صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »مثنوی پس چه باید کرد ای اقوام شرق
  3. »بخش 12 - حرفی چند با امت عربیه

بخش 12 - حرفی چند با امت عربیه

عرب قوم سے چند باتیں

A Few Words With Arab Nation

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: مخدوم حسان، حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، بشیر احمد
صداکار: مخدوم حسان لاهوری
بند 1
Toggle stanza 1
11
ای در و دشت تو باقی تا ابد
نعره «لا قیصر و کسری» که زد؟

اے کہ تیرے در و دشت ابد تک باقی رہیں —

وہ کون تھا جس نے "نہ قیصر نہ کسریٰ" کا نعرہ بلند کیا؟

O you whose valleys and deserts shall remain forever —

Who struck the cry, "Neither Caesar nor Khosrow"?

22
در جهان نزد و دور و دیر و زود
اولین خوانندهٔ قرآن که بود؟

زمان و مکاں کی اس دنیا میں —

سب سے پہلے قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے کون تھے؟

In this world of time and space —

Who were the first to recite the Holy Quran?

33
رمز الا الله که را آموختند؟
این چراغ اول کجا افروختند؟

"الا اللہ" کی رمز کسے سکھائی گئی تھی؟

یہ چراغ پہلے پہل کہاں روشن کیا گیا تھا؟

To whom was the secret of "La ilaha" taught?

Where was this lamp first lit?

44
علم و حکمت ریزه ئی از خوان کیست؟
آیه «فاصبحتم» اندر شأن کیست؟

یہ علم و حکمت کس کے دسترخوان کا بچا ہوا ٹکڑا ہے؟

آیتِ "فاصبحتم" (پس تم بھائی بھائی ہو گئے) کس کی شان میں ہے؟

From whose table are these scraps of knowledge and wisdom?

In whose honor was the verse "So you became brothers" revealed?

55
از دم سیراب آن امی لقب
لاله رست از ریگ صحرای عرب

اُس امی لقب ذات گرامی ﷺ کی زندگی بخش پھونک سے —

عرب کے صحرا کی ریت میں گل لالہ کھل اٹھے۔

From the life-bestowing breath of that Unlettered Prophet (pbuh) —

Tulips bloomed in the sands of the Arab desert.

66
حریت پروردهٔ آغوش اوست
یعنی امروز امم از دوش اوست

حریت نے اسی عالی مقام ہستی کی آغوش میں پرورش پائی —

اقوام کا آج، آنجناب ﷺ کے دور گزشتہ کا مرہون منت ہے۔

Freedom was nurtured in the lap of that Exalted Being (pbuh) —

The present of nations is indebted to his past era.

77
او دلی در پیکر آدم نهاد
او نقاب از طلعت آدم گشاد

آپ ﷺ نے آدم کے جسد میں دل رکھا —

آپ ﷺ نے آدم کے روشن چہرے سے نقاب اٹھائی۔

He placed a heart within the body of Adam —

He lifted the veil from Adam's radiant face.

88
هر خداوند کهن را او شکست
هر کهن شاخ از نم او غنچه بست

آپ ﷺ نے ہر پرانا بت توڑ ڈالا —

اور ہر پرانی شاخ سے آپ ﷺ ہی کے نم سے کلیاں پھوٹ نکلیں۔

He shattered every ancient idol —

And from every old branch, buds blossomed through his moisture alone.

99
گرمی هنگامهٔ بدر و حنین
حیدر و صدیق و فاروق و حسین

بدر اور حنین کے معرکوں کی گرمی ہو —

یا حیدرِ کرارؓ، ابوبکرِ صدیقؓ، عمرِ فاروقؓ یا امام حسینؓ (یہ سب آپ ﷺ ہی کے فیوض ہیں)۔

The heat of the tumult of Badr and Hunayn —

(The advent of) Haider, Siddiq, Farooq, and Hussain.

1010
سطوت بانگ صلوت اندر نبرد
قرأت «الصافات» اندر نبرد

میدان کارزار میں بانگِ نماز کی ہیبت و سطوت ہو —

یا جنگ کے دوران سورہ الصّافّات کی قرأت۔

Whether the awe and majesty of the call to prayer on the battlefield —

Or the recitation of Surah As-Saffat during war.

1111
تیغ ایوبی نگاه بایزید
گنجهای هر دو عالم را کلید

ایوبی تلوار ہو یا بایزید کی نگاہ —

جو دونوں جہانوں کے خزانوں کی کنجیاں ہیں۔

Whether the Ayyubi sword or the gaze of Bayazid —

These are the keys to the treasures of two worlds.

1212
عقل و دل را مستی از یک جام می
اختلاط ذکر و فکر روم و ری

شراب کے ایک جام سے عقل و دل دونوں کو سرمست کر دینا —

مولانا روم کے ذکر اور امام رازی کی فکر کا اختلاط۔

To intoxicate both intellect and heart with a single cup of wine —

A blend of Rumi's remembrance and Razi's thought.

1313
علم و حکمت شرع و دین، نظم امور
اندرون سینه دلها ناصبور

نیز علم و حکمت، شرع و دین ، معاملات کا انتظام —

اور سینے کے اندر دلوں کی بے قراری۔

Also knowledge and wisdom, Sharia and faith, the administration of affairs —

And the restlessness of hearts within the breast.

1414
حسن عالم سوز الحمرا و تاج
آنکه از قدوسیان گیرد خراج

الحمرا اور تاج محل کی عالم سوز خوبصورتی —

جو فرشتوں سے بھی خراج (تحسین) وصول کرتی ہو۔

The world-consuming beauty of Alhambra and the Taj Mahal —

Which receives tribute even from the angels.

1515
این همه یک لحظه از اوقات اوست
یک تجلی از تجلیات اوست

یہ سب کچھ حضور ﷺ کے اوقات میں سے ایک لمحہ —

اور آپ ﷺ کی تجلّیات میں سے ایک تجلّی ہے۔

All this is but a single moment from the times of the Prophet (pbuh) —

And but one ray from his manifestations.

1616
ظاهرش این جلوه های دلفروز
باطنش از عارفان پنهان هنوز

حضور ﷺ کا ظاہر تو ان دلفروز جلووں کی صورت میں نمایاں ہے —

جبکہ آپ ﷺ کا باطن ابھی عارفوں سے بھی مخفی ہے۔

His exterior implies these heart-kindling splendors —

His interior remains hidden even from the gnostics.

1717
«حمد بیحد مر رسول پاک را
آنکه ایمان داد مشت خاک را»

رسول اللہ ﷺ بیحد تعریف و ستائش کے مستحق ہیں —

جن کی ذات گرامی نے مشت خاک کو ایمان کی دولت سے نوازا۔

Boundless praise be to the Pure Prophet (pbuh) —

He who granted faith to a handful of dust.

بند 2
Toggle stanza 2
1818
حق ترا بران تر از شمشیر کرد
ساربان را راکب تقدیر کرد

(اے قومِ عرب!) خدا نے تجھے تلوار سے بھی زیادہ کاٹ دار بنایا —

اس نے اونٹ چلانے والوں کو تقدیر کا سوار بنادیا۔

(O Arab Nation!) God made you sharper than a sword —

He made the camel-drivers the riders of destiny.

1919
بانگ تکبیر و صلوت و حرب و ضرب
اندر آن غوغا گشاد شرق و غرب

نعرہ تکبیر اور نماز اور جہاد و قتال —

اسی شور و غوغا سے مشرق و مغرب کے معاملات سلجھے۔

The cry of Takbir, prayer, jihad, and combat —

Through this very tumult, the affairs of East and West were resolved.

2020
ایخوش آن مجذوبی و دل بردگی
آه زین دلگیری و افسردگی

کیا مبارک تھی تمہاری وہ مجذوبی اور دلبری —

اور کتنی افسوس ناک ہے تمہاری یہ افسردگی اور دلگیری۔

How blessed was your dedication and selfless devotion then —

And how tragic is your present gloom and melancholy.

2121
کار خود را امتان بردند پیش
تو ندانی قیمت صحرای خویش

دوسری اقوام نے اپنے کام کو آگے بڑھالیا —

اور تمہیں اپنے صحرا کی قیمت ہی کی خبر نہیں ہے۔

Other nations carried their work forward —

You did not know the worth of your own desert.

2222
امتی بودی امم گردیده ئی
بزم خود را خود ز هم پاشیده ئی

تم ایک امت تھے، مگر اب مختلف قومیتوں میں منقسم ہو گئے —

اور اس طرح اپنی جماعت کو خود ہی منتشر کر کے رکھ دیا۔

You were once a single nation, now divided into many —

You have broken up your society yourself.

2323
هر که از بند خودی وارست، مرد
هر که با بیگانگان پیوست، مرد

جو کوئی بھی خودی کا بند توڑ کر نکل گیا، موت سے ہمکنار ہوا —

جو کوئی غیروں سے مل گیا، اپنی شناخت کھو بیٹھا۔

Whoever broke the bond of the Khudi, embraced death —

Whoever merged with strangers, lost his own identity.

2424
آنچه تو با خویش کردی کس نکرد
روح پاک مصطفی آمد بدرد

جو کچھ تم نے اپنے آپ کے ساتھ کیا وہ کسی نے نہیں کیا —

تمہارے اس طرز عمل نے رسول اللہ ﷺ کی پاک روح کو بھی تکلیف میں مبتلا کردیا۔

What you have done to yourselves, no one else has done —

Your conduct has pained the pure soul of the Chosen One (pbuh).

2525
ای ز افسون فرنگی بی خبر
فتنه ها در آستین او نگر

(اے عرب قوم!) تم جو فرنگی کے سحر سے بے خبر ہو —

اس کی آستین کے اندر پوشیدہ فتنوں کو دیکھنے کی کوشش کرو۔

(O Arab Nation!) You who are unaware of the Frankish magic —

Try to see the mischief hidden up his sleeve.

2626
از فریب او اگر خواهی امان
اشترانش را ز حوض خود بران

اگر تم اس کے فریب سے بچنا چاہتے ہو —

تو اپنے حوض سے اس کے اونٹوں کو دور بھگا دو۔

If you wish to escape his deception —

Drive his camels away from your ponds.

2727
حکمتش هر قوم را بیچاره کرد
وحدت اعرابیان صد پاره کرد

اس کی تدبیر اور چالوں نے ہر قوم کو لاچار کر کے رکھ دیا —

اسی نے عربوں کی وحدت کو سو ٹکڑوں میں منقسم کر دیا۔

His schemes and tricks have rendered every nation helpless —

He has divided the unity of the Arabs into a hundred pieces.

2828
تا عرب در حلقهٔ دامش فتاد
آسمان یک دم امان او را نداد

جب سے عرب اس (فرنگی) کے حلقہ دام میں گرفتار ہوئے —

آسمان نے انہیں ایک لمحہ کے لیے بھی چین سے بیٹھنے نہیں دیا۔

Ever since the Arab was caught in his snare —

The sky has not allowed them to sit in peace for a single moment.

2929
عصر خود را بنگر ای صاحب نظر
در بدن باز آفرین روح عمر

اے صاحب نظر! اپنے دور پر نظر کر اور سمجھ!

اپنے بدن میں پھر سے روح عمرؓ پیدا کر!

O possessor of insight! Look at your era and understand!

Create the spirit of Umar once again within your body!

3030
قوت از جمعیت دین مبین
دین همه عزم است و اخلاص و یقین

قوت، دین مبین کی جمعیت ہی سے حاصل ہوتی ہے —

دین سراسر عزم اور اخلاص و یقیں پر مبنی ہے۔

Power lies in the unity of the true religion —

Religion is strong will, sincerity and faith.

3131
تا ضمیرش رازدان فطرت است
مرد صحرا پاسبان فطرت است

چونکہ مرد صحرا کا ضمیر فطرت کا رازداں ہے —

اس لیے وہ فطرت کا پاسباں ہے۔

As his heart knows the secrets of Nature —

The man of the desert is the guardian of Nature.

3232
ساده و طبعش عیار زشت و خوب
از طلوعش صد هزار انجم غروب

اگرچہ وہ سادہ مزاج ہے مگر اس کی طبیعت نیکی اور بدی کی کسوٹی ہے —

(آفتاب کی مانند) اس کے طلوع ہونے سے ہزاروں انجم غروب ہو جاتے ہیں۔

He is simple, his nature is the touchstone of right and wrong —

His rise means setting of a hundred thousand stars.

3333
بگذر از دشت و در و کوه و دمن
خیمه را اندر وجود خویش زن

دشت و در اور کوہ و وادی سے گزر جا —

اور اپنے وجود کے اندر خیمہ لگا۔

Pass beyond the deserts, the valleys, the mountains and meadows —

And pitch your tent within your own being.

3434
طبع از باد بیابان کرده تیز
ناقه را سر ده به میدان ستیز

طبیعت میں بیاباں کی ہوا سے تیزی پیدا کر کے —

اونٹنی کو میدان جنگ میں ڈال دے۔

Creating sharpness in your nature from the desert wind —

Cast the dromedary into the battlefield.

3535
عصر حاضر زادهٔ ایام تست
مستی او از می گلفام تست

جدید دور تیرے ایام (گزشتہ) سے پیدا ہوا ہے —

اس کے (علوم جدید) کی مستی تیری ہی سرخ شراب کی وجہ سے ہے۔

The modern age is born from your past days —

The intoxication of its new sciences is due to your red wine.

3636
شارح اسرار او تو بوده ئی
اولین معمار او تو بوده ئی

اس کے بھیدوں کی تشریح کرنے والا تو ہی تھا —

تو نے ہی پہلے پہل (ان علوم) کی عمارت تعمیر کی تھی۔

You were the one who interpreted its secrets —

You were the first to construct the building of these sciences.

3737
تا به فرزندی گرفت او را فرنگ
شاهدی گردید بی ناموس و ننگ

لیکن جب سے ان (علوم) کو فرنگ نے اپنی فرزندی میں لیا —

(گویا) یہ ننگ و ناموس سے عاری (ایک حسینہ) بن گئے۔

But since the West took these sciences into its adoption —

They became like a beauty devoid of honor and shame.

3838
گرچه شیرین است و نوشین است او
کج خرام و شوخ و بی دین است او

(وہ حسینہ) اگرچہ بہت شیریں اور شہد کی سی مٹھاس والی ہے —

مگر کج خرام، گستاخ اور بے دین ہے۔

Although she is very sweet and luscious —

But she walks crookedly, is insolent, and without faith.

3939
مرد صحرا! پخته تر کن خام را
بر عیار خود بزن ایام را

اے صحرا نشین! اس خام کو پختہ تر کر —

اور موجودہ دور کو اپنے معیار کے مطابق لا۔

O dweller of the desert! Make what is unripe mature —

And refashion the world according to your touchstone.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

می کند بند غلامان سخت تر

حریت می خواند او را بی بصر

علامہ اقبال»مثنوی پس چه باید کرد ای اقوام شرق»بخش 11 - سیاسیات حاضره

اگلی نظم

آدمیت زار نالید از فرنگ

زندگی هنگامه برچید از فرنگ

علامہ اقبال»مثنوی پس چه باید کرد ای اقوام شرق»بخش 13 - پس چه باید کرد ای اقوام شرق

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

تصاویر

◆

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00