اقوام سرحد سے خطاب
Address to people of the Frontier
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
ای ز خود پوشیده خود را بازیاب
در مسلمانی حرامست این حجاب
اے وہ شخص تو جو اپنی ذات ہی سے ناواقف اور چھپا ہوا ہے ، اپنے آپ کو دوبارہ پا لےمسلمانی میں ایسا پردہ حرام ہے ۔
O you who are hidden to your own self, discover yourself. In the Islamic Faith concealment is taboo.
رمز دین مصطفی دانی که چیست
فاش دیدن خویش را شاهنشی است
کیا تو جانتا ہے کہ سرور کونین کے دین کا کیا بھید ہے ۔ وہ یہ کہ اپنے آپ کو آشکارا دیکھنا بادشاہی ہے ۔
Know you the secret of the Prophet’s Deen? Seeing one’s self explicitly is being right royal.
چیست دین؟ دریافتن اسرار خویش
زندگی مرگ است بی دیدار خویش
دین کیا ہے اپنے بھیدوں کو پا لینا ۔ اپنے دیدار کے بغیر زندگی موت ہے ۔
What is the Deen? Finding out your self’s secrets. Life is sheer death without beholding your self.
آن مسلمانی که بیند خویش را
از جهانی برگزیند خویش را
وہ مسلمان جو اپنے آپ کو دیکھ لیتا ہے وہ اپنے آپکو اس دنیا میں برگزیدہ بنا لیتا ہے(سارے جہان سے برتر ہے) ۔
That Muslim who keens his self selects himself only out of the whole world.
از ضمیر کائنات آگاه اوست
تیغ لا موجود «الا الله» اوست
وہ کائنات کے باطن سے واقف ہوتا ہے وہ لا موجود الا اللہ کی تلوار ہے ۔
He knows the very nature of the universe. He is the sword yclept: There is naught Existent except God.
در مکان و لامکان غوغای او
نُه سپهر آواره در پهنای او
مکاں اور لامکاں میں اس کا چرچا ہوتا ہے اور نو آسمان اس کی وسعت میں کھو جاتے ہیں ۔
Both space and hyper space are full of this tumult; the nine skies are straggling in its expanse.
تا دلش سری ز اسرار خداست
حیف اگر از خویشتن ناآشناست
چونکہ اس کا دل خدا کے بھیدوں میں سے ایک بھید ہے اس لیے ایسے مسلمان پر افسوس ہے اگر وہ اپنی ذات سے نا آشنا ہو ۔
So long as his heart is a secret out of the secrets of God, alack if he sees not his own self!
بندهٔ حق وارث پیغمبران
او نگنجد در جهان دیگران
بندہ حق پیغمبروں کا وارث ہے ۔ وہ دوسروں کی دنیا میں نہیں سماتا (وہ اپنا جہان خود پیدا کرتا ہے) ۔
The votary of God is heir to prophets, he is not contained in the world of objects.
تا جهانی دیگری پیدا کند
این جهان کهنه را برهم زند
تاکہ وہ ایک نئی دنیا پیدا کرے اور اس قدیم دنیا کو درہم برہم کر کے رکھ دے ۔
In order that he should create another world, he shatters this old, weather beaten one.
زنده مرد از غیر حق دارد فراغ
از خودی اندر وجود او چراغ
خدا کا خاص بندہ اللہ کے سوا باقی تمام کائنات سے خود کو دور رکھتا ہے ۔ اس کے باوجود اس کے اندر خودی کا چراغ روشن ہوتا ہے ۔
A live person is free from fealty to others than God, There is a lamp lighted in him by the ego.
پای او محکم به رزم خیر و شر
ذکر او شمشیر و فکر او سپر
نیکی اوربدی کی جنگ میں وہ بڑا ثابت قدم رہتا ہے ۔ اس کا ذکر و ورد اس کی تلوار ہے اور اس کی فکر اس کے لیے ڈھال ہے ۔
His foot is firm in the srife between good and bad; his remembrance of God is the scimitar and his contemplation the shield.
صبحش از بانگی که برخیزد ز جان
نی ز نور آفتاب خاوران
اس کی صبح کا آغاز اس اذان سے ہوتا ہے جو اس کی روح کے اندر سے پیدا ہوتی ہے ۔ اس سورج کی روشنی سے صبح طلوع نہیں ہوتی جو مشرق سے نکلتا ہے ۔
His morning is by a call which arises from the depth of his soul, not by the light of the orient sun.
فطرت او بی جهات اندر جهات
او حریم و در طوافش کائنات
اس کی فطرت جہات میں رہتے ہوئے بھی جہات سے آزاد ہوتی ہے ۔ وہ حریم ہے جس کے گرد کائنات چکر کاٹتی ہے کائنات اس کے طواف کرتی ہے ۔
His nature is sans directions in the midst of dimensions; his is the sanctuary round which the world revolves;
ذرهای از گرد راهش آفتاب
شاهد آمد بر عروج او کتاب
اس کے راستے کے غبار کا ایک ذرہ بھی سورج کے برابر ہے ۔ اس کے عروج پر کتاب اللہ گواہ ہے ۔
A particle from his path is the sun; the Book bears testimony to his lofty status.
فطرت او را گشاد از ملت است
چشم او روشن سواد از ملت است
اس کی فطرت کو ملت ہی سے وسعت حاصل ہوتی ہے ۔ اس کی آنکھ کی روشنی ملت ہی سے بڑھتی ہے ۔
His nature finds exposition by the millat making his eye bright therewith. His eye is lustrous by this corporate body.
اندکی گم شو به قرآن و خبر
باز ای نادان به خویش اندر نگر
کچھ دیر کے لیے قرآن اور حدیث کے اندر گم ہو جا ۔ پھر اے نادان اپنی ذات میں بغور جھانک، اپنی طرف نگاہ ڈال ۔
Be lost a bit in the Quran and Traditions, O ignorant one! Then plunge into your own covert self.
در جهان آوارهای بیچارهای
وحدتی گم کردهای صد پارهای
تو دنیا میں آوار اور بیچارہ ہے ۔ اپنی وحدت گم کر کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گیاہے ۔
Lost you are in the world bewildered and confounded, Losing your unity you are blown into bits.
بند غیر الله اندر پای تست
داغم از داغی که در سیمای تست
تیرے پاؤں میں غیر اللہ کی بیڑیاں پڑی ہیں ۔ تیری پیشانی پر غیر اللہ کی غلامی کا جو داغ ہے اس سے میرا دل داغ داغ ہے ۔
The manacle of “other than God” binds your feet. Alas, this mark of bondage on your forehead!
میر خیل! از مکر پنهانی بترس
از ضیاع روح افغانی بترس
اے قوم کے سردار تو اس بات سے ڈر کہ کس روح افغانی جاتی نہ رہے ۔
Leader of the people, be afraid of this inner mischief; be afraid of the deterioration of the Afghan spirit.
ز آتش مردان حق میسوزمت
نکتهای از پیر روم آموزمت
میں تجھے مردان حق کی آگ میں گرماتا ہوں ۔ میں تجھے پیر روم کا ایک نقطہ بیان کرتا ہوں ۔
Let me kindle you with the fire of godly folk teaching you by the precept of the master saint Rumi.
«رزق از حق جو، مجو از زید و عَمر
مستی از حق جو، مجو از بنگ و خَمر
رزق خدا سے مانگ ایرے غیرے سے نہ مانگ ۔ مستی خدا سے مانگ بھنگ اور شراب سے نہ مانگ ۔
“Seek livelihood from the Lord, not this and that, seek stimulation from Him, not from hemlock and wine.
گل مخر گل را مخور گل را مجو
زانکه گِلخوار است دائم زرد رو
مٹی مت خرید، مٹی مت کھا ۔ مٹی مت تلاش کر ۔ کیونکہ مٹی کھانے والے کا چہرہ ہمیشہ ہی زرد رہتا ہے (اس کا طلب گاہ ہمیشہ ذلیل رہتا ہے ) ۔
Seek not mud, eat it not and seek it not; for the mire is foul and always pale in hue.
دل بجو تا جاودان باشی جوان
از تجلی چهرهات چون ارغوان
دل تلاش کر تا کہ تو ہمیشہ جوان رہے ۔ حق تعالیٰ کی تجلی سے تیرا چہرہ ارغوان کی طرح سرخ رہے گا ۔
Seek the heart so that you always remain young, your face crimson with refulgence divine.
بنده باش و بر زمین رو چون سمند
چون جنازه نی که بر گردن برند»
حق تعالیٰ کا بندہ بن ۔ اور زمین پر گھوڑے کی طرح چل ۔ جنازے کی طرح نہ بن کہ لوگ تجھے اپنی گردن پر اٹھائے پھریں ۔
Be a man and move about the earth like a steed, not like a dead corpse carried on the shoulders.”
شِکوه کم کن از سپهر لاجورد
جز به گرد آفتاب خود مگرد
نیلے آسمان کی گردش کا شکوہ مت کر ۔ اپنے آفتاب کے علاوہ کسی اور آفتاب کے گرد چکر نہ لگا ۔
Complain little of the cerulean sky, revolve not round anything except your sun.
از مقام ذوق و شوق آگاه شو
ذرهای؟ صیاد مهر و ماه شو
ذوق و شوق کے مقام سے آگاہی حاصل کر ۔ ذرہ ہے تو سورج اور چاند کا شکاری بن ۔
Become aware of the lofty station of spiritual ardour. If a mere mote, become the hunter of the sun and moon.
عالم موجود را اندازه کن
در جهان خود را بلند آوازه کن
اس مادی دنیا کا جائزہ لے ۔ دنیا میں خود کو بلند آوازہ کر، اہمیت قائم کر ۔
Take measure of the present world and raise aloft your voice therein.
برگ و ساز کائنات از وحدتست
اندرین عالم، حیات از وحدت است
توحید ہی کائنات کی متاع ہے ۔ اسی سے جہان میں زندگی ہے ۔
The coherence of this world is by unity alone, life herein means unity in this subterranean world.
درگذر از رنگ و بوهای کهن
پاک شو از آرزوهای کهن
پرانے ر نگ و بو کو چھوڑ ۔ فرسودہ آرزووں سے پاک ہو جا صرف اللہ تعالیٰ ہی کی آرزو رکھ ۔
Leave off these scents and hues old, purge yourself of antiquated aspirations.
این کهن سامان نیرزد با دو جو
نقشبند آرزوی تازه شو
اس پرانے ساز و سامان کی قیمت تو دو جوکے برابر بھی نہیں ۔ تو نئی آرزووں کا نقاش بن
All this stuff is not worth even a barley grain. Devise anew live aspiration,
زندگی بر آرزو دارد اساس
خویش را از آرزوی خود شناس
زندگی کی بنیاد آرزو پر ہے ۔ اپنے آپ کو اپنی آرزو سے پہچان ۔
for life has its base therein Develop your identity by this aspiratin of yours.
چشم و گوش و هوش، تیز از آرزو
مشت خاکی لاله خیز از آرزو
آنکھ اور سماعت اور عقل میں تیز ی آرزو سے آتی ہے ۔ مٹھی بھر خاک آرزو سے لالہ اگانے والی بنتی ہے ۔
The eye, ears and senses are all sharpened by it. A pinch of dust gives rise to tulips thereby.
هر که تخم آرزو در دل نکِشت
پایمال دیگران چون سنگ و خشت
جس کسی نے آرزو کا بیج دل میں نہ بویا وہ پتھر اور اینٹ کی طرح دوسروں کے قدموں تلے روندا جاتا ہے ۔
He who does not sow the seed of aspiration in his heart becomes downtrodden by others like rocks and stones.
آرزو سرمایهٔ سلطان و میر
آرزو جام جهان بین فقیر
آرزو بادشاہ اور امیر کی دولت ہے ۔ آرزو درویش کا وہ جام ہے جس میں سے دنیا نظر آتی ہے ۔
Aspiration is the wherewithal of kings and lords; it is the discerning cup of a mendicant.
آب و گل را آرزو آدم کند
آرزو ما را ز خود محرم کند
آرزو ہی پانی اور مٹی کو آدم کی صورت بناتی ہے ۔ آرزو ہمیں اپنے آپ سے آگاہ کرتی ہے ۔
It is this turns water and clay—the physical self—into a human being. It is that which acquaints us with ourselves.
چون شرر از خاک ما برمیجهد
ذره را پهنای گردون میدهد
جب ہماری خاک سے چنگاری پھوٹتی ہے تو وہ ذرے کو آسمان کی وسعت دے دیتی ہے ۔
When a spark leaps up from our body’s dust, it grants a mote the vast expanse of the sky.
پور آزر کعبه را تعمیر کرد
از نگاهی خاک را اکسیر کرد
آزر کے بیٹے (خلیل اللہ ) نے کعبہ تعمیر کیا ۔ اور ایک نگاہ سے خاک کو اکسیر بنا دیا ۔
The son of Azar, Abraham, constructed the Ka‘bah, thereby converting the earth to alchemy with just a glance.
تو خودی اندر بدن تعمیر کن
مشت خاک خویش را اکسیر کن
تو بدن میں خودی کی تعمیر کر ۔ اپنی خاک کی مٹھی کو اکسیر بنا ۔
You too build a self in your corporeal frame and convert a pinch of dust of your self into alchemy.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور