صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »اسرار خودی
  3. »بخش 3 - دربیان اینکه حیات خودی از تخلیق و تولید مقاصد است

بخش 3 - دربیان اینکه حیات خودی از تخلیق و تولید مقاصد است

اس کے بیان میں کہ خودی کی زندگی کے مقاصد پیدا کرنا اور وجود میں لانا ہے

Showing that the life of the Self comes from forming desires and bringing them to birth.

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: نکلسن
Toggle stanza 1
1

زندگانی را بقا از مدعا ست

کاروانش را درا از مدعا ست

زندگی کا وجود مقصد پر موقوف ہے اس (زندگی) کے قافلے میں مقصد کو جرس کی حیثیت حاصل ہے ۔

Life is preserved by purpose: Because of the goal its caravan-bell tinkles.

2

زندگی در جستجو پوشیده است

اصل او در آرزو پوشیده است

زندگی تلاش و جستجو میں پوشیدہ ہے اس کی اصل و اساس آرزو میں چھپی ہوئی ہے ۔

Life is latent in seeking, Its origin is hidden in desire.

3

آرزو را در دل خود زنده دار

تا نگردد مشت خاک تو مزار

تو اپنے دل میں آرزو کو زندہ رکھ، تاکہ بصور ت دیگر تیری یہ مٹھی بھر خاک مزار کی صورت اختیار نہ کر جائے ۔

Keep desire alive in thy heart, Lest thy little dust become a tomb.

4

آرزو جانِ جهانِ رنگ و بوست

فطرتِ هر شیٔ امینِ آرزو ست

آرزو اس کائنات رنگ و بو کی جان ہے ۔ ہر شے کی فطرت آرزو کی امانت دار ہے ۔

Desire is the soul of this world of hue and scent, The nature of every thing is faithful to desire.

5

از تمنّا رقصِ دل در سینه ها

سینه ها از تابِ او آئینه ها

تمنا و آرزو ہی سے دل سینوں میں دھڑکتے ہیں اور سینے، اسی آرزو کی بدولت چمک کر آئینے بنتے ہیں ۔

Desire sets the heart dancing in the breast, And by its glow the breast is made bright as a mirror.

6

طاقتِ پرواز بخشد خاک را

خضر باشد موسیِ ادراک را

آرزو خاک میں پرواز کی قوت پیدا کر دیتی ہے ۔ یہ عقل و شعور کے موسیٰ کے لیے خضر (رہنما) بن جاتی ہے ۔

It gives to earth the power of soaring, It is a Khizr to the Moses of perception.

7

دل ز سوز آرزو گیرد حیات

غیر حق میرد چو او گیرد حیات

دل کی آرزو کی تپش ہی سے بقا میسر آتی ہے اور جب اسے حیات حاصل ہو جاتی ہے تو پھر ماسوا، یعنی اللہ کے سوا جو کچھ ہے مٹ جاتا ہے ۔ گویا آرزو کی تخلیق سے محروم ہو جانا انسان کی موت ہے ۔

From the flame of desire the heart takes life, And when it takes life, all dies that is not true.

8

چون ز تخلیقِ تمنّا باز ماند

شهپرش بشکست و از پرواز ماند

جب وہ (دل) آرزووَں کی تخلیق سے رک گیا تو سمجھ لو کہ اس کا بڑا پر ٹوٹ گیا اور وہ پرواز کے قابل نہ رہا (مردہ ہو گیا) ۔ سوز آرزو کو دل کی زندگی کا باعث ٹھہرایا گیا ہے علامہ نے اردو میں ایک جگہ کیا خوب کہا ہے ۔ دل مردہ دل نہیں ہے اسے زندہ کر دوبارہ کہ یہی ہے امتوں کے مرض کہن کا چارہ

When it refrains from forming wishes, Its pinion breaks and it cannot soar.

9

آرزو هنگامه‌آرای خودی

موجِ بیتابی ز دریای خودی

آرزو ہی خودی کیلیے ہنگامے آراستہ کرتی ہے ۔ اسے خودی کے سمندر کی ایک بے قرار موج سمجھنا چاہیے ۔

Desire is an emotion of the Self: It is a restless wave of the Self's sea.

10

آرزو صیدِ مقاصد را کمند

دفترِ افعال را شیرازه‌بند

آرزو، مقاصد کے شکار کو پھانسنے والی کمند ہے (بلند مقاصد کے لیے کمند ہے) وہ کاموں اور کارناموں کی کتاب کی جز بندی کرنے والی ہے ۔

Desire is a noose for hunting ideals, A binder of the book of deeds.

11

زنده را نفی تمنّا مرده کرد

شعله را نقصانِ سوز افسرده کرد

جب کوئی زندہ انسان آرزو اور تمنا سے خالی ہو تو وہ گویا مردہ ہو گیا ( اس کی مثال ) اس شعلے کی سی ہے جس میں جب جلنے کی کیفیت اور حرارت کم ہو جائے تو وہ بجھ جاتا ہے ۔ اس کی ہستی ختم ہو جاتی ہے ۔

Negation of desire is death to the living, Even as absence of burning extinguishes the flame.

12

چیست اصل دیدهٔ بیدار ما

بست صورت لذتِ دیدار ما

ہماری بیدار یعنی دیکھتی آنکھوں کی اصل یا حقیقت کیا ہے یہی کی ہمارے دیدار کی لذت اور ذوق نے ( ان آنکھوں کی) شکل اختیار کر لی ۔

What is the source of our wakeful eye? Our delight in seeing hath taken visible shape.

13

کبک‌پا از شوخئ رفتار یافت

بلبل از سعی نوا منقار یافت

چکور کو جو پاؤں میسر آئے تو وہ اس کی چال کے البیلے پن کا نتیجہ ہے ۔ بلبل کو جو چونچ ملی ہے تو وہ اس کے نغمے الاپنے کے جذبے کا نتیجہ ہے ۔ گویا شوخی رفتار نہ ہوتی تو چکور کو پاؤں نہ ملتے اور نوا پرائی کا ذوق نہ ہوتا تو بلبل چونچ سے محروم رہتی ۔

The partridge's leg is derived from the elegance of its gait, The nightingale's beak from its endeavour to sing.

14

نی برون از نیستان آباد شد

نغمه از زندانِ او آزاد شد

بانسری نے اپنے جنگل سے باہر آ کر اپنی آبادی کا سروسامان کیا اور اس طرح اس میں مقید نغمہ آزاد ہو گیا ۔

Away from the reed-bed, the reed became happy: The music was released from its prison.

15

عقلِ ندرت‌کوش و گردون‌تاز چیست

هیچ میدانی که این اعجاز چیست

یہ نت نئے انوکھے کام کرنے کی کوشش میں مصروف اور آسمان تک پرواز کرنے والی عقل کیا ہے کیا تجھے کچھ علم ہے کہ یہ کیا اعجاز ہے

Why does the mind strive after new discoveries and scale the heavens? Knowest thou what works this miracle?

16

زندگی سرمایه‌دار از آرزوست

عقل از زائیدگانِ بطن اوست

زندگی نے آرزووَں کا سرمایہ فراہم کر لیا اور عقل بھی زندگی کے بطن سے پیدا ہوئی ۔

Tis desire that enriches Life, And the intellect is a child of its womb.

17

چیست نظمِ قوم و آئین و رسوم

چیست رازِ تازگی‌های علوم

یہ قوم کی تنظیم، یہ اس کے دستور اور طور طریقے کیا ہیں ۔ علوم کا تروتازہ رہنا اور نت نئے علوم کا وجود میں آنا کیا ہے یہ سب آرزووَں کے کرشمے ہیں ۔

What are social organisation, customs, and laws? What is the secret of the novelties of science?

18

آرزوئی کو بزورِ خود شکست

سر ز دل بیرون زد و صورت به بست

آرزوئیں پوری طاقت سے اچھل کر راہ پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں اسی اچھلنے میں ٹوٹ جاتی ہیں ۔ پھر دل سے باہر نکل کر مختلف صورتیں اختیار کر لیتی ہیں ۔

A desire which broke through by its own strength And burst forth from the heart and took shape.

19

دست و دندان و دماغ و چشم و گوش

فکر و تخییل و شعور و یاد و هوش

ہاتھ اور دانت اور دماغ اور آنکھ اور کان، فکر و تخیل ، شعور اور حافظہ اور دانش (یہ سب کیا ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ)جب زندگی نے میدان جنگ (عمل) میں گھوڑا دوڑایا تو اپنی حفاظت کے لیے اس نے یہ ہتھیار تیار کر لیے ۔

Nose, hand, brain, eye, and ear, Thought, imagination, feeling, memory, and understanding All these are weapons devised for self-preservation By him that rides into the battle of Life.

20

زندگی مرکب چو در جُنگاه باخت

بهر حفظ خویش این آلات ساخت

زندگی نے جب اپنا گھوڑا میدان جنگ میں دوڑایا ، تو یہ سب آلات اپنی حفاظت کے لیے بنائے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

All these are weapons devised by Life for self-preservation In its ceaseless struggle.

21

آگهی از علم و فن مقصود نیست

غنچه و گل از چمن مقصود نیست

علم و فن کا مقصد، محض آگاہی یا معلومات حاصل کرنا نہیں ہے اور نہ چمن کو وجود میں لانے کا مقصد پھول اور کلیاں حاصل کرنا ہے ۔

The object of science and art is not knowledge, The object of the garden is not the bud and the flower.

22

علم از سامان، حفظِ زندگی است

علم از اسباب، تقویمِ خودی است

علم تو زندگی کی حفاظت کے اسباب میں سے ہے، علم تو خودی کو مستحکم کرنے کا ایک ذریعہ ہے ۔

Science is an instrument for the preservation of Life, Science is a means of establishing the Self.

23

علم و فن از پیش‌خیزانِ حیات

علم و فن از خانه‌زادانِ حیات

علم اور فن تو زندگی کے خدمت گار اور اسکے غلام ہیں ۔ (ان اشعار میں فن برائے فن اور فن برائے زندگی کا فرق بیان کیا گیا ہے) ۔

Science and art are servants of Life, Slaves born and bred in its house.

24

ای، از رازِ زندگی بیگانه، خیز

از شرابِ مقصدی مستانه، خیز

اے (وہ آدمی) تو جو زندگی کے راز سے ناواقف ہے، بیدار ہو جا اورر مقصد کی شراب پی کر مستی کے عالم میں اٹھ کھڑا ہو(مستی کی کیفیت طاری کر لے) ۔

Rise, O thou who art strange to Life's mystery, Rise intoxicated with the wine of an ideal.

25

مقصد، مثل سحر تابنده‌ئی

ماسویٰ را آتشِ سوزنده‌ئی

وہ مقصد ایسا ہو جو صبح کی طرح روشن ہو، جو غیر اللہ جلا کر راکھ کر دینے والا ہو ۔ اللہ کی خوشنودی کے سوا کوئی دوسرا مقصد نہیں ہونا چاہیے ۔

If thou art an ideal, thou wilt shine as the dawn And be to all else as a blazing fire.

26

مقصدی از آسمان بالاتری

دلربائی، دلستانی، دلبری

ایسا مقصد جو آسمان سے بھی بلند تر ہو، جو دل کو لبھانے ولا، بہت ہی دل پذیر اور بہت ہی دل کش ہو ۔

If thou art an ideal, thou art higher than Heaven Winning, captivating, enchanting men's hearts.

27

باطلِ دیرینه را غارتگری

فتنه در جِیبی، سراپا محشری

ایسا مقصد جو قدیم باطل کر فنا کر دے ۔ اس کے گریبان میں قیامت کے ہنگامے موجود ہوں ۔

A destroyer of ancient falsehood, Fraught with turmoil, an embodiment of the Last Day.

28

ما ز تخلیقِ مقاصد زنده‌ایم

از شعاعِ آرزو تابنده‌ایم

نت نئے مقصد پیدا کرتے رہنے ہی میں ہماری زندگی ہے، آرزو ہی کی کرن سے ہمیں چمک دمک نصیب ہے ۔

We live by forming ideals, We glow with the sunbeams of desire.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

پیکر هستی ز آثار خودی است

هر چه می بینی ز اسرار خودی است

علامہ اقبال»اسرار خودی»بخش 2 - در بیان اینکه اصل نظام عالم از خودی است و تسلسل حیات تعینات وجود بر استحکام خودی انحصاردارد

اگلی نظم

نقطهٔ نوری که نام او خودی است

زیر خاک ما شرار زندگی است

علامہ اقبال»اسرار خودی»بخش 4 - در بیان اینکه خودی از عشق و محبت استحکام می پذیرد

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور