بادشاہ اسلام اعلیٰ حضرت ظاہر شاہ سے خطاب ، اللہ تعالیٰ اپنی نصرت سے اسے تقویت پہنچائے
Address to the King of Islam, Zahir Shah , May God bless him with help
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
ای قبای پادشاهی بر تو راست
سایهٔ تو خاک ما را کیمیاست
اے ظاہر شاہ شاہی لباس تجھ پر ٹھیک آیا ہے ، تیرا سایہ ہماری خاک کے لیے اکسیر کا اثر رکھتا ہے ۔
O you on whom the robe of kingship fits well, your shadow is like alchemy for our dust.
خسروی را از وجود تو عیار
سطوت تو ملک و دولت را حصار
بادشاہت کی تیرے وجود سے قدروقیمت ہے، تیرا دبدبہ ملک اور سلطنت کے لیے قلعہ ہے ۔
Your self a standard for ruler ship; your majesty a fortress for the realm and state.
از تو ای سرمایهٔ فتح و ظفر
تخت احمد شاه را شانی دگر
تو کہ فتح و ظفر کا سرمایہ ہے تجھ سے احمد شاہ ابدالی کے تخت کی شان اور ہو گئی ہے ۔
Through you, O the wherewithal of Victory, Ahmad Shah’s throne has acquired new glory.
سینه ها بی مهر تو ویرانه به
از دل و از آرزو بیگانه به
جن سینوں میں تیری محبت نہیں ان کا ویران ہو جانا ہی اچھا ہے ۔ بلکہ ان کا دل اور آرزو سے نا آشنا ہو جانا ہی بہتر ہے ۔
Let the breasts without your love be barren; bereft of heart and aspiration.
آبگون تیغی که داری در کمر
نیم شب از تاب او گردد سحر
یہ جو چمکدار تلوار تیری کمر سے بندھی ہے اس کی چمک سے نصف شب صبح میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔
The bright sword you wear round your waist, even midnight turns into morning with its sheen.
نیک میدانم که تیغ نادر است
من چه گویم باطن او ظاهر است
میں اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ یہ نادر شاہ کی تلوار ہے ۔ کہوں کہ اس کا باطن ہی ظاہر ہے ۔
I know well this rare sword is that of Nadir, what shall I say, its nature is evident.
حرف شوق آورده ام از من پذیر
از فقیری رمز سلطانی بگیر
میں تیرے لیے عشق کی باتیں لایا ہوں ، مجھ سے سن لے ۔ ایک مرد درویش سے بادشاہت کے راز سیکھ ۔
have brought a word of love, accept it from me. learn from a fakir the secret of kingship.
ای نگاه تو ز شاهین تیز تر
گرد این ملک خدا دادی نگر
تیری نگاہ شاہین کی نگاہ سے زیادہ تیزی ہے ۔ اس خداداد سلطنت کے ارد گرد بھی دیکھ ۔
O you whose sight is sharper than that of a falcon, look at the God given land.
این که می بینیم از تقدیر کیست
چیست آن چیزی که میبایست و نیست
یہ جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں ، کس کی تقدیر میں کیا ہے وہ کونسی شے ہے جو ہونی چاہیے اور نہیں ہے
What we see is by whose dispensation? What is it that ought to be but is not?
روز و شب آئینهٔ تدبیر ماست
روز و شب آئینهٔ تقدیر ماست
دن اور رات ہماری تقدیر اور تقدیر کے آئینہ دار ہیں ۔
Days and nights are a reflection of our endeavours; these are the mirror of our destiny.
با تو گویم ای جوان سخت کوش
چیست فردا؟ دختر امروز و دوش
اے جفاکش نوجوان میں تجھ سے کہتا ہوں کہ مستقبل کیا ہے وہ آج اور کل کی بیٹی ہے ۔
I tell you, O stubborn young man, what is the future but a child of today
هر که خود را صاحب امروز کرد
گرد او گردد سپهر گرد گرد
یہ سراپا غبار آسمان اس کے گرد گردش کرتا ہے جو آج کا مالک ہوتا ہے ۔
the sky fold upon fold revolves around him?
او جهان رنگ و بو را آبروست
دوش ازو ، امروز ازو، فردا ازوست
اس کا وجود اس دنیا کے لیے باعث عزت ہے، ماضی بھی اس کا ہے اور حال بھی اسی کا اور آنے والا کل بھی اسی کا ہو گا ۔
He is the glory of the world of hue and scent, the day gone by, today and morrow, all are his.
مرد حق سرمایهٔ روز و شب است
زانکه او تقدیر خود را کوکب است
مرد حق روز و شب کا سرمایہ ہے کیونکہ وہ خود اپنی تقدیر کا ستارہ ہے ۔
A votary of God is the soul and substance of day and night because he is the star governing his destiny.
بندهٔ صاحب نظر پیر امم
چشم او بینای تقدیر امم
صاحب نظر انسان امتوں کا قائد و رہنما ہے ، اس کی نگاہ قوموں کی تقدیر کو دیکھ لیتی ہے ۔
A discerning person, chief of the nation,
از نگاهش تیز تر شمشیر نیست
ما همه نخچیر ، او نخچیر نیست
تلوار کی تیزی اس کی نگاہ سے زیادہ تیز نہیں ہے ۔ ہم سب شکار ہیں لیکن وہ شکار نہیں ہے ۔
no sword is sharper than his sight; we are all quarries but he is not.
لرزد از اندیشهٔ آن پخته کار
حادثات اندر بطون روزگار
اس پختہ کار کے افکار سے وہ حادثات جو ابھی زمانے کے شکموں میں ہیں لرزتے ہیں ۔
By the thought of this seasoned one events quake in the womb of time.
چون پدر اهل هنر را دوست دار
بندهٔ صاحب نظر را دوست دار
اپنے باپ کی مانند اہل ہنر سے دوستی رکھ، صاحب بصیرت انسان کو اپنا دوست رکھ ۔
Accomplished men befriend like your father, and those who have a deep insight.
همچو آن خلد آشیان بیدار زی
سخت کوش و پر دم و کرار زی
اپنے خلد آشیان باپ کی مانند بیداری کی زندگی بسر کر ، زبردست جدوجہد کر اور ان تھک اور کراری کی زندگی بسر کر ۔
Like that departed one be wide awake, striving hard, spirited and intrepid.
می شناسی معنی کرار چیست؟
این مقامی از مقامات علی است
کیا تو سمجھتا ہے کہ کرار کے معنی کیا ہیں ۔ یہ حضرت علی کے مقامات میں سے ایک مرتبہ ہے ۔
Do you know what is meant by Karrar (knight veteran)? It is one of the high stations of Ali.
امتان را در جهان بی ثبات
نیست ممکن جز به کراری حیات
اس فانی دنیا میں قوموں کے لیے کراری کے بغیر زندہ رہنا ممکن نہیں ۔
For nations in this ephemeral world, life is not possible without this indispensable sterling quality.
سر گذشت آل عثمان را نگر
از فریب غربیان خونین جگر
آل عثمان کی سرگزشت پر نظر ڈال، وہ مغربیوں کے مکر و فریب سے لگائے ہوئے زخم سے خونیں جگر ہیں ۔
Look at the annals of the Ottomans who lapped at the bled hands of the Europeans.
تا ز کراری نصیبی داشتند
در جهان ، دیگر علم افراشتند
جب تک وہ آل عثمان کراری سے بہرہ ور رہے انھوں نے دنیا میں اور انداز کا جھنڈا گاڑا ۔
Since they possessed material spirit, they flew their banner in the world once more.
مسلم هندی چرا میدان گذاشت؟
همت او بوی کراری نداشت
برصغیر کا مسلمان میدان سے کیوں پیچھے ہٹ گیا اس لیے کہ اس کی ہمت کراری کی خوشبو یا خوبی نہ رکھتی تھی ۔
Why did the Mussulmans of India lose ground? Their mettle lacked the stimulus of fighting spirit.
مشت خاکش آنچنان گردیده سرد
گرمی آواز من کاری نکرد
اس کی مشت خاک، کچھ اس قدر سرد ہو گئی کہ میری آواز کی گرمی نے اس پر کچھ اثر نہ کیا ۔
Their pinch of dust waxed so cold that my fiery muse bore no effect on them.
ذکر و فکر نادری در خون تست
قاهری با دلبری در خون تست
نادر شاہ کا ذکر و فکر اور دلبری کے ساتھ قاہری تیرے خون میں ہے ۔ جلال کے ساتھ ساتھ تیری فطرت میں جمالی کیفیت بھی ہے ۔
The spirit and thought of Nadir are in your blood. Sternness with geniality pervades you.
ای فروغ دیدهٔ برنا و پیر
سرکار از هاشم و محمود گیر
تو جوانوں اور بوڑھوں کی آنکھ کی روشنی ہے۔ رموزِ سلطنت ہاشم اور محمود سے سیکھ۔
O you the lustre of the eyes of young and old, learn the knack of handling things from Hashim and Mahmud,
هم از آن مردی که اندر کوه و دشت
حق ز تیغ او بلند آوازه گشت
اس آدمی سے بھی رموز سلطنت سیکھ جسکی تلوار نے کوہ و دشت میں حق کا آوازہ بلند کیا ۔
as also from that man with whom the voice of truth rang aloud in hills and plains—Wali.
روز ها ، شب ها تپیدن میتوان
عصر دیگر آفریدن میتوان
دنوں اور راتوں کے دوران تڑپا جا سکتا ہے اور ایک نیا زمانہ پیدا کیا جا سکتا ہے ۔
We can be restless day and night and create a new age.
صد جهان باقی است در قرآن هنوز
اندر آیاتش یکی خود را بسوز
قرآن کریم میں ابھی سینکڑوں جہان باقی ہیں ۔ تو ذرا اس قرآن کی آیات کے سوز سے گرمی حاصل کر ۔
There are a hundred worlds still in the Quran, burn yourself a little in the flames of its verses.
باز افغان را از آن سوزی بده
عصر او را صبح نو روزی بده
پھر اس سوز کا کچھ حصہ افغانیوں کو دے ۔ اس کے زمانے کو ایک نئے دن کا اجالا دے ۔
Give again the Afghans a new fiery spirit, give their time a New Year’s day.
ملتی گم گشتهٔ کوه و کمر
از جبینش دیده ام چیزی دگر
پہاڑوں اور وادیوں میں منتشر اس ملت افغان کی پیشانی پر مجھے کچھ اور ہی چیز نظر آئی ہے ۔
A nation lost in hills and cliffs. I have observed a new thing in its forehead.
زانکه بود اندر دل من سوز و درد
حق ز تقدیرش مرا آگاه کرد
چونکہ میرے دل میں سوز و درد تھا اس لیے خدا نے مجھے ان کی تقدیر سے آگاہ کر دیا ہے ۔
Since there was an intense feeling in me, God has made me aware of its destiny.
کاروبارش را نکو سنجیده ام
آنچه پنهان است پیدا دیده ام
میں نے ان کے معاملات کو اچھی طرح دیکھا ہے ، میں نے وہ بھی دیکھا ہے جو دوسروں کی نظر سے پنہاں ہے ۔
I have carefully scanned its affairs and perceived clearly what is hidden.
مرد میدان زنده از الله هوست
زیر پای او جهان چار سوست
مرد میدان اللہ ہو سے زندہ جاوید ہوتا ہے ، یہ محدود دنیا اس کے پاؤں کے نیچے ہے ۔
A man out in the field remains alive with Allah-hu, under his feet lies the world of four directions.
بنده ئی کو دل بغیرالله نبست
می توان سنگ از زجاج او شکست
وہ بندہ جو غیر اللہ سے دل نہیں لگاتا اس کا شیشہ بھی پتھر کو توڑ سکتا ہے ۔
A person who does not bind himself to other than God, can break a stone with his glass.
او نگنجد در جهان چون و چند
تهمت ساحل به این دریا مبند
وہ اس جہان چون و چند (اسباب) دنیا میں نہیں سماتا ۔ وہ ایسا وسیع سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں ۔
He cannot be contained in this limited world of what and how much. Brand not this river by calling it a bank.
چون ز روی خویش بر گیرد حجاب
او حسابست او ثوابست او عذاب
جب وہ مرد حق اپنے چہرے سے پردہ اٹھا دیتا ہے تو وہ خود ہی حشر و حساب ہے ، خود ہی ثواب اور خود ہی عذاب ہوتا ہے ۔
When this masterly person removes the veil from his face, he is himself the reckoning, the reward, the chastisement.
برگ و ساز ما کتاب و حکمت است
این دو قوت اعتبار ملت است
ہمارا اثاثہ حیات قرآن کریم اور حکمت ہے ، انہی دو قوتوں سے ملت اسلامیہ کا وقار ار بھرم ہے ۔
Our whole and sole is the Book and its wisdom; both these powers form the glory of the millat.
آن فتوحات جهان ذوق و شوق
این فتوحات جهان تحت و فوق
اس قرآن سے تو دنیا سے ذوق و شوق کی فتوحات ملتی ہیں ، اور اس سے محدود کائنات پر غلبہ حاصل ہوتا ہے ۔
The Book spells the victories of the world of ardent inspiration, this, the wisdom, determines the success of this world of above and below.
هر دو انعام خدای لایزال
مؤمنان را آن جمال است این جلال
دونوں چیزیں (کتاب و حکمت) اس خداے قیوم کی نعمتیں ہیں ، مردا حق کے لیے ایک جمال ہے اور دوسرا جلال ہے ۔
Both are the bounties of the eternal God; for believers one is all grace and the other majesty.
حکمت اشیا فرنگی زاد نیست
اصل او جز لذت ایجاد نیست
اشیا کی ماہیت جاننے کا آغاز فرنگیوں سے نہیں ہوا ۔ اس کی بنیاد صرف نئی دریافت کی لذت ہے ۔ اس کی اصل و اساس تو نت نئی چیز کو وجود میں لانے اور دریافت کرنے کی لذت کے سوا اور کچھ نہیں ۔
The knowledge of things is not European in origin, its root is the zest for invention.
نیک اگر بینی مسلمان زاده است
این گهر از دست ما افتاده است
اگر تو غور سے دیکھے تو یہ مسلمانوں کی پیدا کردہ ہے ۔ یہ موتی ہمارے ہی ہاتھ سے گرا ہے ۔
If you see well, it owes its existence to the Muslims, this pearl has fallen from our hands.
چون عرب اندر اروپا پر گشاد
علم و حکمت را بنا دیگر نهاد
جب عربوں نے یورپ میں بھی اپنے جھنڈے گاڑ دیے تو انھوں نے وہاں نئے انداز سے علم و حکمت کی بنیاد رکھی ۔
When the Arabs spread their wings in the West, they laid a new foundation for learning and knowledge.
دانه آن صحرا نشینان کاشتند
حاصلش افرنگیان برداشتند
یہ بیج تو عرب نشینوں نے بویا تھا لیکن اس کا حاصل یورپ نے اٹھا لیا ۔
The seed was sown by these dwellers of the desert, but the harvest was reaped by the Europeans.
این پری از شیشه اسلاف ماست
باز صیدش کن که او از قاف ماست
یہ پری علم و حکمت ہمارے ہی آبا وَ اجداد کے شیشے سے باہر آئی ہے ۔ تو اسے دوبارہ شکار کر کیونکہ یہ ہمارے ہی کوہ قاف کی پری ہے ۔
This fairy sprang from the glass of our ancestors; win her again because she hailed from our Caucasia.
لیکن از تهذیب لا دینی گریز
زانکه او با اهل حق دارد ستیز
البتہ لادینی تہذیب سے بچ کیونکہ وہ اہل حق کے ساتھ دشمنی رکھتی ہے ۔
But get away from a faithless civilisation because it is at war with men of God.
فتنه ها این فتنه پرداز آورد
لات و عزی در حرم باز آورد
اس فتنہ پرور نے کئی فتنے اٹھائے ہیں ۔ یہ حرم میں لات و عزیٰ کو دوبارہ لے آئی ہے ۔
This mischief monger brings forth mischief, bringing back the idols Lat and Uzza to the Ka‘bah.
از فسونش دیدهٔ دل نا بصیر
روح از بی آبی او تشنه میر
اس کے جادو سے دل کی آنکھیں اندھی ہو جاتی ہیں ۔ اور اس کی بے آبی سے روح پیاسی مر جاتی ہے ۔
By its sorcery the eye of the heart is made blind; the spirit dies of thirst for lack of water.
لذت بیتابی از دل می برد
بلکه دل زین پیکر گل می برد
یہ دل سے بیتابی کی لذت چھین لیتی ہے ۔ یہی نہیں بلکہ مٹی کے اس بدن سے دل کو نکال لیتی ہے ۔
It takes away the joy of restlessness of the heart, nay, the heart itself from the body!
کهنه دزدی غارت او برملا ست
لاله می نالد که داغ من کجاست
یہ ایک کہنہ مشق چور ہے جو برملا لوٹ مار کرتا ہے ۔ لالہ بھی اس کی لوٹ سے نہیں بچا، وہ بھی اپنا داغ ڈھونڈتا پھرتا ہے کدھر غائب ہو گیا ۔
An old thief, it loots with open hands, the tulip wails where is my dot?
حق نصیب تو کند ذوق حضور
باز گویم آنچه گفتم در زبور
اللہ تعالیٰ تجھے ذوق حضور نصیب فرمائے ۔ میں یہاں دوبارہ کہتا ہوں جو کچھ میں نے زبور عجم میں کہا ہے ۔
Let God grant you the zest for the Presence– I tell you again what I said in the Persian Psalms
«مردن و هم زیستن ای نکته رس
این همه از اعتبارات است و بس
اے مرد دانا ۔ یہ مرنا بھی اور جینا بھی محض اعتبارات سے ہے ۔
“Living and dying, O discerning one, are but arbitrary categories;
مرد کر سوز نوا را مرده ئی
لذت صوت و صدا را مرده ئی
نغمے کے سوز سے بڑا آدمی بے بہرہ ہے ۔ آواز اور نغمے کی لذت کے اعتبار سے مردہ ہے ۔
A deaf person is dead in respect of sound, knowing not what it means. He is senseless to sound.
پیش چنگی مست و مسرور است کور
پیش رنگی زنده در گور است کور
یہ اندھا انسان ساز و آواز سے تو لطف اندوز ہو لیتا ہے لیکن رنگ کے سامنے وہ باوجود زندہ ہونے کے مردہ ہے ۔
A blind man goes into ecstasy on hearing a harp, but he is as good as dead before colour.
روح باحق زنده و پاینده است
ورنه این را مرده ، آن را زنده است
روح، حق کے ساتھ رہ کر ہی زندہ جاوید ہو سکتی ہے ۔ ورنہ کفار کی روح مردہ اور صاحب ایمان کی زندہ ہے ۔
The spirit is alive and endures with God; otherwise it is dead for this and living for that.
آنکه «حی لایموت» آمد حق است
زیستن با حق حیات مطلق است
وہ جو باقی و قائم ہے جسے موت نہیں ہے وہ حق ہی ہے ۔ حق کے ساتھ زندہ رہنا ہی حیات مطلق پا لینا ہے ۔
He who is Living without death is God; to live with God is life absolute.
هر که بی حق زیست جز مردار نیست
گرچه کس در ماتم او زار نیست»
جس کسی نے حق کے بغیر زندگی بسر کی وہ گویا مردار کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔ اگرچہ کوئی بھی اس کا ماتم نہیں کرتا ۔
He who lives without God is nothing but a corpse, although no one laments him.”
برخور از قرآن اگر خواهی ثبات
در ضمیرش دیده ام آب حیات
اگر تو حیات ابدی کی خواہش رکھتا ہے تو قرآن کریم سے استفادہ کر میں نے اس کے اندر آب حیات دیکھا ہے ۔
Benefit from the Quran if you want to endure, I have seen the Water of Life therein.
می دهد ما را پیام «لاتخف»
می رساند بر مقام لاتخف
وہ قرآن ہمیں لا تخف (نہ ڈر) کا درس دیتا ہے ۔ وہی لاتخف کے مقام و مرتبہ پر پہنچاتا ہے ۔
It gives the message of Fear not, and takes us to this very end point.
قوت سلطان و میر از لااله
هیبت مرد فقیر از لااله
سلطان اور سردار کی قوت میں لا الہ ہی سے ہے ۔ مرد درویش کی ہیبت بھی اسی لا الہ سے ہے ۔
The power of the kings and chiefs arises from la ilah; the awe of fakir arises from it.
تا دو تیغ لا و الا داشتیم
ماسوی الله را نشان نگذاشتیم
جب تک ہمارے پاس لا اور الا کی دو تلواریں رہیں ہم نے غیر اللہ کا نشان تک مٹا دیا ۔
So long as we had the sword of la and illa, we left no trace of other than God.
خاوران از شعلهٔ من روشن است
ای خنک مردی که در عصر من است
مشرق میرے شعلے سے روشن ہے ۔ وہ آدمی مبارک ہے جو میرے دور میں زندہ ہے ۔
The East is bright with my flame; happy he who lives in my age.
از تب و تابم نصیب خود بگیر
بعد ازین ناید چو من مرد فقیر
میرے سوز و درد سے اپنا حصہ حاصل کر اس کے بعد مجھ جیسا قلندر کوئی نہیں آئے گا ۔
Have your share from my flaming self, for no fakir like me will come forth after me!
گوهر دریای قرآن سفته ام
شرح رمز «صبغة الله» گفته ام
میں نے قرآن پا ک کے سمندر سے موتی نکال کر اپنے کلام میں پرویا ہے ۔ میں نے اللہ تعالیٰ کے رنگ کے راز کی تفسیر بیان کی ہے ۔
I have strung the pearls of the Quran and explained the meaning of Divine Colour.
با مسلمانان غمی بخشیده ام
کهنه شاخی را نمی بخشیده ام
میں نے مسلمانوں کو ایک خاص غم بخشا ہے ۔ پرانی شاخ کو میں نے تازگی دی ہے ۔
I have imparted a feeling into the Muslims, providing moisture to an old branch.
عشق من از زندگی دارد سراغ
عقل از صهبای من روشن ایاغ
میرا عشق زندگی کے معانی بیان کرتا ہے ۔ عقل کا پیالہ میری شراب سے روشن ہے ۔
My passion has the mark of life, the intellect acquires lustre from my wine.
نکته های خاطر افروزی که گفت؟
با مسلمان حرف پرسوزی که گفت؟
دل کو جلا بخشنے والی گہری باتیں کس نے کہیں مسلمان سے پرسوز بات کس نے کی ۔
Who has said moving words to the Muslims?
همچو نی نالیدم اندر کوه و دشت
تا مقام خویش بر من فاش گشت
میں بانسری کی طرح پہاڑوں اور جنگلوں میں ر وتا رہا ہوں تب کہیں جا کر مجھ پر میرا مقام واضح ہوا ۔
I cried like a flute in hills and plains until my position became clear to me.
حرف شوق آموختم وا سوختم
آتش افسرده باز افروختم
میں نے عشق کی بات سیکھی، میں جل اٹھا ۔ اس طرح میں نے سرد آگ کو دوبارہ روشن کر دیا ۔
I learnt the word of passion and became afire, I lighted again the extinguished fire.
با من آه صبحگاهی داده اند
سطوت کوهی به کاهی داده اند
مجھے قدرت کی طرف سے آہ صبح گاہی عطا ہوئی ہے ۔ گویا ایک تنکے کو پہاڑ کے سے دبدہ اور وقار سے نوازا گیا ہے ۔
I have been given a sigh of the morning. granting the might of a mountain to a straw.
دارم اندر سینه نور لااله
در شراب من سرور لااله
میں اپنے سینے میں لا الہ کا نور رکھتا ہوں ۔ میری شراب یعنی افکار میں لا الہ کا کیف و سرور ہے
I bear the light of la ilah in my breast, my wine owes its bracing effect to it.
فکر من گردون مسیر از فیض اوست
جوی ساحل ناپذیر از فیض اوست
اسکے فیض سے میری فکر آسمان پر پرواز کر ہی ہے ۔ اس لا الہ کے فیض سے میری ندی بے کنار ہے ۔
My thought is sky traversing by conferment, My stream is averse to the bank thereby.
پس بگیر از باده من یک دو جام
تا درخشی مثل تیغ بی نیام
سو تو میری شراب کے دو ایک جام لے لے ۔ تا کہ تو ننگی تلوار کی طرح چمک اٹھے ۔
Therefore take one or two cups from my brew. so that you should shine like an unsheathed sword.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور