صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »اسرار خودی
  3. »بخش 2 - در بیان اینکه اصل نظام عالم از خودی است و تسلسل حیات تعینات وجود بر استحکام خودی انحصاردارد

بخش 2 - در بیان اینکه اصل نظام عالم از خودی است و تسلسل حیات تعینات وجود بر استحکام خودی انحصاردارد

اس بیان میں کہ دنیا کے نظام کی بنیاد خودی پر ہے اور زندگی کی مختلف شکلوں کا مدار اور ان کی ترقی خودی کے مضبوط ہونے پر موقوف ہے

Showing that the System of the Universe originates in the Self, and that the continuation of the life of all individuals depends on strengthning the Self.

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: نکلسن
Toggle stanza 1
11

پیکر هستی ز آثار خودی است

هر چه می بینی ز اسرار خودی است

عالم موجودات خودی کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے تو جو کچھ یہاں دیکھ رہا ہے اس کا تعلق خودی کے اسرار سے ہے(خودی کے رازوں کا کرشمہ ہے) ۔

The form of existance is an effect of the Self, whatsoever thou seest is a secret of the Self.

22

خویشتن را چون خودی بیدار کرد

آشکارا عالم پندار کرد

جب خودی نے اپنے آپ کو جگایا تو اس نے عالم کبریائی کو آشکار کردیا ۔

When the Self awoke to conciousness, it revealed the universe of thought.

33

صد جهان پوشیده اندر ذات او

غیر او پیداست از اثبات او

اس کی ذات میں سینکڑوں عالم چھپے ہوئے ہیں ۔ اس کے ثبات ہی سے اس کا ماورا ظاہر ہے ۔ (جب خودی تعین کرتی ہے اور اس طرح اپنا ثبات و قیام چاہتی ہے تو غیر پیدا ہو جاتا ہے ۔ ) ۔

A hundred worlds are hidden in its essence, Self-affirmation brings no-self to light.

44

در جهان تخم خصومت کاشته‌ست

خویشتن را غیر خود پنداشته‌ست

اس (خودی) نے اس کائنات میں دشمنی کا بیج بو دیا اور اپنے آپ کو اپنا غیر سمجھ لیا ۔

By the Self the seed of hostility is sown in the world, it imagines itself to be other than itself.

55

سازد از خود پیکر اغیار را

تا فزاید لذت پیکار را

وہ اپنی طرف سے یا اپنی ذات سے غیروں کے وجود تیار کرتی ہے تاکہ پیکار کی لذت میں اضافہ ہو جائے ۔

It makes from itself the forms of others, in order to multiply the pleasure of strife.

66

میکشد از قوت بازوی خویش

تا شود آگاه از نیروی خویش

وہ اپنے بازو کی قوت سے غیروں کو مار ڈالتی ہے تاکہ وہ اپنی طاقت اور توانائی سے آگا ہ ہو ۔

It is slaying by the strength of its arm That it may become conscious of its own strength.

77

خود فریبی های او عین حیات

همچو گل از خون وضو عین حیات

اس کی خود فریبیاں سراسر زندگی ہیں ۔ گلاب کی طرح خون سے وضو کرنا سراسر زندگی ہے ۔

Its self-deceptions are the essence of Life; Like the rose, it lives by bathing itself in blood.

88

بهر یک گل خون صد گلشن کند

از پی یک نغمه صد شیون کند

ایک حسب منشا پھول کی خاطر وہ بیشمار گلشنوں کو اجاڑ دیتی ہے ۔ (سینکڑوں گلشنوں کا خون کر ڈالتی ہے) ایک نغمے کی ترتیب کے لیے سینکڑوں ماتم کرتی ہے ۔

For the sake of a single rose it destroys a hundred rose-gardens And makes a hundred lamentations in quest of a single melody.

99

یک فلک را صد هلال آورده است

بهر حرفی صد مقال آورده است

ایک آسمان پر وہ (خودی، خدا کی خودی مطلق) سینکڑوں ہلا ل لائی ہے ۔ (طلوع کئے یا پیدا کئے ہیں ) ایک حرف (مطلب) کی خاطر اس نے سینکڑوں باتیں تخلیق کی ہیں ۔

For one sky it produces a hundred new moons, And for one word a hundred discourses.

1010

عذر این اسراف و این سنگین دلی

خلق و تکمیل جمال معنوی

اس ٖفضول خرچی اور سنگ دلی کا سبب اصل میں تخلیق کائنات اور جمال حقیقی کی تکمیل ہے

The excuse for this wastefulness and cruelty Is the shaping and perfecting of spiritual beauty.

1111

حسن شیرین عذر درد کوهکن

نافه‌ای عذر صد آهوی ختن

شیریں کا حسن وجمال فرہاد کے درد کا بہانہ بنا ہے تو ایک نافہ سینکڑوں ختنی ہرنوں کی ہلاکت کا سبب ہے ۔

The loveliness of Shírín justifies the anguish of Farhád,The fragrant navel justifies a hundred musk-deer. Shírín was loved by the Persian emperor Khusrau Parwíz. Farhád fell in love with her and cast himself down a precipice on hearing a false rumour of her death.

1212

سوز پیهم قسمت پروانه ها

شمع عذر محنت پروانه ها

مسلسل جلتے رہنا پروانہ کا مقدر ٹھہرا اور شمع پروانوں کے دکھ درد کا سبب بنی ۔

Tis the fate of moths to consume in flame: The suffering of moths is justified by the candle.

1313

خامه ی او نقش صد امروز بست

تا بیارد صبح فردائی بدست

اس کے قلم نے سینکڑوں امروزوں کی تصویریں بنائیں تا کہ آنے والے کل کی صبح کو حاصل کر لے ۔

The pencil of the Self limned a hundred to-days In order to achieve the dawn of a single morrow.

1414

شعله های او صد ابراهیم سوخت

تا چراغ یک محمد بر فروخت

اس ( اناے مطلق یا خودی مطلق) نے سینکڑوں ابراہیم آگ میں جھونک دیے ہیں تب کہیں ایک محمد ﷺ کا چراغ روشن کیا ۔

Its flames burned a hundred Abrahams That the lamp of one Mohammed might be lighted. Abraham is said to have been cast on a burning pile by order of Nimrod and miraculously preserved from harm.

1515

می شود از بهر اغراض عمل

عامل و معمول و اسباب و علل

وہ عمل کے مقاصد کی خاطر کبھی عامل (عمل کرنے والی) بن جاتی ہے اور کبھی معمول (جس پر عمل کیا گیا) اور کبھی وجوہات اور کبھی علتیں بن جاتی ہے(مختلف روپ دھارنے پڑتے ہیں ) ۔

Subject, object, means, and causes— They all exist for the purpose of action.

1616

خیزد ، انگیزد ، پرد ، تابد ، رمد

سوزد ، افروزد ، کشد ، میرد ، دمد

وہ اٹھتی ہے، اچھلتی ہے، اڑتی ہے، چمکتی ہے چھلانگیں لگاتے ہوئے دوڑتی ہے ، چلتی ہے، روشن کرتی ہے، مار ڈالتی ہے، مر جاتی ہے اور پھوٹتی ہے(یہ سب مختلف روپ دھارتی ہے)۔

The Self rises, kindles, falls, glows, breathes, Burns, shines, walks, and flies.

1717

وسعت ایام جولانگاه او

آسمان موجی ز گرد راه او

ساری کائنات کا پھیلاوَ اس کی دوڑ کا میدان ہے، آسمان اس کے راستے کی گرد کی ایک لہر ہے ۔

The spaciousness of Time is its arena, Heaven is a billow of the dust on its road.

1818

گل به جیب فاق از گلکاریش

شب ز خوابش ، روز از بیداریش

کائنات نے اس کی گل کاری کے سبب دامن میں پھول سمیٹ رکھے ہیں ۔ رات اس کی نیند کا اور دن اس کی بیداری کا نام ہے ۔

From its rose-planting the world abounds in roses; Night is born of its sleep, day springs from its waking.

1919

شعله ی خود در شرر تقسیم کرد

جز پرستی عقل را تعلیم کرد

اس (خودی مطلق یا ذات خداوندی) نے اپنے شعلے کو چھوٹی چھوٹی چنگاریوں میں بانٹ دیا ۔ اس طرح عقل کو جز ہی پر توجہ رکھے رہنے کی تعلیم کی (اور عقل کو جزو پرستی کی تعلیم دی) ۔

It divided its flame into sparks And taught the understanding to worship particulars.

2020

خود شکن گردید و اجزا آفرید

اندکی شفت و صحرا آفرید

اس نے اپنی ذات کو توڑ کر حصے یا اجزا پیدا کر لیے کچھ دیر کے لیے وہ بکھری (اپنے آپ آشفتگی طاری کی) تو صحرا کی صورت پیدا کر دی ۔

It dissolved itself and created the atoms, It was scattered for a little while and created the sands.

2121

باز از شفتگی بیزار شد

وز بهم پیوستگی کهسار شد

پھر وہ اس منتشر بکھری حالت سے بیزار ہو گئی اور اپنی ذات میں سمٹ کر پہاڑ کی صور ت اختیار کر گئی ۔ تمام اجزاء نئے سرے سے ایک دوسرے کے ساتھ پیوست ہو گئے اور پہاڑ نمودار ہوئے ۔

Then it wearied of dispersion And by re-uniting itself it became the mountains.

2222

وانمودن خویش را خوی خودی است

خفته در هر ذره نیروی خودی است

اپنے آپ کو نمایاں کرنا خودی کی عادت یا فطرت ہے ، ہر ذرے میں خودی کی قوت سوئی ہوئی ہے ۔

Tis the nature of the Self to manifest itself: In every atom slumbers the might of the Self.

2323

قوت خاموش و بیتاب عمل

از عمل پابند اسباب عمل

(خودی ایک) خاموش قوت ہے اور کچھ نہ کچھ کرتے رہنے کے لیے بے قرار رہتی ہے ، وہ عمل کی غرض سے اسباب عمل کی پابند ہو جاتی ہے ۔

Power that is unexpressed and inert Chains the faculties which lead to action.

2424

چون حیات عالم از زور خودی است

پس بقدر استواری زندگی است

چونکہ کائنات کے وجود کے برقرار رہنے کا انحصار خودی کی قوت پر ہے (کائنات کی زندگی خودی کے بل پر قائم ہے) اس لیے خودی جس قدر مضبوط ہو گی، زندگی اسی قدر مستحکم ہو گی ۔

Inasmuch as the life of the universe comes from the strength of the Self, Life is in proportion to this strength.

2525

قطره چون حرف خودی ازبر کند

هستنی بی مایه را گوهر کند

جب پانی کی ایک بوند خودی کا حرف یاد(حفظ) کر لیتی ہے یعنی اس میں خودی پیدا ہو جاتی ہے تو وہ اپنے بے حقیقت وجود کو موتی بنا لیتی ہے ۔

When a drop of water gets the Self's lesson by heart, It makes its worthless existence a pearl.

2626

باده از ضعف خودی بی پیکر است

پیکرش منت پذیر ساغر است

شراب اپنی خودی کی کمزوری کے سبب قالب سے عاری ہے (اس کی اپنی کوئی شکل نہیں ) وہ ہر پیالے یا ظرف کا احسان گوارا کر لیتی ہے اور اسی کی شکل میں ڈھل جاتی ہے ۔

Wine is formless because its self is weak; It receives a form by favour of the cup.

2727

گرچه پیکر می پذیرد جام می

گردش از ما وام گیرد جام می

گرچہ شراب کا پیالہ قالب قبول کرتا ہے یعنی اس کا قالب یا جسم ہے لیکن خود گردش نہیں کر سکتا وہ اپنی گردش ہم سے قرض لیتا ہے ہمارا محتاج ہے ۔ (پیالے کی خودی شراب سے زیادہ مستحکم ہے) ۔

Although the cup of wine assumes a form, It is indebted to us for its motion.

2828

کوه چون از خود رود صحرا شود

شکوه سنج جوشش دریا شود

پہاڑ جب اپنی ذات یا خودی سے غافل ہو جاتا ہے تو وہ بکھر کر صحرا کی صورت اختیار کر جاتا ہے اور سمندر کے طوفان کی شکایت کرنے لگتا ہے ( اس پر جو مصیبت آئی وہ خودی کو کمزور کر لینے کی وجہ سے آئی نہ اس کی خودی کمزور ہوتی نہ وہ ذروں میں بکھرتا اور نہ صحرا بنتا جب تک پہاڑ تھا، طغیانی یا تختہ مشق بن ہی نہیں سکتا تھا ۔ )

When the mountain loses its self, it turns into sands And complains that the sea surges over it.

2929

موج تا موج است در آغوش بحر

می کند خود را سوار دوش بحر

موج جب تک آغوش بحر میں موج کی صور ت ہے سمندر کے اندر ہے (یعنی وہ اپنی خودی سے باخبر ہے) وہ اپنے آپ کو سمندر کے کندھوں پر سوار رکھتی ہے ۔

But the wave, so long as it remains a wave in the sea's bosom, Makes itself a rider on the sea's back.

3030

حلقه ای زد نور تا گردید چشم

از تلاش جلوه ها جنبید چشم

نور (روشنی) نے ایک گھیرا یا دائرہ بنا لیا (خود کو مجتمع کیا) تو آنکھ بن گیا اور وہ آنکھ جلووَں میں سرگرم ہو گئی ۔

Light has been a beggar since the eye first rolled And moved to and fro in search of beauty.

3131

سبزه چون تاب دمید از خویش یافت

همت او سینه ی گلشن شکافت

سبزے نے جب اپنے اندر آگ آنے کی قوت پیدا کر لی تو اس کی ہمت نے باغ کا سینہ چیرا اور باہر نکل آیا ۔

But forasmuch as the grass found a means of growth in its self, Its aspiration clove the breast of the garden.

3232

شمع هم خود را بخود زنجیر کرد

خویش را از ذره ها تعمیر کرد

شمع نے آپ ہی زنجیر میں جکڑ لیا (اپنے دھاگے پر خود کو لپیٹ لیا) اس نے اپنی تعمیر ذروں سے کی (اس کی ہستی کا سروسامان فراہم ہو گیا) ۔

The candle too concatenated itself And built itself out of atoms.

3333

خود گدازی پیشه کرد از خود رمید

هم چو اشک خر ز چشم خود چکید

اس (شمع یا موم بتی) نے اپنے آپ کو پگھلانے کا شغل اختیار کر کے اپنی ہستی کھو دی اور آخر آنسووَں کی صورت اپنی آنکھ سے ٹپک پڑی ۔

Then it made a practice of melting itself away and fled from its self Until at last it trickled down from its own eye, like tears.

3434

گر بفطرت پخته تر بودی نگین

از جراحت ها بیاسودی نگین

اگر نگین اپنی فطرت میں زیادہ پختہ ہوتا تو وہ رگڑائی اور چھلائی کے زخموں سے محفوظ رہتا ۔

If the bezel had been more self-secure by nature, It would not have suffered wounds.

3535

می شود سرمایه دار نام غیر

دوش او مجروح بار نام غیر

وہ (نگین) دوسرے کے نام کا سرمایہ دار تو بن جاتا ہے ( اس پر نام کنندہ کیا جاتا ہے) لیکن غیر کے نام کے بوجھ سے اس کا کندھا زخم کھاتا ہے ۔

But since it derives its value from the superscription, Its shoulder is galled by the burden of another's name.

3636

چون زمین بر هستی خود محکم است

ماه پابند طواف پیهم است

چونکہ زمین نے اپنی ہستی یعنی خودی مضبوط رکھی ہے اس لیے چاند اسکے گرد مسلسل چکر لگانے کا پابند ہو گیا ہے ۔

Because the earth is firmly based on self-existence, The captive moon goes round it perpetually.

3737

هستی مهر از زمین محکم تر است

پس زمین مسحور چشم خاور است

سورج کی خودی زمین کی خودی سے زیادہ مضبوط ہے لہذا زمین مشرق کی آنکھ یعنی سورج کی گرویدہ ہے یعنی اس کے گرد چکر لگانے لگی ۔

The being of the sun is stronger than that of the earth: Therefore is the earth bewitched by the sun's eye.

3838

جنبش از مژگان برد شان چنار

مایه دار از سطوت او کوهسار

چنار کے درخت کی دل کشی پلکیں جھپکنے کی فرصت نہیں دیتی (انسان کی آنکھ کھلی کی کھلی رہ جاتی ہے) پہاڑ اس (چنار) کی شان و شوکت سے مالا مال ہے (اس کی سطوت اپنی دولت سمجھتے ہیں ) ۔

The glory of the plane fixes our gaze, The mountains are enriched by its majesty.

3939

تار و پود کسوت او آتش است

اصل او یک دانهٔ گردن کش است

اس (چنار) کے لباس کا تانا بانا آگ ہے جبکہ اس کی اصل ایک گردن کش بیج ہے ۔ (جس میں گردن اونچی رکھنے کی ہمت ہے) ۔

Its raiment is woven of fire, Its origin is one self-assertive seed.

4040

چون خودی آرد به هم نیروی زیست

می‌گشاید قلزمی از جوی زیست

جب خودی زندگی کی قوت و طاقت متجمع کر لیتی ہے تو وہ زندگی کی ندی سے ایک بے کراں سمندر جاری کر دیتی ہے ۔

When Life gathers strength from the Self, The river of Life expands into an ocean.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

نیست در خشک و تر بیشهٔ من کوتاهی

چوب هر نخل که منبر نشود دار کنم

علامہ اقبال»اسرار خودی»بخش 1 - تمهید

اگلی نظم

زندگانی را بقا از مدعا ست

کاروانش را درا از مدعا ست

علامہ اقبال»اسرار خودی»بخش 3 - دربیان اینکه حیات خودی از تخلیق و تولید مقاصد است

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور