صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »اسرار خودی
  3. »بخش 4 - در بیان اینکه خودی از عشق و محبت استحکام می پذیرد

بخش 4 - در بیان اینکه خودی از عشق و محبت استحکام می پذیرد

اس بیان میں کہ خودی عشق و محبت سے مستحکم ہوتی ہے۔

Showing that the Self is strengthened by Love

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: نکلسن
Toggle stanza 1
11

نقطهٔ نوری که نام او خودی است

زیر خاک ما شرار زندگی است

نور وہ نقطہ جس کا نام خودی ہے ہماری خاک (بدن) کے اندر زندگی کی ایک چنگاری ہے گویا ہماری زندگی خودی پر منحصر ہے ۔ یہ ایک ایسا نقطہ نور ہے جس کی بدولت انسان کی زندگی منور ہوتی چلی جاتی ہے ۔ جب انسان اپنی خودی سے یعنی اپنی ذات کی حقیقت سے آگاہ ہو جاتا ہے تو اس میں ایسی قوت پیدا ہو جاتی ہے جس کی بنا پر وہ بڑے بڑے کارنامے سرانجام دیتا ہے ۔

The luminous point whose name is the Self Is the life-spark beneath our dust.

22

از محبت می شود پاینده تر

زنده تر سوزنده تر تابنده تر

وہ محبت سے زیادہ دیر تک رہنے والی اور زیادہ زندہ، زیادہ جلانے والی اور زیادہ چمکنے والی بن جاتی ہے ۔

By Love it is made more lasting, More living, more burning, more glowing.

33

از محبت اشتعال جوهرش

ارتقای ممکنات مضمرش

محبت ہی سے اس کی جوہر میں نکھار پیدا ہوتا ہے اور اس میں پوشیدہ امکانات یعنی قوتوں کی نشوونما ہوتی ہے ۔

From Love proceeds the radiance of its being And the development of its unknown possibilities.

44

فطرت او آتش اندوزد ز عشق

عالم افروزی بیاموزد ز عشق

خودی کی فطرت عشق ہی سے حرارت حاصل کرتی ہے اور عشق ہی سے دنیا کو روشن اور منور کرنے کا طریقہ سیکھتی ہے ۔

Its nature gathers fire from Love, Love instructs it to illumine the world.

55

عشق را از تیغ و خنجر باک نیست

اصل عشق از آب و باد و خاک نیست

عشق کو تلوار اور خنجر سے کوئی خوف نہیں ہے ۔ عشق کی اصل پانی، آگ ، ہوا اور خاک یعنی عناصر اربعہ سے نہیں ہے ۔

Love fears neither sword nor dagger, Love is not born of water and air and earth.

66

در جهان هم صلح و هم پیکار عشق

آب حیوان تیغ جوهر دار عشق

عشق کی تیغ جوہر دار آب حیات ہے؛ اسی سے دنیا میں صلح و آشتی ہے اور اسی سے جنگ و جدل

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Love makes peace and war in the world, Love is the Fountain of Life, Love is the flashing sword of Death.

77

از نگاه عشق خارا شق شود

عشق حق آخر سراپا حق شود

عشق کی نگاہ سخت پتھر کو بھی توڑ دیتی ہے ۔ حق کا عشق آخر کار خود حق کی مکمل صورت بن جاتا ہے(حق کے ساتھ عشق آخر خود حق بن جاتا ہے) ۔

The hardest rocks are shivered by Love's glance: Love of God at last becomes wholly God.

88

عاشقی آموز و محبوبی طلب

چشم نوحی قلب ایوبی طلب

تو بھی عاشقی سیکھ اور کوئی محبوب تلاش کر، کسی نوح کی آنکھ اور کسی ایوب کا صبر مانگ ۔ نوح کی آنکھ یہاں تلمیح ہے ۔ حضرت نوح علیہ السلام کو کفار سے سخت قسم کا واسطہ پڑا ۔ وہ اللہ کے حضور گڑگڑا کر روتے رہے ۔ اس سے ان میں گداز دل پیدا ہوا، جو عشق میں یا مقصد و محبوب تک رسائی کے لیے بڑا ضروری ہے ۔ حضرت ایوب علیہ السلام کا صبر مشہور ہے سخت سے سخت آزمائش میں بھی انھوں نے صبر سے کام لیا ۔ گویا علامہ ان دو حوالوں سے سراپا عمل بننے، دل میں گداز پیدا کرنے اور ہر آزمائش میں صبر کی بدولت پورا اترنے کی تلقین فرماتے ہیں ۔ علامہ ہی کا ایک شعر ہے: تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئینہ ساز میں

Learn thou to love, and seek to be loved: Seek an eye like Noah's, a heart like Job's!

99

کیمیا پیدا کن از مشت گلی

بوسه زن بر آستان کاملی

تو مٹی کی ایک مٹھی سے کیمیا پیدا کر، کسی کامل انسان کے آستانے پر بوسہ دے ۔

Transmute thy handful of earth into gold, Kiss the threshold of a Perfect Man.

1010

شمع خود را همچو رومی بر فروز

روم را در آتش تبریز سوز

اپنی شمع کو پیر رومی کی طرح روشن کر، روم کو تبریز کی آگ میں جلا دے ۔مولانا روم یا رومی ساتویں صدی ہجری تیرھویں صدی عیسوی کے بہت بڑے عالم و صوفی گزرے ہیں ۔ شروع میں انھوں نے درس و تدریس کا پیشہ اپنایا، لیکن ایک موقع پر جب ان کی ملاقات شمس تبریزی جیسے صاحب باطن درویش سے ہوئی تو اس ملاقات نے ان کی کایا ہی پلٹ کر رکھ دی اور وہ ظاہری علوم اور درس و تدریس سے الگ ہو کر باطن کی طرف متوجہ ہو گئے ۔ علامہ کے نزدیک رومی سراپا عشق کی علامت ہیں ۔ علامہ اسی حوالے سے فرماتے ہیں کہ جس طرح مولانا روم نے شمس تبریزی سے مل کر اپنی ذات کو بھلا دیا اور سراپا عشق بن گئے تو بھی کسی مرشد کامل تلاش کر کے خود کو بھی ایسے ہی مقام پر لے جا ۔

Like Rúmí, light thy candle And burn Rúm in the fire of Tabríz. Tabríz is an allusion to Shams-i Tabríz, the spiritual director of Jalálu’ddín Rúmí

1111

هست معشوقی نهان اندر دلت

چشم اگر داری بیا بنمایمت

اے مسلمان تیرے دل میں بھی ایک معشوق پوشیدہ ہے اگر تو آنکھ رکھتا ہے ( تو بصیرت رکھتا ہے) تو آ، میں تجھے دکھا تا ہوں ۔ مسلمانوں کی حضور اکرمﷺ سے دوری کا نتیجہ علامہ نے اپنی ایک دو بیتی میں اس طرح بتایا ہے

There is a beloved hidden within thine heart: I will show him to thee, if thou hast eyes to see.

1212

عاشقان او ز خوبان خوب تر

خوشتر و زیباتر و محبوب تر

اس (حضور) کے عاشق حسینوں سے بھی کہیں زیادہ حسین، عمدہ ، زیبا اور محبوب ہوتے ہیں ۔ آپ سے پیار کرنے والے زیادہ حسین اور خوبصورت ہو جاتے ہیں ۔

His lovers are fairer than the fair, Sweeter and comelier and more beloved.

1313

دل ز عشق او توانا می شود

خاک همدوش ثریا می شود

دل اس (حضور) کے عشق سے قوی اور مضبوط ہوتا ہے اور (مرتبے میں ) خاک بھی ثریا کے ہم پلہ ہو جاتی ہے (ثریا کے برابر پہنچ جاتا ہے) ۔

By love of him the heart is made strong And earth rubs shoulders with the Pleiades.

1414

خاک نجد از فیض او چالاک شد

آمد اندر وجد و بر افلاک شد

نجد کی خاک اس (حضور) کے فیض سے حرکت پذیر ہو گئی (چست و چالاک اور ہنر مند بن گئی) وہ (خاک) اس وجد کی کیفیت طاری ہوئی اور وہ آسمانوں پر جا پہنچی ۔

The soil of Najd was quickened by his grace And fell into a rapture and rose to the skies.

1515

در دل مسلم مقام مصطفی است

آبروی ما ز نام مصطفی است

مصطفی ﷺ کا مقام مسلمان کے دل میں ہے ۔ ہماری عزت و آبرو مصطفی ﷺ کے نام مبارک سے ہے ۔

In the Moslem's heart is the home of Mohammed, All our glory is from the name of Mohammed.

1616

طور موجی از غبار خانه اش

کعبه را بیت الحرم کاشانه اش

کوہ طور حضور کی دولت خانے کی گرد کی ایک لہر ہے اور آپ کا کاشانہ مبارک کعبہ کے لیے بیت الحرم (عزت کا گھر) کی حیثیت رکھتا ہے ۔

Sinai is but an eddy of the dust of his house, The sanctuary of the Ka‘ba is his dwelling-place.

1717

کمتر از آنی ز اوقاتش ابد

کاسب افزایش از ذاتش ابد

ابد حضور اکرم کے اوقات کے ایک پل سے بھی کمتر ہے ۔ ابد حضور اکرم کی ذات مبارک سے فیضان حاصل کرنے والا ہے ۔

Eternity is less than a moment of his time, Eternity receives increase from his essence.

1818

بوریا ممنون خواب راحتش

تاج کسری زیر پای امتش

چٹائی حضور اکرم کی راحت بھری نیند کی احسان مند ہے ۔ کسریٰ (ایران کا بادشاہ) کا تاج حضور اکرم کی امت کے پاؤں تلے ہے ۔

He slept on a mat of rushes, But the crown of Chosroes was under his people's feet.

1919

در شبستان حرا خلوت گزید

قوم و آئین و حکومت آفرید

حضور اکرم نے غار ِ حرا کے شبستان (وہ جگہ جہاں رات بسر کی جائے) میں خلوت گزینی اختیار کی (اور اس طرح) ایک قوم ایک (عظیم) آئین اور ایک (عظیم) حکومت دنیا کو دی ۔

He chose the nightly solitude of Mount Hirá, And he founded a state and laws and government.

2020

ماند شبها چشم او محروم نوم

تا به تخت خسروی خوابیده قوم

حضور اکرم کی مبارک آنکھیں کئی کئی راتیں نیند سے محروم رہیں ۔ جب کہیں قوم شاہی (امت) تخت پر آرام سے سوئی(آرام کیا) ۔

He passed many a night with sleepless eyes In order that the Moslems might sleep on the throne of Persia.

2121

وقت هیجا تیغ او آهن گداز

دیده ی او اشکبار اندر نماز

لڑائی (مرا د جہاد) کے وقت حضور اکرم کی تلوار لوہے کو پگھلا دینے والی تھی جب کہ نماز میں حضور کی آنکھیں آنسووَں سے پر رہتی تھیں (آنسووَں کی جھڑی لگ جاتی تھی) ۔

In the hour of battle, iron was melted by his sword; In the hour of prayer, tears fell like rain from his eye.

2222

در دعای نصرت آمین تیغ او

قاطع نسل سلاطین تیغ او

جب رسول اللہ ﷺ خدا سے (کافروں کے خلاف) فتح و نصرت کے لیے دعا فرماتے تو رسول اللہ کی تلوار آمین بن جاتی ۔ رسول اللہ کی تلوار نے بادشاہوں کی نسلوں کا سلسلہ کاٹ کر رکھ دیا ۔

When he was called to aid, his sword answered "Amen" And extirpated the race of kings.

2323

در جهان آئین نو آغاز کرد

مسند اقوام پیشین در نورد

رسول اللہ نے اس دنیا میں نئے آئین اور نئے نظام کی بنیاد رکھی ۔ گزشتہ قوموں کی مسندکو حضور نے الٹ کر رکھ دیا ۔

He instituted new laws in the world۔.

2424

از کلید دین در دنیا گشاد

همچو او بطن ام گیتی نزاد

رسول اللہ نے دین کی چابی سے دنیا کا دروازہ کھولا ۔ رسول اللہ جیسی شخصیت دنیا کی کسی ماں نے پیدا نہیں کی ۔

With the key of religion he opened the door of this world: The womb of the world never bore his like.

2525

در نگاه او یکی بالا و پست

با غلام خویش بر یک خوان نشست

رسول اللہ کی نگاہ مبارک میں بلند و پست یکساں تھے(سب لوگ ایک درجہ رکھتے تھے) ر سول اللہ اپنے غلام کے ساتھ ایک ہی دستر خوان پر کھانا کھانے بیٹھتے ۔

In his sight high and low were one, He sat with his slave at one table.

2626

در مصافی پیش آن گردون سریر

دختر سردار طی آمد اسیر

ایک جنگ میں اس بلند مرتبہ ذات رسول اللہ کے سامنے طے قبیلے کے سردار کی بیٹی کو بطور قیدی کے پیش کیا گیا ۔ جب رسول اللہ نے اس لڑکی کو بے پردہ دیکھا تو اپنی مبارک چادر اس کے سر پر ڈال دی ۔

The daughter of the chieftain of Tai was taken prisoner in battle And brought into that exalted presence.Her father, Hátim of Tai, is proverbial in the East for his hospitality.

2727

پای در زنجیر و هم بی پرده بود

گردن از شرم و حیا خم کرده بود

اس کے پاؤں میں بیڑیاں تھیں اور اس کے لیے پردے کا کوئی سامان نہ تھا بے پردہ تھی ۔ شرم و حیا کے باعث اس کی گردن جھکی ہوئی تھی ۔

Her feet in chains, unveiled, And her neck bowed with shame.

2828

دخترک را چون نبی بی پرده دید

چادر خود پیش روی او کشید

نبی نے اس لڑکی کو بے پردہ دیکھا تو اپنی مبارک چادر اس کے سر پر ڈال دی ۔

When the Prophet saw that the poor girl had no veil, He covered her face with his own veil.

2929

ما از آن خاتون طی عریان تریم

پیش اقوام جهان بی چادریم

ہم قبیلہ طے کی اس خاتون سے بھی زیادہ عریاں ہیں ۔ دنیا کی قوموں کے سامنے بے چادر (بے عزت ) ہیں ۔

We are more naked than that lady of Tai, We are unveiled before the nations of the world.

3030

روز محشر اعتبار ماست او

در جهان هم پرده دار ماست او

قیامت کے روز رسول اللہ ہماری آبرو اور عزت ہیں ۔ دنیا میں بھی رسول اللہ ہمارے پردہ دار ہیں ۔ رسول اللہ شفیع المذنبیں ہیں ۔ قیامت کے روز رسول اللہ اہل ایمان کی شفاعت فرمائیں گے تا کہ ان کی بخشش کا سامان ہو سکے، یوں ان کی ساکھ رہ جائے گی وہ ذلت و رسوائی سے بچ جائیں گے ۔

In him is our trust on the Day of Judgement, And in this world too he is our protector.

3131

لطف و قهر او سراپا رحمتی

آن بیاران این باعدا رحمتی

رسول اللہ کی مہربانی اور سختی دونوں مکمل طور پر ایک رحمت ہیں ۔ یعنی وہ لطف و مہربانی دوستوں اور ساتھیوں (اپنوں ، صحابہ کرام) کے لیے اور یہ یعنی قہر اور سختی دشمنوں کے لیے سراپا رحمت ہے ۔

Both his favour and his wrath are entirely a mercy: That is a mercy to his friends and this to his foes.

3232

آن که بر اعدا در رحمت گشاد

مکه را پیغام «لاتثریب» داد

وہ ذات والا صفات کہ جس نے دشمنوں کے لیے رحمت و شفقت کا دروازہ کھول دیا اس نے مکہ والوں لا تثریب کا پیغام دیا (معانی کی بشارت دی) ۔

He opened the gates of mercy to his enemies, He gave to Mecca the message, "No blame shall be laid upon you."

3333

ما که از قید وطن بیگانه ایم

چون نگه نور دو چشمیم و یکیم

ہم (مسلمان) جو وطن کی قید یعنی جغرافیائی حدود سے نا آشنا ہیں ، ہم تو دو آنکھوں کا نور ہیں لیکن نگاہ کی طرح ایک ہیں ۔

We who know not the bonds of country Resemble sight, which is one though it be the light of two eyes.

3434

از حجاز و چین و ایرانیم ما

شبنم یک صبح خندانیم ما

ہم حجاز ، چین اور ایران کے شہری تو ہیں؛ مگر ایک ہی صبح خنداں (حضور اکرم ﷺ کی شبنم ہیں (شبنم سے پھولوں کو تازگی ملتی ہے)۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

We belong to the Hijaz and China and Persia, Yet we are the dew of one smiling dawn.

3535

مست چشم ساقی بطحاستیم

در جهان مثل می و میناستیم

ہم ساقیء بطحا کی کیف چشم سے سرشار ہیں ؛ دنیا میں ہماری مثال مئے اور مینا کی سی ہے (جو تعلق مینا اور مئے کا ہے، یہی حضور اکرم ﷺ اور امت مسلمہ کا ہے)۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

We are all under the spell of the eye of the cup bearer from Makkah, We are united as wine and cup.

3636

امتیازات نسب را پاک سوخت

آتش او این خس و خاشاک سوخت

حضور اکرم ﷺ نے نسلی امتیازات (مفاد) کو یکسر جلا دیا؛ حضور آنجناب ﷺ نے ان خس و خاشاک سے باغ دنیا کو پاک کر دیا۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

He burnt clean away distinctions of lineage, His fire consumed this trash and rubble.

3737

چون گل صد برگ ما را بو یکیست

اوست جان این نظام و او یکیست

گل صد برگ کی مانند ہماری خوشبو ایک ہی ہے؛ نظام اسلام کی جان حضور اکرم ﷺ اور آپ ﷺ ایک ہیں۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

We are like a rose with many petals but with one perfume: He is the soul of this society, and he is one

3838

سر مکنون دل او ما بدیم

نعرهٔ بی باکانه زد افشا شدیم

ہم (امت مسلمہ ) حضور ﷺ کے قلب میں پوشیدہ راز تھے؛ آنجناب ﷺ نے نعرۂ بیباکانہ (لا الہ الالہ) بلند فرمایا اور ہم ظاہر ہوئے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

We are the secret concealed in his heart: He spake out fearlessly, and we were revealed.

3939

شور عشقش در نی خاموش من

می تپد صد نغمه در آغوش من

میری خاموشی میں حضور ﷺ کے عشق کا جوش و خروش ہے؛ میرے آغوش میں سینکڑوں نغمے پرورش پا رہے ہیں۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

The song of love for him fills my silent reed, A hundred notes throb in my bosom.

4040

من چه گویم از تولایش که چیست

خشک چوبی در فراق او گریست

میں کیا کہوں کہ آپ ﷺ کی محبت کیا ہے؛ آپ ﷺ کے فراق میں خشک لکڑی (حنانہ کا ستون) رونے لگی۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

How shall I tell what devotion he inspires? A block of dry wood wept at parting from him.

4141

هستی مسلم تجلی گاه او

طور ها بالد ز گرد راه او

مسلمان کا وجود آپ ﷺ کی تجلیات کا مہبط ہے؛ آپ ﷺ کی گرد راہ سے کئی طور پیدا ہوتے ہیں۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

The Muslimʹs being is where he manifests his glory: Many a Sinai springs from the dust on his path.

4242

پیکرم را آفرید آئینه اش

صبح من از آفتاب سینه اش

آپ ﷺ کے آئینہ (ء قلب) نے مجھے وجود بخشا ؛ میری صبح آپ ﷺ کے سینے کے آفتاب کی مرہون منت ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

My image was created by his mirror, My dawn rises from the sun of his breast.

4343

در تپید دمبدم آرام من

گرم تر از صبح محشر شام من

پیہم تڑپ ہی میرے لیے تسکین کا باعث ہے؛ میری شام صبح محشر سے بھی زیادہ گرم ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

My repose is a perpetual fever, My evening hotter than the morning of Judgment Day:

4444

ابر آذار است و من بستان او

تاک من نمناک از باران او

آپ ﷺ ابر بہار ہیں اور میں آپ ﷺ کا باغ ہوں؛ میرے تاکستان کی تراوت آپ ﷺ کی باران (رحمت) سے ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

He is the April cloud and I his garden, My vine is bedewed with his rain.

4545

چشم در کشت محبت کاشتم

از تماشا حاصلی برداشتم

میں نے محبت کی کھیتی میں نگاہ شوق بوئی؛ اور نظارہ جمال کی صورت میں پیداوار حاصل کی۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

It sowed mine eye in the field of Love And reaped a harvest of vision.

4646

خاک یثرب از دو عالم خوشتر است

ای خنک شهری که آنجا دلبر است

مدینہ منوّرہ کی خاک دونوں جہانوں سے پیاری ہے؛ کیا ٹھنڈک پہنچانے والا ہے وہ شہر جہاں محبوب آرام فرما ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

“The soil of Medina is sweeter than both worlds: Oh, happy the town where dwell the Beloved!”

4747

کشته ی انداز ملا جامیم

نظم و نثر او علاج خامیم

میں جامی کے انداز بیان پہ مفتوں ہوں؛ ان کی نظم اور نثر میری خامی کا علاج ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

I am lost in admiration of the style of Mulla Jami: His verse and prose are a remedy for my immaturity.

4848

شعر لبریز معانی گفته است

در ثنای خواجه گوهر سفته است

اس نے لبریز معنی شعر کہا ہے: گویا حضور ﷺ کی تعریف میں موتی پرو دیئے ہیں۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

He has written poetry overflowing with beautiful ideas; And has threaded pearls in praise of the Master-

4949

«نسخهٔ کونین را دیباچه اوست

جمله عالم بندگان و خواجه اوست»

'آپ ﷺ کتاب کونین کا مقدمہ ہیں؛ سارا جہان غلام ہے صرف آپ ﷺ آقا ہیں'۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

“Muhammad is the preface to the book of the universe: All the worlds are slaves and he is the Master.”

5050

کیفیت ها خیزد از صبهای عشق

هست هم تقلید از اسمای عشق

عشق کی شراب سے کئی کیفیتیں پیدا ہوتی ہیں؛ تقلید بھی عشق ہی کا ایک نام ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

From the wine of Love spring many spiritual qualities: Amongst the attributes of Love is blind devotion.

5151

کامل بسطام در تقلید فرد

اجتناب از خوردن خربوزه کرد

حضرت بایزید بسطامیؒ جو (محبت میں ) کامل تھے؛ وہ تقلید میں بھی بے مثال تھے۔ چنانچہ انہوں نے اس بنا پر خربوزہ کھانے سے اجتناب کیا کہ انہیں معلوم نہ تھا کہ حضور اکرم ﷺ نے اسے کس طرح کھایا۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

The saint of Bistam, who in devotion was unique, Abstained from eating a water-melon.

5252

عاشقی؟ محکم شو از تقلید یار

تا کمند تو شود یزدان شکار

اگر تو عاشق ہے؟ تو محبوب ﷺ کی تقلید سے اپنے عشق کو محکم کر؛ تاکہ تو اللہ تعالیٰ کو اپنی محبت کی کمند میں لا سکے۔ (ان سے کہیں: اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا۔)

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Be a lover constant in devotion to thy beloved, That thou mayst cast thy nose and capture God.

5353

اندکی اندر حرای دل نشین

ترک خود کن سوی حق هجرت گزین

تھوڑی دیر کے لیے اپنے دل کے غار حرا میں خلوت اختیار کر؛ اپنے آپ کو چھوڑ اور اللہ تعالیٰ کی طرف ہجرت کر۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Sojourn for a while on the Hira of the heart. Abandon self and flee to God.

5454

محکم از حق شو سوی خود گام زن

لات و عزای هوس را سر شکن

پھر اللہ تعالیٰ کی محبت سے محکم ہو کر اپنی طرف واپس آ؛ اور ہوس کے بتوں (لات و عزّی) کا سر توڑ دے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Strengthened by God, return to thy self And break the heads of the Lat and Uzza of sensuality.

5555

لشکری پیدا کن از سلطان عشق

جلوه گر شو بر سر فاران عشق

عشق کی قوّت سے لشکر تیار کر اور عشق کے فاران کی چوٹی پر جلوہ گر ہو۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

By the might of Love evoke an army Reveal thyself on the Faran of Love,

5656

تا خدای کعبه بنوازد ترا

شرح «انی جاعل» سازد ترا

تاکہ رب کعبہ تجھے اپنی تجلی سے نواز دے؛ اور خلافت الہی کے بلند مرتبہ پر فائز کرے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

That the Lord of the Ka‘ba may show thee favour And make thee the object of the text, “Lo, I will appoint a vicegerent on the earth.”

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

زندگانی را بقا از مدعا ست

کاروانش را درا از مدعا ست

علامہ اقبال»اسرار خودی»بخش 3 - دربیان اینکه حیات خودی از تخلیق و تولید مقاصد است

اگلی نظم

ای فراهم کرده از شیران خراج

گشته‌ای روبه مزاج از احتیاج

علامہ اقبال»اسرار خودی»بخش 5 - در بیان اینکه خودی از سؤال ضعیف می‌گردد

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور