صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »مثنوی مسافر
  3. »بخش 5 - روح حکیم سنائی از بهشت برین جواب می‌دهد

بخش 5 - روح حکیم سنائی از بهشت برین جواب می‌دهد

حکیم سنائی کی روح بہشت بریں سے جواب دیتی ہے

San'ai's Spirit speaks from Heaven

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: بشیر احمد
Toggle stanza 1
1

رازدان خیر و شر گشتم ز فقر

زنده و صاحب نظر گشتم ز فقر

فقر نے مجھے خیر اور شر کا رازداں بنا دیا ۔ فقر ہی کی بدولت مجھے زندہ و صاحب نظر کر دیا ۔

I came to know the knower of good and bad by continence, I became alive and deep of sight by sublimation.

2

یعنی آن فقری که داند راه را

بیند از نور خودی الله را

وہ فقر جو راہ سے باخبر ہے جو خودی کے نور سے اللہ کا دیدار کرتا ہے ۔

I mean that austerity which knows the way and beholds God with the light of the self.

3

اندرون خویش جوید لااله

در ته شمشیر گوید لااله

وہ فقر اپنے باطن میں لا الہ کو تلاش کرتا ہے اور تلوار تلے آ کر بھی وہ لا الہ کا ورد کرتا ہے ۔

It seeks la ilah within itself, uttering it beneath the sword.

4

فکر جان کن چون زنان بر تن متن

همچو مردان گوی در میدان فکن

تو روح (باطن) کی طرف توجہ کر، عورتوں کی طرح جسم یعنی ظاہر کی خوبصورتی پر مت اکڑ بلکہ مردوں کی طرح میدان میں آ کر بازی لگا (مرد میدان بن) ۔

Think of the inside and spin not around your body like women. Fling the ball on the ground like men.

5

سلطنت اندر جهان آب و گل

قیمت او قطره ئی از خون دل

اس مادی دنیا میں سلطنت کی قیمت صرف خون دل کا ایک قطرہ ہے ۔

Rulership in this world of water and clay, is bought by one drop of blood of the heart.

6

مؤمنان زیر سپهر لاجورد

زنده از عشقند و نی از خواب و خورد

مومن نیلے آسمان کے نیچے عشق سے زندہ ہیں ۔ سونے اور کھانے پینے سے نہیں ۔

Believers under this azure sky live by ardour and regaling.

7

می ندانی عشق و مستی از کجاست؟

این شعاع آفتاب مصطفی است

کیا تو نہیں جانتا کہ عشق اور مستی کہاں سے حاصل ہوتی ہے ۔ یہ عشق و مستی رسول اللہ ﷺ کے آفتاب کی شعاع ہے ۔

Know you not where from ardour and ecstasy arise? These are but rays shot from the sun of the Prophet.

8

زنده ئی تا سوز او در جان تست

این نگهدارندهٔ ایمان تست

تو اس وقت تک زندہ ہے جب تک اس (آفتاب) کی تپش تیری روح میں ہے ۔ یہ تپش تیرے ایمان کی محافظ ہے ۔

You are alive so long as there is spirit in you. It is this that safeguards your faith.

9

با خبر شو از رموز آب و گل

پس بزن بر آب و گل اکسیر دل

مادیت کے اسرار سے باخبر ہو جا پھر دل کی کیمیا اس آب و گل پر لگا ۔

Become aware of the secrets of your water and clay and then apply the alchemy of the heart to both comprising your physical system.

10

دل ز دین سر چشمهٔ هر قوت است

دین همه از معجزات صحبت است

دین ہی سے دل ہر قوت کا سرچشمہ ہے ۔ دین سراسر صحبت کے معجزوں میں سے ہے ۔

The art is the fountainhead of all power by the faith and faith is a miracle of miracles of espirit de corps.

11

دین مجو اندر کتب ای بیخبر

علم و حکمت از کتب ، دین از نظر

اے بے خبر کتابوں میں دین مت تلاش کر ۔ عقل و دانش کی باتیں کتابوں سے حاصل ہوتی ہیں ۔ لیکن دین کا تعلق نظر سے ہے ۔

Seek not faith in books, O you ignorant one! Knowledge and wisdom come from books but faith arises from the heart.

12

بوعلی دانندهٔ آب و گل است

بیخبر از خستگیهای دل است

بو علی آب و گل سے باخبر ہے لیکن دل کے سوز و تپش سے وہ واقف نہیں ۔

Bu Ali Sina knows only mere elements of the body; he knows not the ailments of the heart.

13

نیش و نوش بوعلی سینا بهل

چاره سازیهای دل از اهل دل

بو علی سینا کے نیشتر اور وادیوں کو چھوڑ ۔ دل کی چارہ گری تو اہل دل کے پاس ہے ۔

Cast away the sweet and bitter of Bu Ali, the cure of the heart lies with the men of heart.

14

مصطفی بحر است و موج او بلند

خیز و این دریا بجوی خویش بند

حضرت محمد مصطفی ﷺ سمندر ہیں اور اس سمندر کی موجیں بلند ہیں تو اٹھ اور اس دریا کو اپنی ندی میں سمیٹ لے ۔

The Prophet is an ocean with surging waves, arise and enclose this river in your channel.

15

مدتی بر ساحلش پیچیده ئی

لطمه های موج او نادیده ئی

تو ایک مدت تک اس بحر کے کنارے گھومتا رہا ہے ۔ تو نے اس بحر کی موجوں کے تھپیڑے کھائے ہی نہیں ۔

You have for years twined around its shore, but not seen the buffets of its lashing waves.

16

یک زمان خود را به دریا در فکن

تا روان رفته باز آید بتن

کچھ دیر کے لیے اس دریا میں کود جا تاکہ تیری گئی ہوئی جان دوبارہ تیرے بدن میں واپس آ جائے ۔

Fling yourself in the river for a while so that the departed spirit should come back to the body.

17

ای مسلمان جز براه حق مرو

ناامید از رحمت عامی مشو

اے مسلمان راہ حق کے سوا کسی دوسری راہ پر مت چل ۔ اللہ کی رحمت عام سے مایوس نہ ہو ۔

O Muslims, tread not any path save that of God and despair not of His general mercy.

18

پرده بگذار آشکارائی گزین

تا بلرزد از سجود تو زمین

پردہ چھوڑ اور باہر نکل ، آشکارائی اختیار کر تاکہ تیرے سجدے سے زمین کانپ کانپ اٹھے ۔

Leave off seclusion and seek manifestation. so that the earth should quake by your prostration.

19

دوش دیدم فطرت بیتاب را

روح آن هنگامهٔ اسباب را

کل رات میں نے بے قرار فطرت کو دیکھا یعنی اس ہنگامہ اسباب کی روح کو دیکھا ۔

I saw restless Nature the other day, that moving spirit of all that happens;

20

چشم او بر زشت و خوب کائنات

در نگاه او غیوب کائنات

اس کی آنکھ کائنات کے خوب و ناخوب پر ہے ۔ کائنات کی پوشیدہ اشیا ء بھی اس کی نگاہ میں ہے ۔

her eyes riveted on the good and bad of the universe, the hidden things unfolded to her sight.

21

دست او با آب و خاک اندر ستیز

آن بهم پیوسته و این ریز ریز

اس کے ہاتھ مٹی اور پانی میں غلطاں تھے ۔ وہ تو دونوں باہم گندھ گئے تھے اور وہ (فطرت) تھک کر چور ہو گئی تھی ۔

22

گفتمش در جستجوی کیستی؟

در تلاش تار و پوی کیستی؟

میں نے پوچھا تو کس کی تلاش میں ہے اور کس کا تانا بانا تو تلاش کر رہی ہے

I asked her what are you searching? in search of whose warp and woof?

23

گفت از حکم خدای ذوالمنن

آدمی نو سازم از خاک کهن

اس نے کہا میں خداے مہربان کے حکم سے پرانی خاک سے ایک نیا آدم بنا رہی ہوں ۔

She said: By the order of the gracious Lord, I am fashioning out a new Adam from the old earth.

24

مشت خاکی را بصد رنگ آزمود

پی به پی تابید و سنجید و فزود

چنانچہ اس (فطرت) نے مٹھی بھر خاک کو سو انداز سے جانچا پرکھا ۔ اسے مسلسل الٹا سیدھا کیا تو لا جانچا اور اس میں کچھ اضافہ کیا ۔

She examined a pinch of dust in a hundred ways, turning over and over again, weighed and added to it.

25

آخر او را آب و رنگ لاله داد

لااله اندر ضمیر او نهاد

تب کہیں جا کر اس (خمیر آب و گل) کو اس نے لالہ کے سے رنگ اور چمک سے نوازا ۔ پھر اس کے ضمیر میں لا الہ رکھ دیا ۔

At last she imparted the hue and lustre of a tulip and cast la ilah in its core.

26

باش تا بینی بهار دیگری

از بهار پاستان رنگین تری

ذرا رک جا تاکہ تو ایک دوسرے بہار دیکھ لے جو قدیم کی بہار سے کہیں زیادہ رنگیں ہو ۔

Wait till you see another spring arise, more iridescent than the one bygone.

27

هر زمان تدبیرها دارد رقیب

تا نگیری از بهار خود نصیب

ہر لمحہ رقیب تدبیروں میں لگا رہتا ہے تا کہ تو اپنی بہار سے فائدہ اٹھا سکے ۔

Every time your antagonist resorts to machinations so that you should not come by this vegetating season.

28

بر درون شاخ گل دارم نظر

غنچه ها را دیده ام اندر سفر

میری نظریں پھول کی شاخ کے اندر جھانک لیتی ہیں ۔ میں نے کلی کے پھول بننے تک کے سفر کو دیکھا ہے ۔

I keep my eyes on the inside of the rose branch, and have seen a stir therein.

29

لاله را در وادی و کوه و دمن

از دمیدن باز نتوان داشتن

لالہ کو وادی، پہاڑ اور دمن میں اگنے سے روکا نہیں جا سکتا ۔

We cannot prevent the tulips from blooming in the meadows, vales, mountains.

30

بشنود مردی که صاحب جستجوست

نغمه ئی را کو هنوز اندر گلوست

صاحب جستجو انسان ایسا نغمہ بھی سن لیتا ہے جو ابھی گلے ہی میں ہے ۔

A man of sensitive type can hear the note that is still in the throat.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

از نوازشهای سلطان شهید

صبح و شامم ، صبح و شام روز عید

علامہ اقبال»مثنوی مسافر»بخش 4 - سفر به غزنی و زیارت مزار حکیم سنائی

اگلی نظم

خیزد از دل ناله ها بی اختیار

آه ! آن شهری که اینجا بود پار

علامہ اقبال»مثنوی مسافر»بخش 6 - بر مزار سلطان محمود علیه الرحمه

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور