مرو کے ایک نوجوان کی داستان جو مخدوم حضرت علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آیا اور دشمنوں کے ظلم و ستم کے خلاف فریاد کی
Story of a young man of Merv who came to the saint Ali Hujwiri-God have mercy on Him - and complained that he was oppressed by his enemies
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
سید هجویر مخدوم امم
مرقد او پیر سنجر را حرم
ہجویر کے سید اور مسلمانوں کے مخدوم (حضرت علی ہجویری) جن کا مزار حضرت معین الدین چشتی سنجری کے لیے ایک مقدس مقام تھا (انھوں نے اس مزار پر چلہ کشی کی) ۔
The saint of Hujwír was venerated by the peoples, And Pír-i Sanjar visited his tomb as a pilgrim.
بند های کوهسار آسان گسیخت
در زمین هند تخم سجده ریخت
انھوں نے پہاڑوں کے کٹھن راستے آسانی سے طے کیے اور ہندوستان پنجاب کی سرزمین میں انھوں نے سجدے کا بیج بویا (اسلام کی تبلیغ کی) ۔
With ease he broke down the mountain-barriers loss And sowed the seed of Islam in India.
عهد فاروق از جمالش تازه شد
حق ز حرف او بلند آوازه شد
ان کے جمال سے حضرت عمر فاروق کے دور (عہد) کی یاد تازہ ہو گئی ۔ ان کی باتوں (تبلیغ) سے دین حق کا شہرہ عام ہو گیا ۔
The age of Omar was restored by his godliness, The fame of the Truth was exalted by his words.
پاسبان عزت ام الکتاب
از نگاهش خانه ی باطل خراب
حضرت، قرآن کریم کی عزت کے مخافظ تھے ۔ ان کی نگاہ سے باطل (کفر و شرک) کے گھروندے ویران ہوتے گئے ۔
He was a guardian of the honour of the Koran, The house of Falsehood fell in ruins at his gaze.
خاک پنجاب از دم او زنده گشت
صبح ما از مهر او تابنده گشت
پنجاب کی سرزمین ان کے دم سے زندہ ہو گئی ۔ ہماری صبح ان کے آفتاب سے منور ہو گئی ۔
The dust of the Panjáb was brought to life by his breath, Our dawn was made splendid by his sun.
عاشق و هم قاصد طیار عشق
از جبینش آشکار اسرار عشق
وہ دین حق کے عاشق بھی تھے اور عشق کے ہمہ وقت تیز رفتار قاصد بھی ، ان کی پیشانی سے عشق کے بھید آشکار (بے نقاب) تھے ۔
He was a lover, and withal a courier of Love: The secrets of Love shone forth from his brow.
داستانی از کمالش سر کنم
گلشنی در غنچه ئی مضمر کنم
میں ان کے ولی کامل ہونے کی ایک داستان بیان کرتا ہوں اور یہ اس طرح کہ میں ایک کلی میں ایک پورا باغ سمو رہا ہوں ۔
I will tell a story of his perfection And enclose a whole rose-bed in a single bud.
نوجوانی قامتش بالا چو سرو
وارد لاهور شد از شهر مرو
ایک نوجوان جس کا قد سرو سہی کی طرح بلند تھا (ایران کے ایک ) شہر مرو سے لاہور آیا(داخل ہوا) ۔
A young man, cypress-tall, Came from the town of Merv to Lahore
رفت پیش سید والا جناب
تا رباید ظلمتش را آفتاب
وہ (حضرت علی ہجویری) کی بلند مرتبہ شخصیت کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تاکہ سورج اس کی تاریکی کو دور کر دے ۔
He went to see the venerable saint, That the sun might dispel his darkness.
گفت «محصور صف اعداستم
درمیان سنگها میناستم
اس نے عرض کیا کہ حضرت میں دشمنوں کے درمیان گھرا ہوا ہوں ، میری حالت ایسی ہے جیسے صراحی پتھروں کے درمیان ہو ۔
I am hemmed in," he said, "by foes; I am as a glass in the midst of stones.
با من آموز ای شه گردون مکان
زندگی کردن میان دشمنان»
اے آسمان کی سی بلندی والے مرتبے کی حامل ذات مجھے دشمنوں کے درمیان رہ کر کامیاب زندگی بسر کرنے کا طریقہ سکھایئے ۔
Do thou teach me, O sire of heavenly rank, How to lead my life amongst enemies.
پیر دانائی که در ذاتش جمال
بسته پیمان محبت با جلال
اس دانا مرشد نے جن کی ذات میں حسن و خوبی اور شفقت نے دبدبہ وغیظ کے ساتھ محبت کا عہد باندھ رکھا تھا ۔
The wise Director, in whose nature Love had allied mercy with wrath.
گفت «ای نامحرم از راز حیات
غافل از انجام و آغاز حیات
حضرت نے فرمایا اے زندگی کے بھید سے نا آشنا انسان تو زندگی کے انجام اور آغاز سے بے خبر ہے ۔
Answered: "Thou art unread in Life's lore, Careless of its end and its beginning.
فارغ از اندیشه ی اغیار شو
قوت خوابیده ئی بیدار شو
تو غیروں کا وسوسہ دل سے نکال دے، بے نیاز ہو جا، تو ایک سوئی ہوئی قوت ہے جاگ اٹھ (بیدار ہو جا) ۔
Be without fear of others! Thou art a sleeping force: awake!
سنگ چون بر خود گمان شیشه کرد
شیشه گردید و شکستن پیشه کرد
(دیکھو) پتھر جب خود کو شیشہ سمجھ لیتا ہے تو وہ شیشہ ہی بن جاتا ہے اور ٹوٹنا اس کی فطرت بن جاتی ہے ۔
When the stone was anxious on account of the glass, It became glass and got into the way of breaking.
ناتوان خود را اگر رهرو شمرد
نقد جان خویش با رهزن سپرد
اگر راستہ چلنے والے (مسافر) خود کو کمزور سمجھ لے تو اس نے اس باعث اپنی جان کی پونجی رہزن کے حوالے کر دی ۔ (حضرت علی ہجویری نے اس نوجوان کو خود میں قوت ارادی پیدا کرنے اور اپنی خوابیدہ صلاحیتوں کو بیدار کرنے اور بروئے کار لانے کا سبق مختلف استعاروں میں دیا ہے جو عام فہم اور واضح ہیں ) ۔
If the traveller thinks himself weak, He delivers his soul unto the brigand.
تا کجا خود را شماری ماء و طین
از گل خود شعله ی طور آفرین
تو کب تک اپنے آپ کو پانی اور مٹی سمجھتا رہے گا، اٹھ اور اپنی مٹی سے طور کا سا شعلہ پیدا کر ۔
How long wilt thou regard thyself as water and clay? Create from thy clay a flaming Sinai!
با عزیزان سرگران بودن چرا
شکوه سنج دشمنان بودن چرا
اپنوں سے ناراض ہونا، کس کی خاطر دشمنوں کی شکایت کرتے رہنا کیوں ، کس لیے
Why be angry with mighty men? Why complain of enemies?
راست می گویم عدو هم یار تست
هستی او رونق بازار تست
میں سچ کہتا ہوں کہ دشمن بھی (حقیقت میں ) تیرا دوست ہے ۔ اس کا وجود تیری زندگی کے بازار کی رونق اور گرمی سرچشمہ ہے ۔
I will declare the truth: thine enemy is thy friend; His existence crowns thee with glory.
هر که دانای مقامات خودی است
فضل حق داند اگر دشمن قوی است
جو کوئی خودی کے مقامات سے آگاہ ہے وہ اپنے طاقتور دشمن کو خدا کا فضل و کرم جانتا ہے ۔
Whosoever knows the states of the Self Considers a powerful enemy to be a blessing from God.
کشت انسان را عدو باشد سحاب
ممکناتش را برانگیزد ز خواب
دشمن تو انسان کی کھیتی کے لیے بادل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ وہ (دشمن ) انسان کے ممکنات کو نیند سے بیدار کرتا ہے (انسان کی تمام سوئی ہوئی قوتیں جاگ اٹھتی ہیں ) ۔
To the seed of Man the enemy is as a rain-cloud: He awakens its potentialities.
سنگ ره آبست اگر همت قویست
سیل را پست و بلند جاده چیست؟
اگر انسان کا حوصلہ مضبوط اور ہمت پختہ ہو تو راستے کا پتھر اس کے لئے پانی بن جاتا ہے (اس کی مثال اسی طرح ہے جس طرح) سیلاب کے لیے راستے کی نشیب و فراز کوئی اہمیت نہیں رکھتے ۔
If thy spirit be strong, the stones in thy way are as water: What reeks the torrent of the ups and downs of the road?
سنگ ره گردد فسان تیغ عزم
قطع منزل امتحان تیغ عزم
راستے کا پتھر عزم و ہمت کی تلوار کے لیے سان بن جاتا ہے ۔ کٹھن راستوں کو کاٹنا مضبوط ارادے کی تلوار کی آزمائش ہے ۔
The sword of resolution is whetted by the stones in the way And put to proof by traversing stage after stage.
مثل حیوان خوردن ، آسودن چسود
گر بخود محکم نه ئی بودن چسود
جانوروں کی طرح کھا پی کر لیٹنے رہنے سے کیا فائدہ ہے ۔ اگر تو اپنی ذات میں مضبوط و مستحکم نہیں ہے تو کیا فائدہ
What is the use of eating and sleeping like a beast? What is the use of being, unless thou have strength in thyself?
خویش را چون از خودی محکم کنی
تو اگر خواهی جهان برهم کنی
جب تو خود کو خودی سے مضبوط مستحکم کر لے تو (اس قوت کی بدولت) اگر تو چاہے تو دنیا کو بھی تہہ و بالا کر ڈالے گا ۔
When thou mak’st thyself strong with Self, Thou wilt destroy the world at thy pleasure.
گر فنا خواهی ز خود آزاد شو
گر بقا خواهی بخود آباد شو
اگر تو فنا کا طالب ہے تو اپنی ذات (خودی) سے آزاد (بے تعلق ) ہو جا، اگر دوام (زندگی) کی خواہش ہے تو پھر تو اپنی ذات (خودی) میں آباد ہو جا ۔
If thou wouldst pass away, become free of Self; If thou wouldst live, become full of Self!
چیست مردن از خودی غافل شدن
تو چه پنداری فراق جان و تن
مرنے سے کیا مراد ہے (یہی کہ) اپنی خودی سے غافل ہو جانا ۔ تو مرنے سے کیا مراد لیتا ہے، جان اور بدن کی ایک دوسرے سے دوری (الگ ہو جانے کا نام) ۔
What is death? To become oblivious to Self Why imagine that it is the parting of soul and body?
در خودی کن صورت یوسف ، مقام
از اسیری تا شهنشاهی خرام
تو حضرت یوسف علیہ السلام کی مانند خودی کو جائے قیام بنا لے (اور اس طرح) قیدی بننے سے شہنشاہی تک کے مرحلے طے کر لے (قید خانے سے اٹھ کر تخت شاہی پر پہنچ جائے گا ۔ ) ۔
Abide in Self, like Joseph! Advance from captivity to empire!
از خودی اندیش و مرد کار شو
مرد حق شو حامل اسرار شو
خودی کے بارے میں غور و فکر کرا ور صاحب عزم و ہمت بن جا ۔ اس طرح مرد حق بن کر صاحب اسرار ہو جا (زندگی کے بھید خود بخود تجھ پر آشکار ہو جائیں گے ۔ ) ۔
Think of Self and be a man of action! Be a man of God, bear mysteries within!"
شرح راز از داستانها می کنم
غنچه از زور نفس وا می کنم
میرے سینے میں جو راز ہے اس کی شرح کہانیوں کے ذریعے سے کروں گا ۔ کلی کو پھونک کے زور سے کھلاؤں گا(کلی کو پھول بناؤں گا) ۔
I will explain the matter by means of stories, I will open the bud by the power of my breath.
«خوشتر آن باشد که سر دلبران
گفته آید در حدیث دیگران»
اچھی بات یہی ہے کہ دلبروں کی باتیں اور راز دوسروں کی باتوں یعنی اشاروں کنایوں میں بیان کی جائیں ( تو بہت دلکش دلاویز بن جاتے ہیں ) ۔ (آخری شعر مولانا روم کی مثنوی کا ہے) ۔
"’Tis better that a lovers’ secret Should be told by the lips of others."
فارسی متن کا ماخذ: گنجور