صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »مثنوی پس چه باید کرد ای اقوام شرق
  3. »بخش 3 - خطاب به مهر عالمتاب

بخش 3 - خطاب به مهر عالمتاب

جہاں کو منور کرنے والے سورج سے خطاب

Address To The World-illuminating Sun

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: مخدوم حسان، حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، بشیر احمد
صداکاران: فاطمه زندی، مخدوم حسان لاهوری
Toggle stanza 1
11
ای امیر خاور ای مهر منیر
می کنی هر ذره را روشن ضمیر

اے آسمان کے شہزادے! اے آفتاب درخشاں! —

تو ہر ذرہ کے اندرون کو چمکا دیتا ہے۔

O prince of the heavens! O radiant sun! —

You illuminate the depths of every particle, one by one.

22
از تو این سوز و سرور اندر وجود
از تو هر پوشیده را ذوق نمود

تیری وجہ سے وجود کائنات میں سوز و سرور ہے —

تیری وجہ سے ہر پوشیدہ کے اندر اپنے آپ کو ظاہر کرنے کا شوق ہے۔

It is through you that existence burns with fervor and delight —

Through you, every hidden thing longs to reveal its flight.

33
می رود روشنتر از دست کلیم
زورق زرین تو در جوی سیم

تیری زریں کشتی چاندی کے دریا میں چلتی ہوئی —

دست کلیم سے بھی زیادہ روشن (نظر آتی) ہے۔

Your golden vessel glides through streams of silver glow —

Brighter than the hand of Moses does it show.

44
پرتو تو ماه را مهتاب داد
لعل را اندر دل سنگ آب داد

تیرے پرتو نے چاند کو چاندنی عطا کی —

اور لعل کو پتھر کے اندر آب و تاب بخشی۔

Your radiance bestowed the moon its gentle glow —

And gave brilliance to the ruby within the stone's hollow.

55
لاله را سوز درون از فیض تست
در رگ او موج خون از فیض تست

تیرے فیض سے گل لالہ کو سوز دروں ملا —

اور اس کی رگ میں موج خون دوڑی۔

The tulip’s burning core is your gracious art —

Its veins surge with the blood your blessings impart.

66
نرگسان صد پرده را بر می درد
تا نصیبی از شعاع تو برد

نرگس نے سینکڑوں پردے پھاڑ دیے —

تاکہ تیری شعاع سے نور پا سکے۔

The narcissus tears through a hundred veils apart —

To claim a share of the light your rays impart.

77
خوش بیا صبح مراد آورده ئی
هر شجر را نخل سینا کرده ئی

تیرا آنا مبارک ہو، تو میری صبح لایا ہے —

تو نے ہر درخت کو درخت طور بنا دیا ہے۔

Welcome, O bearer of the morning of my desire —

You have turned every tree into Sinai's fire.

88
تو فروغ صبح و من پایان روز
در ضمیر من چراغی بر فروز

تو صبح کی روشنی ہے اور میں آخر روز ہوں —

میرے ضمیر کے اندر (بھی) چراغ روشن کر دے۔

You are the light of the dawn, and I the day's end —

Ignite a lamp within my soul to mend.

99
تیره خاکم را سراپا نور کن
در تجلی های خود مستور کن

میری تاریک خاک کو سراپا نور بنا دے —

مجھے اپنی تجلیات میں چھپا لے۔

Turn my darkened dust into luminous grace —

Enshroud me within your resplendent embrace.

1010
تا بروز آرم شب افکار شرق
بر فروزم سینهٔ احرار شرق

تاکہ میں مشرق کے افکار کی رات کو دن میں تبدیل کر دوں —

تاکہ میں مشرق کے احرار کا سینہ چمکا دوں۔

That I may turn the night of Eastern thought to the day —

And brighten the hearts of East’s free souls along the way.

1111
از نوائی پخته سازم خام را
گردش دیگر دهم ایام را

تاکہ میں اپنی نوا سے ہر خام کو پختہ کر دوں—

اور ایّام کے دور کو بدل دوں۔

That I may, with my melody, refine the raw —

And set the course of time to a new draw.

1212
فکر شرق آزاد گردد از فرنگ
از سرود من بگیرد آب و رنگ

تاکہ مشرق کی فکر مغرب سے آزاد ہو جائے—

اور میری لے سے آب و رنگ لے۔

That Eastern thought may break from the West’s control —

And take its hue and essence from my soul.

1313
زندگی از گرمی ذکر است و بس
حریت از عفت فکر است و بس

زندگی تو صرف اللہ کے ذکر کی گرمی سے ہے اور بس —

آزادی تو صرف فکر کی پاکیزگی کا نام ہے اور بس۔

Life derives its joy from the warmth of Zikr alone —

Freedom lies in the purity of thoughts, its throne.

1414
چون شود اندیشهٔ قومی خراب
ناسره گردد بدستش سیم ناب

جب کسی قوم کی سوچ خراب ہو جاتی ہے—

تو اس کے ہاتھ میں خالص چاندی بھی کھوٹا سکّہ بن جاتی ہے۔

When a nation’s thinking begins to decay —

Pure silver in its hands turns to counterfeit clay.

1515
میرد اندر سینه اش قلب سلیم
در نگاه او کج آید مستقیم

اس کے سینہ میں قلب سلیم مر جاتا ہے —

اسے سیدھی راہ کج دیکھائی دیتی ہے۔

Within its breast, the pure heart meets its demise —

What is straight appears crooked in its eyes.

1616
بر کران از حرب و ضرب کائنات
چشم او اندر سکون بیند حیات

وہ کائنات کے ہنگاموں سے ایک طرف ہو کے بیٹھ جاتی ہے —

اس کی نگاہ سکوں ہی میں زندگی دیکھتی ہے۔

Far from the clash and tumult of creation's strife —

His gaze perceives in stillness the essence of life.

1717
موج از دریاش کم گردد بلند
گوهر او چون خزف نا ارجمند

اس کے دریا ئے (حیات) سے کوئی موج نہیں اٹھی —

اس کا گوہر بھی پتھر کے ٹکڑے کی مانند بے قیمت ہو جاتا ہے۔

No wave rises from his ocean’s deep tide —

His gem, like a stone, loses value and pride.

1818
پس نخستین بایدش تطهیر فکر
بعد از آن آسان شود تعمیر فکر

اس لیے سب سے پہلے فکر کی تطہیر کرنی چاہیے —

اس کے بعد فکر کی تعمیر آسان ہو جاتی ہے۔

Thus, the cleansing of thought should first take its place —

For only then can its rebuilding embrace.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

پیر رومی مرشد روشن ضمیر

کاروان عشق و مستی را امیر

علامہ اقبال»مثنوی پس چه باید کرد ای اقوام شرق»بخش 2 - تمهید

اگلی نظم

تا نبوت حکم حق جاری کند

پشت پا بر حکم سلطان میزند

علامہ اقبال»مثنوی پس چه باید کرد ای اقوام شرق»بخش 4 - حکمت کلیمی

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

تصاویر

◆

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00