صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »اسرار خودی
  3. »بخش 10 - در بیان اینکه تربیت خودی را سه مراحل است مرحلهٔ اول را اطاعت و مرحلهٔ دوم را ضبط نفس، و مرحله سوم را نیابت الهی نامیده اند: «مرحلهٔ اول اطاعت»

بخش 10 - در بیان اینکه تربیت خودی را سه مراحل است مرحلهٔ اول را اطاعت و مرحلهٔ دوم را ضبط نفس، و مرحله سوم را نیابت الهی نامیده اند: «مرحلهٔ اول اطاعت»

مرحلہ سوم: نیابت الٰہی

Showing that the education of the Self has three stages: obedience, Self control, and Divine Vicegrency

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: نکلسن
Toggle stanza 1
1

خدمت و محنت شعار اشتر است

صبر و استقلال کار اشتر است

خدمت اور محنت مشقت کرتے رہنا اونٹ کا شیوہ ہے ۔ صبر اور ثابت قدمی ہی اس کا کام ہے ۔

Service and toil are traits of the camel, Patience and perseverance are ways of the camel.

2

گام او در راه کم غوغا ستی

کاروان را زورق صحرا ستی

راستہ چلتے ہوئے اس کے پاؤں سے شور کم پیدا ہوتا ہے ۔ وہ قافلے کے لیے صحرا کا جہاز ہے ۔

Noiselessly he steps along the sandy track, He is the ship of those who voyage in the desert.

3

نقش پایش قسمت هر بیشه ئی

کم خور و کم خواب و محنت پیشه ئی

اسکے پاؤں کے نشان ہر جنگل اور صحرا کا مقدر ہیں ( ہر جگہ چلتا ہے) ۔ وہ کم کھاتا ہے، کم سوتا اور محنت و مشقت کو اپنی روش بنائے رکھتا ہے ۔

Every thicket knows the print of his foot: He eats seldom, sleeps little, and is inured to toil.

4

مست زیر بار محمل می رود

پای کوبان سوی منزل می رود

وہ محمل (کجاوے) کا بوجھ اٹھائے مزے مزے سے چلتا ہے، پاؤں چلاتے مارتے (رقص کرتا ہوا) منزل مقصود کی طرف بڑھا چلا جاتا ہے ۔

He carries rider, baggage, and litter; He trots on and on to the journey's end.

5

سر خوش از کیفیت رفتار خویش

در سفر صابر تر از اسوار خویش

وہ اپنی رفتار کے نشے میں مگن ہو کر چلتا ہے ۔ سفر میں وہ اپنے سوار کے مقابلے میں زیادہ صبر سے کام لیتا ہے ۔ (ان اشعار میں علامہ نے اطاعت اختیار کرنے پر زور دیا ہے اور اس کے لیے وہ اونٹ کی مثال لائے ہیں ، جو ان کے نزدیک اطاعت کا ایک عملی نمونہ ہے) ۔

Rejoicing in his speed, More patient in travel than his rider.

6

تو هم از بار فرائض سر متاب

بر خوری از «عنده حسن المآب»

(اے انسان) ان فرضوں کے بوجھ سے سرتابی نہ کر، منہ نہ موڑ، جو خدا نے تیرے ذمے لگا دیئے ہیں ۔ تاکہ تو عندہُ حُسن المآب کا پھل پائے ۔ اس طرح تو اس بہترین ٹھکانے پر پہنچ جائے گا جو خدا کے پاس ہے ۔

Thou, too, do not refuse the burden of Duty: So wilt thou enjoy the best dwelling-place, which is with God.

7

در اطاعت کوش ای غفلت شعار

می شود از جبر پیدا اختیار

اے غفلت کے عادی انسان تو اطاعت خداوندی کی کوشش کر، یاد رکھ کی جبر ہی سے اختیار پیدا ہوتا ہے ۔

Endeavour to obey, O heedless one! Liberty is the fruit of compulsion.

8

ناکس از فرمان پذیری کس شود

آتش ار باشد ز طغیان خس شود

سچے احکام کی پابندی ایسی شے ہے جو نکمے اور بے حقیقت آدمی کو بھی واقعی انسان بنا دیتی ہے ۔ اس کے برعکس سرکشی اور نافرمانی کا یہ حال ہے کہ اگر وہ آگ بھی ہے تو سرکشی کی بنا پر اس کی حقیقت تنکے کی سی ہو جاتی ہے ۔

By obedience the man of no worth is made worthy; By disobedience his fire is turned to ashes.

9

هر که تسخیر مه و پروین کند

خویش را زنجیری آئین کند

جو کوئی چاند ستاروں کو تسخیر کرتا ہے وہ (پہلے) اپنے آپ کو آئین کا مقید و پابند بناتا ہے ۔

Whoso would master the sun and stars, Let him make himself a prisoner of Law!

10

باد را زندان گل خوشبو کند

قید بو را نافه ی آهو کند

ہوا پھول کی قید خانے میں بند ہو کر خوشبو بن جاتی ہے ۔ یہی قید خوشبو کو ہرن کا نافہ بنا دیتی ہے ۔

The wind is enthralled by the fragrant rose; The perfume is confined in the navel of the musk-deer.

11

می زند اختر سوی منزل قدم

پیش آئینی سر تسلیم خم

ستارہ منزل کی طرف قدم اٹھاتا ہے تو اطاعت کا سر جھکائے ہوئے چلتا ہے ۔

The star moves towards its goal With head bowed in surrender to a law.

12

سبزه بر دین نمو روئیده است

پایمال از ترک آن گردیده است

سبزہ بڑھنے پھولنے کے نظام کے تحت اگتا ہے(اگر)وہ اس نظام سے پہلو تہی کرے تو وہ پاؤں کے نیچے روندا جاتا ہے ۔

The grass springs up in obedience to the law of growth: When it abandons that, it is trodden underfoot.

13

لاله پیهم سوختن قانون او

بر جهد اندر رگ او خون او

لالہ یعنی گل لالہ کا آئین و دستور مسلسل جلتے رہنا ہے (اس کے رنگ کی طرف اشارہ ہے) اس کی رگوں میں اس کا خون دوڑتا رہتا ہے ۔

To burn unceasingly is the law of the tulip And so the blood leaps in its veins.

14

قطره ها دریاست از آئین وصل

ذره ها صحراست از آئین وصل

باہم مل جانے کے نظام کی بنا پر قطرے دریا کی شکل اختیار کر جاتے ہیں ۔ اسی باہمی ملاپ کے دستور کے سبب ذرے صحرا بن جاتے ہیں ۔

Drops of water become a sea by the law of union, And grains of sand become a Sahara.

15

باطن هر شی ز آئینی قوی

تو چرا غافل ازین سامان روی

ہر چیز کا باطن کسی نہ کسی آئین کی وجہ سے مضبوط و مستحکم بنتا ہے ۔ (تو پھر) تو نے کس لیے اس پابندی اور فرمانبرداری کو پس پشت ڈال رکھا ہے کیوں غفلت برت رہا ہے ۔

Since Law makes everything strong within, Why dost thou neglect this source of strength?

16

باز ای آزاد دستور قدیم

زینت پا کن همان زنجیر سیم

اے پرانے آئین و دستور سے بے تعلق (مسلمان) تو پھر سے وہی چاندی کی زنجیر پاؤں میں ڈال لے ۔

O thou that art emancipated from the old Custom Adorn thy feet once more with the same fine silver chain.

17

شکوه سنج سختی آئین مشو

از حدود مصطفی بیرون مرو

آئین کی سختی کا گلہ شکوہ نہ کر، رسول اللہ ﷺ کے مقرر کردہ آئین و دستور کے دائرے سے باہر نہ نکل ۔

Do not complain of the hardness of the Law, Do not transgress the statutes of Mohammed!

18

«مرحله دوم ضبط نفس»

نفس تو مثل شتر خود پرور است

تیرا نفس اونٹ کی طرح اپنے آپ کو پالنے والا ہے، ساتھ ہی وہ خود پسند، اپنا سوار آپ (اپنے آپ پر کسی کا اقتدار روا نہیں رکھتا) اور ضدی اور سرکش بھی ہے ۔

2. Self-Control Thy soul cares only for itself, like the camel: It is self-conceited, self-governed, and self-willed.

19

خود پرست و خود سوار و خود سر است

مرد شو آور زمام او بکف

تو مرد بن (اپنے اندر مردانگی پیدا کر) اور نفس کی لگام ہاتھ میں تھام لے ۔ اس پر قابو پا لے تا کہ اگر تو ٹھیکری ہے تو گوہر بن جائے ۔

Thy soul cares only for itself, like the camel: It is self-conceited, self-governed, and self-willed.

20

تا شوی گوهر اگر باشی خزف

هر که بر خود نیست فرمانش روان

جس کا بھی اپنے آپ (نفس) پر حکم نہیں چلتا وہ دوسروں ہی کا حکم ماننے پر لگا رہتا ہے (فرمانبردار بن جاتا ہے) ۔

Be a man, get its halter into thine hand, That thou mayst become a pearl albeit thou art a potter's vessel.

21

می شود فرمان پذیر از دیگران

طرح تعمیر تو از گل ریختند

تیرے وجود کی تعمیر مٹی سے ہوئی ہے ۔ یعنی تو آب وگِل سے بنا ہے اس تعمیر میں محبت اور خوف کی باہم آمیزش کی گئی ہے ۔

He that does not command himself Becomes a receiver of commands from others.

22

با محبت خوف را آمیختند

خوف دنیا ، خوف عقبی ، خوف جان

(تیرے دل میں ) دنیا کا خوف ہے، آخرت کا خوف ہے جان کا خوف ہے، زمین اور آسمان سے نازل ہونے والی آفتوں کا خوف ہے ۔

When they moulded thee of clay, Love and fear were mingled in thy making.

23

خوف آلام زمین و آسمان

حب مال و دولت و حب وطن

(اور محبت کی قسمیں کچھ اس طرح ہیں ) مال و دولت کی محبت اور وطن کی محبت، اپنے عزیزوں رشتہ داروں کی محبت اور عورت یا بیوی کی محبت ۔

Fear of this world and of the world to come, fear of death, Fear of all the pains of earth and heaven.

24

حب خویش و اقربا و حب زن

امتزاج ماء و طین تن پرور است

پانی اور مٹی کا آمیزہ و مرکب جسم کی پرورش کرنے والا ہے ۔ وہ برائیوں اور بدکاریوں کا شکار بن جاتا ہے ۔

Love of riches and power, love of country, Love of self and kindred and wife.

25

کشته ی فحشا هلاک منکر است

تا عصائی لا اله داری بدست

جب تک تیرے ہاتھ میں لا الہ (کلمہ توحید) کا عصا ہے تو خوف اور ڈر کے ہر طلسم کو توڑ کے رکھ دے گا ۔

The mixing of clay with water nourishes the body, But he that is drowned in sin dies an evil death.

26

هر طلسم خوف را خواهی شکست

هر که حق باشد چو جان اندر تنش

جس کسی کے جسم میں حق جان کی طرح موجود ہے اس کی گردن کبھی باطل کے سامنے نہیں جھک سکتی ۔

So long as thou hold’st the staff of "There is no God but He, Thou wilt break every spell of fear.

27

خم نگردد پیش باطل گردنش

خوف را در سینه او راه نیست

اس کے سینے میں خوف کا گزر ہو ہی نہیں سکتا، اس کا دل خدا کے سوا کسی شے سے نہیں ڈرتا ۔

One to whom God is as the soul in his body, His neck is not bowed before vanity.

28

خاطرش مرعوب غیر الله نیست

هر که در اقلیم لا آباد شد

جو شخص لا کی مملکت میں آباد ہو گیا وہ بال بچوں (دنیوی دھندوں وغیرہ )کی زنجیر سے بالکل آزاد ہو گیا ۔

Fear finds no way into his bosom, His heart is afraid of none but Allah.

29

فارغ از بند زن و اولاد شد

می کند از ماسوی قطع نظر

وہ جو غیر اللہ سے نظریں ہٹا لیتا ہے وہ اپنے بیٹے کے حلق پر چھرا رکھ دینے میں بھی پس و پیش نہیں کرتا ۔

Whoso dwells in the Moslem Faith Is free from the bonds of wife and child.

30

می نهد ساطور بر حلق پسر

با یکی مثل هجوم لشکر است

اگرچہ وہ ایک تنہا ہونے کے باوصف ایک بہت بڑے لشکر کی صورت ہے، اس کی نظروں میں اس کی جان ہوا سے بھی کہیں سستی ہے( جو شخص جان سے بے پرواہ ہے ان کی قوت کا انداہ کون کر سکتا ہے ۔ ) آخری شعر میں اسی پختہ محبت و ایمان کی ایک اور مثال سے وضاحت کی گئی ہے ۔ ایسا شخص یعنی مرد مومن چونکہ باطل قوتوں سے خوف زدہ نہیں ہوتا اس لیے وہ ان قوتوں سے ٹکر لے لیتا ہے ۔ اس صورت میں اسے اپنی جان کا ذرا بھر بھی احساس نہیں ہوتا، بلکہ غالب کے لفظوں میں اس کا احساس کچھ اس طرح کا ہوتا ہے ۔ جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی ۔ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا تنہا ہونے سے مراد باطل قوت کے مقابلے میں بہت کم جمیعت ہونے والا بھی ہے ۔ اس کے بہترین مثال حضرت امام حسین علیہ السلام کی ہے جن کے بارے میں کہا گیا ہے ۔ سرداد، نہ داد دست در دست یزید حقا کہ بناے لا الٰہ ہست حسین یعنی جان دے دی لیکن یزید کی باطل قوت کی بیعت نہیں کی، بلا شبہ حسین لا الٰہ کی بنیاد ہیں ۔

He withdraws his gaze from all except God And lays the knife to the throat of his son.

31

جان بچشم او ز باد ارزان تر است

لا اله باشد صدف گوهر نماز

لا الٰہ سیپی ہے تو نماز گوہر (موتی ) ہے ۔ مسلمان کے دل کے لیے نماز، حج اصغر کا درجہ رکھتی ہے ۔

Though single, he is like a host in onset: Life is cheaper in his eyes than wind.

32

قلب مسلم را حج اصغر نماز

در کف مسلم مثال خنجر است

(یہ نماز) مسلمان کے ہاتھ میں ایک خنجر کی مانند ہے ۔ یہ بُری اور بے حیائی کی باتوں ، خدائی احکام سے سر تابی اور برے کاموں کو ختم کر دینے والی ہے ۔

The profession of Faith is the shell, but prayer is the pearl: The Moslem's heart deems prayer a lesser pilgrimage.

33

قاتل فحشا و بغی و منکر است

روزه بر جوع و عطش شبخون زند

روزہ، بھوک اور پیاس پر شب خون مارتا ہے وہ (روزہ) صرف بدن کی پرورش کرنے والے خیبر کو فتح کرتا ہے ۔ یعنی تن پروری باقی نہیں رہتی ۔

In the Moslem's hand prayer is like a dagger Killing sin and frowardness and wrong.

34

خیبر تن پروری را بشکند

مؤمنان را فطرت افروز است حج

حج مومنوں کی فطرت کو منور یعنی ان کے ایمان میں اضافہ کرنے والا ہے ۔ حج گھر بار چھوڑنے کی تعلیم دیتا ہے اور وطن کی محبت دل سے نکال دیتا ہے ۔

Fasting makes an assault upon hunger and thirst And breaches the citadel of sensuality.

35

هجرت آموز و وطن سوزست حج

طاعتی سرمایه ی جمعیتی

وہ (حج) ایک ایسی عبادت ہے جو (پوری ملت اسلامیہ) ایک لڑی میں پرونے والی اور ملت کی کتاب کی شیرازہ بندی کرنے والی ہے ۔

The pilgrimage enlightens the minds of the Faithful: It teaches separation from one's home and destroys attachment to one's native land.

36

ربط اوراق کتاب ملتی

حب دولت را فنا سازد زکوة

زکواۃ ، مال و دولت کی محبت کو مٹا دیتی ہے ۔ زکواۃ (ملت کے افراد کو) برابری سے بھی آگاہ کرتی ہے یعنی سب مسلمان برابر ہیں ۔

It is an act of devotion in which all feel themselves to be one, It binds together the leaves of the book of religion.

37

هم مساوات آشنا سازد زکوة

دل ز «حتی تنفقوا» محکم کند

یہ (زکواۃ) حتیٰ تنفقو کے ارشاد ربانی سے دل کو مضبوط کرتی ہے ۔ دولت کو برکت عطا کرتی اور اس (دولت) میں محبت میں کمی کا باعث بنتی ہے ۔

Almsgiving causes love of riches to pass away And makes equality familiar.

38

زر فزاید الفت زر کم کند

این همه اسباب استحکام تست

یہ سب (ارکان اسلام) تیری پختگی و مضبوطی کا سامان ہیں ۔ اگر تیرا اسلام مضبوط ہے تو تو خود بھی مضبوط ہے ۔

It fortifies the heart with righteousness, It increases wealth and diminishes fondness for wealth.

39

پخته ی محکم اگر اسلام تست

اهل قوت شو ز ورد یًا قوی»

یا قوی کے ورد سے اپنے آپ کو صاحب قوت بنا لے تا کہ تو مٹی کے اونٹ پر سوار ہو جائے(نفس پر قابو پا لے) ۔ ان اشعار میں اسلام کے پانچ بنیادی ارکان کا ذکر کر کے ان کی اہمیت و افادیت بیان کی گئی ہے ۔ ان پر عمل کرنے سے اسلامی معاشرہ دنیا کا ایک عظیم معاشرہ بن سکتا ہے) ۔

All this is a means of strengthening thee: Thou art impregnable, if thy Islam be strong.

40

تا سوار اشتر خاکی شوی

«مرحله سوم نیابت الهی»

یا قوی کے ورد سے صاحب قوّت بن؛ تاکہ اپنے خاکی بدن کے اونٹ پر سواری کر سکے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Draw might from the litany "O Almighty One!" That thou mayst ride the camel of thy body.

41

گر شتر بانی جهانبانی کنی

زیب سر تاج سلیمانی کنی

اگر تو شتربان بن جائے (نفس کے اونٹ کو قابو میں لے آئے) تو دنیا پر حکم چلائے گا اور سلیمان کا تاج تیرے سر کی زینت بنے گا ۔

If thou canst rule thy camel, thou wilt rule the world And wear on thine head the crown of Solomon.

42

تا جهان باشد جهان آرا شوی

تاجدار ملک «لایبلی» شوی

جب تک یہ دنیا قائم ہے تو اس کو سجانے والا رہے گا اور اس ملک کا تاجدار بن جائے گا جس پر کبھی زوال نہ آئے گا ۔

Thou wilt be the glory of the world whilst the world lasts, And thou wilt reign in the kingdom incorruptible.

43

نایب حق در جهان بودن خوش است

بر عناصر حکمران بودن خوش است

دنیا میں اللہ کا نائب بننا اچھی بات ہے ۔ عناصر پر حکمرانی کرنا کتنا اچھا ہے ۔

Tis sweet to be God's vicegerent in the world And exercise sway over the elements.

44

نایب حق همچو جان عالم است

هستی او ظل اسم اعظم است

خدا کا نائب، دنیا کی روح کی مانند ہے، اس کا وجود اسم اعظم کا سایہ ہوتا ہے ۔

God's vicegerent is as the soul of the universe, His being is the shadow of the Greatest Name.

45

از رموز جزو و کل آگه بود

در جهان قائم بامرالله بود

وہ اس کائنات کی ہر ہر شے کے تمام بھید جانتا ہے اور دنیا میں اللہ کی طرف سے مامور ہوتا ہے (اللہ کے حکم جاری کرنا اس کا اصل کام ہے) ۔

He knows the mysteries of part and whole, He executes the command of Allah in the world.

46

خیمه چون در وسعت عالم زند

این بساط کهنه را برهم زند

جب وہ کائنات (دنیا) کی وسعتوں میں خیمہ لگا لیتا ہے تو اس پر پرانی بساط کو الٹ کے رکھ دیتا ہے(درہم برہم کر دیتا ہے) ۔

When he pitches his tent in the wide world, He rolls up this ancient carpet.

47

فطرتش معمور و می خواهد نمود

عالمی دیگر بیارد در وجود

اس کی فطرت برکتوں اور اچھائیوں سے بھری ہوتی ہے اس کا اظہار وہ ایک نئی دنیا کے وجود میں لانے سے کرنا چاہتا ہے ۔

His genius abounds with life and desires to manifest itself: He will bring another world into existence.

48

صد جهان مثل جهان جزو وکل

روید از کشت خیال او چو گل

اس کائنات جیسے سینکڑوں عالم اس کے خیالات اور افکار کی کھیتی سے پھول کی طرح اگتے رہتے ہیں ۔

A hundred worlds like this world of parts and wholes Spring up, like roses, from the seed of his imagination.

49

پخته سازد فطرت هر خام را

از حرم بیرون کند اصنام را

وہ خام فطرت کو پختہ اور پائیدار بنا دیتا ہے، وہ حرم سے بتوں کو باہر نکال دیتا ہے ۔

He makes every raw nature ripe, He puts the idols out of the sanctuary.

50

نغمه زا تار دل از مضراب او

بهر حق بیداری او خواب او

اس کے مضراب سے دل کے ساز میں سے نغمے پھوٹنے لگتے ہیں ۔ اس کا جاگنا اور اس کا سونا سب اللہ کے لیے ہوتا ہے ۔

Heart-strings give forth music at his touch, He wakes and sleeps for God alone.

51

شیب را آموزد آهنگ شباب

می دهد هر چیز را رنگ شباب

وہ بڑھاپے کو جوانی کی لے (جوانی کا سا عزم و ولولہ) سکھا دیتا ہے وہ ہر چیز کو شباب کے رنگ میں رنگ دیتا ہے ۔

He teaches age the melody of youth And endows everything with the radiance of youth.

52

نوع انسان را بشیر و هم نذیر

هم سپاهی هم سپهگر هم امیر

وہ بنی نوع انسان کے لیے خوش خبری دینے والا بھی ہے اور اسے برائی سے ڈرانے والا بھی وہ سپاہی بھی ہوتا ہے وہ فوج کا سپہ سالار بھی ہے اور سردار بھی ۔

To the human race he brings both a glad message and a warning, He comes both as a soldier and as a marshal and prince.

53

مدعای «علم الاسما» ستی

سر «سبحان الذی اسرا» ستی

وہ علم الاسماء کا مقصود و مدعا ہوتا ہے وہ (نائب خدا) سبحان الذی اسرا کا بھید (راز) ہوتا ہے ۔

He is the final cause of "God taught Adam the names of all things He is the inmost sense of "Glory to Him that transported His servant by night."

54

از عصا دست سفیدش محکم است

قدرت کامل بعلمش توأم است

عصا سے اس کا سفید ہاتھ مضبوط ہے، اس کا مکمل اختیار قدرت اسکے علم کے ساتھ ملا ہوا ہے(اس کا علم اور قدرت کامل دونوں جڑواں ہوتے ہیں ) ۔

His white hand is strengthened by the staff His knowledge is twinned with the power of a perfect man.

55

چون عنا گیرد بدست آن شهسوار

تیز تر گردد سمند روزگار

جب وہ شہسوار اپنے ہاتھوں میں زمانے کے گھوڑے کی باگ تھام لیتا ہے تو اس (گھوڑے) کی رفتار اور بھی تیز ہو جاتی ہے ۔

When that bold cavalier seizes the reins, The steed of Time gallops faster.

56

خشک سازد هیبت او نیل را

می برد از مصر اسرائیل را

اس کا رعب و دبدبہ دریائے نیل کو خشک کر دیتا ہے، وہ اسرائیل کو لے کر مصر سے باہر نکل جاتا ہے (تاکہ فرعون کی غلامی سے نجات پائیں ) ۔

His awful mien makes the Red Sea dry, He leads Israel out of Egypt.

57

از قم او خیزد اندر گور تن

مرده جانها چون صنوبر در چمن

اس کے قم (اٹھ، اللہ کے حکم سے) کہنے سے مری ہوئی جانیں بدن کی قبر میں یوں اٹھ کھڑی ہوتی ہیں جس طرح صنوبر کا درخت باغ میں اگتا ہے ۔

At his cry, "Arise," the dead spirits Rise in their bodily tomb, like pines in the field.

58

ذات او توجیه ذات عالم است

از جلال او نجات عالم است

اس کی شخصیت (اس کا وجود ) کائنات کے وجود کی دلیل یا تفسیر ہے ۔ اس کے جلال و عظمت پر دنیا کی نجات موقوف ہے ۔

His person is an atonement for all the world, By his grandeur the world is saved.

59

ذره خورشید آشنا از سایه اش

قیمت هستی گران از مایه اش

اس کے سائے کی حفاظت سے ذرہ بھی خورشید آشنا (سورج سے شناسائی کرنے والا) بن جاتا ہے اس کے سرمایہ زندگی سے کائنات کی قدر وقیمت (علوم و روحانیت)بڑھ جاتی ہے ۔

His protecting shadow makes the mote familiar with the sun, His rich substance makes precious all that exists.

60

زندگی بخشد ز اعجاز عمل

می کند تجدید انداز عمل

وہ اپنے زور عمل کے اعجاز سے ہر شے کو زندگی عطا کرتا ہے وہ عمل کے انداز کو نئے سرے سے زندہ کر دیتا ہے (عمل کے طور طریقے سراسر نئے ہو جاتے ہیں ) ۔

He bestows life by miraculous works, He founds a new system to work by.

61

جلوه ها خیزد ز نقش پای او

صد کلیم آواره ی سینای او

اس کے پاؤں کے نقش سے کئی جلوے پھوٹتے ہیں ، سینکڑوں کلیم اس کے سینا پہنچنے کے لیے آوارہ پھرتے ہیں (بیتاب نظر آتے ہیں ) ۔

Splendid visions rise from the print of his foot, Many a Moses is entranced by his Sinai.

62

زندگی را می کند تفسیر نو

می دهد این خواب را تعبیر نو

وہ زندگی کی نئی تفسیر کرتا ہے اور اس خواب کو نئی تعبیر دیتا ہے ۔

He gives a new explanation of Life, A new interpretation of this dream.

63

هستئی مکنون او راز حیات

نغمه ی نشینده ی ساز حیات

اس کی پوشیدہ شخصیت زندگی کا راز ہوتی ہے وہ زندگی کے ساز کا ایسا نغمہ ہے جو پہلے کبھی سنا نہ گیا ہو ۔

His hidden being is Life's mystery, The unheard music of Life's harp.

64

طبع مضمون بند فطرت خون شود

تا دو بیت ذات او موزون شود

نئے نئے خیالات و مضامین باندھنے والی فطرت کی طبیعت خون ہو جاتی ہے کاوش کرتے کرتے گھل گھل کر لہو بن جاتی ہے تب کہیں اس کی ذات کے متعلق دو شعر موزوں ہوتے ہیں ۔

Nature travails in blood for generations To compose the harmony of his personality.

65

مشت خاک ما سر گردون رسید

زین غبار آن شهسوار آید پدید

ہماری خاک کی مٹھی آسمان پر جا پہنچی (اب ) اس غبار سے وہ شہسوار (خدا کا خلیفہ) ظاہر ہو گا ۔

When our handful of earth has reached the zenith, That champion will come forth from this dust.

66

خفته در خاکستر امروز ما

شعله ی فردای عالم سوز ما

کائنات کو جلا دینے والا ہمارے ہمارے آنے والا کل کا شعلہ ہمارے آج کی راکھ میں سویا پڑا ہے ( جو کل چمکے گا تو دنیا کے لیے روشنی پہنچائے گا) ۔

There sleeps amidst the ashes of To-day The flame of a world-consuming morrow.

67

غنچه ی ما گلستان در دامن است

چشم ما از صبح فردا روشن است

ہمارا غنچہ اپنے دامن میں گلستاں سمیٹے ہوئے ہے ۔ ہماری آنکھ آنے والی صبح کے نور سے روشن ہے ۔

Our bud enfolds a garden of roses, Our eyes are bright with to-morrow's dawn.

68

ای سوار اشهب دوران بیا

ای فروغ دیده ی امکان بیا

اے زمانے کے گھوڑے پر سوار، آ جا، اے امکان (اس کائنات) کی آنکھوں کا نور ہے ، روشنی ہے ، آ جا (نمودار ہو جا) ۔

Appear, O rider of Destiny! Appear, O light of the dark realm of Change!

69

رونق هنگامه ی ایجاد شو

در سواد دیده ها آباد شو

تو ہنگامہ ایجاد (موجودات عالم) میں رونق پیدا کر دے ۔ آنکھوں کی پتلیوں میں آباد ہو جا ۔

Illumine the scene of existence, Dwell in the blackness of our eyes!

70

شورش اقوام را خاموش کن

نغمه ی خود را بهشت گوش کن

دنیا کی قوموں نے جو ہنگامہ برپا کر رکھا ہے اسے ختم (خاموش) کر دے ۔ اپنے نغمے کو (انسانوں ) کی سماعت کے لیے بہشت کی سی تازگی والا بنا دے ۔

Silence the noise of the nations, Imparadise our ears with thy music.

71

خیز و قانون اخوت ساز ده

جام صهبای محبت باز ده

اٹھ اور بھائی چارے کا ساز چھیڑ، محبت کی شراب کا جام پھر سے دے(تقسیم کر دے) ۔

Arise and tune the harp of brotherhood, Give us back the cup of the wine of love!

72

باز در عالم بیار ایام صلح

جنگجویان را بده پیغام صلح

ایک مرتبہ پھر دنیا میں صلح اور امن کا دور لے آ، جنگ و فساد پر آمادہ لوگوں کو صلح کا پیغام دے ۔

Bring once more days of peace to the world, Give a message of peace to them that seek battle!

73

نوع انسان مزرع و تو حاصلی

کاروان زندگی را منزلی

بنی نوع انسان کھیت ہے اور تو اس کا حاصل ہے، تو زندگی کے قافلے کی منزل مقصود ہے ۔

Mankind are the cornfield and thou the harvest, Thou art the goal of Life's caravan.

74

ریخت از جور خزان برگ شجر

چون بهاران بر ریاض ما گذر

درخت کے پتے، خزاں کے ستم سے جھڑ گئے ہیں تو پھر موسم بہار کی صورت بن کر ہمارے باغ میں سے گزر ۔

The leaves are scattered by Autumn's fury: Oh, do thou pass over our gardens as the Spring!

75

سجده های طفلک و برنا و پیر

از جبین شرمسار ما بگیر

تو ہماری ندامت سے ، شرمسار پیشانیوں سے (ہمارے) بچوں ، جوانوں اور بوڑھوں کے سجدے لے (نذر عقیدت پیش کرنے کے لیے بے قرار ہیں تو وہ قبول کر) ۔

Receive from our downcast brows The homage of little children and of young men and old!

76

از وجود تو سرافرازیم ما

پس بسوز این جهان سازیم ما

تیرے وجود سے ہمیں سربلندی میسر ہے، سو اس دنیا کے سوز سے ہم نباہ کرتے چلے جا رہے ہیں ( ہم اس انتظار میں ہیں کہ تو نمودار ہو، آج ہم دنیا میں گھرے ہوئے ہیں ۔ )

When thou art there, we will lift up our heads, Content to suffer the burning fire of this world.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گرم خون انسان ز داغ آرزو

آتش ، این خاک از چراغ آرزو

علامہ اقبال»اسرار خودی»بخش 9 - در حقیقت شعر و اصلاح ادبیات اسلامیه

اگلی نظم

مسلم اول شه مردان علی

عشق را سرمایه‌ی ایمان علی

علامہ اقبال»اسرار خودی»بخش 11 - در شرح اسرار اسمای علی مرتضی

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور