صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »اسرار خودی
  3. »بخش 14 - حکایت الماس و زغال

بخش 14 - حکایت الماس و زغال

الماس اور کوئلے کی حکایت

Story of the Diamond and the Coal

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: نکلسن
Toggle stanza 1
1

از حقیقت باز بگشایم دری

با تو می گویم حدیث دیگری

اقبال فرماتے ہیں میں پھر حقیقت کا ایک اور باب وا کرتا ہوں (ایک دروازہ کھولتا ہوں ) میں تجھ سے ایک اور (ڈھنگ ) سے بات کرتا ہوں (کہانی سناتا ہوں ) ۔

Now I will open one more gate of Truth, I will tell thee another tale.

2

گفت با الماس در معدن ، زغال

ای امین جلوه های لازوال

کان میں ہیرے سے کسی کوئلے نے کہا اے کہ تو انمٹ (لازوال) روشنیوں کا امانت دار ہے (جن کی آب و تاب برقرار رہتی ہے) ۔

The coal in the mine said to the diamond, "O thou entrusted with splendours everlasting,

3

همدمیم و هست و بود ما یکیست

در جهان اصل وجود ما یکیست

ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھی ہیں اور ہماری زندگی اور رہن سہن بھی ایک ہے ۔ دنیا میں ہمارے وجود کا خمیر (اصل ) ایک ہی ہے ۔

We are comrades, and our being is one; The source of our existence is the same,

4

من بکان میرم ز درد ناکسی

تو سر تاج شهنشاهان رسی

میں تو کان ہی میں گھٹیا پن کے دکھ سے مر جاتا ہوں ، جبکہ تو شہنشاہوں کے تاج میں جا پہنچتا ہے ۔

Yet while I die here in the anguish of worthlessness, Thou art set on the crowns of emperors.

5

قدر من از بد گلی کمتر ز خاک

از جمال تو دل آئینه چاک

میں اپنے گھٹیا ہونے کے دکھ سے کان میں رنج و غم میں مر رہا ہوں ۔ جب کہ تیرے حسن سے حسد اور رشک کی بنا پر آئینے کا دل پارہ پارہ ہو جاتا ہے ۔

My stuff is so vile that I am valued less than earth, Whereas the mirror's heart is rent by thy beauty.

6

روشن از تاریکی من مجمر است

پس کمال جوهرم خاکستر است

میری کالک سے انگیٹھی روشن ہے ۔ سو میرے خمیر کی انتہا راکھ ہے، گویا میرے کمال کا جوہر صرف یہ ہے کہ راکھ ہو جاؤں ۔

My darkness illumines the chafing-dish, Then my substance is incinerated at last.

7

پشت پا هر کس مرا بر سر زند

بر متاع هستیم اخگر زند

ہر کوئی مجھے پاؤں سے سر پر ٹھوکر مارتا ہے ۔ میرے وجود کی پونجی کو آگ دکھاتا ہے ۔

Every one puts the sole of his foot on my head And covers my stock of existence with ashes.

8

بر سروسامان من باید گریست

برگ و ساز هستیم دانی که چیست؟

میرے سروسامان پر رونا چاہیے ۔ تجھے علم ہے کہ میری ہستی کا ساز و سامان کیا ہے(میرے وجود کی حقیقت کیا ہے) ۔

My fate must needs be deplored; Dost thou know what is the gist of my being?

9

موجه ی دودی بهم پیوسته ئی

مایه دار یک شرار جسته ئی

(یوں سمجھو کہ) دھوئیں کی لہریں باہم مل گئی ہیں ۔ وہ ایک اچھلنے والی چنگاری کی پونجی بن گئی ہیں ۔

Thou art a condensed wavelet of smoke, Endowed with the properties of a single spark;

10

مثل انجم روی تو هم خوی تو

جلوه ها خیزد ز هر پهلوی تو

جب کہ تیرا چہرہ بھی اور تیری خو بو بھی ستاروں کی سی ہے ۔ تیرے ہر پہلو سے کرنیں پھوٹتی ہیں ۔

Both in feature and nature thou art star-like, Splendours rise from every side of thee.

11

گاه نور دیده ی قیصر شوی

گاه زیب دسته ی خنجر شوی

تو کبھی تو بادشاہوں کی آنکھوں کا نور بن جاتا ہے اور کبھی تو خنجر کے قبضے کی زیب و زینت کا سامان بہم پہچاتا ہے ۔

Now thou becom’st the light of a monarch's eye, Now thou adornest the haft of a dagger."

12

گفت الماس ای رفیق نکته بین

تیره خاک از پختگی گردد نگین

الماس نے (کوئلے سے) کہا کہ اے میری گہری باتوں کو سمجھنے والے ساتھی ۔ سیاہ خاک اپنی پختگی اور مضبوطی کی بنا پر انگشتری کا نگینہ بن جاتی ہے ۔

"O sagacious friend!" said the diamond, Dark earth, when hardened, becomes in dignity as a bezel.

13

تا به پیرامون خود در جنگ شد

پخته از پیکار مثل سنگ شد

جب وہ اپنے ماحول یعنی گردوپیش سے برابر ٹکراتی رہی تو اس جنگ کے نتیجے میں وہ پتھر کی طرح مضبوط ہوتی چلی گئی ۔

Having been at strife with its environment, It is ripened by the struggle and grows hard like a stone.

14

پیکرم از پختگی ذوالنور شد

سینه ام از جلوه ها معمور شد

میرا وجود بھی پختگی اور مضبوطی ہی کے سبب روشنیوں والا بنا (اور اسی باعث) میرا سینہ جلووَں سے لبریز (پر) ہو گیا ۔

’Tis this ripeness that has endowed my form with light And filled my bosom with radiance.

15

خوار گشتی از وجود خام خویش

سوختی از نرمی اندام خویش

تو اپنے کچے اور خام وجود کیوجہ سے ذلیل و خوار ٹھہرا ۔ اور اپنے وجود کی نرمی کے باعث چل اٹھا ۔

Because thy being is immature, thou hast become abased; Because thy body is soft, thou art burnt.

16

فارغ از خوف و غم و وسواس باش

پخته مثل سنگ شو الماس باش

تو ہر قسم کے غم، خوف اور بیہودہ وسوسوں سے خود کو بچائے رکھ ۔ اور پتھر کی طرح سخت ہو کر ہیرا بن جا ۔

Be void of fear, grief, and anxiety; Be hard as a stone, be a diamond!

17

می شود از وی دو عالم مستنیر

هر که باشد سخت کوش و سختگیر

جو وجود سخت جدوجہد کرنے اور مضبوط پختگی والا ہوتا ہے اس سے دونوں جہان روشنی کے طلبگار ہوتے ہیں (منور ہو جاتے ہیں ) ۔

Whosoever strives hard and grips tight, The two worlds are illumined by him.

18

مشت خاکی اصل سنگ اسود است

کو سر از جیب حرم بیرون زد است

متبرک پتھر سنگ اسود کی اصل یہی مٹھی بھر خاک ہے جو (سنگ اسود) نے حرم یعنی کعبتہ اللہ کے دامن سے سر باہر نکالے ہوئے ہے ۔

A little earth is the origin of the Black Stone Which puts forth its head in the Ka‘ba.

19

رتبه اش از طور بالا تر شد است

بوسه گاه اسود و احمر شد است

اس (سنگ اسود) کا رتبہ کوہ طور جیسے مقدم پہاڑ سے بھی اونچا ہو گیا ہے ۔ اور وہ سیاہ سرخ (اقوام) کی بوسہ گاہ بن گیا ہے ۔

Its rank is higher than Sinai, It is kissed by the swarthy and the fair.

20

در صلابت آبروی زندگی است

ناتوانی ، ناکسی ناپختگی است

سختی اور پختگی ہی سے زندگی کی عزت و آبرو ہے جو ناپختہ ہو گا وہ ناکارہ بھی ہو گا اور کمزور بھی ۔

In solidity consists the glory of Life; Weakness is worthlessness and immaturity."

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

طایری از تشنگی بیتاب بود

در تن او دم مثال موج دود

علامہ اقبال»اسرار خودی»بخش 13 - حکایت طایری که از تشنگی بیتاب بود

اگلی نظم

در بنارس برهمندی محترم

سر فرو اندر یم بود و عدم

علامہ اقبال»اسرار خودی»بخش 15 - حکایت شیخ و برهمن و مکالمه گنگ و هماله در معنی اینکه تسلسل حیات ملیه از محکم گرفتن روایات مخصوصه ملیه می باشد

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور