صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »اسرار خودی
  3. »بخش 9 - در حقیقت شعر و اصلاح ادبیات اسلامیه

بخش 9 - در حقیقت شعر و اصلاح ادبیات اسلامیه

شعر کی حقیقت اور اسلامی ادبیات کی اصلاح کے بارے میں

Concerning the true nature of poetry and the reorm of Islamic Literature

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: نکلسن
Toggle stanza 1
11

گرم خون انسان ز داغ آرزو

آتش ، این خاک از چراغ آرزو

انسان کا خون آرزو کے داغ سے گرم ہوتا ہے ۔ یہ خاک (انسان) آرزو کے چراغ سے آگ بن جاتی ہے ۔

Tis the brand of desire makes the blood of man run warm, By the lamp of desire this dust is enkindled.

22

از تمنا می بجام آمد حیات

گرم خیز و تیزگام آمد حیات

آرزو یا تمنا ہی سے زندگی کا پیالہ شراب سے بھرتا ہے اسی آرزو کے طفیل زندگی میں تیز روی، گرمی اور تیزی آ جاتی ہے ۔

By desire Life's cup is brimmed with wine, So that Life leaps to its feet and marches briskly on.

33

زندگی مضمون تسخیر است و بس

آرزو افسون تسخیر است و بس

زندگی تو فقط فطرت پر غلبہ پا کر اسے اپنے کام میں لانے کا مضمون ہے جب کہ آرزو اس تسخیر کا جادو (منتر ) ہے اور بس ۔

Life is occupied with conquest alone, And the one charm for conquest is desire.

44

زندگی صید افکن و دام آرزو

حسن را از عشق پیغام آرزو

زندگی، شکار کھیلتی ہے اور (ا س شکار کے لیے) آرزو جال کا کام دیتی ہے یہ آرزو گویا عشق کی طرف سے حسن کے نام پیغام ہے ۔

Life is the hunter and desire the snare, Desire is Love's message to Beauty.

55

از چه رو خیزد تمنا دمبدم

این نوای زندگی را زیر و بم

آرزو تمنا کس لیے ہر لمحہ وجود میں آتی رہتی ہے یہ زندگی کے نغمے کی نیچی لے اور اونچی لے ہے ۔

Wherefore doth desire swell continuously The bass and treble of Life's song?

66

هر چه باشد خوب و زیبا و جمیل

در بیابان طلب ما را دلیل

جو چیز بھی دل کش، خوبصورت اور حسن و جمال سے آراستہ ہے وہ آرزو اور خواہش کے جنگل میں ہماری رہنمائی کرنے والی ہے ۔

Whatsoever is good and fair and beautiful Is our guide in the wilderness of seeking.

77

نقش او محکم نشیند در دلت

آرزو ها آفریند در دلت

اس (دل کش شے) کا نقش تیرے دل میں گہرا اور مستحکم بیٹھتا ہے یہ تیرے دل میں آرزووَں کو جنم دیتی ہے ۔

Its image becomes impressed on thine heart, It creates desires in thine heart.

88

حسن خلاق بهار آرزوست

جلوه اش پروردگار آرزوست

حسن ہی سے آرزو کی بہار پیدا ہوتی ہے ، اسی کے آغوش سے آرزو پاتی ہے ۔

Beauty is the creator of desire's spring-tide, Desire is nourished by the display of Beauty.

99

سینه ی شاعر تجلی زار حسن

خیزد از سینای او انوار حسن

شاعر کا سینہ حسن کی جلوہ گاہ ہے اس کے سینا سے حسن کے انوار پھوٹتے ہیں (جلوے ابھرتے ہیں ) ۔

Tis in the poet's breast that Beauty unveils, ’Tis from his Sinai that Beauty's beams arise.

1010

از نگاهش خوب گردد خوب تر

فطرت از افسون او محبوب تر

اس کی نگاہ سے حسن میں مزید نکھار آ جاتا ہے ، فطرت اس کے سحر سے اور بھی محبوب ہو جاتی ہے ۔

By his look the fair is made fairer, Through his enchantments Nature is more beloved.

1111

از دمش بلبل نوا آموخت است

غازه اش رخسار گل افروخت است

اس (شاعر ) کی پھونک (نغمے، شاعری) سے بلبل نغمے سیکھتی ہے (چہچہاتی ہے) ۔ شاعر ہی کے گلوگونہ سے پھول کا چہرہ تابناک ہو جاتا ہے ۔

From his lips the nightingale hath learned her song, And his rouge hath brightened the cheek of the rose.

1212

سوز او اندر دل پروانه ها

عشق را رنگین ازو افسانه ها

اس کا سوز پروانوں کے دل میں ہے ۔ عشق کے افسانے اسی ہی کی وجہ سے رنگین ہیں ۔

Tis his passion burns in the heart of the moth, ’Tis he that lends glowing hues to love-tales.

1313

بحر و بر پوشیده در آب و گلش

صد جهان تازه مضمر در دلش

اس کے خمیر میں بحر و بر (آب و گل) پوشیدہ ہیں ۔ بے شمار نئے جہان اس کے دل میں پوشیدہ ہیں ۔

Sea and land are hidden within his water and clay A hundred new worlds are concealed in his heart.

1414

در دماغش نادمیده لاله ها

ناشنیده نغمه ها هم ناله ها

اس کے دماغ میں ایسے لالہ کے پھول موجود ہیں جو ابھی کھلے نہیں اور ایسے نغمے اور نالے بھی اس کے دماغ میں پوشیدہ ہیں جو ابھی تک سنے نہیں گئے ۔

Ere tulips blossomed in his brain There was heard no note of joy or grief.

1515

فکر او با ماه و انجم همنشین

زشت را نا آشنا خوب آفرین

اس کے خیالات بلندی میں چاند ستاروں کی ہم نشین ہے ۔ وہ برائی سے ناواقف اور خوبیاں تخلیق کرنے والا ہے(بری چیز اس کے تصور میں بھی نہیں آ سکتی ۔ وہ ہمیشہ اچھی چیزیں پیدا کرتا ہے) ۔

His thoughts dwell with the moon and the stars, He creates beauty in that which is ugly and strange.

1616

خضر و در ظلمات او آب حیات

زنده تر از آب چشمش کائنات

وہ خضر ہے جس کی تاریکی میں آب حیات موجود ہے ۔ اس کی آنکھوں کے پانی (آنسووَں ) سے کائنات اور بھی زیادہ زندہ ہے ۔ اس کے آنسووَں سے کائنات کی رگوں میں زندگی کی نئی لہر دوڑنے لگتی ہے ۔

He is a Khizr, and amidst his darkness is the Fountain of Life All things that exist are made more living by his tears.

1717

ما گران سیریم و خام و ساده ایم

در ره منزل ز پا افتاده ایم

ہم چلنے میں بھی سست ہیں ، محنت مشقت سے جی چراتے ہیں ، نفع نقصان کا ہمیں کوئی اندازہ نہیں ۔ منزل مقصود سے دورراستے میں گرے پڑے ہیں ۔

Heavily we go, like raw novices, Stumbling on the way to the goal.

1818

عندلیب او نوا پرداخت است

حیله ئی از بهر ما انداخت است

اس کی بلبل چہچہا اٹھی ہے اس نے ہمارے لیے کوئی تدبیر سوچی ہے ۔

His nightingale hath played a tune And laid a plot to beguile us.

1919

تا کشد ما را بفردوس حیات

حلقه ی کامل شود قوس حیات

تا کہ ہمیں وہ زندگی کی بہشت تک پہنچا دے (یوں ) زندگی کی کمان (نیم دائرہ) مکمل حلقے کی صور ت اختیار کر جائے ۔

That he may lead us into Life's Paradise, And that Life's bow may become a full circle.

2020

کاروانها از درایش گام زن

در پی آواز نایش گام زن

قافلے شاعر ہی کی آواز جرس پر کوچ کرنے لگتے ہیں وہ (قافلے) اس کی بانسری کی آواز کے پیچھے رواں رہتے ہیں ۔

Caravans march at the sound of his bell And follow the voice of his pipe.

2121

چون نسیمش در ریاض ما وزد

نرمک اندر لاله و گل می خزد

جب اس کی نسیم ہمارے باغ میں چلتی ہے تو وہ نرمی و آہستگی سے گل و لالہ میں داخل ہوتی ہے ۔

But when his zephyr blows in our gardens, We stay loitering amongst tulips and roses.

2222

از فریب او خود افزا زندگی

خود حساب و نا شکیبا زندگی

اسکے جادو سے زندگی کے زور و قوت میں اضافہ ہو جاتا ہے وہ اپنی قدر و قیمت کا جائزہ لیتی ہے اور اس میں تگ و دو کی بیتابی پیدا ہوتی ہے ۔

His witchery makes Life develop itself And become self-questioning and impatient.

2323

اهل عالم را صلا بر خوان کند

آتش خود را چو باد ارزان کند

وہ دنیا والوں کو پکار کر دسترخوان پر دعوت عام دیتا ہے اپنی آگ کو ہوا کی مانند ارزاں (عام ) کر دیتا ہے ۔

He invites the whole world to his table; He lavishes his fire as though it were cheap as air.

2424

وای قومی کز اجل گیرد برات

شاعرش وا بوسد از ذوق حیات

اس قوم پر افسوس ہے جو موت سے یعنی جذبہ عمل کی موت سے خوش ہوتی ہے ۔ اس کا شاعر زندگی کی لذت سے روگردانی کرتا ہے ۔

Woe to a people that resigns itself to death, And whose poet turns away from the joy of living!

2525

خوش نماید زشت را آئینه اش

در جگر صد نشتر از نوشینه اش

اس کا آئینہ بری چیزوں کو بھی اس کے سامنے خوشنما کر کے دکھاتا ہے اسکے شیریں مشروب سے جگر میں سینکڑوں نشتر اتر جاتے ہیں ۔

His mirror shows beauty as ugliness, His honey leaves a hundred stings in the heart.

2626

بوسه ی او تازگی از گل برد

ذوق پرواز از دل بلبل برد

اگر وہ پھول کا بوسہ لے لے تو اس کی تازگی ختم ہو کر رہ جائے ۔ وہ بلبل کے دل سے پرواز کا ذوق لے جاتا یعنی ختم کر دیتا ہے ۔

His kiss robs the rose of freshness, He takes away from the nightingale's heart the joy of flying.

2727

سست اعصاب تو از افیون او

زندگانی قیمت مضمون او

تیرے اعصاب اس کی افیون سے بے حس اور بیکار ہو کر رہ جاتے ہیں اس کے مضمون کی قیمت زندگی ہے (جو وہ پیغام دیتا ہے اس سے زندگی کی فنا ہو جاتی ہے) ۔

Thy sinews are relaxed by his opium, Thou payest for his song with thy life.

2828

می رباید ذوق رعنائی ز سرو

جره شاهین از دم سردش تذرو

وہ سرو سے زیبائی و خوش قامتی کا ذوق چھین لے جاتا ہے ۔ اس کی حرارت سے عاری سانس سے نر باز بھی ایک عام صحرائی پرندہ یعنی بزدل بن جاتا ہے ۔

He bereaves the cypress of delight in its beauty, His cold breath makes a pheasant of the male falcon.

2929

ماهی و از سینه تا سر آدم است

چون بنات آشیان اندر یم است

وہ (شاعر) نچلے دھڑ سے مچھلی اور سینے سے سر تک آدمی ہے ( نصف جسم انسان کا اور نصف مچھلی کا ہوتا ہے ) وہ سمندر کی پریوں کی مانند ہے ۔

He is a fish, and from the breast upward a man Like the Sirens in the ocean.

3030

از نوا بر ناخدا افسون زند

کشتیش در قعر دریا افکند

جو اپنے نغموں سے ملاح جہاز ران پر جادو کر دیتی ہیں اور جہاز کو سمندر کی گہرائی میں ڈبو دیتی ہیں ۔

With his song he enchants the pilot And casts the ship to the bottom of the sea.

3131

نغمه هایش از دلت دزدد ثبات

مرگ را از سحر او دانی حیات

اس شاعر کے نغمے تیرے دل سے استقلال و ثابت قدمی چرا لے جاتے ہیں ۔ اس کے جادو کے سبب تو موت کو زندگی سمجھنے لگتا ہے ۔

His melodies steal firmness from thine heart, His magic persuades thee that death is life.

3232

دایه ی هستی ز جان تو برد

لعل عنابی ز کان تو برد

وہ تیری روح سے زندہ رہنے کی خواہش نکال دیتا ہے، تیری کان سے عناب ایسا سرخ لعل لے جاتا ہے ۔

He takes from thy soul the desire of existence, He extracts from thy mine the blushing ruby.

3333

چون زیان پیرایه بندد سود را

می کند مذموم هر محمود را

جب نقصان فائدے کا لباس پہن لیتا ہے تو وہ ہر اچھائی برائی بن جاتی ہے ۔

He dresses gain in the garb of loss, He makes everything praiseworthy blameful.

3434

در یم اندیشه اندازد ترا

از عمل بیگانه می سازد ترا

وہ تجھے خوف اور ڈر کے سمندر میں ڈال دیتا ہے، عمل سے تجھے بیگانہ بنا دیتا ہے ۔

He plunges thee in a sea of thought, He makes thee a stranger to action.

3535

خسته و ما از کلامش خسته تر

انجمن از دور جامش خسته تر

وہ مضمحل ہے اور ہم اس کے کلام کے سبب اور بھی زیادہ مضمحل ہیں ۔ محفل اس کے جام کی گردش سے بہت ہی مضمحل اور تھکی ماندی ہے(انجمن کی رونق چلی جاتی ہے) ۔

He is sick, and by his words our sickness is increased: The more his cup goes round, the more sick are they that quaff it.

3636

جوی برقی نیست در نیسان او

یک سراب رنگ و بو بستان او

اس کے بادل میں کسی بجلی کی ندی ہو ہی نہیں سکتی ۔ اس کا باغ تو رنگ و بو کے معاملے میں سراسر فریب نظر ہے، دھوکا ہے ۔

There are no lightning-rains in his April, His garden is a mirage of colour and perfume.

3737

حسن او را با صداقت کار نیست

در یمش جز گوهر تف دار نیست

اس کے حسن و خوبی کو راستی اور حقیقت سے کوئی سروکار نہیں ، اس کے سمندر میں ناقص موتیوں کے سوا کچھ نہیں ہے(جو بھی موتی نکلے گا وہ عیب سے خالی نہ ہو گا ۔ ) ۔

His beauty hath no dealings with Truth, There are none but flawed pearls in his sea.

3838

خواب را خوشتر ز بیداری شمرد

آتش ما از نفسهایش فسرد

وہ سونے کو بیداری پر ترجیح دیتا ہے ہماری آگ اس کی سانسوں سے بجھ گئی، ٹھنڈی ہو گئی(ہمیں ہمت کی حرارت سے بے بہرہ کر دیا) ۔

Slumber he deemed sweeter than waking Our fire was quenched by his breath.

3939

قلب مسموم از سرود بلبلش

خفته ماری زیر انبار گلش

دل اس کی بلبل کے نغمے سے زہر آلود ہو گیا اس کے پھولوں کے ڈھیر کے نیچے ایک سانپ سویا ہوا ہے ۔

By the chant of his nightingale the heart was poisoned Under his heap of roses lurked a snake.

4040

از خم و مینا و جامش الحذر

از می آئینه فامش الحذر

اس کی صراحی، اس کے شراب کے مٹکے اور اسکے جام سے دور رہو ۔ اس کی آئینے ایسی شفاف شراب سے بچو ہرگز نہ چھووَ ۔

Beware of his decanter and cup! Beware of his sparkling wine.

4141

ای ز پا افتاده ی صهبای او

صبح تو از مشرق مینای او

اے (قوم) کہ تو اسکی شراب کے نشے سے ٹھوکر کھا کر گرا پڑا ہے ۔ تیرے دن کا طلوع اس کی صراحی شراب کے مشرق سے ہوتا ہے ۔

O thou whom his wine hath laid low And who look’st to his glass for thy rising dawn.

4242

ای دلت از نغمه هایش سرد جوش

زهر قاتل خورده ئی از راه گوش

اے کہ تیرے دل کا اس کے نغموں سے جوش و خروش ختم ہو گیا ۔ کان کے راستے سے زہر قاتل اندر پہنچ گیا ۔

O thou whose heart hath been chilled by his melodies, Thou hast drunk deadly poison through the ear.

4343

ای دلیل انحطاط انداز تو

از نوا افتاد تار ساز تو

اے کہ تیرا طریق تیرے زوال و پستی کی دلیل ہے ۔ تیرے ساز کا تار آواز سے عاری ہو چکا ہے ۔

Thy way of life is a proof of thy degeneracy, The strings of thine instrument are out of tune.

4444

آن چنان زار از تن آسانی شدی

در جهان ننگ مسلمانی شدی

تو اپنی تن آسانی یعنی سستی و کاہلی کے سبب اس حد تک تباہ و برباد ہو گیا ہے کہ دنیا میں تجھے مسلمانی کیلیے باعث ننگ سمجھا جاتا ہے ۔

Tis pampered ease hath made thee so wretched, A disgrace to Islam throughout the world.

4545

از رگ گل می توان بستن ترا

از نسیمی می توان خستن ترا

(تیری کمزوری کا یہ حال ہے کہ) تجھے رگ گل سے باندھا جا سکتا ہے اور ہلکی سی ہوا سے تجھے زخمی کیا جا سکتا ہے ۔

One can bind thee with the vein of a rose, One can wound thee with a zephyr.

4646

عشق رسوا گشته از فریاد تو

زشت رو تمثالش از بهزاد تو

تیری فریاد کے نتیجے میں عشق ذلیل و رسوا ہو کر رہ گیا ہے ۔ اس (عشق) کی تصویر تیرے بہزاد نے بدصورت بنائی ہے ۔

Love hath been put to shame by thy wailing His fair picture hath been fouled by thy brush.

4747

زرد از آزار تو رخسار او

سردی تو برده سوز از نار او

تیری بیماری کی وجہ سے عشق کے رخسار بھی زرد ہو چکے ہیں؛ تیری بے حسی نے عشق کی آگ کی تپش ختم کر دی ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Thy ill-usage hath paled his cheek, Thy coldness hath taken the glow from his fire.

4848

خسته جان از خسته جانیهای تو

ناتوان از ناتوانیهای تو

وہ تیری ذہنی تھکن اور زخمی جان کے سبب خستہ جاں ہو گیا ہے اور تیری کمزوریوں نے اسے بھی کمزور کر دیا ہے ۔

He is heartsick from thy heart-sicknesses, And enfeebled by thy feeblenesses.

4949

گریه ی طفلانه در پیمانه اش

کلفت آهی متاع خانه اش

وہ بچوں کی طرح روتا ہے اس کے پیالے میں آنسووَں کے سوا کچھ نہیں ۔ اس کے گھر کا سروسامان کیا ہے ۔ صرف ایک آہ کی تکلیف و اذیت ۔

His cup is full of childish tears, His house is furnished with distressful sighs.

5050

سر خوش از دریوزه ی میخانه ها

جلوه دزد روزن کاشانه ها

میخانوں سے مانگی ہوئی بھیک ہی سے وہ سرمست ہے وہ گھروں کے سوراخوں میں سے نظارہ چرانے والا ہے ۔

He is a drunkard begging at tavern-doors, Stealing glimpses of beauty from lattices.

5151

نا خوشی ، افسرده ئی ، آزرده ئی

از لگد کوب نگهبان مرده ئی

وہ ایک غمگین و ملول، ایک افسردہ اور ایک آرزدہ (انسان ) ہے جو (محبوب کے دروازے کے) چوکیدار کی لاتوں کی ٹھوکروں ہی سے مر جانے والا ہے ۔

Unhappy, melancholy, injured, Kicked well-nigh to death by the warder.

5252

از غمان مانند نی کاهیده ئی

وز فلک صد شکوه بر لب چیده ئی

غموں کے سبب وہ بانس کی باریک شاخ کی طرح سوکھا ہوا ہے اور اس کے لبوں پر آسمان کی (ستم رانیوں ) کے سینکڑوں گلے شکوے ہیں ۔

Wasted like a reed by sorrows, On his lips a store of complaints against Heaven.

5353

لابه و کین جوهر آئینه اش

ناتوانی همدم دیرینه اش

چاپلوسی، خوشامد اور کینہ و دشمنی اس کی فطرت کا خاصہ ہے ۔ ضعف اور کمزوری اس کی پرانی ساتھی ہے ۔

Flattery and spite are the mettle of his mirror, Helplessness his comrade of old.

5454

پست بخت و زیر دست و دون نهاد

ناسزا و ناامید و نامراد

وہ بد نصیب ہے، محکوم و محتاج ہے اور پست فطرت ہے ۔ وہ ناپسندیدہ و ناشائستہ ہے ، وہ نالائق ہے ، نا امید و نامراد ہے ۔

A miserable base-born underling Without worth or hope or object,

5555

شیونش از جان تو سرمایه برد

لطف خواب از دیده ی همسایه برد

اسکے رونے دھونے اور فریاد نے تیری روح کا سرمایہ کھا لیا ہے ۔ اس نے ہمسایہ کی آنکھوں سے نیند کا مزہ ہی اڑا دیا ہے ۔

Whose lamentations have sucked the marrow from thy soul And driven off gentle sleep from thy neighbours’ eyes.

5656

وای بر عشقی که نار او فسرد

در حرم زائید و در بتخانه مرد

افسوس ہے ایسے عشق پر جس کی حرارت و گرمی سرد پڑ گئی ہو ، جو پیدا تو حرم (کعبے) میں ہوا ہو لیکن مرا بت خانے میں جا کر ۔

Alas for a love whose fire is extinct, A love that was born in the Holy Place and died in the house of idols.

5757

ای میان کیسه ات نقد سخن

بر عیار زندگی او را بزن

اے مخاطب (شاعر) تیری تھیلی میں شعر و سخن کی جو متاع موجود ہے تو انہیں زندگی کی کسوٹی پر پرکھ (اس کی شان یہی ہے کہ قوم میں زندگی کی روح پیدا کرے) ۔

Oh, if thou hast the coin of poesy in thy purse, Rub it on the touchstone of Life.

5858

فکر روشن بین عمل را رهبر است

چون درخش برق پیش از تندر است

(شاعر کی) روشن پہلو دیکھنے والی فکر، عمل کی رہنما بن جاتی ہے، بالکل اس چمک کی طرح جو بجلی کی کڑک اور گرج سے پہلے نمودار ہوتی ہے ۔

Clear-seeing thought shows the way to action, As the lightning-flash precedes the thunder.

5959

فکر صالح در ادب می بایدت

رجعتی سوی عرب می بایدت

ادب و شعر میں تجھے چاہیے کہ درستی اور صلاح والی فکر سے کام لے ۔ اس سلسلے میں تجھے عرب کی طرف رجوع کرنا چاہیے(عربوں کی شاعری کو نمونہ بنانا چاہیے) ۔

It behoves thee to meditate well concerning literature, It behoves thee to go back to the Arabs.

6060

دل به سلمای عرب باید سپرد

تا دمد صبح حجاز از شام کرد

تجھے اپنا دل عرب کی سلمیٰ (محبوبہ) سے لگانا چاہے تا کہ حجاز کی صبح کرد کی شام سے پھوٹے(یعنی تمام غیر اسلامی خصوصیات مٹ جائیں اور اسلامی اوصاف جلا پائیں ) ۔

Thou must needs give thine heart to the Salmá of Araby, That the morn of the Hijáz may blossom from the night of Kurdistan.

6161

از چمن زار عجم گل چیده ئی

نو بهار هند و ایران دیده ئی

(اے شاعر) تو نے عجم (ایران، پاک و ہند) کے باغ سے پھول چنے ہیں ، تو نے ہندو اور ایران کی تازہ بہار دیکھی ہے ۔

Thou hast gathered roses from the garden of Persia And seen the springtide of India and Iran.

6262

اندکی از گرمی صحرا بخور

باده ی دیرینه از خرما بخور

اب تھوڑی دیر کے لیے یا تھوڑی سی صحرا کی تپش کا بھی لطف اٹھا، پرانی شراب کھجور سے بھی چکھ لے ۔

Now taste a little of the heat of the desert, Drink the old wine of the date.

6363

سر یکی اندر بر گرمش بده

تن دمی با صرصر گرمش بده

کچھ دیر کے لیے اپنا سر اس (صحرا) کی گرم آغوش میں رکھ دے، کچھ دیر کے لیے اپنا جسم اس کی گرم تیز ہوا کے حوالے کر دے ۔

Lay thine head for once on its hot breast, Yield thy body awhile to its scorching wind.

6464

مدتی غلطیده ئی اندر حریر

خو به کرپاس درشتی هم بگیر

مدت تک ریشمی لباس کی لذت میں مست رہا ہے، ذرا موٹے کھردرے کپڑے کی بھی عادت ڈال لے ۔

For a long time thou hast turned about on a bed of silk: Now accustom thyself to rough cotton.

6565

قرنها بر لاله پا کوبیده ئی

عارض از شبنم چو گل شوئیده ئی

تو صدیوں تک گل لالہ کے فرش پر رقص کرتا رہا ۔ پھول کی طرح تو شبنم سے اپنے گال (منہ) دھوتا رہا ہے ۔

For generations thou hast danced on tulips And bathed thy cheek in dew, like the rose.

6666

خویش ر بر ریگ سوزان هم بزن

غوطه اندر چشمه ی زمزم بزن

(اب) جھلسا دینے والی ریت پر بھی ذرا خود کو ڈال دے، زمزم کے چشمے میں بھی غوطہ لگا لے ۔

Now throw thyself on the burning sand And plunge into the fountain of Zemzem.

6767

مثل بلبل ذوق شیون تا کجا

در چمن زاران نشیمن تا کجا

تو بلبل کی طرح کب تک آہ و فریاد کرتا رہے گا اور باغوں میں کب تک گھونسلا بنائے رہے گا ۔

How long wilt thou fain lament like the nightingale? How long make thine abode in gardens?

6868

ای هما از یمن دامت ارجمند

آشیانی ساز بر کوه بلند

اے (شاعر) ہما کو تیرے دام (جال) ہی کی بدولت قدرومنزلت میسر ہے تو کسی بلند پہاڑ پر اپنا گھونسلا یعنی آشیانہ بنا ۔

O thou whose auspicious snare would do honour to the Phoenix, Build a nest on the high mountains.

6969

آشیانی برق و تندر در بری

از کنام جره بازان برتری

ایسا آشیانہ جس کے آغوش میں بجلی اور گرج ہو ، جو نر بازوں کے آشیانے سے بھی کہیں اونچا اور برتر ہو ۔

A nest embosomed in lightning and thunder, Loftier than eagle's eyrie.

7070

تا شوی در خورد پیکار حیات

جسم و جانت سوزد از نار حیات

تاکہ تو زندگی کی جدوجہد کے قابل ہو، تیری جان اور تیرا جسم زندگی کی آگ سے تپش پذیر ہو (آتش حیات کی حرارت پیدا ہو ) ۔

That thou mayst be fit for Life's battle, That thy body and soul may burn in Life's fire!

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

راهب دیرینه افلاطون حکیم

از گروه گوسفندان قدیم

علامہ اقبال»اسرار خودی»بخش 8 - در معنی اینکه افلاطون یونانی که تصوف و ادبیات اقوام اسلامیه از افکار او اثر عظیم پذیرفته بر مسلک گوسفندی رفته است و از تخیلات او احتراز واجب است

اگلی نظم

خدمت و محنت شعار اشتر است

صبر و استقلال کار اشتر است

علامہ اقبال»اسرار خودی»بخش 10 - در بیان اینکه تربیت خودی را سه مراحل است مرحلهٔ اول را اطاعت و مرحلهٔ دوم را ضبط نفس، و مرحله سوم را نیابت الهی نامیده اند: «مرحلهٔ اول اطاعت»

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور