رومی اور تلاش انسان
Secrets of the Self
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)
1دی شیخ با چراغ همیگشت گرد شهر
کز دام و دد ملولم و انسانم آرزوست
کل شیخ چراغ لیے شہر میں میں گھوم رہا تھا کہ میں جانوروں حیوانوں اور درندوں سے تنگ ہو گیا ہوں ۔ مجھے کسی انسان کی آرزو یا تلاش ہے ۔
But yester-eve a lamp in hand The Shaykh did all the city span, Sick of mere ghosts he sought a man, But could find none in all the land.
2زاین همرهان سستعناصر دلم گرفت
شیر خدا و رستم دستانم آرزوست
یعنی جو آدمی ہر جگہ چلتے پھرتے نظر آ رہے ہیں ان کی حقیقت چوپایوں اور درندوں کی سی ہے ۔ ان سست الوجود اور نکمے ہمراہیوں سے تو میرا دل بیزار ہو گیا ہے ۔ مجھے شیرِ خدا اور رستم دستاں (جیسے شجاع اور بہادر انسان) کی تلاش ہے ۔
“I Rustam or a Hyder seek I’m sick of snails, am sick,” he said,
3گفتم که یافت مینشود جستهایم ما
گفت آنچه یافت مینشود آنم آرزوست
میں نے کہا وہ تو مل نہیں رہا جسے آپ تلاش کر چکے ہیں ۔ جواب میں شیخ نے کہا کہ وہ جو مل نہیں رہا اسی کی تو مجھے تلاش و آرزو ہے ۔گویا اسرار خودی کا مدعا بھی اس کے سوا کچھ نہیں کہ شیر خدا اور رستم دستاں جیسے انسان پیدا کرے جواب بازار زندگی میں کہیں نظر نہیں آتے ۔ یہ کتاب اس لیے لکھی کہ اس کی تعلیمات سے انسان حقیقی معنی میں انسان بن جائے ۔ سست عناصر ہمراہی ایسے معاصرین ہیں جو جہدوعمل سے عاری ہیں ۔ شیر خدا اور رستم دستاں سے مراد ایسا مر دکامل ہے جو انسانی معاشرے سے ظلم و ستم اور فساد ختم کر کے اسے ایک زبردست انقلاب سے آشنا کر دے تاکہ انسانی معاشرے میں حق کا بول بالا ہو ۔
“There’s none,” said I. He shook his head, “There’s none like them, but still I seek.”
زمین
بنمای رخ که باغ و گلستانم آرزوست
بگشای لب که قند فراوانم آرزوست
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 441
ای چنگ پردههای سپاهانم آرزوست
وی نای ناله خوش سوزانم آرزوست
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 457
نه تخت جم، نه ملک سلیمانم آرزوست
راهی به خلوت دل جانانم آرزوست
صائبدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 1950
یک لحظه دیدن رخ جانانم آرزوست
یکدم وصال آن مه خوبانم آرزوست
عراقیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 34
فارسی متن کا ماخذ: گنجور