صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »مثنوی پس چه باید کرد ای اقوام شرق
  3. »بخش 10 - اشکی چند بر افتراق هندیان

بخش 10 - اشکی چند بر افتراق هندیان

ہندوستانیوں کے باہمی تفرقہ پر چند آنسو

Lament On The Differences Among Indians

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: مخدوم حسان، حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، بشیر احمد
صداکار: مخدوم حسان لاهوری
بند 1
Toggle stanza 1
11
ای هماله ! ای اطک ، ای رود گنگ
زیستن تا کی چنان بی آب و رنگ

اے ہمالہ! اے اٹک! اے دریائے گنگا! —

یہ بے رونق زندگی کب تک؟

O Himalayas! O Attock! O River Ganges! —

How long shall we go on living sordidly like this?

22
پیر مردان از فراست بی نصیب
نوجوانان از محبت بی نصیب

بزرگوں میں فراست نہیں —

نوجوان محبت سے خالی ہیں۔

Old men are devoid of insight —

Young ones are deprived of love.

33
شرق و غرب آزاد و ما نخچیر غیر
خشت ما سرمایهٔ تعمیر غیر

مشرق و مغرب آزاد ہیں مگر ہم غیروں کے غلام ہیں —

ہماری اینٹیں غیروں کی تعمیر میں صرف ہو رہی ہیں۔

East and West are free, but we are slaves of others —

Our bricks go to the building of others’ mansions.

44
زندگانی بر مراد دیگران
جاودان مرگست ، نی خواب گران

دوسروں کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنا —

خواب گراں نہیں بلکہ مرگ جاوداں ہے۔

To live according to the wish of others —

Is not deep slumber, it is eternal death.

55
نیست این مرگی که آید ز آسمان
تخم او می بالد ز اعماق جان

یہ وہ موت نہیں جو آسمان سے نازل ہوتی ہے —

بلکہ اس موت کا بیج روح کی گہرائیوں سے پھوٹتا ہے۔

This is not a death that comes from the sky —

Its seed grows out of the depths of one’s soul.

66
صید او نی مرده شو خواهد نه گور
نی هجوم دوستان از نزد و دور

اس موت کے شکار کو نہ غسال کی ضرورت ہے، نہ قبر کی —

اور نہ احباب تعزیت کے لیے نزدیک و دور سے آتے ہیں۔

Its prey seeks neither washer of the dead nor grave —

Nor friends arriving for condolence from near or far.

77
جامهٔ کس در غم او چاک نیست
دوزخ او آنسوی افلاک نیست

اس مردے کے غم میں کوئی کپڑے نہیں پھاڑتا —

اس کی دوزخ آسمانوں کے دوسری جانب نہیں (بلکہ یہیں ہے)۔

No garment is torn in grief for such a death —

His hell is not beyond the skies, it is here.

88
در هجوم روز حشر او را مجو
هست در امروز او فردای او

اسے روز محشر کے ہجوم میں نہ تلاش کر —

اس کا کل (قیامت) اس کے آج ہی میں موجود ہے۔

Do not seek him in the crowd of the Day of Reckoning —

His tomorrow already dwells inside his today.

99
هر که اینجا دانه کشت اینجا درود
پیش حق آن بنده را بردن چه سود

جس نے (اپنے اعمال کا) دانہ یہاں بو کر یہیں فصل کاٹ لی —

ایسے بندے کو اللہ تعالیٰ کے سامنے لے جانے کی کیا ضرورت؟

Whoever sows here and reaps here as well —

What use to bring that man before God?

1010
امتی کز آرزو نیشی نخورد
نقش او را فطرت از گیتی سترد

جس قوم نے آرزو کا زخم نہ کھایا —

اس کے نقش کو فطرت نے زمانے (کی تختی) سے مٹا دیا۔

A nation that never tasted the prodding of desire —

Is wiped off the face of the earth by Nature.

1111
اعتبار تخت و تاج از ساحری است
سخت چون سنگ این زجاج از ساحریست

تخت و تاج کا بھرم جادوگری سے ہے —

اسی سے یہ شیشہ پتھر کی طرح سخت نظر آتا ہے۔

By sorcery, the throne and crown acquire authority —

By sorcery, glass appears as hard as stone.

1212
در گذشت از حکم این سحر مبین
کافری از کفر ، دینداری ز دین

اسی کھلے جادو کے حکم سے —

کافری نے کفر اور دینداری نے دین چھوڑ دیا۔

Under the influence of this clear enchantment —

Muslims abjured their faith, unbelievers their unbelief.

1313
هندیان با یکدگر آویختند
فتنه های کهنه باز انگیختند

ہندوستانیوں نے ایک دوسرے سے لڑائی جھگڑا شروع کر دیا —

اور اس طرح پرانے فتنوں کو پھر سے ہوا دی۔

The Indians quarrel with one another —

Having revived their old differences.

1414
تا فرنگی قومی از مغرب زمین
ثالث آمد در نزاع کفر و دین

یہاں تک کہ یورپ سے ایک فرنگی قوم —

کفر و دین کی ثالث بن کر آ گئی۔

Until a Frankish nation from the land of the West —

Assumed the role of a mediator between Islam and kufr.

1515
کس نداند جلوهٔ آب از سراب
انقلاب ای انقلاب ای انقلاب

(اب) کوئی شخص سراب اور پانی کے جلوے میں فرق نہیں جانتا —

انقلاب! اے انقلاب! اے انقلاب!

Nobody knows water from mirage —

Revolution, O revolution, O revolution!

بند 2
Toggle stanza 2
1616
ای ترا هر لحظه فکر آب و گل
از حضور حق طلب یک زنده دل

اے وہ شخص جسے ہر لحظہ بدن کی فکر کھائے جا رہی ہے —

تو اللہ تعالیٰ سے ایک دلِ زندہ مانگ۔

O you who are always anxious for material sustenance —

Ask God a living heart.

1717
آشیانش گرچه در آب و گل است
نه فلک سر گشته این یک دل است

دلِ زندہ کا آشیانہ اگرچہ بدن میں ہے —

لیکن نو آسمان اس ایک دلِ زندہ کے گرد گھومتے ہیں۔

Though its nest is in water and clay —

Yet the nine heavens circle this single living heart.

1818
تا نپنداری که از خاک است او
از بلندی های افلاک است او

یہ نہ سمجھ کہ (دلِ زندہ) خاکی بدن سے پیدا ہوتا ہے —

وہ دراصل افلاک کی بلندیوں سے ہے۔

Do not think the living heart belongs to the earth —

It really comes from the highest heavens.

1919
این جهان او را حریم کوی دوست
از قبای لاله گیرد بوی دوست

یہ جہان اس کے لیے محبوب (حق تعالیٰ) کا حریم ہے —

وہ یہاں کے گل لالہ کی قبا سے محبوب کی خوشبو پاتا ہے۔

For it, the world is the sanctuary of the Divine Friend —

From the tulip's robe, it gathers the Friend's fragrance.

2020
هر نفس با روزگار اندر ستیز
سنگ ره از ضربت او ریز ریز

ایسا دل ہر لحظہ زمانے سے نبرد آزما رہتا ہے —

اس کی ضرب سے راستے کا پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے۔

The living heart is constantly at war with the world —

The stones on the path are broken to pieces by its strokes.

2121
آشنای منبر و دار است او
آتش خود را نگهدار است او

وہ منبر و دار کا آشنا ہے —

وہ اپنی آتش (عشق) کو سنبھال کر رکھتا ہے۔

It is familiar with the pulpit and the gibbet —

And keeps a strict watch over its own fire.

2222
آب جوی و بحر ها دارد به بر
می دهد موجش ز طوفانی خبر

ہے وہ ندی مگر کئی سمندر اس کے ہمراہ ہوتے ہیں —

اس کی موج آنے والے طوفان کی خبر دیتی ہے (وہ انقلاب پیدا کرتا ہے)۔

It is a stream, yet it carries seas in its embrace —

Its wave brings news of storms to come.

2323
زنده و پاینده بی نان تنور
میرد آن ساعت که گردد بی حضور

وہ دل ظاہری خوراک کے بغیر ہی زندہ و پائندہ ہے —

ہاں اس کی موت اس وقت واقع ہوتی ہے جب وہ حضور سے محروم ہو جاتا ہے۔

Alive and everlasting, needing no baked bread —

It dies the moment when Divine Presence fades away.

2424
چون چراغ اندر شبستان بدن
روشن از وی خلوت و هم انجمن

ایسا زندہ دل، شبستانِ بدن میں چراغ کی مانند ہے —

وہ خلوت و انجمن کو روشن کر دیتا ہے۔

Like a bright lamp within the body's dark alcove —

It lends its light to both the gathering and solitude.

2525
اینچنین دل ، خود نگر ، الله مست
جز به درویشی نمی آید بدست

اس قسم کا خود نگر اور خدا مست دل —

درویشی کے بغیر ہاتھ نہیں آتا۔

Such a heart, ever watchful of itself and God-intoxicated —

Is not achieved except through Faqr.

2626
ای جوان دامان او محکم بگیر
در غلامی زاده ئی آزاد میر

اے جوان! ایسے صاحب دل کا دامن مضبوطی سے تھام لے —

اور غلامی میں پیدا ہونے کے باوجود آزادی کی موت پا لے۔

O youth! grasp firmly the skirt of one who bears such a heart —

And though born in servitude, depart as one who is free.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

نکته ها از پیر روم آموختم

خویش را در حرف او واسوختم

علامہ اقبال»مثنوی پس چه باید کرد ای اقوام شرق»بخش 9 - در اسرار شریعت

اگلی نظم

می کند بند غلامان سخت تر

حریت می خواند او را بی بصر

علامہ اقبال»مثنوی پس چه باید کرد ای اقوام شرق»بخش 11 - سیاسیات حاضره

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

تصاویر

◆

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00