صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »مثنوی مسافر
  3. »نادر افغان شه درویش خو

نادر افغان شه درویش خو

افغانستان کا بادشاہ نادر شاہ ایک درویش صفت انسان تھا

Nadir, the Afghan monarch, meek in the spirit like a dervish

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: بشیر احمد
بند 1
Toggle stanza 1
1

نادر افغان شه درویش خو

رحمت حق بر روان پاک او

افغانستان کے بادشاہ نادر شاہ ایک درویش صفت انسان تھا، اس کی پاک روح پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے ۔

Nadir, the Afghan monarch, meek in the spirit like a dervish, blessings of God on his noble soul;

2

کار ملت محکم از تدبیر او

حافظ دین مبین شمشیر او

اس کی تدبیر سے امت مسلمہ کے معاملات کو استحکام حاصل ہوا اور اس کی تلوار نے دین مبین کی حفاظت کی ۔

affairs of the nation sound by his sagacity, his sword protector of the luminous Faith;

3

چون ابوذر خودگداز اندر نماز

ضربتش هنگام کین خارا گذار

وہ نماز میں حضرت ابوذر غفاری کی طرح خود کو پگھلا دینے والے تھے اور کفار سے لڑائی کے موقع پر ان کا وار سخت پتھر کو بھی ختم کر کے رکھ دیتا تھا ۔

like Abu Dhar melting himself in prayer, his blow in fight shattering rocks.

4

عهد صدیق از جمالش تازه شد

عهد فاروق از جلالش تازه شد

ان کے جمال سے حضرت ابوبکر صدیق کے عہد کی یاد تازہ ہوئی ۔ اور ان کے جلال سے عہد فاروق کی ۔

The time of Siddiq was renewed by his grace. the days of Farooq made afresh by his glory.

5

از غم دین در دلش چون لاله داغ

در شب خاور وجود او چراغ

ان کے دل میں گل لالہ کی طرح اسلام سے محبت کا داغ موجود تھا ۔ عالم مشرق کی تاریک رات دن میں اس کا وجود آزادی کے چراغ کی حیثیت رکھتا ہے ۔

Bearer of anguish for the Faith like a tulip, in the night of the East his person a lamp;

6

در نگاهش مستی ارباب ذوق

جوهر جانش سراپا جذب و شوق

ان کی نگاہوں میں ارباب ذوق کی سی مستی تھی ۔ جذب و شوق ان کی جان کا جوہر تھا ۔

in his sight the ecstasy of inspired men, the essence of his life charged with fervour.

7

خسروی شمشیر و درویشی نگه

هر دو گوهر از محیط لااله

ان کی تلوار تو شاہانہ ہے لیکن نگاہ درویشانہ تھی ۔ یہ دونوں موتی انہیں لا الہ کے سمندر سے ملے تھے ۔

Kingship, a sword, and dervish hood, the inner sight, both these are pearls from the sea of la Ilah!

8

فقر و شاهی واردات مصطفی است

این تجلی های ذات مصطفی است

فقر اور بادشاہی دونوں پر رسول اللہ ﷺ کی خاص حالت کی غماز ہیں اور یہ حضور کی ذات بابرکات کی تجلیات سے قائم ہیں ۔

Faqr and kingship are twin incidences of the Prophet. these are but effulgences of his charismatic self.

9

این دو قوت از وجود مومن است

این قیام و آن سجود مومن است

یہ دو قوتیں مومن ہی کے وجود سے قائم ہیں ، یہ شاہی مومن کا قیام ہے تو وہ فقر اس کا سجدہ ہے ۔

Both these powers spring from a believer’s self, one is the Qayam and the other prostration.

10

فقر، سوز و درد و داغ و آرزوست

فقر را در خون تپیدن آبروست

فقر سوز و درد اور داغ و آرزو کا نام ہے ۔ اور فقر کے لیے خون میں تڑپنا اسکی آبرو ہے ۔

Faqr is all feeling, pain, scalds and aspiration; its glory lies in rolling in blood,

11

فقر نادر آخر اندر خون تپید

آفرین بر فقر آن مرد شهید

نادر شاہ کا فقر آخر کار خون میں تڑپا ۔ اس شہید مرد کے فقر پر آفرین ہے ۔

Felicitations without end to the faqr of this martyr.

12

ای صبا ای ره نورد تیزگام

در طواف مرقدش نرمک خرام

اے صبا تو تیز چلنے والی مسافر ہے ۔ جب تو اس نادر شاہ کی قبر کے گرد چکر لگائے تو ذرا آہستہ چکر لگانا ۔

O breeze, O traveller with high speed; my winged Hermes, blow softly in going round his grave;

13

شاه در خواب است پا آهسته نه

غنچه را آهسته تر بگشا گره

نادر شاہ سو گیا ہے باد صبا آہستہ پاؤں رکھ اور گلی کی گرہ بھی آہستہ سے کھول ۔

the King is asleep, lay your feet softly, open the knot of the bud even more gently.

14

از حضور او مرا فرمان رسید

آنکه جان تازه در خاکم دمید

ان کی طرف سے مجھے فرمان پہنچا ہے جس نے میرے بدن میں نئی روح پھونک دی ہے ۔

I received a message from his glorious self, which infused new life in me.

بند 2
نادر شاه
Toggle stanza 2
15

سوختیم از گرمی آواز تو

ای خوش آن قومی که داند راز تو

ہم تیری آواز کے سوز سے جل اٹھے ۔ وہ قوم کتنی خوش قسمت ہے جس نے تیرا راز پا لیا ۔

“I was burnt sere O! by your fiery lay, how happy the nation which knows your intent.”

16

از غم تو ملت ما آشناست

می شناسیم این نوا ها از کجاست

تیرے غم سے ہماری قوم (افغان) آگاہ ہے، ہم جانتے ہیں کہ یہ نغمے کہاں سے اٹھ رہے ہیں ۔

Our nation knows well your heart ache, we know from where these notes arise.

17

ای به آغوش سحاب ما چون برق

روشن و تابنده از نور تو شرق

تو ہمارے بادل کی آغوش میں بجلی کی مانند ہے ۔ تیری روشنی سے دنیائے مشرق روشن اور فروزاں ہے ۔

O you like lightning in the lap of our clouds, the East aglow and bright with your light,

18

یک زمان در کوهسار ما درخش

عشق را باز آن تب و تابی ببخش

کچھ عرصہ کے لیے ہماری پہاڑوں کی سرزمین پر بھی چمک، عشق کو دوبارہ پھر وہی ولولہ و شوق عطا کر ۔

Shine awhile on our mountains, grant once again the same burning fever.

19

تا کجا در بندها باشی سیر

تو کلیمی را سینایی بگیر

کب تک تو بیڑیوں میں مقید رہے گا ۔ تو تو کلیم ہے سینا پہاڑ کا راستہ پکڑ ۔

How long will you remain bound in chains? You are a Moses, take to the path of Sinai.”

بند 3
Toggle stanza 3
20

طی نمودم باغ و راغ و دشت و در

چون صبا بگذشتم از کوه و کمر

چنانچہ میں دشت و درہ اور باغ اور مرغزاروں میں سے گزرا ۔ صبا کی طرح میں پہاڑ اور وادیوں کا راستہ طے کیا ۔

I passed over gardens and villas, plains and terrains, barren and dry, stopping over hills and mountains like the breeze.

21

خیبر از مردان حق بیگانه نیست

در دل او صد هزار افسانه ای ست

درہ خیبر اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں سے نا آشنا نہیں ۔ اس کے دل میں لاکھوں ہی افسانے ہیں ۔

Khayhar is not unfamiliar with godly men; Its breast is full of thousand stories.

22

جاده کم دیدم از او پیچیده تر

یاوه گردد در خم و پیچش نظر

میں نے اس سے زیادہ دشوار گزار راستہ نہیں دیکھا ۔ اس کے پیچ و خم میں نظر الجھ کے رہ جاتی ہے ۔

I have seldom seen paths more intricate and criss cross, the sight gets lost in their winding courses.

23

سبزه در دامان کهسارش مجوی

از ضمیرش برنیاید رنگ و بوی

اس کے پہاڑوں کی وادیوں میں سبزہ نہ ڈھونڈ ۔ اس کے ضمیر کے اندر سے رنگ و بو پیدا نہیں ہوتا ۔

Seek not grass in its barren crags, colour and scent arise not from its core.

24

سرزمینی کبک او شاهین مزاج

آهوی او گیرد از شیران خراج

وہ ایک ایسی سرزمین ہے جہاں کا کمزور پرندہ چکور بھی شاہین کا مزاج رکھتا ہے ۔ جبکہ وہاں کا ہرن شیروں سے خراج وصول کرتا ہے ۔

It is a land whose partridges have the temper of a hawk;

25

در فضایش جزه بازان تیز چنگ

لرزه بر تن از نهیبشان پلنگ

اس کی فضا میں تیز پنجوں والے ایسے نر باز ہیں جن کی ہیبت سے چیتے کے جسم پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے ۔

in its clime white fierce falcons with sharp talons, the leopard starts trembling by their fear.

26

لیکن از بی مرکزی آشفته روز

بی نظام و ناتمام و نیم روز

لیکن کوئی مرکز نہ ہونے کی وجہ سے یہ سرزمین انتشار کا شکار ہے ۔ کوئی ان کا نظام نہیں اور نامکمل اور نیم سوز ہے ۔

But on account of lack of centrality, it is in a bad plight. Lacking order, it is imperfect and half baked.

27

فربازان نیست در پرواز شان

از تذروان پست تر پرواز شان

ان کی پرواز میں بازوں کی سی شان نہیں ۔ بلکہ ان کی پرواز چکوروں سے بھی پست تر ہے ۔

No majesty of falcons in its people’s flight, Which is less even than that of pheasants.

28

آه قومی بی تب و تاب حیات

روزگارش بی نصیب از واردات

افسوس ہے ایسی قوم پر جس میں زندگی کا جوش و جذبہ نہ ہو اور جس کے حالت و کیفیت واردات سے خالی ہو ۔

Alas! this nation without the glow of life! Its time is devoid of happenings;

29

آن یکی اندر سجود، این در قیام

کار و بارش چون صلات بی امام

ان میں سے کوئی تو سجدے میں پڑا ہے اور کوئی قیام میں کھڑا ہے ۔ اس قوم کا معاملہ ایسا ہی ہے جیسے بغیر امام کے نماز ہو ۔

one is lying prostrate and the other standing up, its condition is just like a prayer without an imam.

30

ریز ریز از سنگ او مینای او

آه از امروز بی فردای او

◆

اگلی / پچھلی نظم

اگلی نظم

ای ز خود پوشیده خود را بازیاب

در مسلمانی حرامست این حجاب

علامہ اقبال»مثنوی مسافر»بخش 1 - خطاب به اقوام سرحد