صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »مثنوی پس چه باید کرد ای اقوام شرق
  3. »بخش 11 - سیاسیات حاضره

بخش 11 - سیاسیات حاضره

عصرِ حاضر کی سیاست

Contemporary Politics

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: مخدوم حسان، حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، بشیر احمد
صداکار: مخدوم حسان لاهوری
بند 1
Toggle stanza 1
11
می کند بند غلامان سخت تر
حریت می خواند او را بی بصر

(عصر حاضر کی سیاست) محکوموں کی زنجیروں کو پختہ تر کرتی ہے —

(لیکن) کم نظر شخص اسے حریت کا نام دیتا ہے۔

(The politics of present age) tightens the captives’ chains even more —

Yet the short-sighted one calls it freedom.

22
گرمی هنگامهٔ جمهور دید
پرده بر روی ملوکیت کشید

جب اس نے عوام کے ہنگامے کی گرمی دیکھی —

تو بادشاہت کے چہرے پر پردہ ڈال دیا۔

When it saw the heat of the people’s uproar —

It threw a veil over the face of kingship.

33
سلطنت را جامع اقوام گفت
کار خود را پخته کرد و خام گفت

سلطنت کو اس نے جامعِ اقوام (اقوام متحدہ) کا نام دیا —

اپنا الو سیدھا کرلیا، (لیکن دھوکے کیلئے) بات خام کہی۔

It named empire the “League of Nations” (the United Nations) —

Set its own business straight, and spoke words meant to deceive.

44
در فضایش بال و پر نتوان گشود
با کلیدش هیچ در نتوان گشود

اس کی فضا میں بال و پر کھولے نہیں جا سکتے —

اس کی چابی سے کوئی بھی دروازہ کھولا نہیں جا سکتا۔

In its atmosphere no wings can truly be unfurled —

With its key no door can really be opened.

55
گفت با مرغ قفس «ای دردمند
آشیان در خانهٔ صیاد بند

یہ قفس کے پرندے سے کہتا ہے کہ "اے دردمند —

تو شکاری کے گھر کے اندر آشیانہ بنا لے۔

It tells the caged bird, “O wounded one —

Build your nest inside the hunter’s house.

66
هر که سازد آشیان در دشت و مرغ»
او نباشد ایمن از شاهین و چرغ

جو کوئی صحرا و مرغزار میں آشیانہ بناتا ہے —

وہ شاہین اور شکرے سے محفوظ نہیں رہتا"۔

Whoever builds a nest in desert or meadow —

Is not safe from the hawk or the falcon.”

77
از فسونش مرغ زیرک دانه مست
ناله ها اندر گلوی خود شکست

اس کے سحر سے سمجھدار پرندہ بھی دانے پر فریفتہ ہے —

اس نے نالہ و فریاد کو اپنے گلے ہی میں دفن کر لیا۔

By its enchantment even the wise bird is lured by the grain —

It buried its own lament within its throat.

88
حریت خواهی به پیچاکش میفت
تشنه میر و بر نم تاکش میفت

اگر تو آزادی چاہتا ہے تو اس کے جال سے دور رہ —

پیاسا مر جا لیکن اس کے انگور کے رس کا طالب نہ ہو۔

If you want freedom, stay far from its net —

Die thirsty, but do not crave the wine of its grapes.

99
الحذر از گرمی گفتار او
الحذر از حرف پهلو دار او

اس کی گرمئ گفتار سے اللہ کی پناہ —

اس کی پہلو دار باتوں سے اللہ کی پناہ۔

From its heated speech, seek God’s protection —

From its double-edged, slippery words, seek God’s protection.

1010
چشم ها از سرمه اش بی نور تر
بندهٔ مجبور ازو مجبور تر

اس کا سرمہ آنکھوں کو اور زیادہ بے نور کر دیتا ہے —

مجبور انسان اس کی وجہ سے زیادہ مجبور ہو جاتا ہے۔

Its kohl makes the eyes even more dim —

And the helpless human becomes still more helpless because of it.

1111
از شراب ساتگینش الحذر
از قمار بدنشینش الحذر

اس کے پیالے کی شراب سے اللہ کی پناہ —

اس کے بدنیتی پر مبنی جوئے سے اللہ کی پناہ۔

From the wine of its cup, seek God’s protection —

From its ill-intended gamble, seek God’s protection.

1212
از خودی غافل نگردد مرد حر
حفظ خود کن حب افیونش مخور

مرد حر اپنی خودی سے غافل نہیں رہتا —

تو اپنی حفاظت کر، اس کی افیون کی گولی مت کھا۔

The free man is never heedless of his Khudi —

Guard yourself, do not swallow its opium pill.

1313
پیش فرعونان بگو حرف کلیم
تا کند ضرب تو دریا را دونیم

وقت کے فرعونوں کے سامنے حضرت موسیٰ کے انداز میں بات کر —

تا کہ تیری ضرب دریا کو دو ٹکڑے کر دے۔

Speak to the pharaohs of the age in the manner of Moses —

So that your blow may split the sea in two.

بند 2
Toggle stanza 2
1414
داغم از رسوائی این کاروان
در امیر او ندیدم نور جان

اس قافلے کی رسوائی سے میرا دل داغ داغ ہے —

اس کے امیر کے قلب میں مجھے کوئی نور نہیں دکھائی دیتا۔

My heart is scarred by this caravan’s disgrace —

I see no light in the heart of its leader.

1515
تن پرست و جاه مست و کم نگه
اندرونش بی نصیب از لااله

(امیر قافلہ) جسم کا غلام، ظاہری نمود میں مست اور کوتاہ نظر ہے —

اس کا سینہ لا الہ کے نور سے خالی ہے۔

Worshipper of the body, drunk on status, and short of sight —

His inner soul is destitute of the light of "La ilaha".

1616
در حرم زاد و کلیسا را مرید
پردهٔ ناموس ما را بر درید

یہ شخص حرم میں پیدا ہوا تھا لیکن کلیسا کا مرید ہو گیا —

اس نے ہماری غیرت ملی کا پردہ تار تار کر دیا۔

He was born in the Sanctuary, yet became a disciple of the church —

He tore our national honor’s veil to shreds.

1717
دامن او را گرفتن ابلهی است
سینهٔ او از دل روشن تهی است

ایسے شخص کا دامن پکڑنا حماقت ہے —

کیونکہ اس کا سینہ قلب منور سے خالی ہے۔

To cling to such a man is sheer foolishness —

For his chest is devoid of an illumined heart.

1818
اندرین ره تکیه بر خود کن که مرد
صید آهو با سگ کوری نکرد

اس سلسلے میں تو اپنے آپ پر اعتماد کر کیونکہ کوئی شخص —

اندھے کتے کے ساتھ ہرن کا شکار نہیں کر سکتا۔

In this matter, trust your own self, for no one —

Can hunt a deer with a blind dog.

1919
آه از قومی که چشم از خویش بست
دل به غیر الله داد ، از خود گسست

افسوس ہے اس قوم پر جس نے اپنے آپ سے آنکھیں بند کر لیں —

دل غیر اللہ کو دے دیا اور اپنے آپ سے کٹ گئی۔

Pity the nation that shut its eyes to itself —

Gave its heart to other-than-God, and broke away from its own self.

2020
تا خودی در سینهٔ ملت بمرد
کوه ، کاهی کرد و باد او را ببرد

جب قوم کے سینے میں خودی مر گئی —

تو اس کے پہاڑ نے تنکے کا انداز اختیار کر لیا اور اسے ہوا اڑا کر لے گئی۔

When Khudi died in a nation’s breast —

Its mountain became like a straw, and the wind carried it away.

2121
گرچه دارد لااله اندر نهاد
از بطون او مسلمانی نزاد

اگرچہ اس ملت کی فطرت میں لا الہ ہے —

مگر ان کی ماؤں کے پیٹ سے کوئی مسلمان پیدا نہیں ہوا۔

Though “La ilaha” lies within this nation’s nature —

No Muslim has been born from the wombs of their mothers.

2222
آنکه بخشد بی یقینان را یقین
آنکه لرزد از سجود او زمین

(ایسا مسلمان پیدا نہ ہوا) جو بے یقینوں کو یقین بخشے —

اور جس کے سجدے سے زمین لرز اٹھے۔

No one has been born who can grant certainty to the doubters —

And whose prostration makes the earth tremble.

2323
آنکه زیر تیغ گوید لااله
آنکه از خونش بروید لااله

(ایسا مسلمان) جو تلوار کے نیچے بھی لا الہ کہے —

جس کے خون سے لا الہ کی فصل اگے۔

No one has been born who, even beneath the sword, says “La ilaha,” —

Whose blood makes the crop of “La ilaha” grow.

2424
آن سرور ، آن سوز مشتاقی نماند
در حرم صاحبدلی باقی نماند

نہ وہ سرور باقی رہا اور نہ وہ شوق کا سوز —

حرم میں کوئی صاحب دل باقی نہ رہا۔

That rapture, that burning of longing remains no more —

In the Sanctuary, no man of heart remains.

2525
ای مسلمان اندرین دیر کهن
تا کجا باشی به بند اهرمن

اے مسلمان تو اس پرانے بت خانے میں —

کب تک اہرمن (شیطان) کی قید میں رہے گا؟

O Muslim, in this old idol-house —

How long will you remain in Iblis’s chains?

2626
جهد با توفیق و لذت در طلب
کس نیابد بی نیاز نیم شب

با توفیق جہدوجہد اور طلب میں لذت —

یہ گریۂ نیم شبی کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتیں۔

Striving with God’s grace, and delight in the quest —

None attains it without the midnight prayer.

2727
زیستن تا کی به بحر اندر چو خس
سخت شو چون کوه از ضبط نفس

تو سمندر میں کب تک تنکے کی مانند زندگی بسر کرے گا؟ —

ضبط نفس سے تو پہاڑ کی طرح سخت ہو جا۔

How long will you live in the sea like a straw? —

Through self-restraint, become firm like a mountain.

بند 3
Toggle stanza 3
2828
گرچه دانا حال دل با کس نگفت
از تو درد خویش نتوانم نهفت

اگرچہ سمجھدار آدمی کبھی کسی کو اپنا حال دل نہیں بتاتا —

مگر میں تجھ سے اپنا درد نہیں چھپا سکتا۔

Though the wise never reveal their heart’s condition to anyone —

I cannot hide my pain from you.

2929
تا غلامم در غلامی زاده ام
ز آستان کعبه دور افتاده ام

چونکہ میں غلام ہوں، غلامی میں پیدا ہوا ہوں —

اس لیے کعبہ کی چوکھٹ سے دور جا پڑا ہوں۔

Since I am a slave, born into slavery —

I have fallen far from the threshold of the Ka‘bah.

3030
چون بنام مصطفی خوانم درود
از خجالت آب می گردد وجود

جب میں حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ذات والا صفات پر درود بھیجتا ہوں —

تو میرا وجود شرم سے پانی پانی ہو جاتا ہے۔

When I send blessings upon Muhammad Mustafa (PBUH) —

My whole being melts with shame.

3131
عشق میگوید که ای محکوم غیر
سینهٔ تو از بتان مانند دیر

عشق کہتا ہے کہ او غیر کے محکوم! —

تیرا سینہ تو بتوں کی وجہ سے بت خانہ بنا ہوا ہے۔

Love says: O one enslaved to the Other —

Your chest has become an idol-temple because of idols.

3232
تا نداری از محمد رنگ و بو
از درود خود میالا نام او

جب تک تو حضرت محمد ﷺ کا رنگ و بو اختیار نہیں کرتا —

اس وقت تک اپنے درود سے حضور ﷺ کے نام نامی کو آلودہ نہ کر۔

Until you take on the color and fragrance of Muhammad (PBUH) —

Do not stain his noble name with your blessings.

بند 4
Toggle stanza 4
3333
از قیام بی حضور من مپرس
از سجود بی سرور من مپرس

میرے بے حضور قیام کا مت پوچھ —

میرے بے سرور سجدوں کا مت پوچھ۔

Ask not of my standing with no presence of heart —

Ask not of my prostration devoid of all delight.

3434
جلوهٔ حق گرچه باشد یک نفس
قسمت مردان آزاد است و بس

اللہ تعالیٰ کا جلوہ اگرچہ ایک لمحے کا ہوتا ہے —

تاہم وہ آزاد مردوں ہی کے مقدر میں ہے اور بس۔

The manifestation of God, though it be for a single breath —

Is the destiny of free men alone, and none else.

3535
مردی آزادی چو آید در سجود
در طوافش گرم رو چرخ کبود

جب کوئی آزاد مرد سجدے میں گرتا ہے —

تو یہ نیلا آسمان اس کے طواف میں گرم ہو جاتا ہے۔

When a free man falls into prostration —

The azure sky circles him in fervent motion.

3636
ما غلامان از جلالش بیخبر
از جمال لازوالش بیخبر

ہم غلام اس کے جلال سے ناواقف —

اور اس کے لازوال جمال سے بے خبر ہیں۔

We slaves are strangers to His majesty —

And unaware of His everlasting beauty.

3737
از غلامی لذت ایمان مجو
گرچه باشد حافظ قرآن ، مجو

کسی غلام میں ایمان کی لذت تلاش نہ کر —

اگرچہ وہ حافظ قرآن ہی کیوں نہ ہو، پھر بھی تلاش نہ کر۔

Do not seek the taste of faith in a slave —

Even if he is a memorizer of the Qur’an, do not seek it.

3838
مؤمن است و پیشهٔ او آزری است
دین و عرفانش سراپا کافری است

بظاہر تو وہ صاحب ایمان ہے لیکن اس کا پیشہ بت گری ہے —

اس کا دین اور عرفان سب محض کافری ہے۔

Outwardly he seems a believer, yet his craft is idol-making —

His religion and his knowing are nothing but disbelief.

3939
در بدن داری اگر سوز حیات
هست معراج مسلمان در صلوت

اگر تو اپنے اندر سوز حیات رکھتا ہے —

تو جان لے کہ نماز میں مسلمان کی معراج ہے۔

If you carry within you the burning of life —

Know that in prayer lies the Muslim’s ascension.

4040
ور نداری خون گرم اندر بدن
سجدهٔ تو نیست جز رسم کهن

اور اگر تو اپنے جسم میں گرم خون نہیں رکھتا —

تو پھر تیرا سجدہ محض ایک پرانی رسم کے سوا اور کچھ نہیں۔

And if you do not carry warm blood in your body —

Then your prostration is nothing but an old ritual.

4141
عید آزادان شکوه ملک و دین
عید محکومان هجوم مؤمنین

آزاد قوموں کی عید ملک اور دین کی شان و عظمت ہے —

جبکہ غلاموں کی عید صرف مسلمانوں کا ہجوم ہے۔

The Eid of free nations is the glory and grandeur of state and faith —

While the Eid of slaves is only a crowd of Muslims.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ای هماله ! ای اطک ، ای رود گنگ

زیستن تا کی چنان بی آب و رنگ

علامہ اقبال»مثنوی پس چه باید کرد ای اقوام شرق»بخش 10 - اشکی چند بر افتراق هندیان

اگلی نظم

ای در و دشت تو باقی تا ابد

نعره «لا قیصر و کسری» که زد؟

علامہ اقبال»مثنوی پس چه باید کرد ای اقوام شرق»بخش 12 - حرفی چند با امت عربیه

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

تصاویر

◆

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00