صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »مثنوی مسافر
  3. »بخش 8 - قندهار و زیارت خرقهٔ مبارک

بخش 8 - قندهار و زیارت خرقهٔ مبارک

Seeing the Prophet's garb at Qandhar

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: بشیر احمد
بند 1
Toggle stanza 1
1

قندهار آن کشور مینو سواد

اهل دل را خاک او خاک مراد

قندھار بہشت صورت علاقہ ہے ۔ اس کی خاک اہل دل کے لیے خاک مراد کا درجہ رکھتی ہے ۔

Qandhar, that place of paradisiac charm, Its dust the heart’s desire of men of heart.

2

رنگ ها ، بوها ، هواها ، آب ها

آب ها تابنده چون سیماب ها

اس علاقہ میں رنگوں ، خوشبووَں ، ہواؤں اور چشموں کی فراوانی ہے اس کا پانی پارے کی طرح چمکتا ہے ۔

These hues, scents, waters! These waters glittering like mercury!

3

لاله ها در خلوت کهسار ها

نارها یخ بسته اندر نارها

لالہ کے پھول اس کے پہاڑوں کی خلوت میں کثرت سے کھلے ہوئے ہیں ۔ انار کے دانے ایسے سرخ ہیں گویا وہ یخ بستہ آگ ہوں ۔

Tulips in the coign of the mountains. fires frozen within pomegranates.

4

کوی آن شهر است ما را کوی دوست

ساربان بر بند محمل سوی دوست

اس شہر کا کوچہ ہمارے لیے محبوب کا کوچہ ہے ۔ اے ساربان محبوب کی طرف چلنے کے لیے اونٹ پر محمل باندھ

Its streets the streets of the friend for us, O camel driver, set the litter for the beautiful one.

5

می سرایم دیگر از یاران نجد

از نوائی ، ناقه را آرم به وجد

میں پھر یاران نجد کے نغمے گا تا ہوں اور ان نغموں سے اونٹنی کو وجد میں لاتا ہوں ۔

I sing again of the mates of Najd and bring the dromedary into ecstasy with my chant.

بند 2
غزل
Toggle stanza 2
6

از دیر مغان آیم بی گردش صهباست

در منزل لا بودم از باده الا مست

میں پیر مغاں کے دیر (میخانے) سے شراب پئے بغیر ہی بحالت مستی آ رہا ہوں ۔ میں لا کی منزل میں الا کی شراب سے مست رہا ۔

I come from the temple of Magians intoxicated with the passing of wine. I was inebriate with the wine of illa in the state of la.

7

دانم که نگاه او ظرف همه کس بیند

کرد است مرا ساقی از عشوه و ایما مست

مجھے معلوم ہے کہ اس کی نگاہ ہر ایک کا ظرف دیکھ لیتی ہے ۔ چنانچہ ساقی نے مجھے اپنے ناز و اداہی سے مست کر دیا ہے ۔

I know his eyes perceive the capacity of every person, the saki has made me ecstatic by his blandishment and beckoning.

8

وقت است که بگشایم میخانهٔ رومی باز

پیران حرم دیدم در صحن کلیسا مست

اب وقت آ گیا ہے کہ میں مولانا روم کا میخانہ پھر سے کھول دوں ۔ میں نے پیران حرم کو کلیسا کے صحن میں مست دیکھا ہے ۔

It is time I should again open the tavern of Rumi: I have seen the custodian of the Harem intoxicated in the churchyard.

9

این کار حکیمی نیست دامان کلیمی گیر

صد بندهٔ ساحل مست یک بنده دریا مست

یہ کسی فلسفی کا کام نہیں ہے اس کے لیے کسی کلیم کا دامن تھام ۔ کیونکہ ساحل پر عالم کیف میں ڈوبے ہوئے سو مستوں کے مقابلے میں ایک دریا مست کہیں افضل ہے ۔

It is not the work of a philosopher, catch hold of the hem of a Moses, who conversed with God. A hundred persons enrapt with the shore and but one tipsy with the river.

10

دل را به چمن بردم از باد چمن افسرد

میرد بخیابانها این لالهٔ صحرا مست

میں اپنے دل کو چمن میں لے گیا وہ کھلنے کے بجائے الٹا باغ کی ہوا سے افسردہ ہو گیا ۔ صحرا میں مست رہنے والا یہ لالہ (میرا دل ) پھلواڑیوں میں مرجھا کے رہ جاتا ہے ۔

I took my heart to the garden where it became numb with the breeze It dies in a park, this tulip stimulated by the desert!

11

از حرف دلاویزش اسرار حرم پیدا

دی کافرکی دیدم در وادی بطحا مست

اس کی دل آویز آواز سے حرم کے اسرار ظاہر ہو رہے تھے ۔ کل میں بطحا کی وادی میں ایک کافر کو بے خودی کے عالم میں دیکھا (اپنے متعلق کہہ رہے ہیں ) ۔

From his delightful words, the secrets of the Harem shine out: I saw a mini infidel yesterday intoxicated in the valley of Bat’ha.

12

سینا است که فاران است یارب چه مقام است این

هر ذره خاک من چشمی است تماشا مست

یہ وادی سینا ہے یا فاران کی وادی، یارب یہ کونسی جگہ ہے ۔ کہ میری خاک بدن کا ہر ذرہ آنکھ بن کر مست تماشا ہے ۔

Is this Sinai or Faran? O God, what is this place? Each particle of my dust is an eye lost in beholding the garment of that Interstice that cannot be crossed.

13

خرقهٔ آن «برزخ لایبغیان»

دیدمش در نکتهٔ «لی خرقتان»

وہ جو برزخ لا یبغیان کی گدڑی ہے اسے میں نے لی خرقتان کے نکتہ (عمل صورت) میں دیکھا ۔ میں نے آئینہ شریف میں دو ملے ہوئے دریا جو الگ الگ رستے میں کی تشریح دیکھی ہے ۔

I behold in his saying—For me two garbs Continence and Jihad;

14

دین او آئین او تفسیر کل

در جبین او خط تقدیر کل

حضور کا دین حضور کا آئین ہر چیز کی تفسیر و تشریح ہے ۔ اور حضور کی پیشانی پر پوری تقدیر کی لکیر موجود ہے ۔

Both his Faith and system expositions of the whole; on his forehead inscribed the destiny of all

15

عقل را او صاحب اسرار کرد

عشق را او تیغ جوهر دار کرد

حضور نے عقل کو صاحب اسرار بنا دیا ۔ عشق کو حضور نے زبردست کاٹ والی تلوار بنا دیا ۔

Intellect made him knower of secrets, and love a matchless sword.

16

کاروان شوق را او منزل است

ما همه یک مشت خاکیم او دل است

عشق کے قافلے کے لیے حضور کی ذات گرامی ایک منزل کی حیثیت رکھتی ہے ۔ ہم سب ایک مٹھی خاک ہیں اور آپ حضور دل ہیں ۔

He is the destination of the caravan of ardour, we are but a pinch of dust and he the heart thereof.

17

آشکارا دیدنش اسرای ماست

در ضمیرش مسجد اقصای ماست

حضور کو آشکارا دیکھنا ہماری معراج ہے ۔ آپ ہی کے ضمیر میں ہماری مسجد اقصیٰ ہے ۔

To see his outside is our asra’, and in his inner self is our Aqsa.

18

آمد از پیراهن او بوی او

داد ما را نعره الله هو

حضور کے لباس سے حضور کی خوشبو آتی ہے ۔ حضور نے ہمیں اللہ ہو کا نعرہ عطا کیا ۔

From his garment I sensed his perfume; he gave us the shout of Allah hu.

19

با دل من شوق بی پروا چه کرد

بادهٔ پر زور با مینا چه کرد

بے پروا عشق نے میرے دل کے ساتھ کیا کیا ۔ تلخ شراب نے صراحی کا کیا حال کیا ۔

What did my reckless love do to my heart? Whatever tempestuous wine to the flask.

20

رقصد اندر سینه از زور جنون

تا ز راه دیده میآید برون

میرا دل سینے میں جنون کی شدت سے رقص کرنے لگا ۔ یہاں تک کہ وہ آنکھوں کے راستے باہر آنے لگا ۔ آنسو بن کر ٹپکنے لگا ۔

It leapt in the breast because of wild rapture till it rushed out of the eyes.

21

گفت «من جبریلم و نور مبین»

پیش ازین او را ندیدم اینچنین

اس دل نے کہا میں جبرئیل ہوں اور نور مبین (آشکارا نور ) ہوں ۔ میں نے اس سے پہلے اسے اس حالت میں نہیں دیکھا تھا ۔

It said: I am Gabriel and radiant light; I never saw him like this before.

22

شعر رومی خواند و خندید و گریست

یا رب این دیوانهٔ فرزانه کیست؟

اس نے رومی کا شعر پڑھا اور پھر وہ پہلے ہنس دیا اور بعد میں رو پڑا ۔ یا الہٰی یہ ہوش مند دیوانہ کون ہے ۔

It recited lines from Rumi, laughed and wept, O God! who is this sage gone wild?

23

در حرم با من سخن زندانه گفت

از می و مغ زاده و پیمانه گفت

حرم میں اس نے مجھ سے رندانہ باتیں کیں ۔ اس نے شراب خوبصورت بچہ اور پیمانے کے بارے میں باتیں کیں ۔

It talked to me so volubly in the sanctuary, talking of wine, Magian pages and wine cups.

24

گفتمش این حرف بیباکانه چیست

لب فرو بند این مقام خامشی ست

میں نے اس سے کہا کہ یہ کیسی بیباکانہ باتیں ہیں ۔ ہونٹ بند کر لے یہ تو خاموشی کا مقام ہے ۔

I asked it what audacious words these be; close your lips for this is a solemn occasion.

25

من ز خون خویش پروردم ترا

صاحب آه سحر کردم ترا

میں نے تجھے اپنے خون سے پالا ہے ۔ تجھے صاحب آہ سحر بنایا ہے ۔

have nurtured you with my blood and made you fit for raising a morning sigh.

26

بازیاب این نکته را ای نکته رس

عشق مردان ضبط احوال است و بس

اے دانا اس گہری بات کو پھر سے سمجھ لے کہ مردوں کا عشق ضبط احوال ہی کا نام ہے اور بس ۔

Note again this point you who understand, the love of disciplined lovers is naught but restraint.

27

گفت عقل و هوش آزار دل است

مستی و وارفتگی کار دل است

اس نے کہا، عقل و ہوش تو دل کے لیے مصیبت ہیں جبکہ دل کا کام تو مستی و وارفتگی ہے ۔

It said: Reason and restraint are a blight for the heart, ecstasy and frenzy are its nature.

28

نعره ها زد تا فتاد اندر سجود

شعلهٔ آواز او بود او نبود

اس نے نعرے لگائے پھر سجدے میں گر گیا اس کی آواز کا شعلہ تھا وہ خود نہیں تھا ۔

It raised shouts upon shouts till it fell into prostration; there was only the flame of its voice but itself no more!

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

لاله بهر یک شعاع آفتاب

دارد اندر شاخ چندین پیچ و تاب

علامہ اقبال»مثنوی مسافر»بخش 7 - مناجات مرد شوریده در ویرانهٔ غزنی

اگلی نظم

تربت آن خسرو روشن ضمیر

از ضمیرش ملتی صورت پذیر

علامہ اقبال»مثنوی مسافر»بخش 9 - بر مزار حضرت احمد شاه بابا علیه الرحمه مؤسس ملت افغانیه

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور