صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »مثنوی مسافر
  3. »بخش 7 - مناجات مرد شوریده در ویرانهٔ غزنی

بخش 7 - مناجات مرد شوریده در ویرانهٔ غزنی

دیوانے آدمی کی غزنی کے ویرانے میں خدا کے حضور مناجات

Supplication of a frenzied One

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: بشیر احمد
Toggle stanza 1
11

لاله بهر یک شعاع آفتاب

دارد اندر شاخ چندین پیچ و تاب

لالہ سورج کی صرف ایک کرن کی خاطر خود کو شاخ میں بہت بے قرار اور مضطرب رکھتا ہے ۔

The tulip for getting just ray of the sun, has such curveting within a branch!

22

چون بهار او را کند عریان و فاش

گویدش جز یک نفس اینجا مباش

جب بہار اسے ظاہر کر دیتی ہے تو اسے کہا جاتا ہے کہ یہاں ایک لمحہ سے زیادہ مت ٹھہر ۔

When the spring brings it out in the open, it tells it to stay here for not more than a moment.

33

هر دو آمد یکدگر را ساز و برگ

من ندانم زندگی خوشتر که مرگ

یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے سازو سامان ہیں میں نہیں جانتا کہ زندگی بہتر ہے یا موت ۔

Both life and death furnish gear to each other, I know not whether one is better than the other.

44

زندگی پیهم مصاف نیش و نوش

رنگ و نم امروز را از خون دوش

زندگی نیکی اور بدی کی ایک مسلسل کشمکش کا میدان ہے ۔ آج کی ساری چمک دمک کل کے خون سے ہے ۔

Life is a perpetual strife between the unpleasant and pleasant. Today’s hue and freshness spring from yesterday’s blood.

55

الامان از مکر ایام الامان

الامان از صبح و از شام الامان

پناہ ہے زمانے کے حیلہ سازیوں سے ۔ ایام کے صبح اور شام سے پناہ ہے پناہ ہے ۔

Alack this machination of morn and eve, alack!

66

ای خدا ای نقشبند جان و تن

با تو این شوریده دارد یک سخن

اے جسم و جان کے صورت گر ۔ یہ دیوانہ تجھ سے ایک بات کرنے کی خواہش رکھتا ہے ۔

O God, the contriver of body and soul, this frenzied one has to say a word to You.

77

فتنه ها بینم درین دیر کهن

فتنه ها در خلوت و در انجمن

میں اس پرانے بت کدہ میں کئی فتنے دیکھ رہا ہوں ۔ خلوت و انجمن میں بھی کئی فتنے دیکھتا ہوں ۔

I saw mischief in this old abode; there are mischiefs there within and without.

88

عالم از تقدیر تو آمد پدید

یا خدای دیگر او را آفرید

یہ دنیا تیری قدرت سے معرض وجود میں آئی یا کسی دوسرے خدا نے اسے پیدا کیا ہے

Did this world come into existence with Your device, or some other deity created it?

99

ظاهرش صلح و صفا باطن ستیز

اهل دل را شیشهٔ دل ریز ریز

اس کا ظاہر تو امن و اخلاص ہے لیکن باطن میں عداوت ہے جس سے اہل دل کا شیشہ دل چور چور ہے ۔

Its inside all peace but the outside all strife. The hearts of sentient ones all shattered to pieces.

1010

صدق و اخلاص و صفا ، باقی نماند

«آن قدح بشکست و آن ساقی نماند»

صدق اور اخلاص اور صفا جیسی خوبیاں باقی نہیں ہیں ۔ ختم ہو کے رہ گئی ہیں ۔ وہ جام ٹوٹ چکا ہے اور ساقی باقی نہیں ہے ۔

There is no trace of sincerity and purity! Broken is the jar, and the saki no more!

1111

چشم تو بر لاله رویان فرنگ

آدم از افسونشان بی آب و رنگ

تیری نظر تو فرنگیوں کے سرخ چہروں پر ہے ۔ جن کے فریب سے انسان بے رونق سا ہو کر رہ گیا ہے ۔

Your eye is on the tulip faced ones of the West; man is bereft of freshness by whose sorcery?

1212

از که گیرد ربط و ضبط این کائنات؟

ای شهید عشوه لات و منات

اے لات و منات کے ناو ادا کے شہید، اس کائنات کا نظم و نسق کس کے ہاتھ میں ہے ۔

By what does this universe acquire order? O you infatuated by the charm of idols,

1313

مرد حق آن بندهٔ روشن نفس

نایب تو در جهان او بود و بس

وہ مرد حق جو کبھی روشن ضمیر بندہ تھا صرف وہی اس دنیا میں تیرا خلیفہ تھا ۔

the godly man with luminous spirit, was alone Your vicegerent in this world.

1414

او به بند نقره و فرزند و زن

گر توانی ، سومنات او شکن

اب وہ مال و دولت اور اولاد و ازدواج کے بندھن میں گرفتار ہے ۔ اگر تجھ سے ہو سکے تو اس کا سومنات گرا ۔

He is bound fast in the love of silver, kith and kin. Shatter this idol house if you can.

1515

این مسلمان از پرستاران کیست

در گریبانش یکی هنگامه نیست

یہ مسلمان کس کے پرستاروں میں سے ہیں کہ ان کے دل میں تو ایک بھی ہنگام نہیں ہے ۔

This Muslim whom does he worship? There’s not the least tumult in his soul.

1616

سینه اش بی سوز و جانش بی خروش

او سرافیل است و صور او خموش

اس کا سینہ بے سوز ہے اورر اسکی روح میں کوئی جوش و جذبہ نہیں ہے ۔ وہ اسرافیل ہے لیکن اس کا صور خاموش ہے ۔

His breast without feeling and spirit without any clamour. He is an Israfil whose trumpet is dumb.

1717

قلب او نا محکم و جانش نژند

در جهان کالای او نا ارجمند

اس کا دل ایمان کی پختگی سے خالی ہے اورا سکی جان پژمردہ ہے اس دنیا میں اس کا سازوسامان بے قیمت ہے ۔

His heart is unstable and soul palsied; his stuff is of no worth in this world.

1818

در مصاف زندگانی بی ثبات

دارد اندر آستین لات و منات

زندگی کے میدان جنگ میں اس کے پاؤں ڈگمگاتے ہیں ۔ وہ اپنی آستین کے اندر لات و منات رکھے ہوئے ہیں ۔

Infirm in the battle of life, bearing idols in his sleeves.

1919

مرگ را چون کافران داند هلاک

آتش او کم بها مانند خاک

موت کو وہ کافروں کی طرح زندگی کو ختم کر دینے والی سمجھتا ہے ۔ اس کی آگ خاک کی مانند تپش سے خالی ہے ۔

Like the infidels he regards death as mortal. His fire is of little worth like dust.

2020

شعله ئی از خاک او باز آفرین

آن طلب آن جستجو باز آفرین

اس کی خاک سے دوبارہ شعلہ پیدا کیجئے ۔ اس کی وہ طلب اور جستجو واپس لائیے ۔

Raise again a flame from his inert clay, that very urge to search and search once more.

2121

باز جذب اندرون او را بده

آن جنون ذوفنون او را بده

پھر اسے پہلے والا جذب اور اندرون و جنون ذوفنون عطا فرمائیے ۔

Grant him again that inner verve, that very manifold zest and zeal.

2222

شرق را کن از وجودش استوار

صبح فردا از گریبانش برآر

مشرق کو اس کے وجود سے استحکام و قوت دیجیے ۔ آنے والے کل کی صبح اس کے گریبان سے طلوع کر ۔

Make the East firm by his self, bring out a new morn from his cellar;

2323

بحر احمر را بچوب او شکاف

از شکوهش لرزه ئی افکن به قاف

بحر احمر کو اس کے عصا سے پھاڑ ڈالیے ۔ اس کے دبدبے سے کوہ و قاف میں زلزلہ طاری کیجیے ۔

split the Red Sea with his staff, let Caucasia Quake with his glory.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

خیزد از دل ناله ها بی اختیار

آه ! آن شهری که اینجا بود پار

علامہ اقبال»مثنوی مسافر»بخش 6 - بر مزار سلطان محمود علیه الرحمه

اگلی نظم

قندهار آن کشور مینو سواد

اهل دل را خاک او خاک مراد

علامہ اقبال»مثنوی مسافر»بخش 8 - قندهار و زیارت خرقهٔ مبارک

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور