مسافر (اقبال) کابل شہر میں داخل ہوتا ہے اور اعلیٰ حضرت شہید کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے
The Traveller enters Kabul and visits the late Martyr King
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
شهر کابل خطهٔ جنت نظیر
آب حیوان از رگ تاکش بگیر
کابل کا شہر جنت کی مانند علاقہ ہے ۔ اس کی انگور کی بیل سے آب حیات حاصل کر ۔
The city of Kabul, its clime resembling paradise; You get the Water of Life from the vein of its grapes,
چشم صائب از سوادش سرمه چین
روشن و پاینده باد آن سر زمین
صائب کی آنکھیں اس کابل کی سیاہی سے سرمہ حاصل کرنے والی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس سرزمین کو روشن و پائندہ رکھے ۔
the eye of poet acquires collyrium from its precincts.
در ظلام شب سمن زارش نگر
بر بساط سبزه می غلطد سحر
رات کی تاریکی میں اس کے چنبیلی کے باغ دیکھ ۔ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے سبزے کی چٹائی پر صبح لوٹ پوٹ رہی ہے ۔
Observe its jesamine beds in the darkness of night: you would say as if the dawn lolls on the carpet of its grass.
آن دیار خوش سواد ، آن پاک بوم
باد او خوشتر ز باد شام و روم
وہ ایک اچھے ماحول والا علاقہ (خوش منظر) اور صاف ستھری سرزمین ہے ۔ اس کی ہوا شام اور روم سے کہیں بہتر ہے ۔
That city with the lovely climes in that hallowed land, its breeze is better far than that of Syria and Rum.
آب او براق و خاکش تابناک
زنده از موج نسیمش ، مرده خاک
اس کا پانی شفاف اور خاک چمکدار ہے ۔ اسکی صبح کی ہوا کی لہر سے مردہ خاک پھر سے زندہ ہو جاتی ہے ۔
Its water so glittering and earth radiant, the dead earth springs into life with its pleasant draughts.
ناید اندر حرف و صوت اسرار او
آفتابان خفته در کهسار او
اس کے بھید نہ تو الفاظ میں سما سکتے ہیں اور نہ آواز میں ۔ اسکے پہاڑوں میں کئی سورج سوئے ہوئے ہیں ۔
Its excellence cannot fall into the grasp of words’ expressions, suns upon suns lapped in sleep in its mountains;
ساکنانش سیر چشم و خوش گهر
مثل تیغ از جوهر خود بی خبر
اس کے باشندے سیر چشم اور شریف النفس ہیں ۔ لیکن تلوار کی طرح اپنے جوہر سے بے خبر ہیں ۔
its inhabitants complacent and genial, unware of their mettle like a sword.
قصر سلطانی که نامش دلگشاست
زائران را گرد راهش کیمیاست
شاہی محل جس کا نام دلکشا ہے ۔ اس کے راستے کی گرد دیکھنے والوں کے لیے کیمیا ہے ۔
The royal palace named Dilkusha (Heart Ease), the dust on its way is like alchemy for those who come to it.
شاه را دیدم در آن کاخ بلند
پیش سلطانی فقیری دردمند
میں نے اس عالی شان محل میں بادشاہ سے ملاقات کی ۔ یہ ملاقات ایک سلطان سے ایک دردمند فقیر کی تھی ۔
I met the king in his lofty palace —a poor fakir in the presence of a monarch.
خلق او اقلیم دلها را گشود
رسم و آئین ملوک آنجا نبود
اس کا خلق دلوں کی سلطنت کو فتح کرنے والا تھا ۔ وہاں بادشاہوں کے رسوم و آداب نہ تھے ۔
His courteous nature opened wide the partals of hearts, nothing in the way of ways and formalities of kings.
من حضور آن شه والا گهر
بینوا مردی به دربار عمر
میں اس بلند شخصیت والے بادشاہ کے سامنے ایسا ہی تھا جیسے حضرت عمر کے دربار میں کوئی بے نوا شخص ہو ۔
This humble one in the presence of that noble king was like an insignificant person in the court of ‘Umar the great caliph.
جانم از سوز کلامش در گداز
دست او بوسیدم از راه نیاز
میری روح اس کی باتوں کی گرمی سے پگھل اٹھی ۔ اسنے نیازمندی کے طور پر اس کے ہاتھ کو بوسہ دیا ۔
My heart melt with the warmth of his hand, I kissed his hand out of humility.
پادشاهی خوش کلام و ساده پوش
سخت کوش و نرم خوی و گرم جوش
وہ ایک اچھی باتیں کرنے والا ، سادہ لباس پہننے والا جفاکش اور نرم طبع اور تپاک سے ملنے والا بادشاہ تھا ۔
A king pleasant of speech and plainly clad, hard in striving, mild of nature and warm hearted.
صدق و اخلاص از نگاهش آشکار
دین و دولت از وجودش استوار
اس کی نگاہ میں سچائی اور خلوص دکھائی دیتے تھے ۔ اس کا وجوددین اور سلطنت کے استحکام کا باعث تھا ۔ اسکے وجود سے استحکام ملا ۔
Sincerity and frankness apparent from his looks. Both Faith and realm firm in his person.
خاکی و از نوریان پاکیزه تر
از مقام فقر و شاهی باخبر
تھا تو وہ خاک کا پتلا مگر فرشتوں سے بھی زیادہ پاکیزہ فطرت تھا ۔ وہ فقر اور سلطنت کے مقام و مرتبہ سے باخبر تھا ۔
Of earth earthly but purer than angels luminous; cognizant of both modesty and kingship.
در نگاهش روزگار شرق و غرب
حکمت او راز دار شرق و غرب
اس کی نگاہوں میں مشرق اور مغرب کا زمانہ تھا ۔ اس کی دانائی مشرق اور مغرب دونوں کی سیاست کے راز جانتی تھی ۔
In his sight the affairs of both East and West; his sagacity knowing their secrets alike.
شهر یاری چون حکیمان نکته دان
رازدان مد و جزر امتان
وہ ایک ایسا بادشاہ تھا جو داناؤں کی طرح نکتہ داں تھا اور قوموں کے عروج و زوال سے پوری طرح باخبر تھا ۔
A king knowing subtle matters well like a sage knowing the causes of rise and fall of nations.
پرده ها از طلعت معنی گشود
نکته های ملک و دین را وانمود
اس نے معنی کے چہرے سے پردے اٹھا دیے ۔ ملک اور دین کے نکتے دکھا دیے ۔
گفت «از آن آتش که داری در بدن
من ترا دانم عزیز خویشتن
اس نے مجھ سے کہا کہ تو اپنے بدن میں جو آگ رکھتا ہے اسکی وجہ سے میں تجھے عزیز رکھتا ہوں ۔
He said, “with the fire that you have in mind, I hold you as dear as my own son.
هر که او را از محبت رنگ و بوست
در نگاهم هاشم و محمود اوست»
جس کسی میں بھی محبت کا رنگ و بو ہے ۔ میری نگاہ میں وہ ہاشم اور محمود ہے ۔
Anyone who bears scent and hue of love is like Hashim and Mahmud in my eyes.”
در حضور آن مسلمان کریم
هدیه آوردم ز قرآن عظیم
میں نے اس معزز مسلمان بادشاہ کی خدمت میں قرآن مجید کا تحفہ پیش کیا ۔
I presented a copy of the glorious Quran to this noble Muslim as a gift.
گفتم «این سرمایهٔ اهل حق است
در ضمیر او حیات مطلق است
میں نے کہا یہ کتاب اہل حق کا سرمایہ ہے ۔ اسکے اندر حیات مطلق ہے ۔
I said this is the whole and sole substance of men and God; it contains the very essence of life in all its absoluteness.
اندرو هر ابتدا را انتها است
حیدر از نیروی او خیبر گشاست»
اس کے اندر ہر ابتدا کی انتہا ہے ۔ حضرت علی حیدر کرار اسی قرآن کی قوت سے فاتح خیبر ہوئے ۔
Therein is the endpoint of all beginnings. By virtue of it, Hyder threw open the gate of Khyber.
نشهٔ حرفم بخون او دوید
دانه دانه اشک از چشمش چکید
میرے الفاظ کا نشہ اس کے خون میں دوڑ گیا ۔ اس کی آنکھ سے قطرہ قطرہ آنسو ٹپکنے لگے ۔
The intensity of my words ran into his blood. and tears upon tears trickled from his eyes in serried train.
گفت «نادر در جهان بیچاره بود
از غم دین و وطن آواره بود
اس نے کہا نادر دنیا میں بے یار و مددگار ہے ۔ دین اور وطن کے غم میں مضطرب ہی رہا ۔
He said, “I, Nadir, was a helpless one, bewildered because of the sad plight of the Faith and homeland;
کوه و دشت از اضطرابم بیخبر
از غمان بی حسابم بی خبر
پہاڑ اور جنگل میرے اضطراب سے بے خبر ہیں ۔ میرے بے حساب غموں کی انہیں خبر ہی نہیں ۔
hills’ arid tracts were unaware of my perturbation, ignorant of my boundless sorrows.
ناله با بانگ هزار آمیختم
اشک با جوی بهار آمیختم
میں نے بلبل کے نغمے کے ساتھ اپنی فریاد کو ملا یا ۔ بہار کی ندی کے ساتھ میں نے اپنے آنسو ملا لیے ۔
I raised cries with the note of the nightingale mixing my tears with the stream aflow in spring.
غیر قرآن غمگسار من نبود
قوتش هر باب را بر من گشود»
سوائے قرآن کریم کے کوئی اور میرا غمگسار نہ تھا ۔ اس کی طاقت نے مجھ پر کامیابی کے تمام دروازے کھول دیے ۔
I had no solace except that of the Quran; its powers opened all doors to me.”
گفتگوی خسرو والا نژاد
باز با من جذبهٔ سرشار داد
اس اعلیٰ خاندان والے بادشاہ کی باتوں نے ایک مرتبہ پھر مجھے بے خود بنا دینے والا جذبہ عطا کیا ۔
The words of that king of high lineage caused again an upsurge in me.
وقت عصر آمد صدای الصلوت
آن که مؤمن را کند پاک از جهات
سہ پہر کے وقت اذان کی آواز سنائی دی ۔ وہ آواز جو مومن او ر سچے مسلمان کو حدود سے بے نیاز کر دیتی ہے ۔
The call of noon prayer arose awhile which rids a believer of all limits.
انتهای عاشقان سوز و گداز
کردم اندر اقتدای او نماز
عاشقوں کی انتہا سوز و گداز ہے ۔ میں نے اس (نادر شاہ) کی امامت میں نماز ادا کی ۔
The climax of ardent love is nothing but intense feeling, so I performed the prayer in his lead.
رازهای آن قیام و آن سجود
جز به بزم محرمان نتوان گشود
نماز کے قیام اور سجدے کے راز سواے اپنے ہم مزاج اور واقف کاروں کی محفل کے اور کہیں نہیں بیان کیے جا سکتے ۔
The secret of that standing and prostrating cannot be told except to those who are close associates.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور