صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »مثنوی مسافر
  3. »بخش 4 - سفر به غزنی و زیارت مزار حکیم سنائی

بخش 4 - سفر به غزنی و زیارت مزار حکیم سنائی

غزنی کا سفر اور حکیم سنائی کے مزار کی زیارت

Visiting Ghazna and offering reverence to the Sage Sanai

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: بشیر احمد
Toggle stanza 1
1

از نوازشهای سلطان شهید

صبح و شامم ، صبح و شام روز عید

سلطان شہید کی مہربانیوں کی وجہ سے میری صبح اور شام ایسے ہی تھی جیسے عید کے دن کی صبح اور شام ہو ۔

By the favour of the martyred King, my mornings and evenings were as pleasant as those of Eid.

2

نکته سنج خاوران هندی فقیر

میهمان خسرو کیوان سریر

مشرق کی سرزمین کا نکتہ سنج اور ہندی فقیر یعنی اقبال کیواں کی سی بلندی رکھنے والے تخت کے بادشاہ کا مہمان تھا ۔

Bard of the East, the Indian fakir, was guest unto that monarch with saturn as throne.

3

تا ز شهر خسروی کردم سفر

شد سفر بر من سبکتر از حضر

جب میں نے دارالحکومت سے سفر کیا تو یہ سفر میرے لیے قیام سے زیادہ آسان تھا ۔

Ever since I moved from the royal city, travelling became lighter for me than sojourn.

4

سینه بگشادم به آن بادی که پار

لاله رست از فیض او در کوهسار

میں نے اس ہوا سے اپنے سینے کو کھولا جس ہوا سے گزشتہ برس پہاڑوں پر لالہ کے پھول آگے تھے ۔

I opened my breast to the breeze by which tulips had sprung up the past year in the mountains.

5

آه غزنی آن حریم علم و فن

مرغزار شیر مردان کهن

افسوس وہ غزنی جو کبھی علم و فن کا گہوارہ اور پرانے شیر مردوں کا مرغزار تھا ۔

Alas! Ghazni, the home of learning and art, the hunting ground of lion hunters of yore,

6

دولت محمود را زیبا عروس

از حنا بندان او دانای طوس

جو محمود غزنوی کی سلطنت کے لیے حسین دلہن تھی جس دلہن کے ہاتھوں پر مہندی لگانے والوں میں سے ایک دانا طوس بھی تھا ۔

a beautiful bride of Mahmud’s realm, of whose henna dyed adorners one was the Sage of Tus.

7

خفته در خاکش حکیم غزنوی

از نوای او دل مردان قوی

اس کی خاک میں حکیم غزنوی جیسا بلند مرتبہ سویا پڑا ہے ۔ ایسی شخصیت جس کے ترانے سے بہادروں کے دل اور بھی قوی ہوتے ہیں ۔

In it resting in eternal sleep the Ghaznavid sage too by whose voice the hearts of men grew strong.

8

آن «حکیم غیب» ، آن صاحب مقام

«ترک جوش» رومی از ذکرش تمام

وہ حکیم غیب اور وہ بلند مرتبہ شخصیت ایسی ہے جس کے ذکر سے مولانا روم جیسی ہستی کی نیم پختگی کمال کو پہنچی ۔

That seer of the unseen, man of high station by whose iteration Rumi’s passion rose to a climax.

9

من ز پیدا او ز پنهان در سرور

هر دو را سرمایه از ذوق حضور

میں ظاہر کی بات کرتا ہوں اور وہ پوشیدہ سے سرور میں ہے ۔ ہم دونوں کا سرمایہ ذوق حضور سے ہے ۔

I exulted in the Present, he exulted in the Hidden, both having their wheewithal from zest for the sight of sights.

10

او نقاب از چهره ایمان گشود

فکر من تقدیر مؤمن وانمود

اس سنائی نے ایمان کے چہرے سے نقاب اٹھایا ۔ میری فکر نے مومن کی تقدیر کو ظاہر کر دیا ۔

He raised the veil from the face of Faith and my thought indicated the destiny of a believer.

11

هر دو را از حکمت قرآن سبق

او ز حق گوید من از مردان حق

ہم دونوں نے قرآن کریم کی حکمت سے سبق لیا ہے ۔ وہ سنائی حق کے بار ے میں کہتا ہے اور میں مردان حق کے متعلق بات کرتا ہوں ۔

Both learnt their lesson from Quranic Wisdom. He speaks of God while I speak of godly folk.

12

در فضای مرقد او سوختم

تا متاع ناله ئی اندوختم

میں اسکے مزار کی فضا میں جل اٹھا ۔ جب کہیں جا کر میں نے ایک نالہ کی کمائی حاصل کی ۔

I felt afire in the tomb’s atmosphere to such an extent that I became apprized of a cry.

13

گفتم ای بینندهٔ اسرار جان

بر تو روشن این جهان و آن جهان

میں نے اس سے کہا کہ اے روح کے بھیدوں کو دیکھنے والے ۔ تجھ پر یہ دنیا بھی اور وہ دنیا بھی روشن ہے ۔

I said to him, “O you seer of the secrets of life, both this world and the other luminous to you,

14

عصر ما وارفتهٔ آب و گل است

اهل حق را مشکل اندر مشکل است

ہمارا زمانہ آب و گل پر فریفتہ ہے ۔ اہل حق مشکل در مشکل میں پڑے ہیں ۔

our age is infatuated by material things symbolised by water and clay, which raises problems without end for those godly.

15

مؤمن از افرنگیان دید آنچه دید

فتنه ها اندر حرم آمد پدید

مومن نے انگریزوں سے جو کچھ دیکھا سودیکھا ۔ ان کی وجہ سے حرم کے اندر فتنے اٹھ کھڑے ہوئے ۔

Leave aside what the believers suffered at the hands of Western nations, there has sprung up so much mischief in the Harem even.

16

تا نگاه او ادب از دل نخورد

چشم او را جلوهٔ افرنگ برد

چونکہ اس مومن کی نگاہ نے ادب دل سے حاصل نہیں کیا ۔ اس لیے اس کی آنکھ جلوہ افرنگ سے چندھیا گئی ۔

Since the believers sight was not disciplined by the heart, the glamour of the West bewitched his eyes.

17

ای «حکیم غیب» ، امام عارفان

پخته از فیض تو خام عارفان

اے غیب کو جاننے والے ۔ عارفوں کے سردار (سنائی) تیرے فیض سے خام عارفوں نے پختگی پائی ۔

O you seer of the hidden, leader of the knowing once, by whose beneficence the rawness of the seers became mature,

18

آنچه اندر پردهٔ غیب است گوی

بو که آب رفته باز آید بجوی

جو کچھ غیب کے پردے میں ہے وہ بیان کر ۔ ممکن ہے اس طرح آگے گزرا ہوا پانی پھر ندی میں واپس آ جائے ۔

whatever is there hidden behind the veil, let me know; may be the wave once past should come back in the stream.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

بیا که ساز فرنگ از نوا بر افتاد است

درون پردهٔ او نغمه نیست فریاد است

علامہ اقبال»مثنوی مسافر»بخش 3 - بر مزار شهنشاه بابر خلد آشیانی

اگلی نظم

رازدان خیر و شر گشتم ز فقر

زنده و صاحب نظر گشتم ز فقر

علامہ اقبال»مثنوی مسافر»بخش 5 - روح حکیم سنائی از بهشت برین جواب می‌دهد

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور