برمزار حضرت احمد شاہ بابا علیہ الرحمتہ موسئس ملت افغانیہ
At the Mausoleum of Ahmad Shah Baba Founder of the Afghan Nation
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
تربت آن خسرو روشن ضمیر
از ضمیرش ملتی صورت پذیر
یہ روشن دل بادشاہ کی قبر ہے ۔ اس کے ضمیر سے ایک نئی قوم نے تشکیل پائی ۔
The grave of that enlightened king from whose self a nation arose;
گنبد او را حرم داند سپهر
با فروغ از طوف او سیمای مهر
اس کے مزار کے گنبد کو آسمان حرم سمجھتا ہے (حد درجہ احترام کرتا ہے) اس کے گرد چکر لگانے ہی سے خورشید کی پیشانی منور ہے ۔
its dome is regarded as a sanctuary by the sky,
مثل فاتح آن امیر صف شکن
سکه ئی زد هم به اقلیم سخن
فاتح قسطنطنیہ سلطان محمد فاتح کی طرح اس صف شکن نے شاعری کی دنیا میں اپنا سکہ جمایا ۔
like Fateh, conquerer of Constantinople, this stalwart fighter struck coins in the realm of poetry even;
ملتی را داد ذوق جستجو
قدسیان تسبیح خوان بر خاک او
اس نے ایک قوم میں طلب و جستجو کا ذوق پیدا کیا ۔ فرشتے اس کی خاک مزار یعنی تربت پر تسبیح خواں ہیں ۔
angels invoke blessings on his grave. By the munificent heart and pearl‐scattering hand he had
از دل و دست گهر ریزی که داشت
سلطنت ها برد و بی پروا گذاشت
اپنے اور اپنے موتی لٹانے والے ہاتھوں سے اس نے دل کی سلطنتوں کو فتح کیا اور خوب بے نیازی کی زندگی بسر کی ۔
he acquired realms and gave them away without taking any thought
نکته سنج و عارف و شمشیر زن
روح پاکش با من آمد در سخن
وہ فہم و فراست کا مالک ، ایک عارف اور جنگجو تھا ۔ اس کی پاک روح نے میرے ساتھ گفتگو کی ۔
A connoisseur, a seer and wielder of the sword, his soul fell into talk with me.
گفت می دانم مقام تو کجاست
نغمهٔ تو خاکیان را کیمیاست
اس نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ تیرا مقام کیا ہے ۔ تیرے اشعار انسانوں کے لیے کیمیا (اکسیر) ہیں ۔
He said: I know where you stand, your high station; your song is alchemy for denizens of the earth.
خشت و سنگ از فیض تو دارای دل
روشن از گفتار تو سینای دل
وہ انسان جو اینٹ پتھر کی مانند تھے ۔ تیرے فیض سے اہل دل بن گئے ۔ تیری گفتار سے دلوں کا سینہ روشن ہے ۔
Stocks and stones acquire a heart from your bounty, the Sinai of the heart is bright with your speech.
پیش ما ای آشنای کوی دوست
یک نفس بنشین که داری بوی دوست
اے دوست کے کوچے کے آشنا تھوڑی دیر کے لیے ہمارے پاس بیٹھ کہ تجھ سے دوست کی خوشبو آتی ہے ۔
O you knower of the Friend’s street, come to me, and stay awhile, for you hear the smell of the beloved.
ایخوش آن کو از خودی آئینه ساخت
وندر آن آئینه عالم را شناخت
خوش قسمت ہے وہ شخص جس نے خودی کا آئینہ تیار کیا اور اس آئینے میں اس نے دنیا کو دیکھا اور پہچانا ۔
Happy he who made the self his mirror and in that recognised the world.
پیر گردید این زمین و این سپهر
ماه کور از کور چشمیهای مهر
یہ زمین اور یہ آسمان بوڑھے ہو چکے ہیں ۔ چاند سورج کے اندھے پن سے تاریک ہو گیا ۔
This earth and the sky have grown old, the moon has become blind because of the indifference of the sun.
گرمی هنگامه ئی می بایدش
تا نخستین رنگ و بو باز آیدش
اسے اب بے حد جوش و لولہ کی ضرورت ہے تا کہ اس میں وہ پہلی سی رونق اور آب و تاب پھر واپس آئے ۔
There is need of the heat of commotion now so that the pristine hue and scent should come back.
بندهٔ مؤمن سرافیلی کند
بانگ او هر کهنه را برهم زند
بندہ مومن حضرت اسرافیل کی طرح صور پھونکتا ہے جسکی آواز ہر قدیم چیز کو درہم برہم کر کے رکھ دیتی ہے ۔
A true believer acts like Israfil whose trumpet shatters every thing old.
ای ترا حق داد جان ناشکیب
تو ز سر ملک و دین داری نصیب
اے وہ شخص (اقبال) تجھے اللہ نے ایک جان بے قرار عطا کی ہے اور تجھے ملک اور دین کے بھید سے باخبر کیا ہے ۔
O you whom God has granted a restless spirit, you know the secrets of rulership and Faith,
فاش گو با پور نادر فاش گوی
باطن خود را به ظاهر فاش گوی
تو نادر شاہ کے بیٹے کو کھل کر بتا ہاں کھل کر بات کر اور اپنے دل کی بات کو ظاہر (شاہ) پر فاش کر دے ۔
tell, O tell the son of Nadir patently; disclose what is in your mind to Zahir unreservedly.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور