صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »اسرار خودی
  3. »بخش 5 - در بیان اینکه خودی از سؤال ضعیف می‌گردد

بخش 5 - در بیان اینکه خودی از سؤال ضعیف می‌گردد

اس بیان میں کہ سوال کرنے سے خودی کمزور ہو جاتی ہے

Showing that the Self is weakened by Asking

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: نکلسن
Toggle stanza 1
1

ای فراهم کرده از شیران خراج

گشته‌ای روبه مزاج از احتیاج

اے (مسلمان ) تو نے کبھی شیروں سے خراج حاصل کیا تھا ۔ (اب تو) ضرورت کے ہاتھوں تیری طبیعت لومڑی جیسی ہو گئی ہے ۔

O thou who hast gathered taxes from lions, Thy need hath caused thee to become a fox in disposition.

2

خستگی‌های تو از ناداری است

اصل درد تو همین بیماری است

تیری یہ بدحالی تیری مفلسی کی وجہ سے ہے ۔ تیرے دکھ کا بنیادی سبب تیری یہی بیماری ہے ۔

Thy maladies are the result of indigence: This disease is the source of thy pain.

3

می‌رباید رفعت از فکر بلند

می‌کُشد شمع خیال ارجمند

ناداری بلند فکری سے رفعت چھین لیتی ہے اور اعلیٰ درجے کے خیال کی شمع بجھا دیتی ہے ۔

It is robbing thine high thoughts of their dignity And putting out the light of thy noble imagination.

4

از خم هستی می گلفام گیر

نقد خود از کیسهٔ ایام گیر

تو زندگی کے مٹکے سے سرخ رنگ کی شراب حاصل کر، اپنی پونجی زمانے کی تھیلی (جیب) سے حاصل کر ۔

Quaff rosy wine from the jar of existence Snatch thy money from the purse of Time!

5

خود فرود آ از شتر مثل عمر

الحذر از منت غیر الحذر

تو حضرت عمر فاروق کی طرح خود اونٹ سے اتر کر (اپنا کوڑا اٹھا) بچ، دوسروں کے احسان سے بچ ۔

Like Omar, come down from thy camel Beware of incurring obligations, beware.

6

تا به کی دریوزهٔ منصب کنی؟

صورت طفلان ز نِی مرکب کنی

تو کب تک مرتبہ و اقتدار (عہدوں ) کی بھیک مانگتا رہے گا، یعنی بچوں کی طرح بانس کے ڈنڈے کی سواری (فضول کاموں ) میں مصروف رہے گا (ان دنوں مسلمان انگریزوں کے ماتحت منصبوں اور خطابوں کی کشمکش میں گرفتار تھے) ۔

How long wilt thou sue for office And ride like children on a woman's back?

7

فطرتی کو بر فلک بندد نظر

پست می‌گردد ز احسان دگر

وہ فطرت جو آسمان (عظمت و بلندی) پر نظریں جمانے والی ہے وہ دوسرے کے احسان سے پست ہو کر رہ جاتی ہے ۔

A nature that fixes its gaze on the sky Becomes debased by receiving benefits.

8

از سؤال، افلاس گردد خوارتر

از گدائی گَدیه‌گر نادار‌تر

نادار آدمی سوال کرتا ہے اس کی ناداری اور بھی ذلیل ہو جاتی ہے ۔ بھیک مانگنے والا بھیک مانگ کر اور بھی نادار بن جاتا ہے ۔

By asking, poverty is made more abject; By begging, the beggar is made poorer.

9

از سؤال آشفته اجزای خودی

بی‌تجلی نخل سینای خودی

سوال کی وجہ سے خودی کے اجزا برہم ہو جاتے ہیں ، یوں خودی کے کوہ و طور کا درخت (جس پر خدا کا جلوہ ظاہر ہوا تھا) تجلی سے محروم رہ جاتا ہے(بے نور رہ جاتا ہے) ۔

Asking disintegrates the Self And deprives of illumination the Sinai-bush of the Self.

10

مشت خاک خویش را از هم مپاش

مثل مه رزق خود از پهلو تراش

تو اپنی مٹھی بھر خاک کو زیادہ پریشان نہ کر ، چاند کی طرح اپنی روزی اپنے پہلو سے پیدا کر ۔ چاند بدر بننے کے بعد وہ برابر گھٹتا ہے ۔ گویا پہلو کاٹ کر اپنا رزق مہیا کرتا ہے ۔

Do not scatter thy handful of dust; Like the moon, scrape food from thine own side!

11

گرچه باشی تنگ‌روز و تنگ‌بخت

در ره سیلِ بلا، افکنده‌رَخت

اگرچہ تیرے دن کتنی ہی تنگی ترشی میں گزریں تو بدحالی کا شکار ہو، اس طرح کی مصیبتوں کے سیلاب کے راستے میں تو نے اپنا سامان اسباب ڈال رکھا ہو ۔

Albeit thou art poor and wretched And overwhelmed by affliction,

12

رزق خویش از نعمت دیگر مجو

موج آب از چشمهٔ خاور مجو

(پھر بھی) تو اپنی روزی کسی دوسرے کے مال و دولت میں مت تلاش کر اور مشرق کے چشمے سے پانی کی موج کا طلب گار نہ ہو ۔

Seek not thy daily bread from the bounty of another, Seek not waves of water from the fountain of the sun.

13

تا نباشی پیش پیغمبر خجل

روز فردائی که باشد جان‌گسل

تا کہ کل قیامت کے دن، جو بڑا ہی جان توڑ اور عذاب کا دن ہو گا ، تجھے رسول اللہ کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے ۔

Lest thou be put to shame before the Prophet On the Day when every soul shall be stricken with fear.

14

ماه را روزی رسد از خوان مهر

داغ بر دل دارد از احسان مهر

چاند کو سورج کے دسترخوان سے رزق پہنچتا ہے(روشنی ملتی ہے) ۔ سورج کے اس احسان کے سبب اس کے دل پر داغ ہے(اشارہ ان دھبوں کی طرف ہے جو چاند میں نظر آتے ہیں ) ۔ ۔

The moon gets sustenance from the table of the sun And bears the brand of his bounty on her heart.

15

همت از حق خواه و با گردون ستیز

آبروی ملت بیضا مریز

ہمت خدا سے مانگ اور آسمان سے الجھ جا (تقدیر کو خود سنوار) ملت روشن یعنی ملت اسلامی کی عزت و آبرو خاک میں نہ ملا ۔

Pray God for courage! Wrestle with Fortune! Do not sully the honour of the pure religion!

16

آنکه خاشاک بتان از کعبه رُفت

مرد کاسب را «حبیب الله» گفت

جس ذات گرامی نے کعبے کو بتوں کے خس و خاشاک سے پاک کیا ۔ اس ہستی نے محنت مزدوری کرنے والے کو اللہ کا دوست کہا ہے(الکاسب حبیب اللہ ، یعنی جو شخص اپنے ہاتھ سے روزی کماتا ہے وہ اللہ کا دوست (پیارا) ہے ۔ ) ۔ اپنی تقدیر انسان خود بناتا ہے اپنی جدوجہد سے، اپنے عمل پیہم سے، اسی لیے علامہ کو یہ کہنا پڑا: عبث ہے شیوہ تقدیر یزداں تو خود تقدیر یزداں کیوں نہیں ہے

He who swept the rubbish of idols out of the Ka‘ba Said that God loves a man that earns his living.

17

وای بر منت‌پذیر خوانِ غیر

گردنش خَم‌گشتهٔ احسانِ غیر

اس آدمی پر افسوس ہے جو غیروں کے دسترخوان کا احسان مند ہے ۔ دوسروں کا احسان اٹھانے کے سبب اس کی گردن جھکی رہتی ہے ۔

Woe to him that accepts bounty from another's table And lets his neck be bent with benefits!

18

خویش را از برقِ لطفِ غیر سوخت

با پشیزی مایهٔ غیرت فروخت

اس نے دوسرے کی مہربانی کی بجلی سے اپنے آپ کو جلا لیا ۔ اس نے معمولی شے کے عوض اپنی غیرت کا سرمایہ بیچ ڈالا ۔

He hath consumed himself with the lightning of the favours bestowed on him, He hath sold his honour for a paltry coin.

19

ای خُنُک آن تشنه کاندر آفتاب

می‌نخواهد از خضر یک جام آب

(اس کے برعکس) و ہ پیاسا بڑا ہی مبارک انسان ہے جو کڑکتی دھوپ میں بھی خضر سے پانی کا ایک پیالہ بھی لینے کو تیار نہیں ہے ۔

Happy the man who thirsting in the sun Does not crave of Khizr a cup of water.

20

تر جبین از خجلتِ سائل نشد

شکل آدم ماند و مُشتِ گِل نشد

وہ (مبارک انسان) سوال کرنے کی ذلت سے بچا اور شرمندگی کے پسینے سے اس کی پیشانی نہ بھیگی ۔ وہ ایک انسان کی صورت جیا اور مٹھی بھر مٹی نہ بنا (آدمیت کو برقرار رکھا ۔ )

His brow is not moist with the shame of beggary; He is a man still, not a piece of clay.

21

زیر گردون آن جوان ارجمند

می‌رود مثل صنوبر سر‌بلند

اس دنیا میں ایسا باوقار جوان اپنی گردن صنوبر کے درخت کی طرح اٹھا کر چلتا ہے ۔

That noble youth walks under heaven With his head erect like the pine.

22

در تهی‌دستی شود خود‌دار‌تر

بخت او خوابیده‌، او بیدار‌تر

اگر وہ خالی ہاتھ ہو تو اور زیادہ خوددار بن جاتا ہے ۔ ہر چند اس کے مقدر سوئے ہوتے ہیں وہ خود کہیں زیادہ بیدار ہو جاتا ہے ۔

Are his hands empty? The more is he master of himself. Do his fortunes languish? The more alert is he.

23

قُلزُم زنبیل سیلِ آتش است

گر ز دست خود رسد شبنم‌، خوشست

گدائی کے تھیلے کا سمندر گویا آگ کا طوفان ہے، ہاں اگر اپنے ہاتھوں سے شبنم بھی حاصل کر لی جائے تو وہ خوب ہے(گدائی کے سمندر سے بہتر ہیں ) ۔

The beggar's wallet is like a boat tossing in waves of fire; Sweet is a little dew gathered by one's own hand.

24

چون حباب از غیرت مردانه باش

هم به بحر اندر نگون‌پیمانه باش

تو مردانہ غیرت (خود میں پیدا کر کے) بلبلے کی طرح ہو جا، یعنی اس (بلبلے) کی طرح تو سمندر میں بھی رہتے ہوئے اپنا پیالہ اوندھا رکھا ۔ یہ خیال اقبال نے شمع اور شاعر میں پیش کیا ہے: تو اگر خوددار ہے، منت کش ساقی نہ ہو عین دریا میں حباب آسانگوں پیمانہ کر

Be a man of honour, and like the bubble Keep thy cup inverted even in the midst of the sea!

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

نقطهٔ نوری که نام او خودی است

زیر خاک ما شرار زندگی است

علامہ اقبال»اسرار خودی»بخش 4 - در بیان اینکه خودی از عشق و محبت استحکام می پذیرد

اگلی نظم

از محبت چون خودی محکم شود

قوتش فرمانده عالم شود

علامہ اقبال»اسرار خودی»بخش 6 - در بیان اینکه چون خودی از عشق و محبت محکم میگردد ، قوای ظاهره و مخفیه نظام عالم را مسخر می سازد

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور