صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »اسرار خودی
  3. »بخش 8 - در معنی اینکه افلاطون یونانی که تصوف و ادبیات اقوام اسلامیه از افکار او اثر عظیم پذیرفته بر مسلک گوسفندی رفته است و از تخیلات او احتراز واجب است

بخش 8 - در معنی اینکه افلاطون یونانی که تصوف و ادبیات اقوام اسلامیه از افکار او اثر عظیم پذیرفته بر مسلک گوسفندی رفته است و از تخیلات او احتراز واجب است

اس بیان میں کہ یونان کا فلسفی افلاطون جس کے افکار سے مسلم اقوام کے تصوف اور ادب نے بہت زیادہ اثر قبول کیا مسلک گوسفندی ہی پر چلا ہے، اس کے افکار و خیالات سے بچا رہنا ضروری ہے

To the effect that Plato, whose thought has deeply influenced the mysticism and literature of Islam, followed the sheep's doctrine, and that we must be on our guard against his theories

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: نکلسن
Toggle stanza 1
11

راهب دیرینه افلاطون حکیم

از گروه گوسفندان قدیم

یونان کا وہ قدیم تارک دنیا حکیم افلاطون اپنے عہد کے قدیم بھیڑوں کے ریوڑ میں سے تھا ۔

Plato, the prime ascetic and sage, Was one of that ancient flock of sheep.

22

رخش او در ظلمت معقول گم

در کهستان وجود افکنده سم

اس کا گھوڑا فلسفے کی تاریکی میں کھو گیا، وہ (گھوڑا) وجود کی کوہستان میں چلنے سے عاجز در ماندہ رہ گیا ۔

His Pegasus went astray in the darkness of philosophy And galloped over the mountains of Being.

33

آنچنان افسون نامحسوس خورد

اعتبار از دست و چشم و گوش برد

وہ نامحسوس کے فریب میں کچھ اس قدر مبتلا ہو گیا کہ اسے ہاتھ، آنکھ اور کان کے وجود کا اعتبار ہی نہ رہا ۔

He was so fascinated by the Ideal That he made head, eye, and ear of no account.

44

گفت سر زندگی در مردن است

شمع را صد جلوه از افسردن است

اس نے کہا کہ زندگی کا راز مر جانے میں چھپا ہے شمع کے بجھ جانے ہی سے اس کے سینکڑوں جلوے ظاہر ہوتے ہیں ۔

"To die," said he, "is the secret of Life: The candle is glorified by being put out."

55

بر تخیلهای ما فرمان رواست

جام او خواب آور و گیتی رباست

وہ ہمارے خیالات پر چھایا ہوا ہے اس کا جام نیند لانے والا اور زمانے کو چھین لے جانے والا ہے ۔

He dominates our thinking, His cup sends us to sleep and takes the world away from us.

66

گوسفندی در لباس آدم است

حکم او بر جان صوفی محکم است

(درحقیقت) وہ آدمی کے لباس میں ایک بھیڑ ہے، اس کا حکم صوفی کی روح پر پوری طرح غالب ہے(صوفی اس کے خیالات و افکار پر مٹے ہوئے ہیں ) ۔

He is a sheep in man's clothing, The soul of the Sufi bows to his authority.

77

عقل خود را بر سر گردون رساند

عالم اسباب را افسانه خواند

اس نے اپنی عقل آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دی، اس نے عالم اسباب یعنی اس مادی دنیا کو بے حقیقت کہا ۔

He soared with his intellect to the highest heaven, He called the world of phenomena a myth.

88

کار او تحلیل اجزای حیات

قطع شاخ سرو رعنای حیات

اس کا کام زندگی کے اجزا کا تجزیہ کرنا اور زندگی کے دل کش سرو کی شاخ کو کاٹنا ہے ۔

Twas his work to dissolve the structure of Life And cut the bough of Life's fair tree asunder.

99

فکر افلاطون زیان را سود گفت

حکمت او بود را نابود گفت

افلاطون کی فکر نے نقصان کو نفع کہا، اس کی حکمت نے وجود کو غیر وجود کہا ۔

The thought of Plato regarded loss as profit, His philosophy declared that being is not-being.

1010

فطرتش خوابید و خوابی آفرید

چشم هوش او سرابی آفرید

اس کی فطرت سو گئی پھر اس نے ایک خواب پیدا کیا ۔ اس کے ہوش کی آنکھ نے ایک سراب کو تخلیق کیا (وجود میں لے آئی) ۔

His nature drowsed and created a dream, His mind's eye created a mirage.

1111

بسکه از ذوق عمل محروم بود

جان او وارفته ی معدوم بود

وہ عمل کے ذوق سے کچھ زیادہ ہی محروم تھا ۔ اس کی روح معدوم کی دیوانی تھی(اس کی جان عدم محض پر مٹی ہوئی تھی) ۔

Since he was without any taste for action, His soul was enraptured by the non-existent.

1212

منکر هنگامه ی موجود گشت

خالق اعیان نامشهود گشت

اس نے موجودات کے ہنگامے سے انکار کر دیا ۔ اس نے خارج میں غیر موجود اشیا تخلیق کیں ۔

He disbelieved in the material universe And became the creator of invisible Ideas.

1313

زنده جان را عالم امکان خوش است

مرده دل را عالم اعیان خوش است

جس شخص میں زندگی کی روح موجود ہے اسے یہ فانی دنیا اچھی لگتی ہے ۔ البتہ جس کا دل مر چکا ہو اس کے لیے وہ دنیا اچھی ہے جس کی محسوس اشیا اس کے نزدیک معدوم ہیں ۔

Sweet is the world of phenomena to the living spirit,Dear is the world of Ideas to the dead spirit.

1414

آهوش بی بهره از لطف خرام

لذت رفتار بر کبکش حرام

اس (افلاطون) کے ہرن کو خرام کے لطف سے کوئی حصہ نہ ملا (محروم ہے) اس کے چکور پر رفتار کی لذت حرام ہو گئی ۔ ہرن کا کمال چوکڑی بھرنا اور چکور کا کمال دلاویز طریق ہر چلنا ہے ۔ اگر یہ خوبیاں غائب ہو جائیں تو ان کو ہونا نا ہونا برابر ہے ۔

Its gazelles have no grace of movement, Its partridges are denied the pleasure of walking daintily.

1515

شبنمش از طاقت رم بی نصیب

طایرش را سینه از دم بی نصیب

اس کی شبنم اڑ جانے کی طاقت سے بے نصیب ہے ۔ اس کے پرندے کے سینے میں نغمہ آرائی کا دم ہی نہ تھا( شبنم کی خوبی اڑنا اور پرندے کی خوبی گانا ہے) ۔

Its dewdrops are unable to quiver, Its birds have no breath in their breasts.

1616

ذوق روئیدن ندارد دانه اش

از طپیدن بی خبر پروانه اش

اس کے دانے میں نمو پانے (اگنے ) کا ذوق نہیں ہے ۔ اس کا پروانہ تڑپنے سے بے خبر ہے(تڑپ سے نا آشنا ہے) ۔

Its seed does not desire to grow, Its moths do not know how to flutter.

1717

راهب ما چاره غیر از رم نداشت

طاقت غوغای این عالم نداشت

ہمارے تارک دنیا (افلاطون) کے لیے فرار کے سوا کوئی اور چارہ نہ تھا، اس میں اس دنیا کے ہنگامے (تنازع اور بقا کی جدوجہد ) کی طاقت نہ تھی (لہذا سب کچھ چھوڑ کر بھاگ گیا) ۔

Our philosopher had no remedy but flight: He could not endure the noise of this world.

1818

دل بسوز شعله ی افسرده بست

نقش آن دنیای افیون خورده بست

اس نے بجھے ہوئے شعلے سے اپنا دل لگایا، اس نے اُس افیون خوردہ دنیا کی تصویر بنائی ۔

He set his heart on the glow of a quenchèd flame And depicted a world steeped in opium.

1919

از نشیمن سوی گردون پر گشود

باز سوی آشیان نامد فرود

اس نے پر کھولے اور آسمان کی طرف اڑ گیا ۔ پھر وہ آشیانے میں نہیں اترا(واپس نہ پہنچا) ۔

He spread his wings towards the sky And never came down to his nest again.

2020

در خم گردون خیال او گم است

من ندانم درد یا خشت خم است

آسمان کے مٹکے میں اس کا خیال گم ہو گیا مجھے علم نہیں کہ وہ تلجھٹ ہے یا مٹکے کے سر کی اینٹ ہے

His phantasy is sunk in the jar of heaven: I know not whether it is the dregs or the bricks.

2121

قومها از سکر او مسموم گشت

خفت و از ذوق عمل محروم گشت

قو میں اس کے غفلت انگیز (نشہ آور) فلسفے کے زہر کا شکار ہو گئیں ، وہ سو گئیں اور عمل کے ذوق سے محروم ہو گئیں ( جن قوموں نے افلاطون کا فلسفہ اختیار کیا وہ سو گئیں اور ذوق عمل سے محروم رہیں ) ۔

The peoples were poisoned by his intoxication: He slumbered and took no delight in deeds.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

آن شنیدستی که در عهد قدیم

گوسفندان در علف زاری مقیم

علامہ اقبال»اسرار خودی»بخش 7 - حکایت درین معنی که مسئلهٔ نفی خودی از مخترعات اقوام مغلوبهٔ بنی نوع انسان است که به این طریق مخفی اخلاق اقوام غالبه را ضعیف میسازند

اگلی نظم

گرم خون انسان ز داغ آرزو

آتش ، این خاک از چراغ آرزو

علامہ اقبال»اسرار خودی»بخش 9 - در حقیقت شعر و اصلاح ادبیات اسلامیه

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور