صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »مثنوی مسافر
  3. »بخش 10 - خطاب به پادشاه اسلام اعلیحضرت ظاهر شاه «ایده الله بنصره»

بخش 10 - خطاب به پادشاه اسلام اعلیحضرت ظاهر شاه «ایده الله بنصره»

بادشاہ اسلام اعلیٰ حضرت ظاہر شاہ سے خطاب ، اللہ تعالیٰ اپنی نصرت سے اسے تقویت پہنچائے

Address to the King of Islam, Zahir Shah , May God bless him with help

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: بشیر احمد
Toggle stanza 1
11

ای قبای پادشاهی بر تو راست

سایهٔ تو خاک ما را کیمیاست

اے ظاہر شاہ شاہی لباس تجھ پر ٹھیک آیا ہے ، تیرا سایہ ہماری خاک کے لیے اکسیر کا اثر رکھتا ہے ۔

O you on whom the robe of kingship fits well, your shadow is like alchemy for our dust.

22

خسروی را از وجود تو عیار

سطوت تو ملک و دولت را حصار

بادشاہت کی تیرے وجود سے قدروقیمت ہے، تیرا دبدبہ ملک اور سلطنت کے لیے قلعہ ہے ۔

Your self a standard for ruler ship; your majesty a fortress for the realm and state.

33

از تو ای سرمایهٔ فتح و ظفر

تخت احمد شاه را شانی دگر

تو کہ فتح و ظفر کا سرمایہ ہے تجھ سے احمد شاہ ابدالی کے تخت کی شان اور ہو گئی ہے ۔

Through you, O the wherewithal of Victory, Ahmad Shah’s throne has acquired new glory.

44

سینه ها بی مهر تو ویرانه به

از دل و از آرزو بیگانه به

جن سینوں میں تیری محبت نہیں ان کا ویران ہو جانا ہی اچھا ہے ۔ بلکہ ان کا دل اور آرزو سے نا آشنا ہو جانا ہی بہتر ہے ۔

Let the breasts without your love be barren; bereft of heart and aspiration.

55

آبگون تیغی که داری در کمر

نیم شب از تاب او گردد سحر

یہ جو چمکدار تلوار تیری کمر سے بندھی ہے اس کی چمک سے نصف شب صبح میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔

The bright sword you wear round your waist, even midnight turns into morning with its sheen.

66

نیک میدانم که تیغ نادر است

من چه گویم باطن او ظاهر است

میں اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ یہ نادر شاہ کی تلوار ہے ۔ کہوں کہ اس کا باطن ہی ظاہر ہے ۔

I know well this rare sword is that of Nadir, what shall I say, its nature is evident.

77

حرف شوق آورده ام از من پذیر

از فقیری رمز سلطانی بگیر

میں تیرے لیے عشق کی باتیں لایا ہوں ، مجھ سے سن لے ۔ ایک مرد درویش سے بادشاہت کے راز سیکھ ۔

have brought a word of love, accept it from me. learn from a fakir the secret of kingship.

88

ای نگاه تو ز شاهین تیز تر

گرد این ملک خدا دادی نگر

تیری نگاہ شاہین کی نگاہ سے زیادہ تیزی ہے ۔ اس خداداد سلطنت کے ارد گرد بھی دیکھ ۔

O you whose sight is sharper than that of a falcon, look at the God given land.

99

این که می بینیم از تقدیر کیست

چیست آن چیزی که میبایست و نیست

یہ جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں ، کس کی تقدیر میں کیا ہے وہ کونسی شے ہے جو ہونی چاہیے اور نہیں ہے

What we see is by whose dispensation? What is it that ought to be but is not?

1010

روز و شب آئینهٔ تدبیر ماست

روز و شب آئینهٔ تقدیر ماست

دن اور رات ہماری تقدیر اور تقدیر کے آئینہ دار ہیں ۔

Days and nights are a reflection of our endeavours; these are the mirror of our destiny.

1111

با تو گویم ای جوان سخت کوش

چیست فردا؟ دختر امروز و دوش

اے جفاکش نوجوان میں تجھ سے کہتا ہوں کہ مستقبل کیا ہے وہ آج اور کل کی بیٹی ہے ۔

I tell you, O stubborn young man, what is the future but a child of today

1212

هر که خود را صاحب امروز کرد

گرد او گردد سپهر گرد گرد

یہ سراپا غبار آسمان اس کے گرد گردش کرتا ہے جو آج کا مالک ہوتا ہے ۔

the sky fold upon fold revolves around him?

1313

او جهان رنگ و بو را آبروست

دوش ازو ، امروز ازو، فردا ازوست

اس کا وجود اس دنیا کے لیے باعث عزت ہے، ماضی بھی اس کا ہے اور حال بھی اسی کا اور آنے والا کل بھی اسی کا ہو گا ۔

He is the glory of the world of hue and scent, the day gone by, today and morrow, all are his.

1414

مرد حق سرمایهٔ روز و شب است

زانکه او تقدیر خود را کوکب است

مرد حق روز و شب کا سرمایہ ہے کیونکہ وہ خود اپنی تقدیر کا ستارہ ہے ۔

A votary of God is the soul and substance of day and night because he is the star governing his destiny.

1515

بندهٔ صاحب نظر پیر امم

چشم او بینای تقدیر امم

صاحب نظر انسان امتوں کا قائد و رہنما ہے ، اس کی نگاہ قوموں کی تقدیر کو دیکھ لیتی ہے ۔

A discerning person, chief of the nation,

1616

از نگاهش تیز تر شمشیر نیست

ما همه نخچیر ، او نخچیر نیست

تلوار کی تیزی اس کی نگاہ سے زیادہ تیز نہیں ہے ۔ ہم سب شکار ہیں لیکن وہ شکار نہیں ہے ۔

no sword is sharper than his sight; we are all quarries but he is not.

1717

لرزد از اندیشهٔ آن پخته کار

حادثات اندر بطون روزگار

اس پختہ کار کے افکار سے وہ حادثات جو ابھی زمانے کے شکموں میں ہیں لرزتے ہیں ۔

By the thought of this seasoned one events quake in the womb of time.

1818

چون پدر اهل هنر را دوست دار

بندهٔ صاحب نظر را دوست دار

اپنے باپ کی مانند اہل ہنر سے دوستی رکھ، صاحب بصیرت انسان کو اپنا دوست رکھ ۔

Accomplished men befriend like your father, and those who have a deep insight.

1919

همچو آن خلد آشیان بیدار زی

سخت کوش و پر دم و کرار زی

اپنے خلد آشیان باپ کی مانند بیداری کی زندگی بسر کر ، زبردست جدوجہد کر اور ان تھک اور کراری کی زندگی بسر کر ۔

Like that departed one be wide awake, striving hard, spirited and intrepid.

2020

می شناسی معنی کرار چیست؟

این مقامی از مقامات علی است

کیا تو سمجھتا ہے کہ کرار کے معنی کیا ہیں ۔ یہ حضرت علی کے مقامات میں سے ایک مرتبہ ہے ۔

Do you know what is meant by Karrar (knight veteran)? It is one of the high stations of Ali.

2121

امتان را در جهان بی ثبات

نیست ممکن جز به کراری حیات

اس فانی دنیا میں قوموں کے لیے کراری کے بغیر زندہ رہنا ممکن نہیں ۔

For nations in this ephemeral world, life is not possible without this indispensable sterling quality.

2222

سر گذشت آل عثمان را نگر

از فریب غربیان خونین جگر

آل عثمان کی سرگزشت پر نظر ڈال، وہ مغربیوں کے مکر و فریب سے لگائے ہوئے زخم سے خونیں جگر ہیں ۔

Look at the annals of the Ottomans who lapped at the bled hands of the Europeans.

2323

تا ز کراری نصیبی داشتند

در جهان ، دیگر علم افراشتند

جب تک وہ آل عثمان کراری سے بہرہ ور رہے انھوں نے دنیا میں اور انداز کا جھنڈا گاڑا ۔

Since they possessed material spirit, they flew their banner in the world once more.

2424

مسلم هندی چرا میدان گذاشت؟

همت او بوی کراری نداشت

برصغیر کا مسلمان میدان سے کیوں پیچھے ہٹ گیا اس لیے کہ اس کی ہمت کراری کی خوشبو یا خوبی نہ رکھتی تھی ۔

Why did the Mussulmans of India lose ground? Their mettle lacked the stimulus of fighting spirit.

2525

مشت خاکش آنچنان گردیده سرد

گرمی آواز من کاری نکرد

اس کی مشت خاک، کچھ اس قدر سرد ہو گئی کہ میری آواز کی گرمی نے اس پر کچھ اثر نہ کیا ۔

Their pinch of dust waxed so cold that my fiery muse bore no effect on them.

2626

ذکر و فکر نادری در خون تست

قاهری با دلبری در خون تست

نادر شاہ کا ذکر و فکر اور دلبری کے ساتھ قاہری تیرے خون میں ہے ۔ جلال کے ساتھ ساتھ تیری فطرت میں جمالی کیفیت بھی ہے ۔

The spirit and thought of Nadir are in your blood. Sternness with geniality pervades you.

2727

ای فروغ دیدهٔ برنا و پیر

سرکار از هاشم و محمود گیر

تو جوانوں اور بوڑھوں کی آنکھ کی روشنی ہے۔ رموزِ سلطنت ہاشم اور محمود سے سیکھ۔

O you the lustre of the eyes of young and old, learn the knack of handling things from Hashim and Mahmud,

2828

هم از آن مردی که اندر کوه و دشت

حق ز تیغ او بلند آوازه گشت

اس آدمی سے بھی رموز سلطنت سیکھ جسکی تلوار نے کوہ و دشت میں حق کا آوازہ بلند کیا ۔

as also from that man with whom the voice of truth rang aloud in hills and plains—Wali.

2929

روز ها ، شب ها تپیدن میتوان

عصر دیگر آفریدن میتوان

دنوں اور راتوں کے دوران تڑپا جا سکتا ہے اور ایک نیا زمانہ پیدا کیا جا سکتا ہے ۔

We can be restless day and night and create a new age.

3030

صد جهان باقی است در قرآن هنوز

اندر آیاتش یکی خود را بسوز

قرآن کریم میں ابھی سینکڑوں جہان باقی ہیں ۔ تو ذرا اس قرآن کی آیات کے سوز سے گرمی حاصل کر ۔

There are a hundred worlds still in the Quran, burn yourself a little in the flames of its verses.

3131

باز افغان را از آن سوزی بده

عصر او را صبح نو روزی بده

پھر اس سوز کا کچھ حصہ افغانیوں کو دے ۔ اس کے زمانے کو ایک نئے دن کا اجالا دے ۔

Give again the Afghans a new fiery spirit, give their time a New Year’s day.

3232

ملتی گم گشتهٔ کوه و کمر

از جبینش دیده ام چیزی دگر

پہاڑوں اور وادیوں میں منتشر اس ملت افغان کی پیشانی پر مجھے کچھ اور ہی چیز نظر آئی ہے ۔

A nation lost in hills and cliffs. I have observed a new thing in its forehead.

3333

زانکه بود اندر دل من سوز و درد

حق ز تقدیرش مرا آگاه کرد

چونکہ میرے دل میں سوز و درد تھا اس لیے خدا نے مجھے ان کی تقدیر سے آگاہ کر دیا ہے ۔

Since there was an intense feeling in me, God has made me aware of its destiny.

3434

کاروبارش را نکو سنجیده ام

آنچه پنهان است پیدا دیده ام

میں نے ان کے معاملات کو اچھی طرح دیکھا ہے ، میں نے وہ بھی دیکھا ہے جو دوسروں کی نظر سے پنہاں ہے ۔

I have carefully scanned its affairs and perceived clearly what is hidden.

3535

مرد میدان زنده از الله هوست

زیر پای او جهان چار سوست

مرد میدان اللہ ہو سے زندہ جاوید ہوتا ہے ، یہ محدود دنیا اس کے پاؤں کے نیچے ہے ۔

A man out in the field remains alive with Allah-hu, under his feet lies the world of four directions.

3636

بنده ئی کو دل بغیرالله نبست

می توان سنگ از زجاج او شکست

وہ بندہ جو غیر اللہ سے دل نہیں لگاتا اس کا شیشہ بھی پتھر کو توڑ سکتا ہے ۔

A person who does not bind himself to other than God, can break a stone with his glass.

3737

او نگنجد در جهان چون و چند

تهمت ساحل به این دریا مبند

وہ اس جہان چون و چند (اسباب) دنیا میں نہیں سماتا ۔ وہ ایسا وسیع سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں ۔

He cannot be contained in this limited world of what and how much. Brand not this river by calling it a bank.

3838

چون ز روی خویش بر گیرد حجاب

او حسابست او ثوابست او عذاب

جب وہ مرد حق اپنے چہرے سے پردہ اٹھا دیتا ہے تو وہ خود ہی حشر و حساب ہے ، خود ہی ثواب اور خود ہی عذاب ہوتا ہے ۔

When this masterly person removes the veil from his face, he is himself the reckoning, the reward, the chastisement.

3939

برگ و ساز ما کتاب و حکمت است

این دو قوت اعتبار ملت است

ہمارا اثاثہ حیات قرآن کریم اور حکمت ہے ، انہی دو قوتوں سے ملت اسلامیہ کا وقار ار بھرم ہے ۔

Our whole and sole is the Book and its wisdom; both these powers form the glory of the millat.

4040

آن فتوحات جهان ذوق و شوق

این فتوحات جهان تحت و فوق

اس قرآن سے تو دنیا سے ذوق و شوق کی فتوحات ملتی ہیں ، اور اس سے محدود کائنات پر غلبہ حاصل ہوتا ہے ۔

The Book spells the victories of the world of ardent inspiration, this, the wisdom, determines the success of this world of above and below.

4141

هر دو انعام خدای لایزال

مؤمنان را آن جمال است این جلال

دونوں چیزیں (کتاب و حکمت) اس خداے قیوم کی نعمتیں ہیں ، مردا حق کے لیے ایک جمال ہے اور دوسرا جلال ہے ۔

Both are the bounties of the eternal God; for believers one is all grace and the other majesty.

4242

حکمت اشیا فرنگی زاد نیست

اصل او جز لذت ایجاد نیست

اشیا کی ماہیت جاننے کا آغاز فرنگیوں سے نہیں ہوا ۔ اس کی بنیاد صرف نئی دریافت کی لذت ہے ۔ اس کی اصل و اساس تو نت نئی چیز کو وجود میں لانے اور دریافت کرنے کی لذت کے سوا اور کچھ نہیں ۔

The knowledge of things is not European in origin, its root is the zest for invention.

4343

نیک اگر بینی مسلمان زاده است

این گهر از دست ما افتاده است

اگر تو غور سے دیکھے تو یہ مسلمانوں کی پیدا کردہ ہے ۔ یہ موتی ہمارے ہی ہاتھ سے گرا ہے ۔

If you see well, it owes its existence to the Muslims, this pearl has fallen from our hands.

4444

چون عرب اندر اروپا پر گشاد

علم و حکمت را بنا دیگر نهاد

جب عربوں نے یورپ میں بھی اپنے جھنڈے گاڑ دیے تو انھوں نے وہاں نئے انداز سے علم و حکمت کی بنیاد رکھی ۔

When the Arabs spread their wings in the West, they laid a new foundation for learning and knowledge.

4545

دانه آن صحرا نشینان کاشتند

حاصلش افرنگیان برداشتند

یہ بیج تو عرب نشینوں نے بویا تھا لیکن اس کا حاصل یورپ نے اٹھا لیا ۔

The seed was sown by these dwellers of the desert, but the harvest was reaped by the Europeans.

4646

این پری از شیشه اسلاف ماست

باز صیدش کن که او از قاف ماست

یہ پری علم و حکمت ہمارے ہی آبا وَ اجداد کے شیشے سے باہر آئی ہے ۔ تو اسے دوبارہ شکار کر کیونکہ یہ ہمارے ہی کوہ قاف کی پری ہے ۔

This fairy sprang from the glass of our ancestors; win her again because she hailed from our Caucasia.

4747

لیکن از تهذیب لا دینی گریز

زانکه او با اهل حق دارد ستیز

البتہ لادینی تہذیب سے بچ کیونکہ وہ اہل حق کے ساتھ دشمنی رکھتی ہے ۔

But get away from a faithless civilisation because it is at war with men of God.

4848

فتنه ها این فتنه پرداز آورد

لات و عزی در حرم باز آورد

اس فتنہ پرور نے کئی فتنے اٹھائے ہیں ۔ یہ حرم میں لات و عزیٰ کو دوبارہ لے آئی ہے ۔

This mischief monger brings forth mischief, bringing back the idols Lat and Uzza to the Ka‘bah.

4949

از فسونش دیدهٔ دل نا بصیر

روح از بی آبی او تشنه میر

اس کے جادو سے دل کی آنکھیں اندھی ہو جاتی ہیں ۔ اور اس کی بے آبی سے روح پیاسی مر جاتی ہے ۔

By its sorcery the eye of the heart is made blind; the spirit dies of thirst for lack of water.

5050

لذت بیتابی از دل می برد

بلکه دل زین پیکر گل می برد

یہ دل سے بیتابی کی لذت چھین لیتی ہے ۔ یہی نہیں بلکہ مٹی کے اس بدن سے دل کو نکال لیتی ہے ۔

It takes away the joy of restlessness of the heart, nay, the heart itself from the body!

5151

کهنه دزدی غارت او برملا ست

لاله می نالد که داغ من کجاست

یہ ایک کہنہ مشق چور ہے جو برملا لوٹ مار کرتا ہے ۔ لالہ بھی اس کی لوٹ سے نہیں بچا، وہ بھی اپنا داغ ڈھونڈتا پھرتا ہے کدھر غائب ہو گیا ۔

An old thief, it loots with open hands, the tulip wails where is my dot?

5252

حق نصیب تو کند ذوق حضور

باز گویم آنچه گفتم در زبور

اللہ تعالیٰ تجھے ذوق حضور نصیب فرمائے ۔ میں یہاں دوبارہ کہتا ہوں جو کچھ میں نے زبور عجم میں کہا ہے ۔

Let God grant you the zest for the Presence– I tell you again what I said in the Persian Psalms

5353

«مردن و هم زیستن ای نکته رس

این همه از اعتبارات است و بس

اے مرد دانا ۔ یہ مرنا بھی اور جینا بھی محض اعتبارات سے ہے ۔

“Living and dying, O discerning one, are but arbitrary categories;

5454

مرد کر سوز نوا را مرده ئی

لذت صوت و صدا را مرده ئی

نغمے کے سوز سے بڑا آدمی بے بہرہ ہے ۔ آواز اور نغمے کی لذت کے اعتبار سے مردہ ہے ۔

A deaf person is dead in respect of sound, knowing not what it means. He is senseless to sound.

5555

پیش چنگی مست و مسرور است کور

پیش رنگی زنده در گور است کور

یہ اندھا انسان ساز و آواز سے تو لطف اندوز ہو لیتا ہے لیکن رنگ کے سامنے وہ باوجود زندہ ہونے کے مردہ ہے ۔

A blind man goes into ecstasy on hearing a harp, but he is as good as dead before colour.

5656

روح باحق زنده و پاینده است

ورنه این را مرده ، آن را زنده است

روح، حق کے ساتھ رہ کر ہی زندہ جاوید ہو سکتی ہے ۔ ورنہ کفار کی روح مردہ اور صاحب ایمان کی زندہ ہے ۔

The spirit is alive and endures with God; otherwise it is dead for this and living for that.

5757

آنکه «حی لایموت» آمد حق است

زیستن با حق حیات مطلق است

وہ جو باقی و قائم ہے جسے موت نہیں ہے وہ حق ہی ہے ۔ حق کے ساتھ زندہ رہنا ہی حیات مطلق پا لینا ہے ۔

He who is Living without death is God; to live with God is life absolute.

5858

هر که بی حق زیست جز مردار نیست

گرچه کس در ماتم او زار نیست»

جس کسی نے حق کے بغیر زندگی بسر کی وہ گویا مردار کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔ اگرچہ کوئی بھی اس کا ماتم نہیں کرتا ۔

He who lives without God is nothing but a corpse, although no one laments him.”

5959

برخور از قرآن اگر خواهی ثبات

در ضمیرش دیده ام آب حیات

اگر تو حیات ابدی کی خواہش رکھتا ہے تو قرآن کریم سے استفادہ کر میں نے اس کے اندر آب حیات دیکھا ہے ۔

Benefit from the Quran if you want to endure, I have seen the Water of Life therein.

6060

می دهد ما را پیام «لاتخف»

می رساند بر مقام لاتخف

وہ قرآن ہمیں لا تخف (نہ ڈر) کا درس دیتا ہے ۔ وہی لاتخف کے مقام و مرتبہ پر پہنچاتا ہے ۔

It gives the message of Fear not, and takes us to this very end point.

6161

قوت سلطان و میر از لااله

هیبت مرد فقیر از لااله

سلطان اور سردار کی قوت میں لا الہ ہی سے ہے ۔ مرد درویش کی ہیبت بھی اسی لا الہ سے ہے ۔

The power of the kings and chiefs arises from la ilah; the awe of fakir arises from it.

6262

تا دو تیغ لا و الا داشتیم

ماسوی الله را نشان نگذاشتیم

جب تک ہمارے پاس لا اور الا کی دو تلواریں رہیں ہم نے غیر اللہ کا نشان تک مٹا دیا ۔

So long as we had the sword of la and illa, we left no trace of other than God.

6363

خاوران از شعلهٔ من روشن است

ای خنک مردی که در عصر من است

مشرق میرے شعلے سے روشن ہے ۔ وہ آدمی مبارک ہے جو میرے دور میں زندہ ہے ۔

The East is bright with my flame; happy he who lives in my age.

6464

از تب و تابم نصیب خود بگیر

بعد ازین ناید چو من مرد فقیر

میرے سوز و درد سے اپنا حصہ حاصل کر اس کے بعد مجھ جیسا قلندر کوئی نہیں آئے گا ۔

Have your share from my flaming self, for no fakir like me will come forth after me!

6565

گوهر دریای قرآن سفته ام

شرح رمز «صبغة الله» گفته ام

میں نے قرآن پا ک کے سمندر سے موتی نکال کر اپنے کلام میں پرویا ہے ۔ میں نے اللہ تعالیٰ کے رنگ کے راز کی تفسیر بیان کی ہے ۔

I have strung the pearls of the Quran and explained the meaning of Divine Colour.

6666

با مسلمانان غمی بخشیده ام

کهنه شاخی را نمی بخشیده ام

میں نے مسلمانوں کو ایک خاص غم بخشا ہے ۔ پرانی شاخ کو میں نے تازگی دی ہے ۔

I have imparted a feeling into the Muslims, providing moisture to an old branch.

6767

عشق من از زندگی دارد سراغ

عقل از صهبای من روشن ایاغ

میرا عشق زندگی کے معانی بیان کرتا ہے ۔ عقل کا پیالہ میری شراب سے روشن ہے ۔

My passion has the mark of life, the intellect acquires lustre from my wine.

6868

نکته های خاطر افروزی که گفت؟

با مسلمان حرف پرسوزی که گفت؟

دل کو جلا بخشنے والی گہری باتیں کس نے کہیں مسلمان سے پرسوز بات کس نے کی ۔

Who has said moving words to the Muslims?

6969

همچو نی نالیدم اندر کوه و دشت

تا مقام خویش بر من فاش گشت

میں بانسری کی طرح پہاڑوں اور جنگلوں میں ر وتا رہا ہوں تب کہیں جا کر مجھ پر میرا مقام واضح ہوا ۔

I cried like a flute in hills and plains until my position became clear to me.

7070

حرف شوق آموختم وا سوختم

آتش افسرده باز افروختم

میں نے عشق کی بات سیکھی، میں جل اٹھا ۔ اس طرح میں نے سرد آگ کو دوبارہ روشن کر دیا ۔

I learnt the word of passion and became afire, I lighted again the extinguished fire.

7171

با من آه صبحگاهی داده اند

سطوت کوهی به کاهی داده اند

مجھے قدرت کی طرف سے آہ صبح گاہی عطا ہوئی ہے ۔ گویا ایک تنکے کو پہاڑ کے سے دبدہ اور وقار سے نوازا گیا ہے ۔

I have been given a sigh of the morning. granting the might of a mountain to a straw.

7272

دارم اندر سینه نور لااله

در شراب من سرور لااله

میں اپنے سینے میں لا الہ کا نور رکھتا ہوں ۔ میری شراب یعنی افکار میں لا الہ کا کیف و سرور ہے

I bear the light of la ilah in my breast, my wine owes its bracing effect to it.

7373

فکر من گردون مسیر از فیض اوست

جوی ساحل ناپذیر از فیض اوست

اسکے فیض سے میری فکر آسمان پر پرواز کر ہی ہے ۔ اس لا الہ کے فیض سے میری ندی بے کنار ہے ۔

My thought is sky traversing by conferment, My stream is averse to the bank thereby.

7474

پس بگیر از باده من یک دو جام

تا درخشی مثل تیغ بی نیام

سو تو میری شراب کے دو ایک جام لے لے ۔ تا کہ تو ننگی تلوار کی طرح چمک اٹھے ۔

Therefore take one or two cups from my brew. so that you should shine like an unsheathed sword.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

تربت آن خسرو روشن ضمیر

از ضمیرش ملتی صورت پذیر

علامہ اقبال»مثنوی مسافر»بخش 9 - بر مزار حضرت احمد شاه بابا علیه الرحمه مؤسس ملت افغانیه

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور