تمہید
Prologue
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: چند بندی
1نیست در خشک و تر بیشهٔ من کوتاهی
چوب هر نخل که منبر نشود دار کنم
نظیر نیشاپوری: مغلیہ دور کا مشہور ایرانی شاعر، محمد حسین نام، نظیری تخلص، ایران کے مردم خیز شہر نیشاپور میں 1552ء میں پیدا ہوا بطور شاعر اسے خراسان اور کاشان میں بہت شہرت ملی 1583ء میں مغلیہ بادشاہوں کی فیاضیوں کے قصص سن کر برصغیر آیا ۔ یہاں عبدالرحیم خان خاناں نے اس کی دلجوئی کی ۔ خانخاناں کے دربار میں ہی ایران کے مشہور شاعر عرفی سے شاعرانہ مقابلوں کے نتیجے میں اس کے جوہر خوب چمکے ۔ نظیری نے خانخاناں کے علاوہ اکبر اور جہانگیر کی مدح میں بھی قصیدے کہے ۔ 1612ء میں فوت اور احمد آباد میں دفن ہوئے ۔ مطلب: میرے جنگل کی اچھی بری یا گیلی اور خشک لکڑی میں کسی قسم کا نقص نہیں ہے ۔ جس درخت کی لکڑی سے منبر نہیں بن سکتا میں اسے تختہ دار بنا دیتا ہوں (تاکہ مجاہد اس پر چڑھ کر حق کی شہادت دے سکیں ) ۔ اعلان حق کے دو ہی ذریعے ہیں مسجد کا منبر یا سولی ۔ سولی کا درجہ زیادہ بلند ہے ۔ یہ اسی کو نصیب ہو سکتا ہے جو اعلان حق میں جان دینے پر آمادہ ہو ۔ اقبال نے اس شعر کے پردہ میں اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ میں نے اپنے کلام یا اس مثنوی میں جو کچھ لکھا ہے وہ سب کارآمد اور مفید ہے کوئی بات بیکار نہیں لکھی ۔ اس شعر میں نظیری نے استعاروں کی بات کی ہے ۔ منبر علامت ہے شریعت کی اور دار، طریقت کی (منصور حلاج کی طرف اشارہ ہے جسے انا الحق کہنے پر سولی پر چڑھایا گیا تھا) ۔ مطلب یہ ہے کہ شاعر کے سرچشمہ فکر سے جو مضامین پھوٹتے ہیں ان میں کسی میں بھی کوئی خامی یا کمی نہیں ہے ۔ اسکے بعض مضامین اگر شریعت سے متعلق ہیں تو بعض کا تعلق طریقت سے ہے ۔ علامہ اقبال نے مثنوی کے آغاز میں نظیری کا یہ شعر دے کر دراصل اپنی شاعری یا نظریہ کی وضاحت کی ہے ۔
راه شب چون مهر عالمتاب زد
گریهٔ من بر رخ گل، آب زد
جب دنیا کو روشن کرنے والے سورج نے رات کو لوٹ لیا (صبح ہو گئی) تو میرے آنسووَں نے پھول کے چہرے پر پانی مل دیا ۔
When the world-illuming sun rushed upon Night like a brigand, my weeping bedward the face of the rose.
اشک من از چشم نرگس خواب شست
سبزه از هنگامهام بیدار رست
میرے آنسووَں نے گل نرگس کی آنکھوں سے نیند دھو ڈالی ۔ سبزہ میرے شور شرابے کے باعث بیدا رہو کر اگ پڑا ۔
My tears washed away sleep from the eyes of the narcissus, my passion wakened the grass and made it grow.
باغبان زور کلامم آزمود
مصرعی کارید و شمشیری درود
باغبان نے میری شاعری کے زور کو آزمایا، اس نے ایک مصرع بویا اور ایک تلوار کاٹی ۔ (میرے ہر مصرعہ میں تلوار کے جوہر درخشان تھے) ۔
The Gardener tried the power of my song, he sowed my verse and reaped a sword.
در چمن جز دانهٔ اشکم نکشت
تار افغانم به پود باغ رِشت
اس نے باغ میں میرے آنسو کے بیج کے سوا اور کچھ نہ بویا، اور میری آہ و فغاں کا تانا باغ کے بان میں بنا ۔ پیوند کر دیا ۔
In the soil he planted only the seed of my tears, and wove my lament with the garden, as wrap and woof.
ذرهام مهر منیر آنِ من است
صد سحر اندر گریبان من است
اگرچہ میں ذرہ ہوں لیکن اس زمانے کو روشن کرنے والا سورج میرا ہے ۔ سینکڑوں صبحیں میرے گریبان میں ہیں ۔
Tho’ I am but a mote, the radiant sun is mine, within my bosom are a hundred dawns.
خاک من روشن تر از جام جم است
محرم از نازادهای عالم است
میری خاک جام جم سے بھی زیادہ روشن ہے( اس لیے کہ جام میں تو دنیا کے صرف موجودہ حالات دیکھے جا سکتے تھے) لیکن میری ذات کائنات کے ان حالات سے بھی واقف ہے جو ابھی تک عالم ظہور میں نہیں آئے ۔
My dust is brighter than Jamshid’s cup, it knows things that are yet unborn in the world.
فکرم آن آهو سر فتراک بست
کو هنوز از نیستی بیرون نجست
میری قوت فکر نے اس ہرن کو اپنے شکار بند میں باندھ لیا ہے جس نے ابھی تک عدم سے باہر قدم نہیں رکھا ۔ ( میں وہ حقائق پیش کرنے والا ہوں جو پہلے کسی شاعر کو نصیب نہ ہوئے) ۔
My thought hunted down and slung from the saddle a deer, that has not yet leaped forth from the covert of non-existance.
سبزه ناروئیده زیب گلشنم
گل به شاخ اندر نهان در دامنم
جو سبزہ ابھی تک اگا نہیں وہ میرے باغ کے لیے زیب و زینت کا سامان بنا ہوا ہے ۔ وہ پھول جس کا وجود ابھی ٹہنی کے اندر ہی ہے وہ میرے دامن میں پہنچ گیا ہے ۔
Fair is my garden ere yet the leaves are green, unborn roses are hidden in the skirt of my garment.
محفل رامشگری برهم زدم
زخمه بر تار رگ عالم زدم
میں نے ساز و نغمہ کی محفل درہم برہم کر دی ۔ میں نے کائنات کی رگ کے تار پر مضراب لگائی ہے (دوسرے شاعر صرف عیش و نشاط کا سامان بہم پہنچاتے ہیں ۔ میں زندگی کے حقائق سے پردہ اٹھا رہا ہوں ) ۔
I struck dumb the musicians where they were gather together, I smote the heart-string of the univers.
بس که عود فطرتم نادر نواست
هم نشین از نغمهام نا آشناست
میری فطرت کے باجے کا نغمہ بہت ہی انوکھی قسم کا ہے لیکن میرے رفیق میرے اس نغمے سے ناواقف ہیں ۔
Because the lute of my genius hath a rare melody, even to comrades my song is strange.
در جهان خورشید نوزائیدهام
رسم و آئین فلک نادیدهام
میں دنیا میں نیا نیا وجود میں آیا ہوا سورج ہوں ۔ پرانے سورج کے برعکس (آسمان) کے طور طریقے میری نظروں سے نہیں گزرے ہیں ۔
I am born in the world as a new sun, I have not learned the ways and fashions of the sky.
رَم ندیده انجم از تابم هنوز
هست ناآشفته سیمابم هنوز
ستاروں نے میرے سورج کی روشنی سے بھاگنا شروع نہیں کیا ۔ ابھی میرا پارا قرار پکڑے ہوئے ہے ۔ ابھی اس میں تڑپ اور بے قراری پیدا نہیں ہوئی ۔
Net yet have the stars fled before my splendour, not yet is my quicksilver astire.
بحر از رقص ضیایم بینصیب
کوه از رنگ حنایم بینصیب
ابھی تک سمندر میری روشنی کے رقص سے بے بہرہ ہے ۔ پہاڑ میری مہندی کے رنگ سے محروم ہے ۔
Untouched is the sea by my dancing rays, untouched are the mountains by my crimson hue.
خوگر من نیست چشم هست و بود
لرزه بر تن خیزم از بیم نمود
ہست و بود (زمانے) کی آنکھ مجھے دیکھنے کی ابھی عادی نہیں ہوئی، میں اظہار کے خوف سے کانپ اٹھتا ہوں ۔
The eye of existence is not familiar with me, I rise trembling, afraid to show myself.
بامم از خاور رسید و شب شکست
شبنم نو بر گُل عالم نشست
میری صبح مشرق سے طلوع ہوئی اور رات بھاگ گئی (رات کا اندھیرا ختم ہوا) دنیا کے پھول پر تازہ شبنم آ گری ۔
From the East my dawn arrived and routed night, a fresh dew settled on the rose of the world.
انتظار صبح خیزان می کشم
ای خوشا زرتشتیان آتشم
میں صبح سویرے بیدار ہونے والوں (عابدوں ، کلام کا اثر لینے والوں ) کا انتظار کر رہا ہوں ۔ میری آگ کے پجاریوں کا کیا کہنا یا میری آگ کے پجاری کتنے مبارک ہیں ۔ ( جو میری روشن کی ہوئی آگ کی طرف اسی طرح کھچے چلے آ رہے ہیں جس طرح زرتشتی صبح سویرے آتش کدے کی طرف جاتے ہیں ۔
I am waiting for the votaries that rise at dawn, Oh, happy they who shall worship my fire.
نغمهام. از زخمه بیپرواستم
من نوای شاعر فرداستم
میں ایک ایسا نغمہ ہوں جو مضراب سے بے نیاز (مجھے مضراب کی ضرورت نہیں ) میں مستقبل کے شاعر کی نوا ہوں ۔
I have no need of the ear of to-day, I am the voice of the poet of To-morrow.
عصر من دانندهٔ اسرار نیست
یوسف من بهر این بازار نیست
میرا زمانہ اسرار (رازوں ) سے آگاہ نہیں ۔ میرا یوسف اس بازار کے لیے نہیں ہے ۔ (میرا یوسف اس بازار کی صحیح قیمت نہیں پا سکتا) ۔
My own age does not understand my deep meanings, My Joseph is not for this market.
ناامید استم ز یاران قدیم
طور من سوزد که میآید کلیم
اپنے پرانے رفیقوں سے میں مایوس ہوں میرا طور جل رہا ہے کہ شاید اس کے لیے بھی کوئی کلیم آئے ۔
I despir of my old companions, My Sinai burns forsake of the Moses who is coming.
قلزم یاران چو شبنم بیخروش
شبنم من مثل یم طوفانبهدوش
یاروں کا سمندر شبنم کی طرح طوفان سے عاری ہے جب کہ میری شبنم سمندر کی طرح طوفان آغوش میں لیے ہوئے ہے ۔
Their sea is silent, like dew, but my dew is storm-ridden, like the ocean.
نغمهٔ من از جهانِ دیگر است
این جرس را کاروان دیگر است
میرے گیت کا تعلق کسی دوسری دنیا سے ہے (نئی دنیا کی خوشخبری سناتا ہے) یہ گھنٹی کسی اور ہی قافلے سے متعلق ہے ۔
My song is of another world than theirs, this bell calls other travelers to take the road.
ای بسا شاعر که بعد از مرگ زاد
چشم خود بر بست و چشم ما گشاد
اے کہ اکثر ایسا ہوا ہے کہ کوئی شاعر اپنی موت کے بعد پیدا ہوا ہے( یا اکثر شاعر اپنے مرنے کے بعد پیدا ہوئے ہیں ) ۔ اس نے اپنی آنکھ بند کر لی اور ہماری آنکھیں کھول دیں ۔ (یعنی وہ خود تو مر گئے لیکن ہماری آنکھیں کھول گئے)
Many a poet was born after his death, opened out eyes when his own were closed.
رخت باز از نیستی بیرون کشید
چون گل از خاک مزار خود دمید
ایسا شاعر عدم سے اپنا سامان ناز باہر لے آیا وہ اپنے مزار کی مٹی سے پھول کی مانند پھوٹ پڑا ۔ (شاید میرے لیے بھی یہی مقدر ہے) ۔
And journeyed forth again from nothingness, like roses blossoming o’er the earth of his grave.
کاروان ها گرچه زین صحرا گذشت
مثل گام ناقه کمغوغا گذشت
اگرچہ اس صحرا سے کئی قافلے گزر چکے ہیں لیکن وہ سب اونٹنی کے قدموں کی طرح کسی آہٹ اور چاپ کے بغیر ہی گزر گئے( ان کے چلنے کی آواز کسی کے کان تک نہ پہنچی، کسی کو احساس تک نہ ہوا کہ انھوں نے کیا کہا اور کیا کر گئے) ۔
Albeit caravans have passed through this desert, they passed, as a camel steps, with little sound.
عاشقم. فریاد، ایمان من است
شور حشر از پیشخیزان من است
میں محض شاعر نہیں ، میں عاشق ہوں ، فریاد کرنا میرا ایمان ہے ۔ محشر کا شور میرے نقیبوں میں سے ہے ۔
But I am a lover, loud crying is my faith, the clamour of Judgment Day is one of my minions.
نغمهام ز اندازهٔ تار است بیش
من نترسم از شکست عود خویش
میرا نغمہ تار کی گنجائش سے بڑھ کر ہے ، میں اپنے ساز کی ٹوٹ پھوٹ سے نہیں ڈرتا ۔ ( میں نغمہ ضرور سناؤں گا اگرچہ اس وجہ سے میرا ساز ٹوٹ بھی جائے تو مجھے پرواہ نہیں ) ۔
My song exceeds the range of the chord, yet I do not fear that my lute will break.
قطره از سیلاب من بیگانه به
قلزم از آشوب او دیوانه به
قطرہ میرے طوفان سے نا آشنا ہی رہے تو اچھا ہے ۔ سمندر کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ میرے طوفان سے دیوانہ ہو جائے ۔ (دیوانگی کی کیفیت طاری کر لے) ۔ قطرہ سے مراد کم ہمت اور فرومایہ افراد ہیں ۔ سمندر سے اشارہ ان لوگوں کی طرف ہے جو ہمت اور جوش عمل کے پیکر ہوں ۔
Twere better for the water drop not to know my torrent, whose fury should rather madden the sea.
در نمیگنجد به جو عمان من
بحرها باید پی طوفان من
میرا سمندر کسی چھوٹی ندی میں نہیں سما سکتا؛ میرے طوفان کو سنبھالنے کے لیے کئی سمندر چاہئیں۔
ترجمہ: میاں عبدالرشید
No river will contain my Oman. My flood requires whole seas to hold it.
غنچه کز بالیدگی گلشن نشد
در خور ابر بهار من نشد
وہ کلی جو نشو ونما پاتی ہوئی گلشن کی صورت اختیار نہیں کر سکتی وہ میرے ابر بہار سے فیض پانے کے لائق نہیں ۔
Unless the bud expands into a bed of roses, it is unworthy of my spring-cloud’s bounty.
برقها خوابیده در جان من است
کوه و صحرا باب جولان من است
میری جان میں بجلیاں سوئی ہوئی ہیں ۔ پہاڑ اور صحرا تو میری جولانگاہ کا دروازہ ہیں ۔
Lightnings slumber within my soul, I sweep over mountain and plain.
پنجه کن با بحرم ار صحراستی
برق من در گیر اگر سیناستی
اگر تو صحرا ہے تو پھر میرے سمندر سے پنجہ آزمائی کر، میری بجلی سے خود کو روشن کر لے اگر تو کوہ طور ہے ۔ (میری بجلی اپنے رگ و پے میں سمیٹ لے) ۔
Wrestle with my sea, if thou art a plain, receive my lightning of thou art a Sinai.
چشمهٔ حیوان براتم کردهاند
محرم راز حیاتم کردهاند
قضا و قدر نے آب و حیات کا چشمہ میرے نصیب میں لکھ دیا ہے ۔ مجھے انھوں نے راز حیات سے آشنا کر دیا ہے ۔
The Fountain of Life hath been given me to drink, I have been made an adept of the mystery of Life.
ذره از سوز نوایم زنده گشت
پر گشود و کرمک تابنده گشت
میری نوا کے سوز سے ذرے کو زندگی مل گئی اس (ذرے) نے بال و پر نکالے اور وہ جگنو بن گیا ۔
The speck of dust was vitalized by my burning song, It unfolded wings and became a firefiy.
هیچکس، رازی که من گویم نگفت
همچو فکر من دُر معنی نسفت
وہ راز جو میں ظاہر کر رہا ہوں کسی نے بھی ظاہر نہیں کیا ، کسی نے بھی میرے فکر کی مانند معنی کا موتی نہیں پرویا ۔
No one hath. Told the secret which I will tell, or threaded a pearl of though like mine.
سِرّ عیش جاودان خواهی بیا
هم زمین هم آسمان خواهی، بیا
تو ہمیشہ کی زندگی کا بھید جاننا چاہتا ہے تو میرے پاس آ، اگر زمین اور آسمان کا بھی تو طالب ہے تو آ ( یہ سب نعمتیں تجھے مل جائیں گی) ۔
Come, if thou would’st know the secret of everlasting life, come, if thou would’st win both earth and heaven.
پیر گردون با من این اسرار گفت
از ندیمان رازها نتوان نهفت
یہ اسرار مجھے بوڑھے آسمان یعنی قضا و قدر نے بتائے ۔ دوستوں اور رفیقوں سے راز بھید چھپائے نہیں جا سکتے ۔
Heaven taught me this lore, I cannot hide it from comrades.
ساقیا برخیز و می در جام کن
محو از دل کاوش ایام کن
اے ساقی اٹھ اور شراب جام میں ڈال، اس طرح زمانے کے غم و رنج میرے دل سے دور کر دے ۔
O Saqi arise and pour wine into the cup, clear the vaxation of Time from my heart.
شعلهٔ آبی که اصلش زمزم است
گر گدا باشد پرستارش جم است
ایسے پانی کا شعلہ عطا کر جس کا سرچشمہ زمزم ہے اگر وہ گدا ہو تو جمشید جیسا بادشاہ اس کا عقیدت مند یا غلام ہو ۔
The sparkling liquor that flows from Zemzem, were a beggar to worship it, he would become a king.
مِی کند اندیشه را هشیارتر
دیدهٔ بیدار را بیدارتر
جو قوت فکر میں اور تیزی پیدا کر دے اور جاگتی ہوئی آنکھوں کو اور زیادہ بیدار کر دے ۔
It makes thought more sober and wise, it makes the keen eye keener.
اعتبارِ کوه بخشد کاه را
قوّت شیران دهد روباه را
جو تنکے کو پہاڑ کی سی عظمت بخش دے ، جو لومڑی کو شیروں کی سی طاقت عطا کر دے ۔
It gives to a straw the weight of a mountain, and to foxes the strength of lions.
خاک را اوج ثریا میدهد
قطره را پهنای دریا میدهد
جو خاک کو ثریا کی بلندی پر پہنچا دیتی ہے جو قطرے میں سمندر کی سی وسعتیں پیدا کر دیتی ہے ۔
It causes dust to soar to the Pleiades, and a drop of waters well to the breadth of the sea.
خامشی را شورش محشر کند
پای کبک از خونِ باز احمر کند
جو خاموشی کو شور محشر کی صور ت د ے دے، جو چکور کے پنجے کو باز کے خون سے سرخ کر دے ۔
It turns silence into the din of Judgment Day, it makes the foot of the partridge red with blood of the hawk.
خیز و در جامم شراب ناب ریز
بر شب اندیشهام مهتاب ریز
اے ساقی اٹھ اور میرے جام میں خالص شراب ڈال دے ۔ میری قوت فکر کی رات پر چاندنی بکھیر دے ۔ یعنی اسے نور سے چمکا دے ۔
Arise and pour pure wine into my cup, pour moon beams into the dark night of my thought.
تا سوی منزل کشم آواره را
ذوق بیتابی دهم نظّاره را
تا کہ میں بھٹکے ہوئے (مراد بھٹکی ہوئی قوم) کو منزل (مقصود) کی طرف لے چلوں اور نظارے کو بیقراری کا ذوق پیدا کر دوں ۔
That I may lead home the wanderer, and imbue the idle looker on with rest less impatience.
گرمرو از جستجوی نو شوم
روشناس آرزوی نو شوم
نئی جستجو کی تڑپ میں تیز رفتار ہو جاؤں اور ایک نئی آرزو سے آگاہ ہو جاؤں ۔
And advance hotly on a new quest, and become known as the champion of a new spirit.
چشم اهل ذوق را مردم شوم
چون صدا در گوش عالم گم شوم
میں اہل ذوق (مراد جن کے دلوں میں ملت کا درد ہے) کی آنکھوں کی پتلی بن جاؤں ۔ آواز کی مانند دنیا کے کانوں میں گم ہو جاؤں ۔
And be to people of insight as the pupil to the eye, and sink into the ear of the world, like a voice.
قیمت جنس سخن بالا کنم
آب چشم خویش در کالا کنم
شاعری کی جنس کی قیمت بڑھا دوں اور اپنے آنسو سامان تجارت میں رکھ دوں ۔
And exalt the worth of Poesy, and sprinkle the dry herbs with my tears.
باز بر خوانم ز فیض پیر روم
دفتر سربسته اسرار علوم
میں پیر روم (مولانا رومی) کے فیض سے پھر وہ دفتر دنیا کو سنا دوں جس میں علوم کے اسرار بند ہیں ۔ علوم کے رازوں کی سربمہر کتاب پھر پڑھوں ۔
Inspired by the genius of the Master of Rum, I reherarse the sealed book of secret lore.
جان او از شعلهها سرمایهدار
من فروغ یک نفس مثل شرار
مولانا کی جان تو دل کی تپشوں سے مالامال ہے ۔ (اپنے اندر شعلوں کا خزانہ لیے ہوئے ہے) جبکہ ان کے مقابلے میں میری حیثیت چنگاری کی مانند اس روشنی کی سی ہے جو ادھر چمکی ادھر بجھ گئی ۔
His soul is the flaming furnace, I am but as the spark that gleams for a moment.
شمع سوزان تاخت بر پروانهام
باده شبخون ریخت بر پیمانهام
جلتی ہوئی شمع میرے پروانے پر چڑھ دوڑی ۔ شراب نے میرے جام پر شب خون مار ۔
His burning candle consumed me, I the moth, His wine overwhelmed my goblet.
پیر رومی خاک را اکسیر کرد
از غبارم جلوهها تعمیر کرد
پیر رومی نے خاک کو (علامہ کو جن کی حیثیت کچھ نہ تھی) اکسیر بنا دیا (انہیں باطنی طور پر جذب اور صاحب مقام بنا دیا) اور میرے غبار سے کئی جلوے تعمیر کئے ۔
The master of Rum transmulted my earth to gold, and set my ashes aflame.
ذره از خاک بیابان رخت بست
تا شعاع آفتاب آرد به دست
ذرے نے صحرا کی خاک سے اپنا سامان سمیٹا تا کہ وہ سور ج کی کرن ہاتھ میں لے سکے ۔
The grain of sand set forth from the desert, that I might win the radiance of the sun.
موجم و در بحر او منزل کنم
تا دُر تابندهای حاصل کنم
میں لہر ہوں اور اس (پیر روم ) کے سمندر میں بسیرا کرتی ہوں تا کہ میں چمکتا ہوا موتی حاصل کر لوں ۔
I am a wave and I will come to rest in his sea, that I may make the glistening pearl mine own.
من که مستیها ز صهبایش کنم
زندگانی از نَفَسهایش کنم
میں جو اس کی شرابوں کی بدولت سرمستیوں میں کھویا ہوا ہوں ، اسی کے سانسوں سے زندگی بسر کر رہا ہوں ۔
I who am drunken with the wine of his song, draw life from the breath of his words.
شب دل من مایل فریاد بود
خامشی از «یا ربم» آباد بود
رات میرادل فریاد پر مائل تھا میری یارب یارب کی پکار سے خاموشی میں بھی ایک شور سا تھا ۔ ( سب سور رہے تھے صرف میری زبان پر یارب یارب کی فریاد جاری تھی) ۔
It was night my heart would fain lament, the silence was filled with my cries to God.
شکوهٔ شوب غم دوران بدم
از تهیپیمانگی نالان بدم
میں زمانے کے دکھوں کا سخت شکوہ کر رہا تھا اپنے خالی پیمانے کی وجہ سے فریاد کناں تھا ۔ اشک بار تھا ۔
I was complaining of the sorrows of the world, and bewailing the emptiness of my cup.
این قدر نظّارهام بیتاب شد
بال و پر بشکست و خر در خواب شد
میں غور سے دیکھنے میں مصروف تھا کہ میری قوت بصارت گھٹ گئی، میرے بال و پر ٹوٹ گئے ، یعنی قوت پرواز جاتی رہی اور میں سو گیا ۔ (میری نگاہیں تڑپتے تڑپتے بال و پر توڑ بیٹھیں اور میں سو گیا ۔ )
At last mine eye could endure no more, broken with fatigue it went to sleep.
روی خود بنمود پیر حقسرشت
کو به حرف پهلوی قرآن نوشت
(اسی اثنا میں ) حق کی فطرت رکھنے والے پیر (مولانا روم) خواب میں تشریف لائے ۔ وہ بزرگ جنھوں نے فارسی زبان میں قرآن لکھا ہے ۔ (جنھوں نے قرآن کے حقائق فارسی زبان میں پیش کئے ہیں ) ۔
There appeared the Master, formed in the mould of Truth, Who wrote the Koran in Persian.
گفت «ای دیوانهٔ ارباب عشق
جرعهای گیر از شراب ناب عشق
انھوں نے فرمایا اے عشق والوں کے دلدادہ عشق کی خالص شراب سے تو بھی ایک گھونٹ پی لے ۔
He said, “o frenzied lover, take a draught of love’s pure wine.
بر جگر هنگامهٔ محشر بزن
شیشه بر سر، دیده بر نشتر بزن
تو اپنے جگر یعنی دل میں قیامت کا ہنگامہ برپا کر ، صراحی سر پر مار، آنکھیں نشتر پر مار (اور نشتر سے آنکھیں پھوڑ) دوسرے لفظوں میں عقل کو ایک طرف رکھ اور نظارے سے کام لینے کی بجائے عشق کو اپنا خضر راہ بنا ۔
Strike the chords of thine heart and rouse a tumultuous strain, dash thine head against the goblet and thine eye against the lancet.
خنده را سرمایهٔ صد ناله ساز
اشک خونین را جگر پرکاله ساز
ہنسی کو سیکڑوں نالوں کا سرمایہ بنا ۔ خون کے آنسووَں کو جگر کا ٹکڑا بنا ۔ خون کے آنسو اتنے سرخ ہوں گویا خون جگر کے ٹکڑوں سے نکل رہا ہو ۔
Make thy laughter the source of a hundred sighs, make the hearts of men bleed with thy tears.
تا به کِی چون غنچه میباشی خموش
نکهت خود را چو گل ارزان فروش
تو کب تک کلی کی طرح خاموش بیٹھا رہے گا، پھول کی طرح اپنی خوشبو ارزاں فروخت کر ، ہر طرف بکھیر دے ۔
How long wilt thou be silent, like a bud? Sell thy fragrance cheap, like the rose.
در گره هنگامه داری چون سپند
محمل خود بر سر آتش ببند
تیرے دامن میں سپند کی طرح ہنگامہ موجود ہے تو اپنی محمل کی آگ پر باندھ ۔
Tongue-tied, thou art in pain, cast thyself upon the fire, like rue.
چون جرس آخر ز هر جزوِ بدن
نالهٔ خاموش را بیرون فکن
جرس کی طرح تو اپنے بدن کے ہر حصے سے خاموش نالہ باہر پھینک ۔
Like the bell, break silence at last, and from every limb, utter forth a lamentation.
آتش استی بزم عالم بر فروز
دیگران را هم ز سوز خود بسوز
تو آگ ہے ، دنیا کی محفل کو جگمگا دے، دوسروں کو بھی اپنے سوز سے پھونک ڈال ۔ جس جلن سے تو خود جل رہا ہے، اسی سے دوسروں کو بھی جلا کر رکھ دے ۔
Thou art fire, fill the world with thy glow, make others burn with thy burning.
فاش گو اسرار پیر مِی فروش
موج میشو کسوت مینا بپوش
پیر مے فروش کے راز کھول کر بیان کر دے ۔ شراب کی موج بن جا اور صراحی کا لباس پہن لے ۔
Proclaim the secrets of the old wine seller, be thou a surge of wine, and the crystal cup thy robe.
سنگ شو آئینهٔ اندیشه را
بر سر بازار بشکن شیشه را
فکر و خوف کے شیشے کے لیے پتھر بن جا، شیشے کو چوراہے پر تو ڈال ۔ چکنا چور کر دے یعنی ر از چھپا کر نہ رکھ بلکہ ان کو سب کے سامنے کھول کر بیان کر دے ۔
Shatter the mirror of fear, break the bottles in the bazaar.
از نیستان همچو نی پیغام ده
قیس را از قوم «حی» پیغام ده
نرکل کے جنگل سے بانسری کی مانند پیغام دے ۔ قیس کو قبیلہ حے کی طرف سے پیغام دے ۔
Like the reed-flute, bring a massage from the reed-bed, give to Majnun a message from the tribe of Laila.
ناله را انداز نو ایجاد کن
بزم را از های و هو آباد کن
نالے آہ فغاں کے لیے نیا اندازہ ایجاد کر محفل کو ہائے و ہو سے آباد کر ۔
Create new style for thy song, enrich the assembly with thy piercing strains.
خیز و جانِ نو بده هر زنده را
از «قم» خود زندهتر کن زنده را
اٹھ اور زندہ شخص کو نئی جان عطا کر؛ لفظ ' قوم' کہہ کے زندوں میں اور زندگی بھر دے۔
ترجمہ: میاں عبدالرشید
Say Arise and by that word quicken the living, up and set thy feet on another path, put aside the passionate melancholy of old.
خیز و پا بر جادهٔ دیگر بنه
جوش سودای کهن از سر بنه
اٹھ اور قدم ایک نئی راہ پر رکھ اپنے قدیم سودا کا ابال اپنے سر سے نکال دے ۔ (نئے مسلک کا کاربند ہو، پرانے مسلک سے کنارہ کش ہو جا) ۔
Up, and set thy feet on another path; Put aside the passionate melancholy of old!
آشنای لذت گفتار شو
ای دِرای کاروان بیدار شو»
تو گفتار کی تاثیر سے آگاہ ہو جا، (بات کہنے اور پیغام پہنچانے میں بڑی لذت ہے) ۔ تو جو قافلے کے آگے آگے بجنے والی گھنٹی ہے، بیدا ر ہو جا ۔ (تیرا منصب یہی ہے کہ خود جاگ اور دوسروں کو جگا) ۔
Become familiar with the delight of signing, bell of the caravan, awake.
زین سخن آتش به پیراهن شدم
مثل نِی هنگامهٔ بستن شدم
اس (پیر روم) کی ان باتوں سے تو میں بڑا ہی مضطرب ہو گیا، بانسری کی طرح میں شور و غوغا سے پر ہو گیا ۔
At these words my bosom was enkindled, and swelled with emotion like the flute.
چون نوا از تار خود برخاستم
جنتی از بهر گوش آراستم
میں اپنے باجے سے نغمے کی طرح پھوٹ پڑا، میں نے اپنے کانوں کے لیے ایک بہشت سجا لی ۔
I rose like music from the string, to prepare a Paradise for the ear.
بر گرفتم پرده از راز خودی
وا نمودم سِرّ اعجاز خودی
میں نے خودی کے راز سے پردہ اٹھا دیا اور خودی کی کرامت کا بھید ظاہر کر دیا ۔
I unveiled the mystery of the Self, and disclosed its wondrous secret.
بود نقش هستیَم انگارهای
ناقبولی، ناکسی، ناکارهای
میرا وجود ایک ناتمام نقش تھا، جس کی حیثیت ایک بے رنگ خاکے کی تھی ۔ نہ کوئی اسے قبول کر سکتا تھا نہ اس میں کوئی خوبی تھی، نہ وہ کسی کام آ سکتا تھا ۔
My being was an unfinished statue, Uncomely, worthless, good for nothing.
عشق سوهان زد مرا، آدم شدم
عالِم کیف و کم عالم شدم
عشق نے مجھ پر ریتی چلائی اور میں انسان ہو گیا، میں دنیا کے تمام احوال و اسرار کا جاننے والا بن گیا ۔
Love chiseled me I become a man, and gained knowledge of the nature of the universe.
حرکت اعصاب گردون دیدهام
در رگ مه گردش خون دیدهام
میں نے آسمان کے اندر جھانک کر اس کے نظام کا جائزہ لیا اور اس طرح چاند کی رگ میں خون کی گردش کا نظارہ کیا ہے(مراد چاند کے اندرونی نظام میں جھانک کر دیکھا ہے) ۔
I have seen the movement of the sinews of the sky, and the blood coursing in the veins of the moon.
بهر انسان چشم من شبها گریست
تا دریدم پردهٔ اسرارِ زیست
انسان کے لیے میری آنکھیں کئی راتیں روتی رہیں ۔ جب کہیں جا کر میں نے ہستی کے رازوں کا پردہ چاک کر ڈالا(قدرت نے زندگی کے رازوں کا پردہ میرے لیے چاک کر دیا) ۔
Many a night I wept for Man’s sake, that I might tear the veil from Life’s mysteries.
از درون کارگاه ممکنات
بر کشیدم سِر تقویم حیات
ممکنات کے کارخانے کے اندر سے میں نے ہستی کی حقیقت کا بھید کھول دیا( بھید پا لیا) ۔
I extract the secret of Life’s constitution, from the laboratory of phenomena.
من که این شب را چو مه آراستم
گرد پای ملت بیضاستم
میں کہ جس نے اس رات کو چاند کی طرح آراستہ یا منور کیا ہے روشن ملت کے پاؤں کی خاک ہوں یعنی اسلام کا ایک انتہائی ادنیٰ فرد ہوں ۔
I who give beauty to this night, like the moon, Am as dust in devotion to the pure Faith (Islam).
ملتی در باغ و راغ آوازهاش
آتش دلها سرود تازهاش
وہ ملت ایسی ہے جس کی شہرت باغ اور جنگل میں یعنی چہار دانگ عالم میں ہے، اس کے نئے نغموں سے دلوں کی آگ کا سامان پیدا ہوتا ہے ۔
A faith remowned in hill and dale, which kindles in men’s hearts a flame of undying song.
ذره کِشت و آفتاب انبار کرد
خرمن از صد رومی و عطار کرد
(اس ملت نے) ذرہ بویا اور سورج حاصل کر لیا، جس کا کھلیان سینکڑوں رومیوں اور عطاروں سے بھرا پڑا ہے ۔
It sowed an atom and repeat a sun, it harvested a hundred poets like Rumi and Attar.
آه گرمم، رخت بر گردون کشم
گرچه دودم از تبار آتشم
میں ایک گرم آہ ہوں ، آسمان کی طرف سفر کرتا ہوں ۔ اگرچہ میں دھواں ہوں ۔ آہ کو دھواں ہی قرار دیا جا سکتا ہے لیکن میرا تعلق آگ کے خاندان سے ہے ۔
I am a sigh, I will mount to the heavens, I am but smoke, yet am I sprung of fire.
خامهام از همت فکر بلند
راز این نُه پرده در صحرا فکند
میرے قلم نے فکر کی بلندی کے بل پر ان نو پردوں کے راز سب کے لیے کھول دیئے ( نو پروں سے مراد اصلاح ادب میں نو آسمان ہیں ) ۔
Driven onward by high thoughts, my pen, cast abroad the secret behind this veil.
قطره تا همپایهٔ دریا شود
ذره از بالیدگی صحرا شود
تا کہ قطرہ سمندر کا ہم پلہ ہو جائے اور ذرہ بڑھتے بڑھتے صحرا بن جائے ۔
That the drop may become co-equal with the sea, and the grain of sand grows into a Sahara.
شاعری زین مثنوی مقصود نیست
بت پرستی، بتگری مقصود نیست
میں نے جو یہ مثنوی لکھی ہے تو اس سے میرا مقصد کسی قسم کی شاعری کے کمالات دکھانا نہیں ۔ میں نہیں چاہتا کہ عا م شاعروں کی طرح بت بنا کر آراستہ کرتا جاؤں اور بت پرستی کی دعوت دیتا رہوں (الفاظ کی تراش، خراش، شعبدہ بازی فنی چابک دستی دکھانا میرا مقصود نہیں ہے) ۔ بلکہ میں قوم کی سربلندی کا طریقہ بتاتا ہوں َ
Poetising is not the aim of this Masnavi, beauty-worshipping and love-making is not its aim.
هندیم از پارسی بیگانهام
ماه نو باشم تهی پیمانهام
میں ہند کا رہنے والا ہوں ، فارسی زبان سے نا آشنا ہوں ۔ میں نیا چاند ہوں (یعنی جس طرح ہلال الٹے پیمانے کی طرح ہوتا ہے میں بھی اسی طرح ) خالی پیمانہ ہوں ۔
I am of Urdu, Persian is not my native tongue, I am like the crescent moon; my cup is not full.
حُسن اندازِ بیان از من مجو
خوانسار و اصفهان از من مجو
مجھ سے تو شاعرانہ انداز بیان کی خوبیاں مت مانگ میرے کلام میں خوانسار و اصفہان (بڑے بڑے شعرا کی سی فنی خوبیاں ) مت ڈھوند ۔
Do not seek from me charm of style in exposition, Do not seek not from me Khansar and Isfahan.
گرچه هندی در عذوبت شکّر است
طرز گفتار دری شیرینتر است
اگرچہ اردو زبان اپنی شیرینی اور مٹھاس کے لحاظ سے شکر جیسی ہے لیکن فارسی زبان اس سے کہیں زیادہ میٹھی ہے(فارسی کے طرز سخن میں زیادہ مٹھاس پائی جاتی ہے) ۔
Although the language of Urdu is sweet as sugar, yet sweeter is the fashion of Persian speech.
فکر من از جلوهاش مسحور گشت
خامهٔ من شاخ نخل طور گشت
میری فکر اس (یعنی فارسی زبان) کے جلوے سے مسحور ہو گئی ۔ اس جلوہ افروزی کی بدولت میر اقلم طور کے درخت کی شاخ بن گیا ۔
My mind was enchanted by its loveliness, my pen became as a twig of the Toor tree.
پارسی از رفعت اندیشهام
در خورَد با فطرت اندیشهام
میرے افکار بہت بلند ہیں اور فارسی کی ان افکار کی فطرت سے بہت مناسبت ہے ۔
Because of the loftiness of my thoughts, Persian alone is suitable to them.
خرده بر مینا مگیر ای هوشمند
دل به ذوقِ خردهٔ مینا ببند
اے صاحب عقل و دانش تو صراحی پر اعتراض نہ کر( میری شاعری کی فنی کوتاہیوں کو نہ دیکھ) تو صراحی میں موجود شراب کے ذوق سے دل بستگی پیدا کر(اپنے دل کو شراب کی لذت سے وابستہ کر لے) ۔ -
O Reader I do not find fault with the wine-cup, but consider attentively the taste of the wine.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور