صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »اسرار خودی
  3. »بخش 1 - تمهید

بخش 1 - تمهید

تمہید

Prologue

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: نکلسن
بند 1
Toggle stanza 1
”“
11

نیست در خشک و تر بیشهٔ من کوتاهی

چوب هر نخل که منبر نشود دار کنم

نظیر نیشاپوری: مغلیہ دور کا مشہور ایرانی شاعر، محمد حسین نام، نظیری تخلص، ایران کے مردم خیز شہر نیشاپور میں 1552ء میں پیدا ہوا بطور شاعر اسے خراسان اور کاشان میں بہت شہرت ملی 1583ء میں مغلیہ بادشاہوں کی فیاضیوں کے قصص سن کر برصغیر آیا ۔ یہاں عبدالرحیم خان خاناں نے اس کی دلجوئی کی ۔ خانخاناں کے دربار میں ہی ایران کے مشہور شاعر عرفی سے شاعرانہ مقابلوں کے نتیجے میں اس کے جوہر خوب چمکے ۔ نظیری نے خانخاناں کے علاوہ اکبر اور جہانگیر کی مدح میں بھی قصیدے کہے ۔ 1612ء میں فوت اور احمد آباد میں دفن ہوئے ۔ مطلب: میرے جنگل کی اچھی بری یا گیلی اور خشک لکڑی میں کسی قسم کا نقص نہیں ہے ۔ جس درخت کی لکڑی سے منبر نہیں بن سکتا میں اسے تختہ دار بنا دیتا ہوں (تاکہ مجاہد اس پر چڑھ کر حق کی شہادت دے سکیں ) ۔ اعلان حق کے دو ہی ذریعے ہیں مسجد کا منبر یا سولی ۔ سولی کا درجہ زیادہ بلند ہے ۔ یہ اسی کو نصیب ہو سکتا ہے جو اعلان حق میں جان دینے پر آمادہ ہو ۔ اقبال نے اس شعر کے پردہ میں اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ میں نے اپنے کلام یا اس مثنوی میں جو کچھ لکھا ہے وہ سب کارآمد اور مفید ہے کوئی بات بیکار نہیں لکھی ۔ اس شعر میں نظیری نے استعاروں کی بات کی ہے ۔ منبر علامت ہے شریعت کی اور دار، طریقت کی (منصور حلاج کی طرف اشارہ ہے جسے انا الحق کہنے پر سولی پر چڑھایا گیا تھا) ۔ مطلب یہ ہے کہ شاعر کے سرچشمہ فکر سے جو مضامین پھوٹتے ہیں ان میں کسی میں بھی کوئی خامی یا کمی نہیں ہے ۔ اسکے بعض مضامین اگر شریعت سے متعلق ہیں تو بعض کا تعلق طریقت سے ہے ۔ علامہ اقبال نے مثنوی کے آغاز میں نظیری کا یہ شعر دے کر دراصل اپنی شاعری یا نظریہ کی وضاحت کی ہے ۔

نظیری نیشابوری
بند 2
Toggle stanza 2
22

راه شب چون مهر عالم‌تاب زد

گریهٔ من بر رخ گل، آب زد

جب دنیا کو روشن کرنے والے سورج نے رات کو لوٹ لیا (صبح ہو گئی) تو میرے آنسووَں نے پھول کے چہرے پر پانی مل دیا ۔

When the world-illuming sun rushed upon Night like a brigand, my weeping bedward the face of the rose.

33

اشک من از چشم نرگس خواب شست

سبزه از هنگامه‌ام بیدار رست

میرے آنسووَں نے گل نرگس کی آنکھوں سے نیند دھو ڈالی ۔ سبزہ میرے شور شرابے کے باعث بیدا رہو کر اگ پڑا ۔

My tears washed away sleep from the eyes of the narcissus, my passion wakened the grass and made it grow.

44

باغبان زور کلامم آزمود

مصرعی کارید و شمشیری درود

باغبان نے میری شاعری کے زور کو آزمایا، اس نے ایک مصرع بویا اور ایک تلوار کاٹی ۔ (میرے ہر مصرعہ میں تلوار کے جوہر درخشان تھے) ۔

The Gardener tried the power of my song, he sowed my verse and reaped a sword.

55

در چمن جز دانهٔ اشکم نکشت

تار افغانم به پود باغ رِشت

اس نے باغ میں میرے آنسو کے بیج کے سوا اور کچھ نہ بویا، اور میری آہ و فغاں کا تانا باغ کے بان میں بنا ۔ پیوند کر دیا ۔

In the soil he planted only the seed of my tears, and wove my lament with the garden, as wrap and woof.

66

ذره‌ام مهر منیر آنِ من است

صد سحر اندر گریبان من است

اگرچہ میں ذرہ ہوں لیکن اس زمانے کو روشن کرنے والا سورج میرا ہے ۔ سینکڑوں صبحیں میرے گریبان میں ہیں ۔

Tho’ I am but a mote, the radiant sun is mine, within my bosom are a hundred dawns.

77

خاک من روشن تر از جام جم است

محرم از نازاد‌های عالم است

میری خاک جام جم سے بھی زیادہ روشن ہے( اس لیے کہ جام میں تو دنیا کے صرف موجودہ حالات دیکھے جا سکتے تھے) لیکن میری ذات کائنات کے ان حالات سے بھی واقف ہے جو ابھی تک عالم ظہور میں نہیں آئے ۔

My dust is brighter than Jamshid’s cup, it knows things that are yet unborn in the world.

88

فکرم آن آهو سر فتراک بست 

کو هنوز از نیستی بیرون نجست

میری قوت فکر نے اس ہرن کو اپنے شکار بند میں باندھ لیا ہے جس نے ابھی تک عدم سے باہر قدم نہیں رکھا ۔ ( میں وہ حقائق پیش کرنے والا ہوں جو پہلے کسی شاعر کو نصیب نہ ہوئے) ۔

My thought hunted down and slung from the saddle a deer, that has not yet leaped forth from the covert of non-existance.

99

سبزه ناروئیده زیب گلشنم

گل به شاخ اندر نهان در دامنم

جو سبزہ ابھی تک اگا نہیں وہ میرے باغ کے لیے زیب و زینت کا سامان بنا ہوا ہے ۔ وہ پھول جس کا وجود ابھی ٹہنی کے اندر ہی ہے وہ میرے دامن میں پہنچ گیا ہے ۔

Fair is my garden ere yet the leaves are green, unborn roses are hidden in the skirt of my garment.

1010

محفل رامشگری برهم زدم

زخمه بر تار رگ عالم زدم

میں نے ساز و نغمہ کی محفل درہم برہم کر دی ۔ میں نے کائنات کی رگ کے تار پر مضراب لگائی ہے (دوسرے شاعر صرف عیش و نشاط کا سامان بہم پہنچاتے ہیں ۔ میں زندگی کے حقائق سے پردہ اٹھا رہا ہوں ) ۔

I struck dumb the musicians where they were gather together, I smote the heart-string of the univers.

1111

بس که عود فطرتم نادر نواست

هم نشین از نغمه‌ام نا آشناست

میری فطرت کے باجے کا نغمہ بہت ہی انوکھی قسم کا ہے لیکن میرے رفیق میرے اس نغمے سے ناواقف ہیں ۔

Because the lute of my genius hath a rare melody, even to comrades my song is strange.

1212

در جهان خورشید نوزائیده‌ام

رسم و آئین فلک نادیده‌ام

میں دنیا میں نیا نیا وجود میں آیا ہوا سورج ہوں ۔ پرانے سورج کے برعکس (آسمان) کے طور طریقے میری نظروں سے نہیں گزرے ہیں ۔

I am born in the world as a new sun, I have not learned the ways and fashions of the sky.

1313

رَم ندیده انجم از تابم هنوز

هست ناآشفته سیمابم هنوز

ستاروں نے میرے سورج کی روشنی سے بھاگنا شروع نہیں کیا ۔ ابھی میرا پارا قرار پکڑے ہوئے ہے ۔ ابھی اس میں تڑپ اور بے قراری پیدا نہیں ہوئی ۔

Net yet have the stars fled before my splendour, not yet is my quicksilver astire.

1414

بحر از رقص ضیایم بی‌نصیب

کوه از رنگ حنایم بی‌نصیب

ابھی تک سمندر میری روشنی کے رقص سے بے بہرہ ہے ۔ پہاڑ میری مہندی کے رنگ سے محروم ہے ۔

Untouched is the sea by my dancing rays, untouched are the mountains by my crimson hue.

1515

خوگر من نیست چشم هست و بود

لرزه بر تن خیزم از بیم نمود

ہست و بود (زمانے) کی آنکھ مجھے دیکھنے کی ابھی عادی نہیں ہوئی، میں اظہار کے خوف سے کانپ اٹھتا ہوں ۔

The eye of existence is not familiar with me, I rise trembling, afraid to show myself.

1616

بامم از خاور رسید و شب شکست

شبنم نو بر گُل عالم نشست

میری صبح مشرق سے طلوع ہوئی اور رات بھاگ گئی (رات کا اندھیرا ختم ہوا) دنیا کے پھول پر تازہ شبنم آ گری ۔

From the East my dawn arrived and routed night, a fresh dew settled on the rose of the world.

1717

انتظار صبح خیزان می کشم

ای خوشا زرتشتیان آتشم

میں صبح سویرے بیدار ہونے والوں (عابدوں ، کلام کا اثر لینے والوں ) کا انتظار کر رہا ہوں ۔ میری آگ کے پجاریوں کا کیا کہنا یا میری آگ کے پجاری کتنے مبارک ہیں ۔ ( جو میری روشن کی ہوئی آگ کی طرف اسی طرح کھچے چلے آ رہے ہیں جس طرح زرتشتی صبح سویرے آتش کدے کی طرف جاتے ہیں ۔

I am waiting for the votaries that rise at dawn, Oh, happy they who shall worship my fire.

1818

نغمه‌ام. از زخمه بی‌پرواستم

من نوای شاعر فرداستم

میں ایک ایسا نغمہ ہوں جو مضراب سے بے نیاز (مجھے مضراب کی ضرورت نہیں ) میں مستقبل کے شاعر کی نوا ہوں ۔

I have no need of the ear of to-day, I am the voice of the poet of To-morrow.

1919

عصر من دانندهٔ اسرار نیست

یوسف من بهر این بازار نیست

میرا زمانہ اسرار (رازوں ) سے آگاہ نہیں ۔ میرا یوسف اس بازار کے لیے نہیں ہے ۔ (میرا یوسف اس بازار کی صحیح قیمت نہیں پا سکتا) ۔

My own age does not understand my deep meanings, My Joseph is not for this market.

2020

ناامید استم ز یاران قدیم

طور من سوزد که می‌آید کلیم

اپنے پرانے رفیقوں سے میں مایوس ہوں میرا طور جل رہا ہے کہ شاید اس کے لیے بھی کوئی کلیم آئے ۔

I despir of my old companions, My Sinai burns forsake of the Moses who is coming.

2121

قلزم یاران چو شبنم بی‌خروش

شبنم من مثل یم طوفان‌به‌دوش

یاروں کا سمندر شبنم کی طرح طوفان سے عاری ہے جب کہ میری شبنم سمندر کی طرح طوفان آغوش میں لیے ہوئے ہے ۔

Their sea is silent, like dew, but my dew is storm-ridden, like the ocean.

2222

نغمهٔ من از جهانِ دیگر است

این جرس را کاروان دیگر است

میرے گیت کا تعلق کسی دوسری دنیا سے ہے (نئی دنیا کی خوشخبری سناتا ہے) یہ گھنٹی کسی اور ہی قافلے سے متعلق ہے ۔

My song is of another world than theirs, this bell calls other travelers to take the road.

2323

ای بسا شاعر که بعد از مرگ زاد

چشم خود بر بست و چشم ما گشاد

اے کہ اکثر ایسا ہوا ہے کہ کوئی شاعر اپنی موت کے بعد پیدا ہوا ہے( یا اکثر شاعر اپنے مرنے کے بعد پیدا ہوئے ہیں ) ۔ اس نے اپنی آنکھ بند کر لی اور ہماری آنکھیں کھول دیں ۔ (یعنی وہ خود تو مر گئے لیکن ہماری آنکھیں کھول گئے)

Many a poet was born after his death, opened out eyes when his own were closed.

2424

رخت باز از نیستی بیرون کشید

چون گل از خاک مزار خود دمید

ایسا شاعر عدم سے اپنا سامان ناز باہر لے آیا وہ اپنے مزار کی مٹی سے پھول کی مانند پھوٹ پڑا ۔ (شاید میرے لیے بھی یہی مقدر ہے) ۔

And journeyed forth again from nothingness, like roses blossoming o’er the earth of his grave.

2525

کاروان ها گرچه زین صحرا گذشت

مثل گام ناقه کم‌غوغا گذشت

اگرچہ اس صحرا سے کئی قافلے گزر چکے ہیں لیکن وہ سب اونٹنی کے قدموں کی طرح کسی آہٹ اور چاپ کے بغیر ہی گزر گئے( ان کے چلنے کی آواز کسی کے کان تک نہ پہنچی، کسی کو احساس تک نہ ہوا کہ انھوں نے کیا کہا اور کیا کر گئے) ۔

Albeit caravans have passed through this desert, they passed, as a camel steps, with little sound.

2626

عاشقم. فریاد، ایمان من است

شور حشر از پیش‌خیزان من است

میں محض شاعر نہیں ، میں عاشق ہوں ، فریاد کرنا میرا ایمان ہے ۔ محشر کا شور میرے نقیبوں میں سے ہے ۔

But I am a lover, loud crying is my faith, the clamour of Judgment Day is one of my minions.

2727

نغمه‌ام ز اندازهٔ تار است بیش

من نترسم از شکست عود خویش

میرا نغمہ تار کی گنجائش سے بڑھ کر ہے ، میں اپنے ساز کی ٹوٹ پھوٹ سے نہیں ڈرتا ۔ ( میں نغمہ ضرور سناؤں گا اگرچہ اس وجہ سے میرا ساز ٹوٹ بھی جائے تو مجھے پرواہ نہیں ) ۔

My song exceeds the range of the chord, yet I do not fear that my lute will break.

2828

قطره از سیلاب من بیگانه به

قلزم از آشوب او دیوانه به

قطرہ میرے طوفان سے نا آشنا ہی رہے تو اچھا ہے ۔ سمندر کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ میرے طوفان سے دیوانہ ہو جائے ۔ (دیوانگی کی کیفیت طاری کر لے) ۔ قطرہ سے مراد کم ہمت اور فرومایہ افراد ہیں ۔ سمندر سے اشارہ ان لوگوں کی طرف ہے جو ہمت اور جوش عمل کے پیکر ہوں ۔

Twere better for the water drop not to know my torrent, whose fury should rather madden the sea.

2929

در نمی‌گنجد به جو عمان من

بحرها باید پی طوفان من

میرا سمندر کسی چھوٹی ندی میں نہیں سما سکتا؛ میرے طوفان کو سنبھالنے کے لیے کئی سمندر چاہئیں۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

No river will contain my Oman. My flood requires whole seas to hold it.

3030

غنچه کز بالیدگی گلشن نشد

در خور ابر بهار من نشد

وہ کلی جو نشو ونما پاتی ہوئی گلشن کی صورت اختیار نہیں کر سکتی وہ میرے ابر بہار سے فیض پانے کے لائق نہیں ۔

Unless the bud expands into a bed of roses, it is unworthy of my spring-cloud’s bounty.

3131

برق‌ها خوابیده در جان من است

کوه و صحرا باب جولان من است

میری جان میں بجلیاں سوئی ہوئی ہیں ۔ پہاڑ اور صحرا تو میری جولانگاہ کا دروازہ ہیں ۔

Lightnings slumber within my soul, I sweep over mountain and plain.

3232

پنجه کن با بحرم ار صحراستی

برق من در گیر اگر سیناستی

اگر تو صحرا ہے تو پھر میرے سمندر سے پنجہ آزمائی کر، میری بجلی سے خود کو روشن کر لے اگر تو کوہ طور ہے ۔ (میری بجلی اپنے رگ و پے میں سمیٹ لے) ۔

Wrestle with my sea, if thou art a plain, receive my lightning of thou art a Sinai.

3333

چشمهٔ حیوان براتم کرده‌اند

محرم راز حیاتم کرده‌اند

قضا و قدر نے آب و حیات کا چشمہ میرے نصیب میں لکھ دیا ہے ۔ مجھے انھوں نے راز حیات سے آشنا کر دیا ہے ۔

The Fountain of Life hath been given me to drink, I have been made an adept of the mystery of Life.

3434

ذره از سوز نوایم زنده گشت

پر گشود و کرمک تابنده گشت

میری نوا کے سوز سے ذرے کو زندگی مل گئی اس (ذرے) نے بال و پر نکالے اور وہ جگنو بن گیا ۔

The speck of dust was vitalized by my burning song, It unfolded wings and became a firefiy.

3535

هیچکس، رازی که من گویم نگفت

همچو فکر من دُر معنی نسفت

وہ راز جو میں ظاہر کر رہا ہوں کسی نے بھی ظاہر نہیں کیا ، کسی نے بھی میرے فکر کی مانند معنی کا موتی نہیں پرویا ۔

No one hath. Told the secret which I will tell, or threaded a pearl of though like mine.

3636

سِرّ عیش جاودان خواهی بیا

هم زمین هم آسمان خواهی، بیا

تو ہمیشہ کی زندگی کا بھید جاننا چاہتا ہے تو میرے پاس آ، اگر زمین اور آسمان کا بھی تو طالب ہے تو آ ( یہ سب نعمتیں تجھے مل جائیں گی) ۔

Come, if thou would’st know the secret of everlasting life, come, if thou would’st win both earth and heaven.

3737

پیر گردون با من این اسرار گفت

از ندیمان رازها نتوان نهفت

یہ اسرار مجھے بوڑھے آسمان یعنی قضا و قدر نے بتائے ۔ دوستوں اور رفیقوں سے راز بھید چھپائے نہیں جا سکتے ۔

Heaven taught me this lore, I cannot hide it from comrades.

3838

ساقیا برخیز و می در جام کن

محو از دل کاوش ایام کن

اے ساقی اٹھ اور شراب جام میں ڈال، اس طرح زمانے کے غم و رنج میرے دل سے دور کر دے ۔

O Saqi arise and pour wine into the cup, clear the vaxation of Time from my heart.

3939

شعلهٔ آبی که اصلش زمزم است

گر گدا باشد پرستارش جم است

ایسے پانی کا شعلہ عطا کر جس کا سرچشمہ زمزم ہے اگر وہ گدا ہو تو جمشید جیسا بادشاہ اس کا عقیدت مند یا غلام ہو ۔

The sparkling liquor that flows from Zemzem, were a beggar to worship it, he would become a king.

4040

مِی کند اندیشه را هشیارتر

دیدهٔ بیدار را بیدارتر

جو قوت فکر میں اور تیزی پیدا کر دے اور جاگتی ہوئی آنکھوں کو اور زیادہ بیدار کر دے ۔

It makes thought more sober and wise, it makes the keen eye keener.

4141

اعتبارِ کوه بخشد کاه را

قوّت شیران دهد روباه را

جو تنکے کو پہاڑ کی سی عظمت بخش دے ، جو لومڑی کو شیروں کی سی طاقت عطا کر دے ۔

It gives to a straw the weight of a mountain, and to foxes the strength of lions.

4242

خاک را اوج ثریا می‌دهد

قطره را پهنای دریا می‌دهد

جو خاک کو ثریا کی بلندی پر پہنچا دیتی ہے جو قطرے میں سمندر کی سی وسعتیں پیدا کر دیتی ہے ۔

It causes dust to soar to the Pleiades, and a drop of waters well to the breadth of the sea.

4343

خامشی را شورش محشر کند

پای کبک از خونِ باز احمر کند

جو خاموشی کو شور محشر کی صور ت د ے دے، جو چکور کے پنجے کو باز کے خون سے سرخ کر دے ۔

It turns silence into the din of Judgment Day, it makes the foot of the partridge red with blood of the hawk.

4444

خیز و در جامم شراب ناب ریز

بر شب اندیشه‌ام مهتاب ریز

اے ساقی اٹھ اور میرے جام میں خالص شراب ڈال دے ۔ میری قوت فکر کی رات پر چاندنی بکھیر دے ۔ یعنی اسے نور سے چمکا دے ۔

Arise and pour pure wine into my cup, pour moon beams into the dark night of my thought.

4545

تا سوی منزل کشم آواره را

ذوق بیتابی دهم نظّاره را

تا کہ میں بھٹکے ہوئے (مراد بھٹکی ہوئی قوم) کو منزل (مقصود) کی طرف لے چلوں اور نظارے کو بیقراری کا ذوق پیدا کر دوں ۔

That I may lead home the wanderer, and imbue the idle looker on with rest less impatience.

4646

گرم‌رو از جستجوی نو شوم

روشناس آرزوی نو شوم

نئی جستجو کی تڑپ میں تیز رفتار ہو جاؤں اور ایک نئی آرزو سے آگاہ ہو جاؤں ۔

And advance hotly on a new quest, and become known as the champion of a new spirit.

4747

چشم اهل ذوق را مردم شوم

چون صدا در گوش عالم گم شوم

میں اہل ذوق (مراد جن کے دلوں میں ملت کا درد ہے) کی آنکھوں کی پتلی بن جاؤں ۔ آواز کی مانند دنیا کے کانوں میں گم ہو جاؤں ۔

And be to people of insight as the pupil to the eye, and sink into the ear of the world, like a voice.

4848

قیمت جنس سخن بالا کنم

آب چشم خویش در کالا کنم

شاعری کی جنس کی قیمت بڑھا دوں اور اپنے آنسو سامان تجارت میں رکھ دوں ۔

And exalt the worth of Poesy, and sprinkle the dry herbs with my tears.

4949

باز بر خوانم ز فیض پیر روم

دفتر سربسته اسرار علوم

میں پیر روم (مولانا رومی) کے فیض سے پھر وہ دفتر دنیا کو سنا دوں جس میں علوم کے اسرار بند ہیں ۔ علوم کے رازوں کی سربمہر کتاب پھر پڑھوں ۔

Inspired by the genius of the Master of Rum, I reherarse the sealed book of secret lore.

5050

جان او از شعله‌ها سرمایه‌دار

من فروغ یک نفس مثل شرار

مولانا کی جان تو دل کی تپشوں سے مالامال ہے ۔ (اپنے اندر شعلوں کا خزانہ لیے ہوئے ہے) جبکہ ان کے مقابلے میں میری حیثیت چنگاری کی مانند اس روشنی کی سی ہے جو ادھر چمکی ادھر بجھ گئی ۔

His soul is the flaming furnace, I am but as the spark that gleams for a moment.

5151

شمع سوزان تاخت بر پروانه‌ام

باده شبخون ریخت بر پیمانه‌ام

جلتی ہوئی شمع میرے پروانے پر چڑھ دوڑی ۔ شراب نے میرے جام پر شب خون مار ۔

His burning candle consumed me, I the moth, His wine overwhelmed my goblet.

5252

پیر رومی خاک را اکسیر کرد

از غبارم جلوه‌ها تعمیر کرد

پیر رومی نے خاک کو (علامہ کو جن کی حیثیت کچھ نہ تھی) اکسیر بنا دیا (انہیں باطنی طور پر جذب اور صاحب مقام بنا دیا) اور میرے غبار سے کئی جلوے تعمیر کئے ۔

The master of Rum transmulted my earth to gold, and set my ashes aflame.

5353

ذره از خاک بیابان رخت بست

تا شعاع آفتاب آرد به دست

ذرے نے صحرا کی خاک سے اپنا سامان سمیٹا تا کہ وہ سور ج کی کرن ہاتھ میں لے سکے ۔

The grain of sand set forth from the desert, that I might win the radiance of the sun.

5454

موجم و در بحر او منزل کنم

تا دُر تابنده‌ای حاصل کنم

میں لہر ہوں اور اس (پیر روم ) کے سمندر میں بسیرا کرتی ہوں تا کہ میں چمکتا ہوا موتی حاصل کر لوں ۔

I am a wave and I will come to rest in his sea, that I may make the glistening pearl mine own.

5555

من که مستی‌ها ز صهبایش کنم

زندگانی از نَفَس‌هایش کنم

میں جو اس کی شرابوں کی بدولت سرمستیوں میں کھویا ہوا ہوں ، اسی کے سانسوں سے زندگی بسر کر رہا ہوں ۔

I who am drunken with the wine of his song, draw life from the breath of his words.

5656

شب دل من مایل فریاد بود

خامشی از «یا ربم» آباد بود

رات میرادل فریاد پر مائل تھا میری یارب یارب کی پکار سے خاموشی میں بھی ایک شور سا تھا ۔ ( سب سور رہے تھے صرف میری زبان پر یارب یارب کی فریاد جاری تھی) ۔

It was night my heart would fain lament, the silence was filled with my cries to God.

5757

شکوهٔ شوب غم دوران بدم

از تهی‌پیمانگی نالان بدم

میں زمانے کے دکھوں کا سخت شکوہ کر رہا تھا اپنے خالی پیمانے کی وجہ سے فریاد کناں تھا ۔ اشک بار تھا ۔

I was complaining of the sorrows of the world, and bewailing the emptiness of my cup.

5858

این قدر نظّاره‌ام بیتاب شد

بال و پر بشکست و خر در خواب شد

میں غور سے دیکھنے میں مصروف تھا کہ میری قوت بصارت گھٹ گئی، میرے بال و پر ٹوٹ گئے ، یعنی قوت پرواز جاتی رہی اور میں سو گیا ۔ (میری نگاہیں تڑپتے تڑپتے بال و پر توڑ بیٹھیں اور میں سو گیا ۔ )

At last mine eye could endure no more, broken with fatigue it went to sleep.

5959

روی خود بنمود پیر حق‌سرشت

کو به حرف پهلوی قرآن نوشت

(اسی اثنا میں ) حق کی فطرت رکھنے والے پیر (مولانا روم) خواب میں تشریف لائے ۔ وہ بزرگ جنھوں نے فارسی زبان میں قرآن لکھا ہے ۔ (جنھوں نے قرآن کے حقائق فارسی زبان میں پیش کئے ہیں ) ۔

There appeared the Master, formed in the mould of Truth, Who wrote the Koran in Persian.

6060

گفت «ای دیوانهٔ ارباب عشق

جرعه‌ای گیر از شراب ناب عشق

انھوں نے فرمایا اے عشق والوں کے دلدادہ عشق کی خالص شراب سے تو بھی ایک گھونٹ پی لے ۔

He said, “o frenzied lover, take a draught of love’s pure wine.

6161

بر جگر هنگامهٔ محشر بزن

شیشه بر سر، دیده بر نشتر بزن

تو اپنے جگر یعنی دل میں قیامت کا ہنگامہ برپا کر ، صراحی سر پر مار، آنکھیں نشتر پر مار (اور نشتر سے آنکھیں پھوڑ) دوسرے لفظوں میں عقل کو ایک طرف رکھ اور نظارے سے کام لینے کی بجائے عشق کو اپنا خضر راہ بنا ۔

Strike the chords of thine heart and rouse a tumultuous strain, dash thine head against the goblet and thine eye against the lancet.

6262

خنده را سرمایهٔ صد ناله ساز

اشک خونین را جگر پرکاله ساز

ہنسی کو سیکڑوں نالوں کا سرمایہ بنا ۔ خون کے آنسووَں کو جگر کا ٹکڑا بنا ۔ خون کے آنسو اتنے سرخ ہوں گویا خون جگر کے ٹکڑوں سے نکل رہا ہو ۔

Make thy laughter the source of a hundred sighs, make the hearts of men bleed with thy tears.

6363

تا به کِی چون غنچه می‌باشی خموش

نکهت خود را چو گل ارزان فروش

تو کب تک کلی کی طرح خاموش بیٹھا رہے گا، پھول کی طرح اپنی خوشبو ارزاں فروخت کر ، ہر طرف بکھیر دے ۔

How long wilt thou be silent, like a bud? Sell thy fragrance cheap, like the rose.

6464

در گره هنگامه داری چون سپند

محمل خود بر سر آتش ببند

تیرے دامن میں سپند کی طرح ہنگامہ موجود ہے تو اپنی محمل کی آگ پر باندھ ۔

Tongue-tied, thou art in pain, cast thyself upon the fire, like rue.

6565

چون جرس آخر ز هر جزوِ بدن

نالهٔ خاموش را بیرون فکن

جرس کی طرح تو اپنے بدن کے ہر حصے سے خاموش نالہ باہر پھینک ۔

Like the bell, break silence at last, and from every limb, utter forth a lamentation.

6666

آتش استی بزم عالم بر فروز

دیگران را هم ز سوز خود بسوز

تو آگ ہے ، دنیا کی محفل کو جگمگا دے، دوسروں کو بھی اپنے سوز سے پھونک ڈال ۔ جس جلن سے تو خود جل رہا ہے، اسی سے دوسروں کو بھی جلا کر رکھ دے ۔

Thou art fire, fill the world with thy glow, make others burn with thy burning.

6767

فاش گو اسرار پیر مِی‌ فروش

موج می‌شو کسوت مینا بپوش

پیر مے فروش کے راز کھول کر بیان کر دے ۔ شراب کی موج بن جا اور صراحی کا لباس پہن لے ۔

Proclaim the secrets of the old wine seller, be thou a surge of wine, and the crystal cup thy robe.

6868

سنگ شو آئینهٔ اندیشه را

بر سر بازار بشکن شیشه را

فکر و خوف کے شیشے کے لیے پتھر بن جا، شیشے کو چوراہے پر تو ڈال ۔ چکنا چور کر دے یعنی ر از چھپا کر نہ رکھ بلکہ ان کو سب کے سامنے کھول کر بیان کر دے ۔

Shatter the mirror of fear, break the bottles in the bazaar.

6969

از نیستان همچو نی پیغام ده

قیس را از قوم «حی» پیغام ده

نرکل کے جنگل سے بانسری کی مانند پیغام دے ۔ قیس کو قبیلہ حے کی طرف سے پیغام دے ۔

Like the reed-flute, bring a massage from the reed-bed, give to Majnun a message from the tribe of Laila.

7070

ناله را انداز نو ایجاد کن

بزم را از های و هو آباد کن

نالے آہ فغاں کے لیے نیا اندازہ ایجاد کر محفل کو ہائے و ہو سے آباد کر ۔

Create new style for thy song, enrich the assembly with thy piercing strains.

7171

خیز و جانِ نو بده هر زنده را

از «قم» خود زنده‌تر کن زنده را

اٹھ اور زندہ شخص کو نئی جان عطا کر؛ لفظ '‍ قوم' کہہ کے زندوں میں اور زندگی بھر دے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Say Arise and by that word quicken the living, up and set thy feet on another path, put aside the passionate melancholy of old.

7272

خیز و پا بر جادهٔ دیگر بنه

جوش سودای کهن از سر بنه

اٹھ اور قدم ایک نئی راہ پر رکھ اپنے قدیم سودا کا ابال اپنے سر سے نکال دے ۔ (نئے مسلک کا کاربند ہو، پرانے مسلک سے کنارہ کش ہو جا) ۔

Up, and set thy feet on another path; Put aside the passionate melancholy of old!

7373

آشنای لذت گفتار شو

ای دِرای کاروان بیدار شو»

تو گفتار کی تاثیر سے آگاہ ہو جا، (بات کہنے اور پیغام پہنچانے میں بڑی لذت ہے) ۔ تو جو قافلے کے آگے آگے بجنے والی گھنٹی ہے، بیدا ر ہو جا ۔ (تیرا منصب یہی ہے کہ خود جاگ اور دوسروں کو جگا) ۔

Become familiar with the delight of signing, bell of the caravan, awake.

7474

زین سخن آتش به پیراهن شدم

مثل نِی هنگامهٔ بستن شدم

اس (پیر روم) کی ان باتوں سے تو میں بڑا ہی مضطرب ہو گیا، بانسری کی طرح میں شور و غوغا سے پر ہو گیا ۔

At these words my bosom was enkindled, and swelled with emotion like the flute.

7575

چون نوا از تار خود برخاستم

جنتی از بهر گوش آراستم

میں اپنے باجے سے نغمے کی طرح پھوٹ پڑا، میں نے اپنے کانوں کے لیے ایک بہشت سجا لی ۔

I rose like music from the string, to prepare a Paradise for the ear.

7676

بر گرفتم پرده از راز خودی

وا نمودم سِرّ اعجاز خودی

میں نے خودی کے راز سے پردہ اٹھا دیا اور خودی کی کرامت کا بھید ظاہر کر دیا ۔

I unveiled the mystery of the Self, and disclosed its wondrous secret.

7777

بود نقش هستیَم انگاره‌ای

ناقبولی، ناکسی، ناکاره‌ای

میرا وجود ایک ناتمام نقش تھا، جس کی حیثیت ایک بے رنگ خاکے کی تھی ۔ نہ کوئی اسے قبول کر سکتا تھا نہ اس میں کوئی خوبی تھی، نہ وہ کسی کام آ سکتا تھا ۔

My being was an unfinished statue, Uncomely, worthless, good for nothing.

7878

عشق سوهان زد مرا، آدم شدم

عالِم کیف و کم عالم شدم

عشق نے مجھ پر ریتی چلائی اور میں انسان ہو گیا، میں دنیا کے تمام احوال و اسرار کا جاننے والا بن گیا ۔

Love chiseled me I become a man, and gained knowledge of the nature of the universe.

7979

حرکت اعصاب گردون دیده‌ام

در رگ مه گردش خون دیده‌ام

میں نے آسمان کے اندر جھانک کر اس کے نظام کا جائزہ لیا اور اس طرح چاند کی رگ میں خون کی گردش کا نظارہ کیا ہے(مراد چاند کے اندرونی نظام میں جھانک کر دیکھا ہے) ۔

I have seen the movement of the sinews of the sky, and the blood coursing in the veins of the moon.

8080

بهر انسان چشم من شب‌ها گریست

تا دریدم پردهٔ اسرارِ زیست

انسان کے لیے میری آنکھیں کئی راتیں روتی رہیں ۔ جب کہیں جا کر میں نے ہستی کے رازوں کا پردہ چاک کر ڈالا(قدرت نے زندگی کے رازوں کا پردہ میرے لیے چاک کر دیا) ۔

Many a night I wept for Man’s sake, that I might tear the veil from Life’s mysteries.

8181

از درون کارگاه ممکنات

بر کشیدم سِر تقویم حیات

ممکنات کے کارخانے کے اندر سے میں نے ہستی کی حقیقت کا بھید کھول دیا( بھید پا لیا) ۔

I extract the secret of Life’s constitution, from the laboratory of phenomena.

8282

من که این شب را چو مه آراستم

گرد پای ملت بیضاستم

میں کہ جس نے اس رات کو چاند کی طرح آراستہ یا منور کیا ہے روشن ملت کے پاؤں کی خاک ہوں یعنی اسلام کا ایک انتہائی ادنیٰ فرد ہوں ۔

I who give beauty to this night, like the moon, Am as dust in devotion to the pure Faith (Islam).

8383

ملتی در باغ و راغ آوازه‌اش

آتش دل‌ها سرود تازه‌اش

وہ ملت ایسی ہے جس کی شہرت باغ اور جنگل میں یعنی چہار دانگ عالم میں ہے، اس کے نئے نغموں سے دلوں کی آگ کا سامان پیدا ہوتا ہے ۔

A faith remowned in hill and dale, which kindles in men’s hearts a flame of undying song.

8484

ذره کِشت و آفتاب انبار کرد

خرمن از صد رومی و عطار کرد

(اس ملت نے) ذرہ بویا اور سورج حاصل کر لیا، جس کا کھلیان سینکڑوں رومیوں اور عطاروں سے بھرا پڑا ہے ۔

It sowed an atom and repeat a sun, it harvested a hundred poets like Rumi and Attar.

8585

آه گرمم، رخت بر گردون کشم

گرچه دودم از تبار آتشم

میں ایک گرم آہ ہوں ، آسمان کی طرف سفر کرتا ہوں ۔ اگرچہ میں دھواں ہوں ۔ آہ کو دھواں ہی قرار دیا جا سکتا ہے لیکن میرا تعلق آگ کے خاندان سے ہے ۔

I am a sigh, I will mount to the heavens, I am but smoke, yet am I sprung of fire.

8686

خامه‌ام از همت فکر بلند

راز این نُه پرده در صحرا فکند

میرے قلم نے فکر کی بلندی کے بل پر ان نو پردوں کے راز سب کے لیے کھول دیئے ( نو پروں سے مراد اصلاح ادب میں نو آسمان ہیں ) ۔

Driven onward by high thoughts, my pen, cast abroad the secret behind this veil.

8787

قطره تا همپایهٔ دریا شود

ذره از بالیدگی صحرا شود

تا کہ قطرہ سمندر کا ہم پلہ ہو جائے اور ذرہ بڑھتے بڑھتے صحرا بن جائے ۔

That the drop may become co-equal with the sea, and the grain of sand grows into a Sahara.

8888

شاعری زین مثنوی مقصود نیست

بت پرستی، بتگری مقصود نیست

میں نے جو یہ مثنوی لکھی ہے تو اس سے میرا مقصد کسی قسم کی شاعری کے کمالات دکھانا نہیں ۔ میں نہیں چاہتا کہ عا م شاعروں کی طرح بت بنا کر آراستہ کرتا جاؤں اور بت پرستی کی دعوت دیتا رہوں (الفاظ کی تراش، خراش، شعبدہ بازی فنی چابک دستی دکھانا میرا مقصود نہیں ہے) ۔ بلکہ میں قوم کی سربلندی کا طریقہ بتاتا ہوں َ

Poetising is not the aim of this Masnavi, beauty-worshipping and love-making is not its aim.

8989

هندیم از پارسی بیگانه‌ام

ماه نو باشم تهی پیمانه‌ام

میں ہند کا رہنے والا ہوں ، فارسی زبان سے نا آشنا ہوں ۔ میں نیا چاند ہوں (یعنی جس طرح ہلال الٹے پیمانے کی طرح ہوتا ہے میں بھی اسی طرح ) خالی پیمانہ ہوں ۔

I am of Urdu, Persian is not my native tongue, I am like the crescent moon; my cup is not full.

9090

حُسن اندازِ بیان از من مجو

خوانسار و اصفهان از من مجو

مجھ سے تو شاعرانہ انداز بیان کی خوبیاں مت مانگ میرے کلام میں خوانسار و اصفہان (بڑے بڑے شعرا کی سی فنی خوبیاں ) مت ڈھوند ۔

Do not seek from me charm of style in exposition, Do not seek not from me Khansar and Isfahan.

9191

گرچه هندی در عذوبت شکّر است

طرز گفتار دری شیرین‌تر است

اگرچہ اردو زبان اپنی شیرینی اور مٹھاس کے لحاظ سے شکر جیسی ہے لیکن فارسی زبان اس سے کہیں زیادہ میٹھی ہے(فارسی کے طرز سخن میں زیادہ مٹھاس پائی جاتی ہے) ۔

Although the language of Urdu is sweet as sugar, yet sweeter is the fashion of Persian speech.

9292

فکر من از جلوه‌اش مسحور گشت

خامهٔ من شاخ نخل طور گشت

میری فکر اس (یعنی فارسی زبان) کے جلوے سے مسحور ہو گئی ۔ اس جلوہ افروزی کی بدولت میر اقلم طور کے درخت کی شاخ بن گیا ۔

My mind was enchanted by its loveliness, my pen became as a twig of the Toor tree.

9393

پارسی از رفعت اندیشه‌ام

در خورَد با فطرت اندیشه‌ام

میرے افکار بہت بلند ہیں اور فارسی کی ان افکار کی فطرت سے بہت مناسبت ہے ۔

Because of the loftiness of my thoughts, Persian alone is suitable to them.

9494

خرده بر مینا مگیر ای هوشمند

دل به ذوقِ خردهٔ مینا ببند

اے صاحب عقل و دانش تو صراحی پر اعتراض نہ کر( میری شاعری کی فنی کوتاہیوں کو نہ دیکھ) تو صراحی میں موجود شراب کے ذوق سے دل بستگی پیدا کر(اپنے دل کو شراب کی لذت سے وابستہ کر لے) ۔ -

O Reader I do not find fault with the wine-cup, but consider attentively the taste of the wine.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

دی شیخ با چراغ همی‌گشت گرد شهر

کز دام و دد ملولم و انسانم آرزوست

علامہ اقبال»اسرار خودی»اسرار خودی

اگلی نظم

پیکر هستی ز آثار خودی است

هر چه می بینی ز اسرار خودی است

علامہ اقبال»اسرار خودی»بخش 2 - در بیان اینکه اصل نظام عالم از خودی است و تسلسل حیات تعینات وجود بر استحکام خودی انحصاردارد

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور