سلطان محمود رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر
At the Tomb of Sultan Mahmud
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
خیزد از دل ناله ها بی اختیار
آه ! آن شهری که اینجا بود پار
دل سے بے اختیار نالے سر اٹھانے لگتے ہیں کہ افسوس وہ شہر جو یہاں کل قدیم میں آباد تھا کہاں گیا ۔
Cries arise from my heart in spite of all restraint, Alas! that city we had in the times past.
آن دیار و کاخ و کو ویرانه ایست
آن شکوه و فال و فر افسانه ایست
وہ شہر اور محل اور کوچے سب ویرانے بن گئے ہیں ۔ وہ شان و شوکت اب قصہ کہانی بن گئی ہے ۔
That city, those palaces, streets are all in ruin, That glory, splendour, magnificence a mere tale now.
گنبدی ، در طوف او چرخ برین
تربت سلطان محمود است این
ایک گنبد ہے جس کا طواف آسمان کر رہا ہے یہ سلطان محمود کی قبر ہے ۔
The cupola, circumambulated by the lofty sky, this is the grave of Sultan Mahmud.
آنکه چون کودک لب از کوثر بشست
گفت در گهواره نام او نخست
وہ محمود کہ جب کوئی بچہ دودھ سے اپنے ہونٹ دھوتا تو جھولے میں سب سے پہلے اس محمود کا نام لیتا ۔
He whose name a babe when weaned of mother’s milk, first pronounced in the cradle.
برق سوزان تیغ بی زنهار او
دشت و در لرزنده از یلغار او
اس کی شمشیر بے پناہ جلا دینے والی بجلی تھی ۔ اور اس کی یلغار سے دشت اور درے پر لرزہ طاری ہو جاتا تھا ۔
A consuming lightning his unsparing sword; lands and climes aquiver on his onslaught.
زیر گردون آیت الله رایتش
قدسیان قرآن سرا بر تربتش
آسمان کے نیچے اس کا پرچم اللہ کی نشانی تھا ۔ اس کی قبر پر فرشتے قرآن خوانی کرتے ہیں ۔
Under the sky his flag a sign of God, angels reciting the Quran on his grave.
شوخی فکرم مرا از من ربود
تا نبودم در جهان دیر و زود
میں اپنے تخیلات کی دنیا میں ایسا گھوم گیا کہ پھر مجھے اس دنیاے دیر و زود کی خبر ہی نہ رہی ۔
My nimble fancy took me off from myself so that I did not remain in this world of late and soon.
رخ نمود از سینه ام آن آفتاب
پردگیها از فروغش بی حجاب
میرے سینے سے ایک وہ آٖفتاب نمودار ہو جس کی روشنی سے سارے پردے بے نقاب ہو گئے ۔
That sun arose in my breast by the effulgence of which the hidden became manifest.
مهر گردون از جلالش در رکوع
از شعاعش دوش میگردد طلوع
آسمان کا سورج اسکے جلال کے سامنے رکوع میں جھک گیا ۔ اسکی شعاع سے گزرا ہوا زمانہ سامنے آ گیا ۔
The sun on high prostrates before whose splendour; from his rays the past rises up.
وارهیدم از جهان چشم و گوش
فاش چون امروز دیدم صبح دوش
میں اس حواس کی دنیا سے بہت دور نکل گیا جہاں میں نے ماضی کی صبح کو حال کی مانند دیکھا ۔
I was rid of this world of eyes and ears so that I clearly saw the past morning like today.
شهر غزنین یک بهشت رنگ و بو
آب جوها نغمه خوان در کاخ و کو
غزنین کا شہر رنگ اور خوشبو کی ایک بہشت ہے جس کے گلی کوچوں اور محلات میں ندیاں نغمہ خواں ہیں ۔
The city of Ghazna, a paradise of colour and hue, with streams to aflow trilling out songs in the palaces and common streets.
قصر های او قطار اندر قطار
آسمان با قبه هایش هم کنار
اس کے محل قطار اندر قطار تھے ۔ اسکے برج بلندی میں آسمان سے باتیں کرتے تھے ۔
Its palaces ranged row upon row, the sky grazing with its cupolas.
نکته سنج طوس را دیدم ببزم
لشکر محمود را دیدم به رزم
میں نے محفل میں طوس کے شاعر (فردوسی طوسی) کو دیکھا میں نے محمود کے لشکر کو جنگ میں دیکھا ۔
I saw the bard of Tus in the royal assembly and the army of Mahmud in the battlefield.
روح سیر عالم اسرار کرد
تا مرا شوریده ئی بیدار کرد
میری روح نے عالم اسرار کی سیر کی یہاں تک کہ مجھے ایک دیوانے نے جگا دیا ۔
My spirit strolled in the world of secrets till a frenzied one woke me up.
آنهمه مشتاقی و سوز و سرور
در سخن چون رند بی پروا جسور
وہ دیوانہ سراپا سوز و مستی اور عشق تھا ۔ باتوں میں وہ ایک لا ابالی رند کی طرح دلیر تھا ۔
That fervour, that intensity and poignancy of his, speaking like an audacious voluptuary.
تخم اشکی اندر آن ویرانه کاشت
گفتگوها با خدای خویش داشت
وہ اس ویرانے میں اپنے آنسووَں کے دانے بوتا تھا ۔ آنسو بہائے اور اپنے خدا سے باتیں کیں ۔
He sowed the seed of a tear in that wilderness. He was having a colloquy with God.
تا نبودم بیخبر از راز او
سوختم از گرمی آواز او
چونکہ میں اس کے راز سے بے خبر نہ تھا اس لیے اس کی آواز کی گرمی نے مجھے جلا دیا ۔
Since I was not unaware of this secret, I was all afire with his voice’s heat.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور