صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »مثنوی مسافر
  3. »نادر افغان شه درویش خو

نادر افغان شه درویش خو

افغانستان کا بادشاہ نادر شاہ ایک درویش صفت انسان تھا

Nadir, the Afghan monarch, meek in the spirit like a dervish

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: بشیر احمد
بند 1
Toggle stanza 1
11

نادر افغان شه درویش خو

رحمت حق بر روان پاک او

افغانستان کے بادشاہ نادر شاہ ایک درویش صفت انسان تھا، اس کی پاک روح پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے ۔

Nadir, the Afghan monarch, meek in the spirit like a dervish, blessings of God on his noble soul;

22

کار ملت محکم از تدبیر او

حافظ دین مبین شمشیر او

اس کی تدبیر سے امت مسلمہ کے معاملات کو استحکام حاصل ہوا اور اس کی تلوار نے دین مبین کی حفاظت کی ۔

affairs of the nation sound by his sagacity, his sword protector of the luminous Faith;

33

چون ابوذر خودگداز اندر نماز

ضربتش هنگام کین خارا گذار

وہ نماز میں حضرت ابوذر غفاری کی طرح خود کو پگھلا دینے والے تھے اور کفار سے لڑائی کے موقع پر ان کا وار سخت پتھر کو بھی ختم کر کے رکھ دیتا تھا ۔

like Abu Dhar melting himself in prayer, his blow in fight shattering rocks.

44

عهد صدیق از جمالش تازه شد

عهد فاروق از جلالش تازه شد

ان کے جمال سے حضرت ابوبکر صدیق کے عہد کی یاد تازہ ہوئی ۔ اور ان کے جلال سے عہد فاروق کی ۔

The time of Siddiq was renewed by his grace. the days of Farooq made afresh by his glory.

55

از غم دین در دلش چون لاله داغ

در شب خاور وجود او چراغ

ان کے دل میں گل لالہ کی طرح اسلام سے محبت کا داغ موجود تھا ۔ عالم مشرق کی تاریک رات دن میں اس کا وجود آزادی کے چراغ کی حیثیت رکھتا ہے ۔

Bearer of anguish for the Faith like a tulip, in the night of the East his person a lamp;

66

در نگاهش مستی ارباب ذوق

جوهر جانش سراپا جذب و شوق

ان کی نگاہوں میں ارباب ذوق کی سی مستی تھی ۔ جذب و شوق ان کی جان کا جوہر تھا ۔

in his sight the ecstasy of inspired men, the essence of his life charged with fervour.

77

خسروی شمشیر و درویشی نگه

هر دو گوهر از محیط لااله

ان کی تلوار تو شاہانہ ہے لیکن نگاہ درویشانہ تھی ۔ یہ دونوں موتی انہیں لا الہ کے سمندر سے ملے تھے ۔

Kingship, a sword, and dervish hood, the inner sight, both these are pearls from the sea of la Ilah!

88

فقر و شاهی واردات مصطفی است

این تجلی های ذات مصطفی است

فقر اور بادشاہی دونوں پر رسول اللہ ﷺ کی خاص حالت کی غماز ہیں اور یہ حضور کی ذات بابرکات کی تجلیات سے قائم ہیں ۔

Faqr and kingship are twin incidences of the Prophet. these are but effulgences of his charismatic self.

99

این دو قوت از وجود مومن است

این قیام و آن سجود مومن است

یہ دو قوتیں مومن ہی کے وجود سے قائم ہیں ، یہ شاہی مومن کا قیام ہے تو وہ فقر اس کا سجدہ ہے ۔

Both these powers spring from a believer’s self, one is the Qayam and the other prostration.

1010

فقر، سوز و درد و داغ و آرزوست

فقر را در خون تپیدن آبروست

فقر سوز و درد اور داغ و آرزو کا نام ہے ۔ اور فقر کے لیے خون میں تڑپنا اسکی آبرو ہے ۔

Faqr is all feeling, pain, scalds and aspiration; its glory lies in rolling in blood,

1111

فقر نادر آخر اندر خون تپید

آفرین بر فقر آن مرد شهید

نادر شاہ کا فقر آخر کار خون میں تڑپا ۔ اس شہید مرد کے فقر پر آفرین ہے ۔

Felicitations without end to the faqr of this martyr.

1212

ای صبا ای ره نورد تیزگام

در طواف مرقدش نرمک خرام

اے صبا تو تیز چلنے والی مسافر ہے ۔ جب تو اس نادر شاہ کی قبر کے گرد چکر لگائے تو ذرا آہستہ چکر لگانا ۔

O breeze, O traveller with high speed; my winged Hermes, blow softly in going round his grave;

1313

شاه در خواب است پا آهسته نه

غنچه را آهسته تر بگشا گره

نادر شاہ سو گیا ہے باد صبا آہستہ پاؤں رکھ اور گلی کی گرہ بھی آہستہ سے کھول ۔

the King is asleep, lay your feet softly, open the knot of the bud even more gently.

1414

از حضور او مرا فرمان رسید

آنکه جان تازه در خاکم دمید

ان کی طرف سے مجھے فرمان پہنچا ہے جس نے میرے بدن میں نئی روح پھونک دی ہے ۔

I received a message from his glorious self, which infused new life in me.

بند 2
نادر شاه
Toggle stanza 2
1515

سوختیم از گرمی آواز تو

ای خوش آن قومی که داند راز تو

ہم تیری آواز کے سوز سے جل اٹھے ۔ وہ قوم کتنی خوش قسمت ہے جس نے تیرا راز پا لیا ۔

“I was burnt sere O! by your fiery lay, how happy the nation which knows your intent.”

1616

از غم تو ملت ما آشناست

می شناسیم این نوا ها از کجاست

تیرے غم سے ہماری قوم (افغان) آگاہ ہے، ہم جانتے ہیں کہ یہ نغمے کہاں سے اٹھ رہے ہیں ۔

Our nation knows well your heart ache, we know from where these notes arise.

1717

ای به آغوش سحاب ما چون برق

روشن و تابنده از نور تو شرق

تو ہمارے بادل کی آغوش میں بجلی کی مانند ہے ۔ تیری روشنی سے دنیائے مشرق روشن اور فروزاں ہے ۔

O you like lightning in the lap of our clouds, the East aglow and bright with your light,

1818

یک زمان در کوهسار ما درخش

عشق را باز آن تب و تابی ببخش

کچھ عرصہ کے لیے ہماری پہاڑوں کی سرزمین پر بھی چمک، عشق کو دوبارہ پھر وہی ولولہ و شوق عطا کر ۔

Shine awhile on our mountains, grant once again the same burning fever.

1919

تا کجا در بندها باشی سیر

تو کلیمی را سینایی بگیر

کب تک تو بیڑیوں میں مقید رہے گا ۔ تو تو کلیم ہے سینا پہاڑ کا راستہ پکڑ ۔

How long will you remain bound in chains? You are a Moses, take to the path of Sinai.”

بند 3
Toggle stanza 3
2020

طی نمودم باغ و راغ و دشت و در

چون صبا بگذشتم از کوه و کمر

چنانچہ میں دشت و درہ اور باغ اور مرغزاروں میں سے گزرا ۔ صبا کی طرح میں پہاڑ اور وادیوں کا راستہ طے کیا ۔

I passed over gardens and villas, plains and terrains, barren and dry, stopping over hills and mountains like the breeze.

2121

خیبر از مردان حق بیگانه نیست

در دل او صد هزار افسانه ای ست

درہ خیبر اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں سے نا آشنا نہیں ۔ اس کے دل میں لاکھوں ہی افسانے ہیں ۔

Khayhar is not unfamiliar with godly men; Its breast is full of thousand stories.

2222

جاده کم دیدم از او پیچیده تر

یاوه گردد در خم و پیچش نظر

میں نے اس سے زیادہ دشوار گزار راستہ نہیں دیکھا ۔ اس کے پیچ و خم میں نظر الجھ کے رہ جاتی ہے ۔

I have seldom seen paths more intricate and criss cross, the sight gets lost in their winding courses.

2323

سبزه در دامان کهسارش مجوی

از ضمیرش برنیاید رنگ و بوی

اس کے پہاڑوں کی وادیوں میں سبزہ نہ ڈھونڈ ۔ اس کے ضمیر کے اندر سے رنگ و بو پیدا نہیں ہوتا ۔

Seek not grass in its barren crags, colour and scent arise not from its core.

2424

سرزمینی کبک او شاهین مزاج

آهوی او گیرد از شیران خراج

وہ ایک ایسی سرزمین ہے جہاں کا کمزور پرندہ چکور بھی شاہین کا مزاج رکھتا ہے ۔ جبکہ وہاں کا ہرن شیروں سے خراج وصول کرتا ہے ۔

It is a land whose partridges have the temper of a hawk;

2525

در فضایش جزه بازان تیز چنگ

لرزه بر تن از نهیبشان پلنگ

اس کی فضا میں تیز پنجوں والے ایسے نر باز ہیں جن کی ہیبت سے چیتے کے جسم پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے ۔

in its clime white fierce falcons with sharp talons, the leopard starts trembling by their fear.

2626

لیکن از بی مرکزی آشفته روز

بی نظام و ناتمام و نیم روز

لیکن کوئی مرکز نہ ہونے کی وجہ سے یہ سرزمین انتشار کا شکار ہے ۔ کوئی ان کا نظام نہیں اور نامکمل اور نیم سوز ہے ۔

But on account of lack of centrality, it is in a bad plight. Lacking order, it is imperfect and half baked.

2727

فربازان نیست در پرواز شان

از تذروان پست تر پرواز شان

ان کی پرواز میں بازوں کی سی شان نہیں ۔ بلکہ ان کی پرواز چکوروں سے بھی پست تر ہے ۔

No majesty of falcons in its people’s flight, Which is less even than that of pheasants.

2828

آه قومی بی تب و تاب حیات

روزگارش بی نصیب از واردات

افسوس ہے ایسی قوم پر جس میں زندگی کا جوش و جذبہ نہ ہو اور جس کے حالت و کیفیت واردات سے خالی ہو ۔

Alas! this nation without the glow of life! Its time is devoid of happenings;

2929

آن یکی اندر سجود، این در قیام

کار و بارش چون صلات بی امام

ان میں سے کوئی تو سجدے میں پڑا ہے اور کوئی قیام میں کھڑا ہے ۔ اس قوم کا معاملہ ایسا ہی ہے جیسے بغیر امام کے نماز ہو ۔

one is lying prostrate and the other standing up, its condition is just like a prayer without an imam.

3030

ریز ریز از سنگ او مینای او

آه از امروز بی فردای او

◆

اگلی / پچھلی نظم

اگلی نظم

ای ز خود پوشیده خود را بازیاب

در مسلمانی حرامست این حجاب

علامہ اقبال»مثنوی مسافر»بخش 1 - خطاب به اقوام سرحد

◆