صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »مثنوی مسافر
  3. »بخش 9 - بر مزار حضرت احمد شاه بابا علیه الرحمه مؤسس ملت افغانیه

بخش 9 - بر مزار حضرت احمد شاه بابا علیه الرحمه مؤسس ملت افغانیه

برمزار حضرت احمد شاہ بابا علیہ الرحمتہ موسئس ملت افغانیہ

At the Mausoleum of Ahmad Shah Baba Founder of the Afghan Nation

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: بشیر احمد
Toggle stanza 1
11

تربت آن خسرو روشن ضمیر

از ضمیرش ملتی صورت پذیر

یہ روشن دل بادشاہ کی قبر ہے ۔ اس کے ضمیر سے ایک نئی قوم نے تشکیل پائی ۔

The grave of that enlightened king from whose self a nation arose;

22

گنبد او را حرم داند سپهر

با فروغ از طوف او سیمای مهر

اس کے مزار کے گنبد کو آسمان حرم سمجھتا ہے (حد درجہ احترام کرتا ہے) اس کے گرد چکر لگانے ہی سے خورشید کی پیشانی منور ہے ۔

its dome is regarded as a sanctuary by the sky,

33

مثل فاتح آن امیر صف شکن

سکه ئی زد هم به اقلیم سخن

فاتح قسطنطنیہ سلطان محمد فاتح کی طرح اس صف شکن نے شاعری کی دنیا میں اپنا سکہ جمایا ۔

like Fateh, conquerer of Constantinople, this stalwart fighter struck coins in the realm of poetry even;

44

ملتی را داد ذوق جستجو

قدسیان تسبیح خوان بر خاک او

اس نے ایک قوم میں طلب و جستجو کا ذوق پیدا کیا ۔ فرشتے اس کی خاک مزار یعنی تربت پر تسبیح خواں ہیں ۔

angels invoke blessings on his grave. By the munificent heart and pearl‐scattering hand he had

55

از دل و دست گهر ریزی که داشت

سلطنت ها برد و بی پروا گذاشت

اپنے اور اپنے موتی لٹانے والے ہاتھوں سے اس نے دل کی سلطنتوں کو فتح کیا اور خوب بے نیازی کی زندگی بسر کی ۔

he acquired realms and gave them away without taking any thought

66

نکته سنج و عارف و شمشیر زن

روح پاکش با من آمد در سخن

وہ فہم و فراست کا مالک ، ایک عارف اور جنگجو تھا ۔ اس کی پاک روح نے میرے ساتھ گفتگو کی ۔

A connoisseur, a seer and wielder of the sword, his soul fell into talk with me.

77

گفت می دانم مقام تو کجاست

نغمهٔ تو خاکیان را کیمیاست

اس نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ تیرا مقام کیا ہے ۔ تیرے اشعار انسانوں کے لیے کیمیا (اکسیر) ہیں ۔

He said: I know where you stand, your high station; your song is alchemy for denizens of the earth.

88

خشت و سنگ از فیض تو دارای دل

روشن از گفتار تو سینای دل

وہ انسان جو اینٹ پتھر کی مانند تھے ۔ تیرے فیض سے اہل دل بن گئے ۔ تیری گفتار سے دلوں کا سینہ روشن ہے ۔

Stocks and stones acquire a heart from your bounty, the Sinai of the heart is bright with your speech.

99

پیش ما ای آشنای کوی دوست

یک نفس بنشین که داری بوی دوست

اے دوست کے کوچے کے آشنا تھوڑی دیر کے لیے ہمارے پاس بیٹھ کہ تجھ سے دوست کی خوشبو آتی ہے ۔

O you knower of the Friend’s street, come to me, and stay awhile, for you hear the smell of the beloved.

1010

ایخوش آن کو از خودی آئینه ساخت

وندر آن آئینه عالم را شناخت

خوش قسمت ہے وہ شخص جس نے خودی کا آئینہ تیار کیا اور اس آئینے میں اس نے دنیا کو دیکھا اور پہچانا ۔

Happy he who made the self his mirror and in that recognised the world.

1111

پیر گردید این زمین و این سپهر

ماه کور از کور چشمیهای مهر

یہ زمین اور یہ آسمان بوڑھے ہو چکے ہیں ۔ چاند سورج کے اندھے پن سے تاریک ہو گیا ۔

This earth and the sky have grown old, the moon has become blind because of the indifference of the sun.

1212

گرمی هنگامه ئی می بایدش

تا نخستین رنگ و بو باز آیدش

اسے اب بے حد جوش و لولہ کی ضرورت ہے تا کہ اس میں وہ پہلی سی رونق اور آب و تاب پھر واپس آئے ۔

There is need of the heat of commotion now so that the pristine hue and scent should come back.

1313

بندهٔ مؤمن سرافیلی کند

بانگ او هر کهنه را برهم زند

بندہ مومن حضرت اسرافیل کی طرح صور پھونکتا ہے جسکی آواز ہر قدیم چیز کو درہم برہم کر کے رکھ دیتی ہے ۔

A true believer acts like Israfil whose trumpet shatters every thing old.

1414

ای ترا حق داد جان ناشکیب

تو ز سر ملک و دین داری نصیب

اے وہ شخص (اقبال) تجھے اللہ نے ایک جان بے قرار عطا کی ہے اور تجھے ملک اور دین کے بھید سے باخبر کیا ہے ۔

O you whom God has granted a restless spirit, you know the secrets of rulership and Faith,

1515

فاش گو با پور نادر فاش گوی

باطن خود را به ظاهر فاش گوی

تو نادر شاہ کے بیٹے کو کھل کر بتا ہاں کھل کر بات کر اور اپنے دل کی بات کو ظاہر (شاہ) پر فاش کر دے ۔

tell, O tell the son of Nadir patently; disclose what is in your mind to Zahir unreservedly.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

قندهار آن کشور مینو سواد

اهل دل را خاک او خاک مراد

علامہ اقبال»مثنوی مسافر»بخش 8 - قندهار و زیارت خرقهٔ مبارک

اگلی نظم

ای قبای پادشاهی بر تو راست

سایهٔ تو خاک ما را کیمیاست

علامہ اقبال»مثنوی مسافر»بخش 10 - خطاب به پادشاه اسلام اعلیحضرت ظاهر شاه «ایده الله بنصره»

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور