صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »اسرار خودی
  3. »بخش 6 - در بیان اینکه چون خودی از عشق و محبت محکم میگردد ، قوای ظاهره و مخفیه نظام عالم را مسخر می سازد

بخش 6 - در بیان اینکه چون خودی از عشق و محبت محکم میگردد ، قوای ظاهره و مخفیه نظام عالم را مسخر می سازد

اس بیان میں کہ جب خودی عشق اور محبت سے مضبوط ہو جاتی ہے تو وہ نظام کائنات کی ظاہری اور خفیہ قوتوں کو اپنے تصرف میں لے کر مطیع کر لیتی ہے

Showing that when the Self is strengthened by Love it gains dominion over the outward and inward forces of the Universe

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: نکلسن
Toggle stanza 1
11

از محبت چون خودی محکم شود

قوتش فرمانده عالم شود

جب عشق و محبت کی بدولت خودی مضبوط پختہ ہو جاتی ہے تو اسکی قوت و طاقت کائنات پر حکمرانی کرنے لگتی ہے ۔

When the Self is made strong by Love Its power rules the whole world.

22

پیر گردون کز کواکب نقش بست

غنچه ها از شاخسار او شکست

آسمان کے بزرگ نے ستاروں سے تصویریں بنائی، دراصل یہ تصویریں (ستارے) نہیں بلکہ خودی کی شاخ سے کلیاں پھوٹ نکلی ہیں ۔

The Heavenly Sage who adorned the sky with stars Plucked these buds from the bough of the Self.

33

پنجه ی او پنجه ی حق می شود

ماه از انگشت او شق می شود

اس (خودی) کا ہاتھ، خدا کا ہاتھ بن جاتا ہے ۔ اس کی انگلی سے چاند ٹکڑے ہو جاتا ہے ۔ اردو میں بھی علامہ نے ایک جگہ کہا ہے: ہاتھ ہے اللہ کا بندہ مومن کا ہاتھ غالب و کار آفریں کار کشا کار ساز

Its hand becomes God's hand, The moon is split by its fingers.

44

در خصومات جهان گردد حکم

تابع فرمان او دارا و جم

ایسا شخص دنیا کے معاملات کے فیصلے کرتا ہے؛ دارا و جم جیسے پادشاہ بھی اس کے حکم سے تابع فرمان ہوتے ہیں ۔

It is the arbitrator in all the quarrels of the world, Its command is obeyed by Darius and Jamshíd.

55

با تو می گویم حدیث بوعلی

در سواد هند نام او جلی

میں تجھ سے بو علی (قلندر پانی پت) کی بات کرتا ہوں جن کا نام ہندوستان کی سرزمین میں بہت روشن ہے ۔

I will tell thee a story of Bú Ali, Whose name is renowned in India.

66

آن نوا پیرای گلزار کهن

گفت با ما از گل رعنا سخن

قدیم باغ کے اس نغمہ الاپنے والے (قلندر) نے ہمیں شگفتہ و حسین پھول کی بات سنائی ۔

Him who sang of the ancient rose-garden And discoursed to us about the lovely rose.

77

خطه ی این جنت آتش نژاد

از هوای دامنش مینو سواد

بہشت کا یہ خطہ جو کبھی اپنی اصل کے لحاظ سے آگ (کفرستان) تھا ۔ حضرت بو علی کے دامن کی ہوا سے واقعی بہشت کا ٹکڑا بن گیا ۔

The air of his fluttering skirt Made a Paradise of this fire-born country.

88

کوچک ابدالش سوی بازار رفت

از شراب بوعلی سرشار رفت

(ان کا) ایک چھوٹا سا مرید بازار کی طرف گیا ( اس حالت میں کہ ) وہ حضرت بو علی کی شراب (محبت) سے سرشار تھا (اسے گردوپیش کی کچھ خبر نہ تھی) ۔

His young disciple went one day to the bazaar The wine of Bú Ali's discourse had turned his head.

99

عامل آن شهر می آمد سوار

همرکاب او غلام و چوبدار

(اتفاق سے) اس شہر کے حاکم کی سواری ادھر سے گزر رہی تھی جس کے ساتھ اس کے غلام اور چوبدار بھی تھے

The governor of the city was coming along on horseback, His servant and staff-bearer rode beside him.

1010

پیشرو زد بانگ ای ناهوشمند

بر جلو داران عامل ره مبند

ان میں سے ایک نے آواز دی کہ اے بے سمجھ! حاکم کے ہمراہیوں کا راستہ نہ روک۔

The forerunner shouted, “O senseless one, Do not get in the way of the governorʹs escort!”

1111

رفت آن درویش سر افکنده پیش

غوطه زن اندر یم افکار خویش

وہ درویش اسی طرح سر جھکائے اپنے خیالات کے سمندر میں غوطہ لگائے ہوئے چلتا رہا (اسے پتا بھی نہ چلا کہ کون آ رہا ہے اور اسے کیا کہا گیا ہے) ۔

But the dervish walked on with drooping head, Sunk in the sea of his own thoughts.

1212

چوبدار از جام استکبار مست

بر سر درویش چوب خود شکست

اس عصا بردار نقیب نے غرور کے نشے میں درویش کے سر پر اپنا عصا پورے زور سے مارا ۔

The staff-bearer, drunken with pride, Broke his staff on the head of the dervish.

1313

از ره عامل فقیر آزرده رفت

دلگران و ناخوش و افسرده رفت

فقیر، حاکم کے اس رویے سے آرزدہ ہو گیا، اس کا دل بھاری تھا، وہ ناخوش تھا اور افسردہ ہو گیا

Who stepped painfully out of the governor's way, Sad and sorry, with a heavy heart.

1414

در حضور بوعلی فریاد کرد

اشک از زندان چشم آزاد کرد

اس نے بو علی کی خدمت میں فریاد کی ۔ آنکھوں کے قید خانے سے آنسووَں کو بہایا (رو دیا) ۔

He came to Bú Ali and complained And released the tears from his eyes.

1515

صورت برقی که بر کهسار ریخت

شیخ سیل آتش از گفتار ریخت

شیخ ( بو علی) نے اس بجلی کی طرح جو پہاڑوں پر گرتی ہے ، اپنی گفتگو سے آگ کا طوفان رواں کیا ( غصے میں آ گئے) ۔

Like lightning that falls on mountains, The Sheikh poured forth a fiery torrent of speech.

1616

از رگ جاں آتش دیگر گشود

با دبیر خویش ارشادی نمود

انھوں (شیخ) نے شدت کے ساتھ منہ سے ایک اور آگ برسائی ( جلال آ گیا) اور اپنے منشی کو فرمایا

He let loose from his soul a strange fire, He gave an order to his secretary.

1717

خامه را بر گیر و فرمانی نویس

از فقیری سوی سلطانی نویس

کہ قلم اٹھا اور فرمان لکھ، یہ فرمان ایک فقیر کی طرف سے سلطان کے نام جائے گا ۔

Take thy pen and write a letter From a dervish to a sultan!

1818

بنده ام را عاملت بر سر زده است

بر متاع جان خود اخگر زده است

لکھ کہ تیرے حاکم نے میرے ایک خادم کے سر پر لاٹھی ماری ہے ۔ گویا اس نے اپنی متاع کو آگ دکھائی ہے (سروسامان کو آگ کی نذر کر دیا ہے) ۔

Say, 'Thy governor has broken my servant's head; He has cast burning coals on his own life.

1919

باز گیر این عامل بد گوهری

ورنه بخشم ملک تو با دیگری

(اے بادشاہ) اس بدفطرت حاکم کو واپس بلا لے، ورنہ میں تیرا ملک کسی اور کو بخش دوں گا ۔

Arrest this wicked governor, Or else I will bestow thy kingdom on another.

2020

نامه ی آن بنده ی حق دستگاه

لرزه ها انداخت در اندام شاه

اس خدا رسیدہ( حق پرست) بندے کے خط نے بادشاہ کے جسم پر لرزہ طاری کر دیا ۔

The letter of the saint who had access to God Caused the monarch to tremble in every limb.

2121

پیکرش سرمایه ی آلام گشت

زرد مثل آفتاب شام گشت

اس کا جسم رنج و الم کا مجموعہ بن گیا ۔ شام کے (ڈوبتے) سورج کی طرح اس کا رنگ پیلا پڑ گیا ۔

His body was filled with aches, He grew as pale as the evening sun.

2222

بهر عامل حلقه ی زنجیر جست

از قلندر عفو این تقصیر جست

اس (بادشاہ ) نے حاکم کو قید میں ڈال دیا اور قلندر سے اس قصور کی معافی طلب کی ۔

He sought out a handcuff for the governor And entreated Bú Ali to pardon this offence.

2323

خسرو شیرین زبان ، رنگین بیان

نغمه هایش از ضمیر «کن فکان»

شیریں زباں اور رنگیں بیاں شاعر خسرو کو جس کے نغمے کن فکاں کے اسرار کے آئینہ دار ہیں ۔

Khusrau, the sweet-voiced eloquent poet Whose harmonies flow from the creative mind.

2424

فطرتش روشن مثال ماهتاب

گشت از بهر سفارت انتخاب

جس کا باطن چاندنی کی طرح روشن اور نورانی ہے، سفارت کے لیے چنا گیا ہے ۔

And whose genius hath the soft brilliance of moonlight, Was chosen to be the king's ambassador.

2525

چنگ را پیش قلندر چون نواخت

از نوائی شیشه ی جانش گداخت

جب اس (خسرو) نے قلندر کے سامنے ستار پر نغمہ چھیڑا تو اس نغمے سے (قلندر ) کی جان کا شیشہ پگھل گیا ۔

When he entered Bú Ali's presence and played his lute, His song melted the fakir's soul like glass.

2626

شوکتی کو پخته چون کهسار بود

قیمت یک نغمه ی گفتار بود

شان وشوکت جو پہاڑوں کی طرح مضبوط تھی اس کی قیمت، گفتار کا ایک نغمہ ٹھہری(یعنی اس میں نرمی پیدا ہو گئی) ۔

One strain of poesy bought the grace Of a majesty that was firm as a mountain.

2727

نیشتر بر قلب درویشان مزن

خویش را در آتش سوزان مزن

(دیکھو) درویشوں کے دل پر نشتر نہ لگائیے، اپنے آپ کو راکھ کر دینے والی آگ میں نہ پھینکیے ۔

Do not wound the hearts of dervishes, Do not throw thyself into burning fire.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ای فراهم کرده از شیران خراج

گشته‌ای روبه مزاج از احتیاج

علامہ اقبال»اسرار خودی»بخش 5 - در بیان اینکه خودی از سؤال ضعیف می‌گردد

اگلی نظم

آن شنیدستی که در عهد قدیم

گوسفندان در علف زاری مقیم

علامہ اقبال»اسرار خودی»بخش 7 - حکایت درین معنی که مسئلهٔ نفی خودی از مخترعات اقوام مغلوبهٔ بنی نوع انسان است که به این طریق مخفی اخلاق اقوام غالبه را ضعیف میسازند

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور