صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »اسرار خودی
  3. »اسرار خودی

اسرار خودی

رومی اور تلاش انسان

Secrets of the Self

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: انمارزوست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 4

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: شیخ محمود
Toggle stanza 1
”“
1

دی شیخ با چراغ همی‌گشت گرد شهر

کز دام و دد ملولم و انسانم آرزوست

کل شیخ چراغ لیے شہر میں میں گھوم رہا تھا کہ میں جانوروں حیوانوں اور درندوں سے تنگ ہو گیا ہوں ۔ مجھے کسی انسان کی آرزو یا تلاش ہے ۔

But yester-eve a lamp in hand The Shaykh did all the city span, Sick of mere ghosts he sought a man, But could find none in all the land.

2

زاین همرهان سست‌عناصر دلم گرفت

شیر خدا و رستم دستانم آرزوست

یعنی جو آدمی ہر جگہ چلتے پھرتے نظر آ رہے ہیں ان کی حقیقت چوپایوں اور درندوں کی سی ہے ۔ ان سست الوجود اور نکمے ہمراہیوں سے تو میرا دل بیزار ہو گیا ہے ۔ مجھے شیرِ خدا اور رستم دستاں (جیسے شجاع اور بہادر انسان) کی تلاش ہے ۔

“I Rustam or a Hyder seek I’m sick of snails, am sick,” he said,

3

گفتم که یافت می‌نشود جسته‌ایم ما

گفت آنچه یافت می‌نشود آنم آرزوست

میں نے کہا وہ تو مل نہیں رہا جسے آپ تلاش کر چکے ہیں ۔ جواب میں شیخ نے کہا کہ وہ جو مل نہیں رہا اسی کی تو مجھے تلاش و آرزو ہے ۔گویا اسرار خودی کا مدعا بھی اس کے سوا کچھ نہیں کہ شیر خدا اور رستم دستاں جیسے انسان پیدا کرے جواب بازار زندگی میں کہیں نظر نہیں آتے ۔ یہ کتاب اس لیے لکھی کہ اس کی تعلیمات سے انسان حقیقی معنی میں انسان بن جائے ۔ سست عناصر ہمراہی ایسے معاصرین ہیں جو جہدوعمل سے عاری ہیں ۔ شیر خدا اور رستم دستاں سے مراد ایسا مر دکامل ہے جو انسانی معاشرے سے ظلم و ستم اور فساد ختم کر کے اسے ایک زبردست انقلاب سے آشنا کر دے تاکہ انسانی معاشرے میں حق کا بول بالا ہو ۔

“There’s none,” said I. He shook his head, “There’s none like them, but still I seek.”

رومی
◆

اگلی / پچھلی نظم

اگلی نظم

نیست در خشک و تر بیشهٔ من کوتاهی

چوب هر نخل که منبر نشود دار کنم

علامہ اقبال»اسرار خودی»بخش 1 - تمهید

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

بنمای رخ که باغ و گلستانم آرزوست

بگشای لب که قند فراوانم آرزوست

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 441

ای چنگ پرده‌های سپاهانم آرزوست

وی نای ناله خوش سوزانم آرزوست

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 457

نه تخت جم، نه ملک سلیمانم آرزوست

راهی به خلوت دل جانانم آرزوست

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1950

یک لحظه دیدن رخ جانانم آرزوست

یکدم وصال آن مه خوبانم آرزوست

عراقی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 34

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور