صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »اسرار خودی
  3. »بخش 7 - حکایت درین معنی که مسئلهٔ نفی خودی از مخترعات اقوام مغلوبهٔ بنی نوع انسان است که به این طریق مخفی اخلاق اقوام غالبه را ضعیف میسازند

بخش 7 - حکایت درین معنی که مسئلهٔ نفی خودی از مخترعات اقوام مغلوبهٔ بنی نوع انسان است که به این طریق مخفی اخلاق اقوام غالبه را ضعیف میسازند

اس موضوع سے متعلق کہ خودی کی نفی کا مسئلہ بنی نوع انسان کے مغلوب قوموں کی اختراعات (ایجادات) میں سے ہے تا کہ وہ اس خفیہ طریقے سے غالب قوموں کے اخلاق کو کمزور کر دیں ۔

A tale which the moral is that negation of the Self is a Doctrine invented by the subject races of mankind in order that by this means they may sap and weaken the character of their rulers

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: نکلسن
Toggle stanza 1
11

آن شنیدستی که در عهد قدیم

گوسفندان در علف زاری مقیم

کیا تو نے سنا ہے کہ قدیم زمانے میں بہت سی بھیڑ بکریاں ایک چراگاہ میں رہتی تھیں ۔

Hast thou heard that in the time of old The sheep dwelling in a certain pasture.

22

از وفور کاه نسل افزا بدند

فارغ از اندیشه ی اعدا بدند

گھاس چارے کی کثرت کی وجہ سے ان کی نسل خوب بڑھ رہی تھی اور وہ دشمنوں کے ڈر سے بھی بے فکر تھیں ۔

So increased and multiplied That they feared no enemy.

33

آخر از ناسازی تقدیر میش

گشت از تیر بلائی سینه ریش

یہ حالت تھی کہ آخر بھیڑ بکریوں کی تقدیر یکایک بگڑی اور مصیبت کے تیروں سے ان کے سینے زخمی ہو گئے ۔

At last, from the malice of Fate, Their breasts were smitten by a shaft of calamity.

44

شیر ها از بیشه سر بیرون زدند

بر علف زار بزان شبخون زدند

(ہوا یوں کہ) چند شیر کسی جنگل سے ادھر آ نکلے اور انھوں نے رات کے وقت ان بھیڑوں پر حملہ کر دیا ۔

The tigers sprang forth from the jungle And rushed upon the sheepfold.

55

جذب و استیلا شعار قوت است

فتح راز آشکار قوت است

(حقیقت یہ ہے کہ) اپنی طرف کھینچ لینا اور غلبہ پا لینا قوت کا (پرانا ) طریق کار ہے اور فتح ، قوت ہی کا ایک کھلا بھید ہے ۔

Conquest and dominion are signs of strength, Victory is the manifestation of strength.

66

شیر نر کوس شهنشاهی نواخت

میش را از حریت محروم ساخت

شیر نر (شیروں ) نے اپنی شہنشاہی کا ڈنکا بجایا اور بھیڑوں کو آزادی سے محروم کر دیا ۔

Those fierce tigers beat the drum of sovereignty, They deprived the sheep of freedom.

77

بسکه از شیران نیاید جز شکار

سرخ شد از خون میش آن مرغزار

شیر چونکہ شکار کرنا ہی جانتے ہیں ( اس لیے) وہ چراگاہ بھیڑوں کے خون سے سرخ ہو گئی ۔

For as much as tigers must have their prey, That meadow was crimsoned with the blood of the sheep.

88

گوسفندی زیرکی فهمیده ئی

کهنه سالی گرگ باران دیده ئی

ایک بھیڑ بڑی دانا اور سمجھ بوجھ والی تھی، باشعور تھی، پختہ عمر کی اور جہاں دیدہ تھی ۔

One of the sheep which was clever and acute, Old in years, cunning as a weather-beaten wolf.

99

تنگدل از روزگار قوم خویش

از ستمهای هژبران سینه ریش

وہ اپنی قوم کے حالات سے پریشان تھی، اس کا سینہ شیروں کے ظلم و ستم کے سبب زخمی تھی ۔

Being grieved at the fate of his fellows And sorely vexed by the violence of the tigers.

1010

شکوه ها از گردش تقدیر کرد

کار خود را محکم از تدبیر کرد

بھیڑوں کی گردش تقدیر کے شکوے کرتے ہوئے اپنے معاملے کو تدبیر سے مستحکم کیا (اپنا کام تدبیر سے مضبوط کیا) ۔

Made complaint of the course of Destiny And sought by craft to restore his fortunes.

1111

بهر حفظ خویش مرد ناتوان

حیله ها جوید ز عقل کار دان

(حقیقت یہ ہے کہ) کمزور آدمی اپنی حفاظت کیلئے آزمودہ اور معاملہ فہم عقل سے کام لینے کے انداز سوچتا ہے (حیلہ سازی کرتا ہے) ۔

The weak man, in order to preserve himself, Seeks devices from skilled intelligence.

1212

در غلامی از پی دفع ضرر

قوت تدبیر گردد تیز تر

غلامی میں نقصان اور تکلیف کو دور رکھنے (اس سے بچنے) کے لیے تدبیر کی قوت تیز ہو جاتی ہے ۔ (بہت بڑھ جایا کرتی ہے) ۔

In slavery, for the sake of repelling harm, The power of scheming becomes quickened.

1313

پخته چون گردد جنون انتقام

فتنه اندیشی کند عقل غلام

جب انتقام کا جنون پختہ ہو جاتا ہے تو غلام کی عقل نت نئے مکر و فریب سوچنے لگتی ہے ۔ (ان اشعار میں بھیڑوں ہی کے حوالے سے یہ بتایا گیا ہے کہ کمزور اقوام کس طرح طاقت کے بجائے تدبیر سے کام لے کر غالب اقوام کو جہد و عمل سے بیگانہ کر دیتی ہیں ۔ ) ۔

And when the madness of revenge gains hold The mind of the slave meditates rebellion.

1414

گفت با خود عقده ی ما مشکل است

قلزم غمهای ما بی ساحل است

اس نے دل میں کہا ہماری گتھی کا سلجھاوَ بہت مشکل ہے ، ہمارے غموں کا سمندر بے کراں ہے (اس کا کوئی کنارہ نہیں دکھائی دیتا) ۔

"Ours is a hard knot," said this sheep to himself, "The ocean of our griefs hath no shore.

1515

میش نتواند بزور از شیر رست

سیم ساعد ما و او پولاد دست

بھیڑ بکری میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ اس کے بل پر شیر سے نجات حاصل کر سکیں ، ہم چاندی کی کلائی والی (بہت کمزور) ہیں اور وہ فولاد کے ہاتھوں والا (بہت طاقتور ) ہے ۔

By force we sheep cannot escape from the tiger: Our legs are silver, his paws are steel.

1616

نیست ممکن کز کمال وعظ و پند

خوی گرگی آفریند گوسفند

وعظ و نصیحت سے ممکن نہیں ہے کہ بھیڑ ، بھیڑیئے کی سی خو خصلت پیدا کر لے ۔

’Tis not possible, however much one exhorts and counsels, To create in a sheep the disposition of a wolf.

1717

شیر نر را میش کردن ممکن است

غافلش از خویش کردن ممکن است

ہاں شیر نر کو بکری بنا لینا ممکن ہے ۔ اسے اس کی اپنی ذات سے غافل کر دینا بھی ممکن ہے ۔

But to make the furious tiger a sheep—that is possible; To make him unmindful of his nature—that is possible."

1818

صاحب آوازه ی الهام گشت

واعظ شیران خون آشام گشت

چنانچہ اس نے کچھ ایسا ڈھنڈورا پیٹ دیا جیسے اس پر وحی نازل ہوئی (الہام کا دعویٰ کیا) اور یوں وہ خون پینے والے شیروں کی واعظ بن گئی ۔

He became as a prophet inspired, And began to preach to the blood-thirsty tigers.

1919

نعره زد ای قوم کذاب اشر

بی خبر از یوم نحس مستمر

نعرہ لگایا کہ اے بے حد جھوٹی اور شیخی باز قوم، تم لوگ ہمیشہ ہمیشہ کی نحوست سے بے خبر ہو(غافل ہو) ۔

He cried out, "O ye insolent liars, Who wot not of a day of ill luck that shall continue for ever.

2020

مایه دار از قوت روحانیم

بهر شیران مرسل یزدانیم

میں روحانی قوت سے مالا مال ہوں (مجھے بے حد روحانی قوت عطا ہوئی ہے) میں شیروں کے لیے خدا کی طرف سے بھیجی گئی رسول ہوں ۔

I am possessed of spiritual power, I am an apostle sent by God for the tigers.

2121

دیده ی بی نور را نور آمدم

صاحب دستور و مأمور آمدم

میں بصارت سے محروم آنکھوں کے لیے نور بن کر آئی ہوں ۔ میں شریعت لے کر اور خاص حکم و منصب کے ساتھ آئی ہوں ۔

I come as a light for the eye that is dark, I come to establish laws and give commandments.

2222

توبه از اعمال نا محمود کن

ای زیان اندیش فکر سود کن

(تو اے شیروں کی قوم) تو اپنے برے کاموں سے توبہ کرو، اے نقصان کی حامل سوچ رکھنے والی قوم اپنی بھلائی اور فائدے کا خیال کرو ۔

Repent of your blameworthy deeds! O plotters of evil, bethink yourselves of good.

2323

هر که باشد تند و زور آور شقی است

زندگی مستحکم از نفی خودی است

جو کوئی بھی غصیلا اور طاقت کے نشے میں چور ہے وہ بدبخت ہے ، زندگی کو استحکام تو اپنی ذات، اپنی قوت کی نفی ہی سے میسر آتا ہے ۔

Whoso is violent and strong is miserable: Life's solidity depends on self-denial.

2424

روح نیکان از علف یابد غذا

تارک اللحم است مقبول خدا

دیکھو، نیک روحیں گھاس پات کھا کر گزارہ کرتی ہے جو گوشت کھانا چھوڑ دے وہ خدا کا مقبول بندہ بن جاتا ہے ۔

The spirit of the righteous is fed by fodder: The vegetarian is pleasing unto God.

2525

تیزی دندان ترا رسوا کند

دیده ی ادراک را اعمی کند

دانتوں کی تیزی تجھے رسوا کر رہی ہے اس سے عقل کی آنکھ اندھی ہو جاتی ہے ۔

The sharpness of your teeth brings disgrace upon you And makes the eye of your perception blind.

2626

جنت از بهر ضعیفان است و بس

قوت از اسباب خسران است و بس

جنت تو صرف کمزوروں اور ناتوانوں کے لیے ہے، جب کہ قوت و طاقت ہی خسارے کا سامان بن جاتی ہے ۔

Paradise is for the weak alone, Strength is but a means to perdition.

2727

جستجوی عظمت و سطوت شر است

تنگدستی از امارت خوشتر است

شان و شوکت اور ہیبت و دبدبہ کی تلاش و کوشش تو نرا فساد (برائی ) ہے ۔ مفلسی (تنگ دستی) دولتمندی سے کہیں بہتر ہے ۔

It is wicked to seek greatness and glory, Penury is sweeter than princedom.

2828

برق سوزان در کمین دانه نیست

دانه گر خرمن شود فرزانه نیست

جلا دینے والی بجلی اکیلے دانے کی گھات میں نہیں رہتی، سودانہ اگر فصل کی صورت اختیار کر لیتا ہے تو وہ دانشمند نہیں ہے (بجلی کے گرنے کا راستہ کھل جاتا ہے اس لیے انبار جمع نہ کیا جائے ) ۔

Lightning does not threaten the corn-seed: If the seed become a stack, it is unwise.

2929

ذره شو صحرا ، مشو گر عاقلی

تا ز نور آفتابی بر خوری

اگر تم عقل مند ہو تو ذرہ ہی بنے رہو ، صحرانہ بنو، تا کہ تو سورج کی روشنی سے فیض حاصل کر لو ۔

If you are sensible, you will be a mote of sand, not a Sahara, So that you may enjoy the sunbeams.

3030

ای که می نازی بذبح گوسفند

ذبح کن خود را که باشی ارجمند

تو جو بھیڑ بکری کو مار کر فخر کرتا ہے اگر بلندی کا درجہ حاصل کرنا چاہتا ہے تو اپنے آپ کو ذبح کر، یعنی اپنے آپ کو مار ۔

O thou that delightest in the slaughter of sheep, Slay thy self, and thou wilt have honour!

3131

زندگی را می کند نا پایدار

جبر و قهر و انتقام و اقتدار

ظلم و تشدد، سختی، انتقام اور قوت و قدرت زندگی کو ناپائدار بنا دیتی ہے(بنیاد کھوکھلی کر ڈالتا ہے) ۔

Life is rendered unstable By violence, oppression, revenge, and exercise of power.

3232

سبزه پامال است و روید بار بار

خواب مرگ از دیده شوید بار بار

(دیکھو) سبزہ پاؤں تلے روندا جاتا ہے (لیکن پھر بھی) بار بار اگتا ہے اور اپنی آنکھوں سے موت کی نیند بار بار دھو ڈالتا ہے(یعنی پامالی اسے ختم نہیں کرتی بلکہ رہنے کی قوت عطا کرتی ہے) ۔

Though trodden underfoot, the grass grows up time after time And washes the sleep of death from its eye again and again.

3333

غافل از خود شو اگر فرزانه ئی

گر ز خود غافل نه ئی دیوانه ئی

اگر تو عقل مند ہے تو اپنے آپ سے (اپنی اہلیتوں ) سے غافل ہو جا ۔ اگر تو خود سے غافل نہیں ہے تو پھر تو دیوانہ ہے ۔

Forget thy self, if thou art wise! If thou dost not forget thy self, thou art mad.

3434

چشم بند و گوش بند و لب به بند

تا رسد فکر تو بر چرخ بلند

آنکھ بند کر لے، کان بند کر لے اور ہونٹ یعنی منہ بند کر لے تا کہ تیری قوت ، فکر، بلند آسمان تک جا پہنچے ۔

Close thine eyes, close thine ears, close thy lips That thy thought may reach the lofty sky

3535

این علفزار جهان هیچ است هیچ

تو برین موهوم ای نادان مپیچ

دنیا کی چراگاہ کچھ بھی نہیں ہے (سراسر ناکارہ اور بے حقیقت ہے) تو اے پگلے ، اس خیالی دنیا سے مت لپٹ(یہ وہم کی پیداوار ہے اسے تعلق نہ رکھ) ۔

This pasturage of the world is naught, naught: O fool, do not torment thyself for a phantom

3636

خیل شیر از سخت کوشی خسته بود

دل بذوق تن پرستی بسته بود

شیروں کا گروہ لگاتار جدوجہد اور محنت مشقت سے تھک کر چور ہو چکا تھا ۔ چنانچہ اس نے تن پرستی کا ذوق دل میں پیدا کر لیا (آرام طلب ہو گیا) ۔

The tiger-tribe was exhausted by hard struggles, They had set their hearts on enjoyment of luxury.

3737

آمدش این پند خواب آور پسند

خورد از خامی فسون گوسفند

اس گروہ کو جدوجہد سے بیگانہ کر دینے والی یہ نصیحت پسند آ گئی ۔ نادانی سے ان پر بھیڑ کا جادو چل گیا ۔

This soporific advice pleased them, In their stupidity they swallowed the charm of the sheep.

3838

آنکه کردی گوسفندان را شکار

کرد دین گوسفندی اختیار

وہ گروہ جو کبھی بھیڑوں کا شکار کیا کرتا تھا اب اس نے بھیڑوں کی سی خصلت اپنا لی ۔

He that used to make sheep his prey Now embraced a sheep's religion.

3939

با پلنگان سازگار آمد علف

گشت آخر گوهر شیری خزف

(نتیجہ یہ نکلا کہ) چیتوں یعنی شیروں کو اب گھاس مزہ دینے لگی اور یوں ان کے شیر پن کا گوہر بہا ٹھیکری بن کر رہ گیا (تمام جوہر زائل ہو گئے) ۔

'flee tigers took kindly to a diet of fodder: At length their tigerish nature was broken.

4040

از علف آن تیزی دندان نماند

هیبت چشم شرار افشان نماند

گھاس کھانے سے دانتوں کی وہ پہلی سی کاٹ اور تیزی نہ رہی ۔ شعلے بکھیرنے والی آنکھ کی وہ پہلی سی ہیبت نہ رہی ۔

The fodder blunted their teeth And put out the awful flashings of their eyes.

4141

دل بتدریج از میان سینه رفت

جوهر آئینه از آئینه رفت

دل (جو جرات و دلیری کا منبع تھا) سینے سے نکل گیا، گویا آئینے کی چمک آئینے سے جاتی رہی ۔ آئینہ سے مراد دل اور جوہر آئینہ سے مراد جذبہ صادق ہے جس کی بدولت بڑے بڑے معرکے سر کئے جاتے ہیں ) ۔

By degrees courage ebbed from their breasts, The sheen departed from the mirror.

4242

آن جنون کوشش کامل نماند

آن تقاضای عمل در دل نماند

وہ پورے طور پر جدوجہد کرنے کا شوق و جذبہ نہ رہا ۔ عمل کا وہ تقاضا دل سے جاتا رہا ۔

That frenzy of uttermost exertion remained not, That craving after action dwelt in their hearts no more.

4343

اقتدار و عزم و استقلال رفت

اعتبار و عزت و اقبال رفت

اقتدار، عزم اور ثابت قدمی سے وہ محروم ہو گئے ۔ ساکھ، عزت اور خوش بختی نے ساتھ چھوڑ دیا ۔

They lost the power of ruling and the resolution to be independent, They lost reputation, prestige, and fortune.

4444

پنجه های آهنین بی زور شد

مرده شد دلها و تنها گور شد

فولادی مضبوط پنجوں میں کمزوری آ گئی، دل مردہ ہو گئے اور جسموں نے قبر کی سی صورت اختیار کر لی ۔

Their paws that were as iron became strengthless; Their souls died and their bodies became tombs.

4545

زور تن کاهید و خوف جان فزود

خوف جان سرمایه همت ربود

جسم کی قوت و طاقت گھٹ گئی اور جان کا خوف بڑھ گیا ۔ جان کے اس خوف نے ہمت اور دلیری کی پونجی کو بھی ختم کر دیا ۔

Bodily strength diminished while spiritual fear increased: Spiritual fear robbed them of courage.

4646

صد مرض پیدا شد از بی همتی

کوته دستی ، بیدلی ، دون فطرتی

بے ہمتی آئی تو سینکڑوں بیماریاں پیدا ہو گئیں مثلا ناکارگی، بیدلی اور پست فطرتی ۔

Lack of courage produced a hundred diseases— Poverty, pusillanimity, lowmindedness.

4747

شیر بیدار از فسون میش خفت

انحطاط خویش را تهذیب گفت

وہ شیر جو بیدار تھا (دلیر و قوی تھا) بھیڑ کے جادو نے اسے سُلا دیا ۔ اس کی قوت میں زوال آ گیا ۔ اس نے زوال کی حالت کو تہذیب کا نام دے دیا ۔اس سے مراد یہی ہے کہ وہ جذبوں اور قوت عمل سے عاری ہو کر اپنا تشخص کھو بیٹھا ۔ علامہ ایک جگہ کہتے ہیں دل مردہ دل نہیں ہے اسے زندہ کر دوبارہ کہ یہی ہے امتوں کے مرض کہن کا چارہ مجھے یہ ڈر ہے دل زندہ تو نہ مر جائے کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے

The wakeful tiger was lulled to slumber by the sheep's charm: He called his decline Moral Culture.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

از محبت چون خودی محکم شود

قوتش فرمانده عالم شود

علامہ اقبال»اسرار خودی»بخش 6 - در بیان اینکه چون خودی از عشق و محبت محکم میگردد ، قوای ظاهره و مخفیه نظام عالم را مسخر می سازد

اگلی نظم

راهب دیرینه افلاطون حکیم

از گروه گوسفندان قدیم

علامہ اقبال»اسرار خودی»بخش 8 - در معنی اینکه افلاطون یونانی که تصوف و ادبیات اقوام اسلامیه از افکار او اثر عظیم پذیرفته بر مسلک گوسفندی رفته است و از تخیلات او احتراز واجب است

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور