ایک پرانا بتخانہ ہے –

اس کی غیرت غیر اللہ کا حکم برداشت نہیں کرتی۔

In his eyes the royal palace is like an old idol-temple —

His sense of honour makes him disobey the order of the other-than-God.

33
پخته سازد صحبتش هر خام را
تازه غوغائی دهد ایام را

نبی کی صحبت ہر خام شخصیت کو پختہ کر دیتی ہے –

وہ زمانے کو نئے ہنگامے عطا کرتا ہے۔

The imperfect becomes perfect through association with him —

He gives a new tumult to the age.

44
درس او «الله بس باقی هوس»
تا نیفتد مرد حق در بند کس

وہ 'اللہ بس، باقی ہوس' کا سبق دیتا ہے –

تاکہ اللہ تعالیٰ کے بندے کسی اور کے دام میں نہ پھنسیں۔

His message is that Allah is sufficient and all else is meaningless —

So that the man of truth does not fall into anybody’s snare.

55
از نم او آتش اندر شاخ تاک
در کف خاک از دم او جان پاک

اس کے نم سے انگور کی شاخ میں آگ بھر جاتی ہے –

اور اس کے دم سے خاکی بدن کے اندر پاک روح پیدا ہو جاتی ہے۔

His moisture imparts fire to the vine’s twig and —

His breath gives life to this handful of earth.

66
معنی جبریل و قرآن است او
فطرة الله را نگهبان است او

وہ جبریلؑ اور قرآن کی تفسیر ہے —

وہ فطرت اللہ (دین فطرت) کا نگہبان ہے۔

He is the meaning of Gabriel and the Quran —

And he is the custodian of God’s Law.

77
حکمتش برتر ز عقل ذوفنون
از ضمیرش امتی آید برون

اس کی حکمت، عقلِ چالاک سے برتر ہے –

اس کے ضمیر سے نئی امت وجود میں آتی ہے۔

His wisdom is superior to artful reason —

His spirit gives birth to an Ummah.

88
حکمرانی بی نیاز از تخت و تاج
بی کلاه و بی سپاه و بی خراج

وہ ایسا حکمران ہے ، جو تاج و تخت سے بے نیاز ہے –

نہ وہ کلّاہ رکھتا ہے، نہ سپاہ اور نہ کسی سے خراج وصول کرتا ہے۔

He is a ruler disinterested in throne and crown —

Sans crown, sans army, sans tribute.

99
از نگاهش فرودین خیزد ز دی
درد هر خم تلخ تر گردد ز می

اس کی نگاہ خزاں کو بہار میں تبدیل کر دیتی ہے –

اور ہر خُم کی تلچھٹ کو شراب سے بھی زیادہ تلخ کر دیتی ہے۔

His look transforms autumn into spring, and —

Through him the dregs of every pitcher become stronger than the wine.

1010
اندر آه صبحگاه او حیات
تازه از صبح نمودش کائنات

اس کی آہِ سحر گاہی میں نئی زندگی ہے –

اس کی نمود کی صبح، کائنات کو تازگی عطا کرتی ہے۔

In his morning-lamentation lies life and —

The universe is renewed by the morning of his manifestation.

1111
بحر و بر از زور طوفانش خراب
در نگاه او پیام انقلاب

اس کے طوفان کے زور میں سمندر اور خشکی ڈوب جاتے ہيں –

اس کی نگاہ میں انقلاب کا پیغام ہوتا ہے۔

The sea and the earth are devastated by the intensity of his deluge, and —

In his eyes there is a message of revolution.

1212
درس «لا خوف علیهم» می دهد
تا دلی در سینهٔ آدم نهد

وہ انہیں لا خوف علیھم کا درس دیتا ہے –

تاکہ آدم کے سینہ کے اندر دل مضبوط ہو۔

He teaches the lesson of “No fear upon them” —

He puts a true heart into the breast of man.

1313
عزم و تسلیم و رضا آموزدش
در جهان مثل چراغ افروزدش

وہ اسے عزم ، فرمانبرداری اور راضی برضا رہنا سکھا کر –

دنیا میں چراغ کی مانند روشن کر دیتا ہے۔

He teaches man determination, submission (to the will of God) and willing acquiescence —

And makes him radiant in the world like a lamp.

1414
من نمیدانم چه افسون می کند
روح را در تن دگرگون می کند

میں نہیں جانتا کہ وہ کیا جادو پھونکتا ہے –

جس سے بدن کے اندر کی روح کچھ اور ہو جاتی ہے۔

I do not know what magic he bestows, but —

He totally transforms the soul in the body.

1515
صحبت او هر خزف را در کند
حکمت او هر تهی را پر کند

اس کی صحبت ہر سنگریزے کو موتی بنا دیتی ہے –

اور اس کی حکمت ہر ایک کا دامن بھر دیتی ہے۔

In his companionship, a piece of clay becomes a pearl, and —

His wisdom gives abundance to the deficient.

1616
بندهٔ درمانده را گوید که خیز
هر کهن معبود را کن ریز ریز»

و ہ گرے ہوئے غلام سے کہتا ہے : 'اٹھ –

اور ہر پرانے معبد کو ریزہ ریزہ کر دے'۔

He says to the downtrodden slave —

“Arise and break into pieces every ancient!”

1717
مرد حق افسون این دیر کهن
از دو حرف «ربی الاعلی» شکن

اے بندہ حق ! اس پرانے بتخانے (دنیا) کا جادو —

"ربی الاعلی" کے دو الفاظ سے توڑ دے۔

O man of God! break the spell of this old world —

With these two words: “My Lord, the Most High”.

1818
فقر خواهی از تهی دستی منال
عافیت در حال و نی در جاه و مال

فقر کا مرتبہ چاہتا ہے تو افلاس کی فریاد نہ کر –

سکون، قلب کی کیفیت پر منحصر ہے نہ کہ جاہ و مال پر۔

If you wish to attain Faqr, don’t complain of poverty —

Well-being depends on one’s attitude and not on rank and wealth.

1919
صدق و اخلاص و نیاز و سوز و درد
نی زر و سیم و قماش سرخ و زرد

صدق، اخلاص ، نیازمندی اور سوز و درد (سکوں لاتے ہیں) –

نہ کہ سونا چاندی اور سرخ و زرد (ریشمی) کپڑے۔

Truthfulness, sincerity, submissiveness, ardour and sympathy; these are needed —

Not gold or silver, nor red and yellow coins.

2020
بگذر از کاؤس و کی ای زنده مرد
طوف خود کن گرد ایوانی مگرد

اے زندہ مرد! کیکاؤس اور کیقباد جیسے بادشاہوں سے بچ کر گزر جا —

شاہی محلات کا طواف کرنے کی بجائے اپنے گرد طواف کر۔

O living man, avoid these kings and nobles —

Walk around your own self and not around the palaces.

2121
از مقام خویش دور افتاده ئی
کرگسی کم کن که شاهین زاده ئی

تو اپنے مقام سے دور جا پڑا ہے –

تو شاہینوں کی اولاد ہے کرگسوں جیسے کام نہ کر۔

You have fallen away from your true station —

You are falcon-born, forsake the vulture's imitation.

2222
مرغک اندر شاخسار بوستان
بر مراد خویش بندد آشیان

پرندہ بھی باغ کے درخت کی ٹہنیوں پر –

اپنی مرضی کے مطابق اپنا آشیانہ بناتا ہے۔

A bird in a garden grove —

Builds his nest to his own liking.

2323
تو که داری فکرت گردون مسیر
خویش را از مرغکی کمتر مگیر

تیری سوچ کی پرواز آسمانوں تک ہے –

تو اپنے آپ کو پرندے سے کم تر نہ سمجھ ۔

You who have a heaven-traversing imagination —

Should not think yourself inferior to a bird.

2424
دیگر این نه آسمان تعمیر کن
بر مراد خود جهان تعمیر کن

ان نو آسمانوں کو دوبارہ تعمیر کر –

اس دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق بنا۔

Rebuild these nine heavens and —

Refashion this world according to your own desire.

2525
چون فنا اندر رضای حق شود
بندهٔ مؤمن قضای حق شود

جب اپنے آپ کو رضائے الہی میں گم کر دیتا ہے تو –

بندۂ مومن قضائے الہی بن جاتا ہے۔

When he gets annihilated in God’s will —

The man of faith becomes God’ decree.

2626
چار سوی با فضای نیلگون
از ضمیر پاک او آید برون

پھر یہ جہانِ چار سو، اپنی نیلگوں فضا کے ساتھ –

اس کے پاک ضمیر کے اندر سے نئی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔

The four dimensions along with the blue heavens —

Are born out of his pure bosom.

2727
در رضای حق فنا شو چون سلف
گوهر خود را برون آر از صدف

اپنے آباء کی طرح اللہ تعالیٰ کی رضا میں گم ہو کر –

صدف سے اپنے موتی کو باہر نکال۔

Annihilate yourself in the will of God like your forefathers —

Bring out your pearl out of the oyster.

2828
در ظلام این جهان سنگ و خشت
چشم خود روشن کن از نور سرشت

اس سنگ و خشت کے جہان کی تاریکی میں –

آنکھوں کو اپنی پاک فطرت کے نور سے روشن کر۔

In the darkness of this world of stone and bricks —

Illumine your eyes with the light of your nature.

2929
تا نگیری از جلال حق نصیب
هم نیابی از جمال حق نصیب

جب تک تو اللہ تعالیٰ کے جلال سے حصّہ نہ پائے گا –

اس کے جمال سے بھی بہرہ اندوز نہ ہو سکے گا۔

Unless you take your share of the majesty of God —

You cannot not enjoy Divine Beauty.

3030
ابتدای عشق و مستی قاهری است
انتهای عشق و مستی دلبری است

عشق و مستی کی ابتدا قاہری (سختی) ہے –

عشق و مستی کی انتہا دلبری (محبوبی) ہے۔

The dawn of love and ecstasy is majesty (qahiri) —

The culmination of love and ecstasy is beauty (dilbari).

3131
مرد مؤمن از کمالات وجود
او وجود و غیر او هر شی نمود

مرد مومن کمالات وجود (کے شاہکاروں میں) سے ہے –

وہ وجود (حقیقی) ہے، باقی ہر شے صرف (بظاہر) نظر آتی ہے۔

The man of faith is a symbol of perfect existence —

He alone is real; all else is mere appearance.

3232
گر بگیرد سوز و تاب از لااله
جز بکام او نگردد مهر و مه

اگر مومن لاالہ سے حرارت اور چمک پا لے –

تو سورج اور چاند اسی کے مقصد کی تکمیل کے لیے گردش کرتے ہیں۔

If he gains ardour and zeal from “La ilaha” —

The Sun and Moon will revolve only at his bidding.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ای امیر خاور ای مهر منیر

می کنی هر ذره را روشن ضمیر

علامہ اقبال»مثنوی پس چه باید کرد ای اقوام شرق»بخش 3 - خطاب به مهر عالمتاب

اگلی نظم

حکمت ارباب دین کردم عیان

حکمت ارباب کین را هم بدان

علامہ اقبال»مثنوی پس چه باید کرد ای اقوام شرق»بخش 5 - حکمت فرعونی

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

تصاویر

◆

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00