صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »اسرار خودی
  3. »بخش 11 - در شرح اسرار اسمای علی مرتضی

بخش 11 - در شرح اسرار اسمای علی مرتضی

حضرت علی المرتضیٰ کے اسماء کے بھیدوں کی تشریح

Setting forth the inner meanings of the names of Imam Ali Murtaza

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: نکلسن
Toggle stanza 1
1

مسلم اول شه مردان علی

عشق را سرمایه‌ی ایمان علی

حضرت علی المرتضیٰ دلیروں کے سردار ہیں ، اسلام لانے والوں میں سرفہرست ہیں ۔ حضرت علی المرتضیٰ کی ذات عشق کے لیے سرمایہ ایمان تھی ۔

Ali is the first Moslem and the King of men, In Love's eyes Ali is the treasure of the Faith.

2

از ولای دودمانش زنده‌ام

در جهان مثل گهر تابنده‌ام

میں (اقبال) آپ کے خاندان (مبارک) کی محبت کے سبب زندہ ہوں اور (اسی برکت سے) میں دنیا میں موتی کی طرح چمک رہا ہوں ۔

Devotion to his family inspires me with life So that I am as a shining pearl.

3

نرگسم وارفته‌ی نظاره‌ام

در خیابانش چو بو آواره‌ام

میں نرگس ہوں (یعنی سراپا آنکھ ہوں ) اور نظارے میں کھویا ہوا ہوں (نظارے کے لیے بیخود ہوں ) میں آپ کی کیاری میں خوشبو کی طرح ادھر اُدھر پھرتا ہوں ۔

Like the narcissus, I am enraptured with gazing; Like perfume, I am straying through his pleasure-garden.

4

زمزم ار جوشد ز خاک من ازوست

می اگر ریزد ز تاک من ازوست

اگر میری خاک سے زمزم کا چشمہ پھوٹتا ہے تو یہ آپ ہی سے محبت اور برکت کے سبب ہے شراب ٹپک رہی ہے تو یہ بھی اسی باعث ہے ۔

If holy water gushes from my earth, he is the source; If wine pours from my grapes, he is the cause.

5

خاکم و از مهر او آئینه‌ام

می‌توان دیدن نوا در سینه‌ام

میں خاک ہوں اور (حضرت علی ) سے محبت کے نتیجے میں آئینہ صفت ہو گیا ہوں ، چنانچہ میرے سینے میں آواز کو دیکھا جا سکتا ہے ۔

I am dust, but his sun hath made me as a mirror: Song can be seen in my breast.

6

از رخ او فال پیغمبر گرفت

ملت حق از شکوهش فر گرفت

آپ کے (مبارک) چہرے سے رسول اللہ نے اچھا شکون لیا، ملت اسلامیہ کو آپ کے شکوہ و دبدبہ کے نتیجے میں شان وشوکت ملی ۔

From Ali's face the Prophet drew a fair omen, By his majesty the true religion is glorified.

7

قوت دین مبین فرموده‌اش

کائنات آئین‌پذیر از دوده‌اش

آپ کے فرمودات، روشن دین (اسلام) کے لیے قوت کا باعث ہیں ۔ دنیا کو انہی کے خاندان سے آئین، قانون اور دستور ملا ۔

His commandments are the strength of Islam: All things pay allegiance to his House.

8

مرسل حق کرد نامش بوتراب

حق «یدالله» خواند در ام‌الکتاب

اللہ کے پیغمبر ﷺ نے آپ کو بوتراب کا نام (لقب ) دیا ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں آپ کو ید اللہ (اللہ کا ہاتھ) قرار دیا۔

The Apostle of God gave him the name Bú Turáb; God in the Koran called him "the Hand of Allah."

9

هر که دانای رموز زندگی‌ست

سر اسمای علی داند که چیست

جو کوئی بھی زندگی کے بھید جانتا ہے اسے علم ہے کہ حضرت علی کے اسما و القاب کا راز کیا ہے ۔

Every one that is acquainted with Life's mysteries Knows what is the inner meaning of the names of Ali.

10

خاک تاریکی که نام او تن است

عقل از بیداد او در شیون است

وہ سیاہ خاک جسے بدن کہا جاتا ہے اورعقل جس کے ظلم سے نالاں ہے (آہ فریاد کر رہی ہے) ۔

The dark clay, whose name is the body— Our reason is ever bemoaning its iniquity.

11

فکر گردون‌رس زمین‌پیما ازو

چشم کور و گوش ناشنوا ازو

آسمانوں کی سی بلندی کا حامل فکر اس کے ہاتھوں پستی کا شکار رہتا ہے اور دیکھنے والی آنکھ اس کے سبب اندھی ہے اور کان بہرے ہیں ۔

On account of it our sky-reaching thought plods o’er the earth; It makes our eyes blind and our ears deaf.

12

از هوس تیغ دو رو دارد بدست

رهروان را دل برین رهزن شکست

جس کے ہاتھ میں حرص و ہوس کی دو دھاری تلوار ہے اور اللہ کی راہ میں چلنے والوں (سالکوں ) کے دل اس سے خوف زدہ ہیں ۔

It hath in its hand a two-edged sword of lust: Travellers’ hearts are broken by this brigand.

13

شیر حق این خاک را تسخیر کرد

این گل تاریک را اکسیر کرد

اللہ کے شیر (اسد اللہ، حضرت علی ) نے اس خاک (بدن) پر قابو پا لیا ۔ آپ نے اس سیاہ خاک کو جو بالکل بے نور تھی اکسیر یعنی کیمیا بدل دیا ۔

Ali, the Lion of God, subdued the body's clay And transmuted this dark earth to gold.

14

مرتضی کز تیغ او حق روشن است

بوتراب از فتح اقلیم تن است

مرتضیٰ جن کی تلوار سے حق روشن ہے، جو بوتراب بنے یا کہلائے ہیں تو یہ جسم کی ولایت کو فتح کرنے کے نتیجے میں ہے ۔

Murtazá, by whose sword the splendour of Truth was revealed,Is named Bú Turáb from his conquest of the body.

15

مرد کشور گیر از کراری است

گوهرش را آبرو خودداری است

دلیر اور شجاع آدمی کراری (بڑھ چڑھ کر دشمن پر حملہ کرنے ) کی بنا پر فاتح ملک بنتا ہے ۔ اس کے گوہر کی آب و تاب خودداری کے سبب ہے ۔

Man wins territory by prowess in battle, But his brightest jewel is mastery of himself.

16

هر که در آفاق گردد بوتراب

باز گرداند ز مغرب آفتاب

اس کائنات میں جو کوئی بھی بوتراب بنتا ہے (یعنی اپنے جسم اور ہوا و ہوس پر قابو پا لیتا ہے اسی کو یہ قوت میسر آتی ہے کہ) وہ چاہے تو سورج کو مغرب سے لوٹا لاتا ہے ۔

Whosoever in the world becomes a Bú Turáb Turns back the sun from the west.

17

هر که زین بر مرکب تن تنگ بست

چون نگین بر خاتم دولت نشست

جس کسی نے بھی تن کی سواری پر کس کر زین باندھی اسی کو یہ مرتبہ ملا کہ وہ حکومت کی مہر میں نگینے کی طرح بیٹھ گیا ۔ یعنی سلطنت کا مالک بن گیا ۔

Whosoever saddles tightly the steed of the body Sits like the bezel on the seal of sovereignty

18

زیر پاش اینجا شکوه خیبر است

دست او آنجا قسیم کوثر است

اس دنیا میں تو خیبر جیسے باشکوہ قلعے کی ساری شان و شوکت اس کے پاؤں کے نیچے ہوتی ہے اور دوسری دنیا (آخرت) میں اس کا ہاتھ حوض کوثر کا شیریں پانی تقسیم کرنے والا ہوتا ہے ۔

Here the might of Khaibar is under his feet, And hereafter his hand will distribute the water of Kauthar.

19

از خود آگاهی یداللهی کند

از یداللهی شهنشاهی کند

وہ اپنی ذات سے بخوبی واقف ہونے کے نتیجے میں اللہ کا ہاتھ بن جاتا ہے اور پھر اسی الوہی ہاتھ کے ساتھ وہ کائنات پر حکمرانی کرنے لگتا ہے ۔

Through self-knowledge he acts as God's Hand, And in virtue of being God's Hand he reigns over all.

20

ذات او دروازه‌ی شهر علوم

زیر فرمانش حجاز و چین و روم

اس کی ذات شہر علوم کا دروازہ (بن جاتی ) ہے اور حجاز، چین اور شام یعنی ساری دنیا اس کے زیر فرمان آ جاتی ہے ۔

His person is the gate of the city of the sciences: Arabia, China, and Greece are subject to him.

21

حکمران باید شدن بر خاک خویش

تا مِیِ روشن خوری از تاک خویش

اپنی خاک (بدن) پر حکم چلانے والا (حکمران) بننا چاہیے تاکہ تو اپنی تاک (انگور کی بیل) سے مصفا اور روشن شراب پیئے ۔

If thou wouldst drink clear wine from thine own grapes, Thou must needs wield authority over thine own earth.

22

خاک‌گشتن مذهب پروانگی‌ست

خاک را اب شو که این مردانگی‌ست

(جل کر) راکھ ہو جانا پروانے کا طریقہ ہے تو مٹی کا باپ (بوتراب) بن جا (اسے فتح کر اور قابو پا) کہ یہی شجاعت و دلیری ہے ۔

To become earth is the creed of a moth; Be a conqueror of earth; that alone is worthy of a man.

23

سنگ شو ای همچو گل نازک بدن

تا شوی بنیاد دیوار چمن

تیرا بدن پھول کی طرح نرم و نازک ہے ۔ پتھر بن جا(سخت جان ہو جا) تا کہ تو چمن کی دیوار کی بنیاد بن سکے ۔

Thou art soft as a rose. Become hard as a stone, That thou mayst be the foundation of the wall of the garden!

24

از گل خود آدمی تعمیر کن

آدمی را عالمی تعمیر کن

اپنی مٹی گارے سے (ایک صاحب عمل) آدمی کی تعمیر کر(نیا آدم پیدا کر) ایسے آدمی کے لیے ایک عالم نو تعمیر کر(نئے جہان کی بنیاد رکھ) ۔

Build thy clay into a Man, Build thy Man into a World!

25

گر بنا سازی نه دیوار و دری

خشت از خاک تو بندد دیگری

اگر تو خود کوئی دیوار اور دروازہ نہیں بنائے گا تو کوئی دوسرا آ کر تیری بیکار پڑی مٹی سے اپنی تعمیر کے لیے اینٹیں بنانے لگے گا ۔

If thou art unfit to be either a wall or a door, Some one else will make bricks of thine earth.

26

ای ز جور چرخ ناهنجار تنگ

جام تو فریادی بیداد سنگ

اے (مخاطب، اس دور کے مسلمان) بے شک تو جو اس بے اصولے آسمان کے جور و ستم سے تنگ ہے تیرا جام پتھر کے ظلم و ستم کا فریادی ہے ۔

O thou who complainest of the cruelty of Heaven, Thou whose glass cries out against the injustice of the stone,

27

ناله و فریاد و ماتم تا کجا؟

سینه کوبی‌های پیهم تا کجا؟

تو کب تک نالہ و فریاد اور ماتم کرتا رہے گا کب تک شب و روز سینہ پیٹتا جائے گا

How long this wailing and crying and lamentation? How long this perpetual beating of thy breast?

28

در عمل پوشیده مضمون حیات

لذت تخلیق قانون حیات

عمل ہی میں زندگی کا مقصد پوشیدہ (چھپا ہوا) ہے تخلیق کا لطف، زندگی کا قانون ہے ۔

The pith of Life is contained in action, To delight in creation is the law of Life.

29

خیز و خلاق جهان تازه شو

شعله در بر کن خلیل آوازه شو

اٹھ اور نیا جہان پیدا کر ۔ آگ کو آغوش میں لے لے اپنے جسم میں آگ بھڑکا کر خود کو حضرت خلیل کی شہرت کا مالک بنا(نعرہ حق لگا) ۔

Arise and create a new world! Wrap thyself in flames, be an Abraham.

30

با جهان نامساعد ساختن

هست در میدان سپر انداختن

ناموافق دنیا سے نباہ یا موافقت پیدا کرنا ایسے ہی ہے جیسے میدان (جنگ) میں ہتھیار ڈال دینا(ہار قبول کر لینا) ۔

To comply with this ill-starred world Is to fling away thy buckler on the field of battle.

31

مرد خودداری که باشد پخته کار

با مزاج او بسازد روزگار

جو خود دار انسان عمل میں پکا اور تجربہ کار ہوتا ہے، زمانہ خود اس کے مزاج کے مطابق چلتا ہے ۔

The man of strong character who is master of himself Will find Fortune complaisant.

32

گر نسازد با مزاج او جهان

می‌شود جنگ آزما با آسمان

اور اگر زمانہ اس (خوددار) کے مزاج سے نباہ نہیں کرتا تو وہ آسمان سے جنگ کرنے پر تیار ہو جاتا ہے ۔

If the world does not comply with his humour, He will try the hazard of war with Heaven.

33

بر کند بنیاد موجودات را

می‌دهد ترکیب نو ذرات را

وہ کائنات کو جڑ سے اکھاڑ ڈالتا ہے اور اسکی جگہ ذروں کو ایک نئی ترکیب (نئی دنیا) سے نئے سرے سے آراستہ کرتا ہے ۔

He will dig up the foundations of the universe And cast its atoms into a new mould.

34

گردش ایام را برهم زند

چرخ نیلی‌فام را برهم زند

وہ زمانے کی گردش کو درہم برہم کر کے رکھ دیتا ہے ۔ وہ نیلے آسمان ہی کو باقی نہیں چھوڑتا جس سے گردش پیدا ہوتی ہے ۔

He will subvert the course of Time And wreck the azure firmament.

35

می‌کند از قوت خود آشکار

روزگار نو که باشد سازگار

وہ اپنی قوت سے ایک ایسا نیا زمانہ وجود میں لے آتا ہے جو اس سے موافقت کے لیے تیار ہو ۔

By his own strength he will produce A new world which will do his pleasure.

36

در جهان نتوان اگر مردانه زیست

همچو مردان جان‌سپردن زندگی‌ست

اگر دنیا میں جوان مردوں کی طرح زندہ نہیں رہ سکتے تو پھر جوان مردوں کی طرح جان دے دیتے ۔ یعنی دلیرانہ موت کو سینے سے لگا لینا ہی زندگی ہے ۔

If one cannot live in the world as beseems a man, It is true life to give up one's soul.

37

آزماید صاحب قلب سلیم

زور خود را از مهمات عظیم

صحت مند و توانا دل والا بڑے بڑے کارنامے سرانجام دیتے ہوئے اپنی قوت و طاقت کی آزمائش کرتا ہے (اسے زور آزمانے کا موقع ملتا ہے) ۔

He that hath sound intelligence Will prove his strength by great enterprises.

38

عشق با دشوار ورزیدن خوش‌َست

چون خلیل از شعله گلچیدن خوشَ‌ست

مشکلات سے دلچسپی و وابستگی ایک اچھی بات ہے(ایسی ہی زندگی کے لیے دل میں تڑپ ہونی چاہیے) حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی مانند آگ سے پھول چننے کا عمل اچھا ہے(انھیں کے نقش قدم پر چلنا چاہیے) ۔

Tis sweet to use love in hard tasks And, like Abraham, to gather roses from flames.

39

ممکنات قوت مردان کار

گردد از مشکل‌پسندی آشکار

صاحبان عمل کی قوت کے ممکنات، ان کی کٹھن اور مشکل کاموں سے رغبت کی بناپر ظاہر ہوتے ہیں ۔

The potentialities of men of action Are displayed in willing acceptance of what is difficult.

40

حربه‌ی دون همتان کین است و بس

زندگی را این یک آئین است و بس

جو لوگ ہمت سے عاری ہیں ان کے پاس کینے کے سوا کوئی ہتھیار نہیں ۔ ان کی زندگی کا دستور یہی ہے

Mean spirits have no weapon but spite, This is their one rule of life.

41

زندگانی قوت پیداستی

اصل او از ذوق استیلاستی

حالانکہ زندگی تو ایک واضح قوت ہے جس کی بنیاد غلبہ پا لینے کی فطری خواہش سے ہے ۔

But Life is power made manifest, And its mainspring is the desire for victory.

42

عفو بیجا سردی خون حیات

سکته‌ای در بیت موزون حیات

بے موقع اور بے محل قسم کی درگزر اور (چشم پوشی سے) زندگی کا خون ٹھنڈا پڑ جاتا ہے ۔ (دوسرے لفظوں میں ایسی درگزر سے) زندگی کے عمدہ شعر میں ایک سکتہ پیدا ہو جاتا ہے ۔

Mercy out of season is a coldness of Life's blood, A break in the rhythm of Life's music.

43

هر که در قعر مذلت مانده است

ناتوانی را قناعت خوانده است

جو کوئی بھی ذلت و پستی کے گڑھے میں گرا ہوا ہے وہ اپنی کمزوری اور ناتوانی کو صبر و قناعت کا نام دے دیتا ہے ۔

Whoever is sunk in the depths of ignominy Calls his weakness contentment.

44

ناتوانی زندگی را رهزن است

بطنش از خوف و دروغ آبستن است

حالانکہ کمزوری اور ناتوانی زندگی کے راستے کی قراق اور رہزن ہے ۔ اس کا باطن ڈر اور جھوٹ سے پر ہے ۔ یعنی اس کے باطن سے ڈر اور جھوٹ پیدا ہوتے ہیں ۔

Weakness is the plunderer of Life, Its womb is teeming with fears and lies.

45

از مکارم اندرون او تهی‌ست

شیرش از بهر ذمائم فربهی‌ست

اس کا اندر (باطن، دل) اچھے اوصاف سے بالکل خالی ہوتا ہے ۔ اس (ناتوانی) کا دودھ بری باتوں کے موٹاپے (یعنی اضافے) کا باعث ہے(اس کے دودھ سے برائیاں پرورش پا کر موٹی ہوتی ہیں ) ۔

Its soul is empty of virtues, Its milk is a fattening for vices.

46

هوشیار ای صاحب عقل سلیم

در کمینها می‌نشیند این غنیم

اے عقل سلیم رکھنے والے خبردار رہ یہ دشمن ( ہر وقت) گھات میں رہتا ہے ۔

O man of sound judgement, beware! This spoiler is lurking in ambush.

47

گر خردمندی فریب او مخور

مثل حر با هر زمان رنگش دگر

اگر تو عقل مند ہے تو اس کا فریب کبھی نہ کھا اس لیے کہ یہ تو گرگٹ کی طرح ہر گھڑی اور ہر لمحہ رنگ بدلتی رہتی ہے ۔

Be not his dupe, if thou art wise: Chameleon-like, he changes colour every moment.

48

شکل او اهل نظر نشناختند

پرده‌ها بر روی او انداختند

اہل نظر نے کمزوری اور ناتوانی کی اصل صورت نہیں دیکھی ۔ اس کے چہرے پر رنگ رنگ کے پردے ڈال دیئے ۔

Even by keen observers his form is not discerned: Veils are thrown over his face.

49

گاه او را رحم و نرمی پرده‌دار

گاه می‌پوشد ردای انکسار

چنانچہ کبھی تو رحم اور نرمی اس کی پردہ داری کرتی ہے اور کبھی وہ عاجزی و مسکینی کی چادر اوڑھ لیتی ہے ۔

Now he is muffled in pity and gentleness, Now he wears the cloak of humility.

50

گاه او مستور در مجبوری‌ست

گاه پنهان در ته معذوری است

کبھی وہ مجبوری کے پردے میں چھپ جاتی ہے اور کبھی معذوری کی تہ میں چھپ جاتی ہے ۔

Sometimes he is disguised as a victim of oppression, Sometimes as one whose sins are to be excused.

51

چهره در شکل تن آسانی نمود

دل ز دست صاحب قوت ربود

اس نے تن آسانی کے پردے میں اپنا چہرہ نمایاں کیا اور اس طرح صاحب قوت کا دل چھین لیا ۔

He appears in the shape of self-indulgence And robs the strong man's heart of courage.

52

با توانایی صداقت توأم است

گر خود آگاهی همین جام جم است

لیکن قوت اور توانائی سچائی کی جڑواں ہے ۔ اگر تو اپنی ذات حقیقت سے آگاہ ہو جائے تو پھر یہی جمشید کا پیالہ ہے ۔

Strength is the twin of Truth; If thou knowest thyself, strength is the Truth-revealing glass.

53

زندگی کشت است و حاصل قوتَ‌ست

شرح رمز حق و باطل قوتَ‌ست

زندگی کھیتی ہے اور اس کی فصل قوت ہے ، حق اور باطل میں جو بھید ہے قوت اس کی رمز یا شرح ہے ۔

Life is the seed, and power the crop: Power explains the mystery of truth and falsehood.

54

مدعی گر مایه‌دار از قوت است

دعوی او بی‌نیاز از حجت است

اگر کوئی دعویٰ کرنے والا قوت کے دولت سے مالامال ہے تو اس کے دعویٰ کے اثبات کے لیے کسی دلیل یا ثبوت کی ضرورت نہیں رہتی ۔

The false claimant, if he be possessed of power, Needs no argument for his claim.

55

باطل از قوت پذیرد شأن حق

خویش را حق داند از بطلان حق

باطل، قوت کی بدولت حق کی سی شان پیدا کر لیتا ہے اور حق کو باطل کہہ کر خود کو حق جاننے لگتا ہے ۔

Falsehood derives from power the authority of truth, And by falsifying truth deems itself true.

56

از کن او زهر کوثر می شود

خیر را گوید شری ، شر می‌شود

اس کے کن (حکم) سے کوثر، زہر میں تبدیل ہو جاتی ہے وہ خیر کو شر کا نام دے کر اسے شر بنا دیتا ہے ۔

Its creative word transforms poison into nectar; It says to Good, "Thou art bad," and Good becomes Evil.

57

ای ز آداب امانت بی‌خبر

از دو عالم خویش را بهتر شمر

اے (انسان) تو امانت کے آداب سے نا آشنا ہے تو اپنے آپ کو دونوں جہانوں سے بہتر سمجھ (یعنی تو اشرف المخلوقات ہے، تجھے سب سے بلند درجہ عطا کیا گیا ہے) ۔

O thou that art heedless of the trust committed to thee, Esteem thyself superior to both worlds!

58

از رموز زندگی آگاه شو

ظالم و جاهل ز غیرالله شو

تو زندگی کے اسرار و رموز سے واقفیت حاصل کر اور خدا کے سوا جو کچھ ہے اس کے معاملے میں ظالم و جاہل ہو جا(اپنے آپ کو خداکے کاموں کے لیے وقف کر دے) ۔

Gain knowledge of Life's mysteries! Be a tyrant! Ignore all except God!

59

چشم و گوش و لب گشا ای هوشمند

گر نبینی راه حق بر من بخند

اے عقلمند تو اپنے کان، ہونٹ اور آنکھیں کھول پھر اگر اس کے باوجود تجھے حق و صداقت کی راہ نظر نہ آئے تو اس وقت مجھ پر ہنس ۔

O man of understanding, open thine eyes, ears, and lips If then thou seest not the Way of Truth, laugh at me!

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

خدمت و محنت شعار اشتر است

صبر و استقلال کار اشتر است

علامہ اقبال»اسرار خودی»بخش 10 - در بیان اینکه تربیت خودی را سه مراحل است مرحلهٔ اول را اطاعت و مرحلهٔ دوم را ضبط نفس، و مرحله سوم را نیابت الهی نامیده اند: «مرحلهٔ اول اطاعت»

اگلی نظم

سید هجویر مخدوم امم

مرقد او پیر سنجر را حرم

علامہ اقبال»اسرار خودی»بخش 12 - حکایت نوجوانی از مرو که پیش حضرت سید مخدوم علی هجویری رحمة الله علیه آمده از ستم اعدا فریاد کرد

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور