صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »اسرار خودی
  3. »بخش 13 - حکایت طایری که از تشنگی بیتاب بود

بخش 13 - حکایت طایری که از تشنگی بیتاب بود

اس پرندے کی کہانی جسے پیاس نے بے قرار کر رکھا تھا

Story of the bird that was faint with thirst

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: نکلسن
Toggle stanza 1
11

طایری از تشنگی بیتاب بود

در تن او دم مثال موج دود

ایک پرندہ پیاس سے نڈھال اور بے قرار تھا، سانس اس کے جسم میں لہر کی مانند چل رہا تھا(وہ ہانپ رہا تھا) ۔

A bird was faint with thirst, The breath in his body was heaving like waves of smoke.

22

ریزه ی الماس در گلزار دید

تشنگی نظاره ی آب آفرید

اس نے باغ میں ہیرے کی ایک کنی دیکھی، پیاس کے سبب اسے وہ پانی دکھائی دی ۔

He saw a diamond in the garden: Thirst created a vision of water.

33

از فریب ریزه ی خورشید تاب

مرغ نادان سنگ را پنداشت آب

سورج کی مانند چمکنے والے اس ٹکڑے کے دھوکے میں اس کم عقل پرندے نے پتھر کے ریزے کو پانی سمجھ لیا ۔

Deceived by the sunbright stone The foolish bird fancied that it was water.

44

مایه اندوز نم از گوهر نشد

زد برو منقار و کامش تر نشد

اسے اس ٹکڑے سے ذرا سی بھی نمی حاصل نہ ہو سکی، اس نے اس پر چونچ ماری لیکن اس کا حلق تر نہ ہوا ۔

He got no moisture from the gem: He pecked it with his beak, but it did not wet his palate.

55

گفت الماس ای گرفتار هوس

تیز بر من کرده منقار هوس

ہیرے کی اس کنی نے اس پرندے سے کہا اے حرص اور لالچ میں گرفتار پرندے تو نے مجھ پر حرص کی چونچ تیز کی ہے ۔

"O thrall of vain desire," said the diamond, "Thou hast sharpened thy greedy beak on me.

66

قطره ی آبی نیم ساقی نیم

من برای دیگران باقی نیم

میں نہ تو پانی کا کوئی قطرہ ہوں اور نہ ساقی ہی ہوں ، میں دوسروں کے لیے زندہ نہیں ہوں ( میں اس لیے زندہ نہیں کہ دوسرے مجھے ہضم کر جائیں ۔ ) ۔

But I am not a dewdrop, I give no drink, I do not live for the sake of others.

77

قصد آزارم کنی دیوانه ئی

از حیات خود نما بیگانه ئی

مجھے دکھ دینے کا ارادہ کر رہا ہے کیا تو پاگل ہو گیا ہے ۔ تو اپنی خودی کو ظاہر کرنے والی زندگی سے نا آشنا ہے ۔

Wouldst thou hurt me? Thou art mad! A life that reveals the Self is strange to thee.

88

آب من منقار مرغان بشکند

آدمی را گوهر جان بشکند

میرا پانی (چمک) پرندوں کی چونچ توڑ ڈالتا ہے ۔ انسان کی جان کا موتی توڑ ڈالتا ہے(اگر آدمی کھا لے تو مرجاتا ہے) ۔

My water will shiver the beaks of birds And break the jewel of man's life."

99

طایر از الماس کام دل نیافت

روی خویش از ریزه ی تابنده تافت

ہیرے سے پرندے کا دلی مقصد پورا نہ ہوا ۔ چنانچہ وہ اس چمکتے ہوئے ریزے سے اپنا منہ پھیر لینے پر مجبور ہوا (توجہ ہٹا لی) ۔

The bird won not his heart's wish from the diamond And turned away from the sparkling stone.

1010

حسرت اندر سینه اش آباد گشت

در گلوی او نوا فریاد گشت

اس کے سینے میں حسرت نے ڈیرا جمال لیا، اس کے گلے میں آواز، فریاد کی صورت اختیار کر گئی ۔

Disappointment swelled in his breast, The song in his throat became a wail.

1111

قطره ی شبنم سر شاخ گلی

تافت مثل اشک چشم بلبلی

کسی پھول کی ٹہنی پر شبنم کا ایک قطرہ کسی بلبل کے آنسو کی طرح چمک رہا تھا ۔

Upon a rose-twig a drop of dew Gleamed like the tear in a nightingale's eye.

1212

تاب او محو سپاس آفتاب

لرزه بر تن از هراس آفتاب

اس کی چمک سورج کا شکریہ ادا کرنے میں کھوئی ہوئی تھی(اس کی چمک اس پر دھوپ پڑنے کے سبب تھی) ۔ سورج کے خوف سے اس کا بدن کانپ رہا تھا ۔

All its glitter was owing to the sun, It was trembling in fear of the sun.

1313

کوکب رم خوی گردون زاده ئی

یکدم از ذوق نمود استاده ئی

سمجھنا چاہیے کہ وہ ایک ستارہ تھا جس کی فطرت ہی نقل و حرکت تھی آسمان پر پیدا ہوا ۔ اور اپنی نمود کی لذت میں دم بھرنے کے لیے ٹھہر گئی۔

A restless sky-born star That had stopped for a moment, from desire to be seen.

1414

صد فریب از غنچه و گل خورده ئی

بهره ئی از زندگی نا برده ئی

ایک ایسا قطرہ جس نے غنچہ و گل سے سینکڑوں فریب اور دھوکے کھائے ۔ جس نے زندگی سے کچھ حاصل نہ کیا ہو ۔

Oft deceived by bud and flower, It had gained nothing from Life.

1515

مثل اشک عاشق دلداده ئی

زیب مژگانی چکید آماده ئی

(وہ قطرہ ایسا تھا جیسے) کسی دل دینے والے عاشق کا آنسو جو کسی پلک پر سجا ہو اور ٹپکنے ہی والا ہو ۔

There it hung, ready to drop, Like a tear on the eyelashes of a lover who hath lost his heart.

1616

مرغ مضطر زیر شاخ گل رسید

در دهانش قطره ی شبنم چکید

وہ پیاس سے بے تاب اور بے قرار پرندہ پھول کی ٹہنی کے نیچے پہنچ گیا ۔ شبنم کا وہ قطرہ اس کے منہ میں ٹپک پڑا ۔

The sorely distressed bird hopped under the rose-bush, The dewdrop trickled into his mouth.

1717

ای که می خواهی ز دشمن جان بری

از تو پرسم قطره ئی یا گوهری؟

اے مخاطب! تو جو اس بات کا خواہاں ہے کہ دشمن سے اپنی جان بچا لے میں تجھ سے پوچھتا ہوں کہ تو قطرہ ہے یا موتی

O thou that wouldst deliver thy soul from enemies, I ask thee—"Art thou a drop of water or a gem?

1818

چون ز سوز تشنگی طایر گداخت

از حیات دیگری سرمایه ساخت

جب پرندہ پیاس کی شدت سے گھلا جا رہا تھ (ہانپ رہا تھا) تو اس نے کسی دوسرے کی زندگی سے اپنی زندگی بچانے کا ذریعہ بنا لیا ۔

When the bird melted in the fire of thirst, It appropriated the life of another.

1919

قطره سخت اندام و گوهر خو نبود

ریزه ی الماس بود و او نبود

شبنم کا قطرہ ٹھوس جسم اور موتی کی سی فطرت والا نہ تھا ۔ وہ تو ہیرے کی کنی ایسی (ٹھوس) تھی، وہ قطرہ ایسا نہ تھا ۔

The drop was not solid and gem-like; The diamond had a being, the drop had none.

2020

غافل از حفظ خودی یک دم مشو

ریزه ی الماس شو شبنم مشو

شاعر کہتا ہے تواپنی خودی کی حفاظت سے ایک لمحے کے لیے بھی غافل نہ ہو ۔ ہیرے کی کنی بن جا، شبنم کا قطرہ نہ بن ۔

Never for an instant neglect Self-preservation Be a diamond, not a dewdrop!

2121

پخته فطرت صورت کهسار باش

حامل صد ابر دریا بار باش

پہاڑ کی مانند مضبوط بنیاد والا بن جا، ایسا بن جا کہ سینکڑوں بادل آغوش میں لے لے جن سے دریا برستے ہیں ۔

Be massive in nature, like mountains, And bear on thy crest a hundred clouds laden with floods of rain!

2222

خویش را دریاب از ایجاب خویش

سیم شو از بستن سیماب خویش

اپنی ذات کو تسلیم کر کے (یعنی اس کا اقرار کر کے) اپنے آپ کو پا لے ۔ اپنی حقیقت سے آگاہ ہو جا، اپنے پارے کو منجمد کر کے چاندی بن جا ۔

Save thyself by affirmation of Self, Compress thy quicksilver into silver ore!

2323

نغمه ئی پیدا کن از تار خودی

آشکارا ساز اسرار خودی

خودی کے ساز پر کوئی نغمہ چھیڑ(اس طرح) خودی کے بھید سب پر آشکار کر دے ۔

Produce a melody from the string of Self, Make manifest the secrets of Self!

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

سید هجویر مخدوم امم

مرقد او پیر سنجر را حرم

علامہ اقبال»اسرار خودی»بخش 12 - حکایت نوجوانی از مرو که پیش حضرت سید مخدوم علی هجویری رحمة الله علیه آمده از ستم اعدا فریاد کرد

اگلی نظم

از حقیقت باز بگشایم دری

با تو می گویم حدیث دیگری

علامہ اقبال»اسرار خودی»بخش 14 - حکایت الماس و زغال

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور