شعر کی حقیقت اور اسلامی ادبیات کی اصلاح کے بارے میں
Concerning the true nature of poetry and the reorm of Islamic Literature
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
گرم خون انسان ز داغ آرزو
آتش ، این خاک از چراغ آرزو
انسان کا خون آرزو کے داغ سے گرم ہوتا ہے ۔ یہ خاک (انسان) آرزو کے چراغ سے آگ بن جاتی ہے ۔
Tis the brand of desire makes the blood of man run warm, By the lamp of desire this dust is enkindled.
از تمنا می بجام آمد حیات
گرم خیز و تیزگام آمد حیات
آرزو یا تمنا ہی سے زندگی کا پیالہ شراب سے بھرتا ہے اسی آرزو کے طفیل زندگی میں تیز روی، گرمی اور تیزی آ جاتی ہے ۔
By desire Life's cup is brimmed with wine, So that Life leaps to its feet and marches briskly on.
زندگی مضمون تسخیر است و بس
آرزو افسون تسخیر است و بس
زندگی تو فقط فطرت پر غلبہ پا کر اسے اپنے کام میں لانے کا مضمون ہے جب کہ آرزو اس تسخیر کا جادو (منتر ) ہے اور بس ۔
Life is occupied with conquest alone, And the one charm for conquest is desire.
زندگی صید افکن و دام آرزو
حسن را از عشق پیغام آرزو
زندگی، شکار کھیلتی ہے اور (ا س شکار کے لیے) آرزو جال کا کام دیتی ہے یہ آرزو گویا عشق کی طرف سے حسن کے نام پیغام ہے ۔
Life is the hunter and desire the snare, Desire is Love's message to Beauty.
از چه رو خیزد تمنا دمبدم
این نوای زندگی را زیر و بم
آرزو تمنا کس لیے ہر لمحہ وجود میں آتی رہتی ہے یہ زندگی کے نغمے کی نیچی لے اور اونچی لے ہے ۔
Wherefore doth desire swell continuously The bass and treble of Life's song?
هر چه باشد خوب و زیبا و جمیل
در بیابان طلب ما را دلیل
جو چیز بھی دل کش، خوبصورت اور حسن و جمال سے آراستہ ہے وہ آرزو اور خواہش کے جنگل میں ہماری رہنمائی کرنے والی ہے ۔
Whatsoever is good and fair and beautiful Is our guide in the wilderness of seeking.
نقش او محکم نشیند در دلت
آرزو ها آفریند در دلت
اس (دل کش شے) کا نقش تیرے دل میں گہرا اور مستحکم بیٹھتا ہے یہ تیرے دل میں آرزووَں کو جنم دیتی ہے ۔
Its image becomes impressed on thine heart, It creates desires in thine heart.
حسن خلاق بهار آرزوست
جلوه اش پروردگار آرزوست
حسن ہی سے آرزو کی بہار پیدا ہوتی ہے ، اسی کے آغوش سے آرزو پاتی ہے ۔
Beauty is the creator of desire's spring-tide, Desire is nourished by the display of Beauty.
سینه ی شاعر تجلی زار حسن
خیزد از سینای او انوار حسن
شاعر کا سینہ حسن کی جلوہ گاہ ہے اس کے سینا سے حسن کے انوار پھوٹتے ہیں (جلوے ابھرتے ہیں ) ۔
Tis in the poet's breast that Beauty unveils, ’Tis from his Sinai that Beauty's beams arise.
از نگاهش خوب گردد خوب تر
فطرت از افسون او محبوب تر
اس کی نگاہ سے حسن میں مزید نکھار آ جاتا ہے ، فطرت اس کے سحر سے اور بھی محبوب ہو جاتی ہے ۔
By his look the fair is made fairer, Through his enchantments Nature is more beloved.
از دمش بلبل نوا آموخت است
غازه اش رخسار گل افروخت است
اس (شاعر ) کی پھونک (نغمے، شاعری) سے بلبل نغمے سیکھتی ہے (چہچہاتی ہے) ۔ شاعر ہی کے گلوگونہ سے پھول کا چہرہ تابناک ہو جاتا ہے ۔
From his lips the nightingale hath learned her song, And his rouge hath brightened the cheek of the rose.
سوز او اندر دل پروانه ها
عشق را رنگین ازو افسانه ها
اس کا سوز پروانوں کے دل میں ہے ۔ عشق کے افسانے اسی ہی کی وجہ سے رنگین ہیں ۔
Tis his passion burns in the heart of the moth, ’Tis he that lends glowing hues to love-tales.
بحر و بر پوشیده در آب و گلش
صد جهان تازه مضمر در دلش
اس کے خمیر میں بحر و بر (آب و گل) پوشیدہ ہیں ۔ بے شمار نئے جہان اس کے دل میں پوشیدہ ہیں ۔
Sea and land are hidden within his water and clay A hundred new worlds are concealed in his heart.
در دماغش نادمیده لاله ها
ناشنیده نغمه ها هم ناله ها
اس کے دماغ میں ایسے لالہ کے پھول موجود ہیں جو ابھی کھلے نہیں اور ایسے نغمے اور نالے بھی اس کے دماغ میں پوشیدہ ہیں جو ابھی تک سنے نہیں گئے ۔
Ere tulips blossomed in his brain There was heard no note of joy or grief.
فکر او با ماه و انجم همنشین
زشت را نا آشنا خوب آفرین
اس کے خیالات بلندی میں چاند ستاروں کی ہم نشین ہے ۔ وہ برائی سے ناواقف اور خوبیاں تخلیق کرنے والا ہے(بری چیز اس کے تصور میں بھی نہیں آ سکتی ۔ وہ ہمیشہ اچھی چیزیں پیدا کرتا ہے) ۔
His thoughts dwell with the moon and the stars, He creates beauty in that which is ugly and strange.
خضر و در ظلمات او آب حیات
زنده تر از آب چشمش کائنات
وہ خضر ہے جس کی تاریکی میں آب حیات موجود ہے ۔ اس کی آنکھوں کے پانی (آنسووَں ) سے کائنات اور بھی زیادہ زندہ ہے ۔ اس کے آنسووَں سے کائنات کی رگوں میں زندگی کی نئی لہر دوڑنے لگتی ہے ۔
He is a Khizr, and amidst his darkness is the Fountain of Life All things that exist are made more living by his tears.
ما گران سیریم و خام و ساده ایم
در ره منزل ز پا افتاده ایم
ہم چلنے میں بھی سست ہیں ، محنت مشقت سے جی چراتے ہیں ، نفع نقصان کا ہمیں کوئی اندازہ نہیں ۔ منزل مقصود سے دورراستے میں گرے پڑے ہیں ۔
Heavily we go, like raw novices, Stumbling on the way to the goal.
عندلیب او نوا پرداخت است
حیله ئی از بهر ما انداخت است
اس کی بلبل چہچہا اٹھی ہے اس نے ہمارے لیے کوئی تدبیر سوچی ہے ۔
His nightingale hath played a tune And laid a plot to beguile us.
تا کشد ما را بفردوس حیات
حلقه ی کامل شود قوس حیات
تا کہ ہمیں وہ زندگی کی بہشت تک پہنچا دے (یوں ) زندگی کی کمان (نیم دائرہ) مکمل حلقے کی صور ت اختیار کر جائے ۔
That he may lead us into Life's Paradise, And that Life's bow may become a full circle.
کاروانها از درایش گام زن
در پی آواز نایش گام زن
قافلے شاعر ہی کی آواز جرس پر کوچ کرنے لگتے ہیں وہ (قافلے) اس کی بانسری کی آواز کے پیچھے رواں رہتے ہیں ۔
Caravans march at the sound of his bell And follow the voice of his pipe.
چون نسیمش در ریاض ما وزد
نرمک اندر لاله و گل می خزد
جب اس کی نسیم ہمارے باغ میں چلتی ہے تو وہ نرمی و آہستگی سے گل و لالہ میں داخل ہوتی ہے ۔
But when his zephyr blows in our gardens, We stay loitering amongst tulips and roses.
از فریب او خود افزا زندگی
خود حساب و نا شکیبا زندگی
اسکے جادو سے زندگی کے زور و قوت میں اضافہ ہو جاتا ہے وہ اپنی قدر و قیمت کا جائزہ لیتی ہے اور اس میں تگ و دو کی بیتابی پیدا ہوتی ہے ۔
His witchery makes Life develop itself And become self-questioning and impatient.
اهل عالم را صلا بر خوان کند
آتش خود را چو باد ارزان کند
وہ دنیا والوں کو پکار کر دسترخوان پر دعوت عام دیتا ہے اپنی آگ کو ہوا کی مانند ارزاں (عام ) کر دیتا ہے ۔
He invites the whole world to his table; He lavishes his fire as though it were cheap as air.
وای قومی کز اجل گیرد برات
شاعرش وا بوسد از ذوق حیات
اس قوم پر افسوس ہے جو موت سے یعنی جذبہ عمل کی موت سے خوش ہوتی ہے ۔ اس کا شاعر زندگی کی لذت سے روگردانی کرتا ہے ۔
Woe to a people that resigns itself to death, And whose poet turns away from the joy of living!
خوش نماید زشت را آئینه اش
در جگر صد نشتر از نوشینه اش
اس کا آئینہ بری چیزوں کو بھی اس کے سامنے خوشنما کر کے دکھاتا ہے اسکے شیریں مشروب سے جگر میں سینکڑوں نشتر اتر جاتے ہیں ۔
His mirror shows beauty as ugliness, His honey leaves a hundred stings in the heart.
بوسه ی او تازگی از گل برد
ذوق پرواز از دل بلبل برد
اگر وہ پھول کا بوسہ لے لے تو اس کی تازگی ختم ہو کر رہ جائے ۔ وہ بلبل کے دل سے پرواز کا ذوق لے جاتا یعنی ختم کر دیتا ہے ۔
His kiss robs the rose of freshness, He takes away from the nightingale's heart the joy of flying.
سست اعصاب تو از افیون او
زندگانی قیمت مضمون او
تیرے اعصاب اس کی افیون سے بے حس اور بیکار ہو کر رہ جاتے ہیں اس کے مضمون کی قیمت زندگی ہے (جو وہ پیغام دیتا ہے اس سے زندگی کی فنا ہو جاتی ہے) ۔
Thy sinews are relaxed by his opium, Thou payest for his song with thy life.
می رباید ذوق رعنائی ز سرو
جره شاهین از دم سردش تذرو
وہ سرو سے زیبائی و خوش قامتی کا ذوق چھین لے جاتا ہے ۔ اس کی حرارت سے عاری سانس سے نر باز بھی ایک عام صحرائی پرندہ یعنی بزدل بن جاتا ہے ۔
He bereaves the cypress of delight in its beauty, His cold breath makes a pheasant of the male falcon.
ماهی و از سینه تا سر آدم است
چون بنات آشیان اندر یم است
وہ (شاعر) نچلے دھڑ سے مچھلی اور سینے سے سر تک آدمی ہے ( نصف جسم انسان کا اور نصف مچھلی کا ہوتا ہے ) وہ سمندر کی پریوں کی مانند ہے ۔
He is a fish, and from the breast upward a man Like the Sirens in the ocean.
از نوا بر ناخدا افسون زند
کشتیش در قعر دریا افکند
جو اپنے نغموں سے ملاح جہاز ران پر جادو کر دیتی ہیں اور جہاز کو سمندر کی گہرائی میں ڈبو دیتی ہیں ۔
With his song he enchants the pilot And casts the ship to the bottom of the sea.
نغمه هایش از دلت دزدد ثبات
مرگ را از سحر او دانی حیات
اس شاعر کے نغمے تیرے دل سے استقلال و ثابت قدمی چرا لے جاتے ہیں ۔ اس کے جادو کے سبب تو موت کو زندگی سمجھنے لگتا ہے ۔
His melodies steal firmness from thine heart, His magic persuades thee that death is life.
دایه ی هستی ز جان تو برد
لعل عنابی ز کان تو برد
وہ تیری روح سے زندہ رہنے کی خواہش نکال دیتا ہے، تیری کان سے عناب ایسا سرخ لعل لے جاتا ہے ۔
He takes from thy soul the desire of existence, He extracts from thy mine the blushing ruby.
چون زیان پیرایه بندد سود را
می کند مذموم هر محمود را
جب نقصان فائدے کا لباس پہن لیتا ہے تو وہ ہر اچھائی برائی بن جاتی ہے ۔
He dresses gain in the garb of loss, He makes everything praiseworthy blameful.
در یم اندیشه اندازد ترا
از عمل بیگانه می سازد ترا
وہ تجھے خوف اور ڈر کے سمندر میں ڈال دیتا ہے، عمل سے تجھے بیگانہ بنا دیتا ہے ۔
He plunges thee in a sea of thought, He makes thee a stranger to action.
خسته و ما از کلامش خسته تر
انجمن از دور جامش خسته تر
وہ مضمحل ہے اور ہم اس کے کلام کے سبب اور بھی زیادہ مضمحل ہیں ۔ محفل اس کے جام کی گردش سے بہت ہی مضمحل اور تھکی ماندی ہے(انجمن کی رونق چلی جاتی ہے) ۔
He is sick, and by his words our sickness is increased: The more his cup goes round, the more sick are they that quaff it.
جوی برقی نیست در نیسان او
یک سراب رنگ و بو بستان او
اس کے بادل میں کسی بجلی کی ندی ہو ہی نہیں سکتی ۔ اس کا باغ تو رنگ و بو کے معاملے میں سراسر فریب نظر ہے، دھوکا ہے ۔
There are no lightning-rains in his April, His garden is a mirage of colour and perfume.
حسن او را با صداقت کار نیست
در یمش جز گوهر تف دار نیست
اس کے حسن و خوبی کو راستی اور حقیقت سے کوئی سروکار نہیں ، اس کے سمندر میں ناقص موتیوں کے سوا کچھ نہیں ہے(جو بھی موتی نکلے گا وہ عیب سے خالی نہ ہو گا ۔ ) ۔
His beauty hath no dealings with Truth, There are none but flawed pearls in his sea.
خواب را خوشتر ز بیداری شمرد
آتش ما از نفسهایش فسرد
وہ سونے کو بیداری پر ترجیح دیتا ہے ہماری آگ اس کی سانسوں سے بجھ گئی، ٹھنڈی ہو گئی(ہمیں ہمت کی حرارت سے بے بہرہ کر دیا) ۔
Slumber he deemed sweeter than waking Our fire was quenched by his breath.
قلب مسموم از سرود بلبلش
خفته ماری زیر انبار گلش
دل اس کی بلبل کے نغمے سے زہر آلود ہو گیا اس کے پھولوں کے ڈھیر کے نیچے ایک سانپ سویا ہوا ہے ۔
By the chant of his nightingale the heart was poisoned Under his heap of roses lurked a snake.
از خم و مینا و جامش الحذر
از می آئینه فامش الحذر
اس کی صراحی، اس کے شراب کے مٹکے اور اسکے جام سے دور رہو ۔ اس کی آئینے ایسی شفاف شراب سے بچو ہرگز نہ چھووَ ۔
Beware of his decanter and cup! Beware of his sparkling wine.
ای ز پا افتاده ی صهبای او
صبح تو از مشرق مینای او
اے (قوم) کہ تو اسکی شراب کے نشے سے ٹھوکر کھا کر گرا پڑا ہے ۔ تیرے دن کا طلوع اس کی صراحی شراب کے مشرق سے ہوتا ہے ۔
O thou whom his wine hath laid low And who look’st to his glass for thy rising dawn.
ای دلت از نغمه هایش سرد جوش
زهر قاتل خورده ئی از راه گوش
اے کہ تیرے دل کا اس کے نغموں سے جوش و خروش ختم ہو گیا ۔ کان کے راستے سے زہر قاتل اندر پہنچ گیا ۔
O thou whose heart hath been chilled by his melodies, Thou hast drunk deadly poison through the ear.
ای دلیل انحطاط انداز تو
از نوا افتاد تار ساز تو
اے کہ تیرا طریق تیرے زوال و پستی کی دلیل ہے ۔ تیرے ساز کا تار آواز سے عاری ہو چکا ہے ۔
Thy way of life is a proof of thy degeneracy, The strings of thine instrument are out of tune.
آن چنان زار از تن آسانی شدی
در جهان ننگ مسلمانی شدی
تو اپنی تن آسانی یعنی سستی و کاہلی کے سبب اس حد تک تباہ و برباد ہو گیا ہے کہ دنیا میں تجھے مسلمانی کیلیے باعث ننگ سمجھا جاتا ہے ۔
Tis pampered ease hath made thee so wretched, A disgrace to Islam throughout the world.
از رگ گل می توان بستن ترا
از نسیمی می توان خستن ترا
(تیری کمزوری کا یہ حال ہے کہ) تجھے رگ گل سے باندھا جا سکتا ہے اور ہلکی سی ہوا سے تجھے زخمی کیا جا سکتا ہے ۔
One can bind thee with the vein of a rose, One can wound thee with a zephyr.
عشق رسوا گشته از فریاد تو
زشت رو تمثالش از بهزاد تو
تیری فریاد کے نتیجے میں عشق ذلیل و رسوا ہو کر رہ گیا ہے ۔ اس (عشق) کی تصویر تیرے بہزاد نے بدصورت بنائی ہے ۔
Love hath been put to shame by thy wailing His fair picture hath been fouled by thy brush.
زرد از آزار تو رخسار او
سردی تو برده سوز از نار او
تیری بیماری کی وجہ سے عشق کے رخسار بھی زرد ہو چکے ہیں؛ تیری بے حسی نے عشق کی آگ کی تپش ختم کر دی ہے۔
ترجمہ: میاں عبدالرشید
Thy ill-usage hath paled his cheek, Thy coldness hath taken the glow from his fire.
خسته جان از خسته جانیهای تو
ناتوان از ناتوانیهای تو
وہ تیری ذہنی تھکن اور زخمی جان کے سبب خستہ جاں ہو گیا ہے اور تیری کمزوریوں نے اسے بھی کمزور کر دیا ہے ۔
He is heartsick from thy heart-sicknesses, And enfeebled by thy feeblenesses.
گریه ی طفلانه در پیمانه اش
کلفت آهی متاع خانه اش
وہ بچوں کی طرح روتا ہے اس کے پیالے میں آنسووَں کے سوا کچھ نہیں ۔ اس کے گھر کا سروسامان کیا ہے ۔ صرف ایک آہ کی تکلیف و اذیت ۔
His cup is full of childish tears, His house is furnished with distressful sighs.
سر خوش از دریوزه ی میخانه ها
جلوه دزد روزن کاشانه ها
میخانوں سے مانگی ہوئی بھیک ہی سے وہ سرمست ہے وہ گھروں کے سوراخوں میں سے نظارہ چرانے والا ہے ۔
He is a drunkard begging at tavern-doors, Stealing glimpses of beauty from lattices.
نا خوشی ، افسرده ئی ، آزرده ئی
از لگد کوب نگهبان مرده ئی
وہ ایک غمگین و ملول، ایک افسردہ اور ایک آرزدہ (انسان ) ہے جو (محبوب کے دروازے کے) چوکیدار کی لاتوں کی ٹھوکروں ہی سے مر جانے والا ہے ۔
Unhappy, melancholy, injured, Kicked well-nigh to death by the warder.
از غمان مانند نی کاهیده ئی
وز فلک صد شکوه بر لب چیده ئی
غموں کے سبب وہ بانس کی باریک شاخ کی طرح سوکھا ہوا ہے اور اس کے لبوں پر آسمان کی (ستم رانیوں ) کے سینکڑوں گلے شکوے ہیں ۔
Wasted like a reed by sorrows, On his lips a store of complaints against Heaven.
لابه و کین جوهر آئینه اش
ناتوانی همدم دیرینه اش
چاپلوسی، خوشامد اور کینہ و دشمنی اس کی فطرت کا خاصہ ہے ۔ ضعف اور کمزوری اس کی پرانی ساتھی ہے ۔
Flattery and spite are the mettle of his mirror, Helplessness his comrade of old.
پست بخت و زیر دست و دون نهاد
ناسزا و ناامید و نامراد
وہ بد نصیب ہے، محکوم و محتاج ہے اور پست فطرت ہے ۔ وہ ناپسندیدہ و ناشائستہ ہے ، وہ نالائق ہے ، نا امید و نامراد ہے ۔
A miserable base-born underling Without worth or hope or object,
شیونش از جان تو سرمایه برد
لطف خواب از دیده ی همسایه برد
اسکے رونے دھونے اور فریاد نے تیری روح کا سرمایہ کھا لیا ہے ۔ اس نے ہمسایہ کی آنکھوں سے نیند کا مزہ ہی اڑا دیا ہے ۔
Whose lamentations have sucked the marrow from thy soul And driven off gentle sleep from thy neighbours’ eyes.
وای بر عشقی که نار او فسرد
در حرم زائید و در بتخانه مرد
افسوس ہے ایسے عشق پر جس کی حرارت و گرمی سرد پڑ گئی ہو ، جو پیدا تو حرم (کعبے) میں ہوا ہو لیکن مرا بت خانے میں جا کر ۔
Alas for a love whose fire is extinct, A love that was born in the Holy Place and died in the house of idols.
ای میان کیسه ات نقد سخن
بر عیار زندگی او را بزن
اے مخاطب (شاعر) تیری تھیلی میں شعر و سخن کی جو متاع موجود ہے تو انہیں زندگی کی کسوٹی پر پرکھ (اس کی شان یہی ہے کہ قوم میں زندگی کی روح پیدا کرے) ۔
Oh, if thou hast the coin of poesy in thy purse, Rub it on the touchstone of Life.
فکر روشن بین عمل را رهبر است
چون درخش برق پیش از تندر است
(شاعر کی) روشن پہلو دیکھنے والی فکر، عمل کی رہنما بن جاتی ہے، بالکل اس چمک کی طرح جو بجلی کی کڑک اور گرج سے پہلے نمودار ہوتی ہے ۔
Clear-seeing thought shows the way to action, As the lightning-flash precedes the thunder.
فکر صالح در ادب می بایدت
رجعتی سوی عرب می بایدت
ادب و شعر میں تجھے چاہیے کہ درستی اور صلاح والی فکر سے کام لے ۔ اس سلسلے میں تجھے عرب کی طرف رجوع کرنا چاہیے(عربوں کی شاعری کو نمونہ بنانا چاہیے) ۔
It behoves thee to meditate well concerning literature, It behoves thee to go back to the Arabs.
دل به سلمای عرب باید سپرد
تا دمد صبح حجاز از شام کرد
تجھے اپنا دل عرب کی سلمیٰ (محبوبہ) سے لگانا چاہے تا کہ حجاز کی صبح کرد کی شام سے پھوٹے(یعنی تمام غیر اسلامی خصوصیات مٹ جائیں اور اسلامی اوصاف جلا پائیں ) ۔
Thou must needs give thine heart to the Salmá of Araby, That the morn of the Hijáz may blossom from the night of Kurdistan.
از چمن زار عجم گل چیده ئی
نو بهار هند و ایران دیده ئی
(اے شاعر) تو نے عجم (ایران، پاک و ہند) کے باغ سے پھول چنے ہیں ، تو نے ہندو اور ایران کی تازہ بہار دیکھی ہے ۔
Thou hast gathered roses from the garden of Persia And seen the springtide of India and Iran.
اندکی از گرمی صحرا بخور
باده ی دیرینه از خرما بخور
اب تھوڑی دیر کے لیے یا تھوڑی سی صحرا کی تپش کا بھی لطف اٹھا، پرانی شراب کھجور سے بھی چکھ لے ۔
Now taste a little of the heat of the desert, Drink the old wine of the date.
سر یکی اندر بر گرمش بده
تن دمی با صرصر گرمش بده
کچھ دیر کے لیے اپنا سر اس (صحرا) کی گرم آغوش میں رکھ دے، کچھ دیر کے لیے اپنا جسم اس کی گرم تیز ہوا کے حوالے کر دے ۔
Lay thine head for once on its hot breast, Yield thy body awhile to its scorching wind.
مدتی غلطیده ئی اندر حریر
خو به کرپاس درشتی هم بگیر
مدت تک ریشمی لباس کی لذت میں مست رہا ہے، ذرا موٹے کھردرے کپڑے کی بھی عادت ڈال لے ۔
For a long time thou hast turned about on a bed of silk: Now accustom thyself to rough cotton.
قرنها بر لاله پا کوبیده ئی
عارض از شبنم چو گل شوئیده ئی
تو صدیوں تک گل لالہ کے فرش پر رقص کرتا رہا ۔ پھول کی طرح تو شبنم سے اپنے گال (منہ) دھوتا رہا ہے ۔
For generations thou hast danced on tulips And bathed thy cheek in dew, like the rose.
خویش ر بر ریگ سوزان هم بزن
غوطه اندر چشمه ی زمزم بزن
(اب) جھلسا دینے والی ریت پر بھی ذرا خود کو ڈال دے، زمزم کے چشمے میں بھی غوطہ لگا لے ۔
Now throw thyself on the burning sand And plunge into the fountain of Zemzem.
مثل بلبل ذوق شیون تا کجا
در چمن زاران نشیمن تا کجا
تو بلبل کی طرح کب تک آہ و فریاد کرتا رہے گا اور باغوں میں کب تک گھونسلا بنائے رہے گا ۔
How long wilt thou fain lament like the nightingale? How long make thine abode in gardens?
ای هما از یمن دامت ارجمند
آشیانی ساز بر کوه بلند
اے (شاعر) ہما کو تیرے دام (جال) ہی کی بدولت قدرومنزلت میسر ہے تو کسی بلند پہاڑ پر اپنا گھونسلا یعنی آشیانہ بنا ۔
O thou whose auspicious snare would do honour to the Phoenix, Build a nest on the high mountains.
آشیانی برق و تندر در بری
از کنام جره بازان برتری
ایسا آشیانہ جس کے آغوش میں بجلی اور گرج ہو ، جو نر بازوں کے آشیانے سے بھی کہیں اونچا اور برتر ہو ۔
A nest embosomed in lightning and thunder, Loftier than eagle's eyrie.
تا شوی در خورد پیکار حیات
جسم و جانت سوزد از نار حیات
تاکہ تو زندگی کی جدوجہد کے قابل ہو، تیری جان اور تیرا جسم زندگی کی آگ سے تپش پذیر ہو (آتش حیات کی حرارت پیدا ہو ) ۔
That thou mayst be fit for Life's battle, That thy body and soul may burn in Life's fire!
فارسی متن کا ماخذ: گنجور