شیخ اور برہمن کی داستان اور دریائے گنگاو ہمالیہ کے مابین مکالمہ، اس حقیقت سے متعلق کی ملی زندگی کا تسلسل ملت کی مخصوص ملی روایات کے ساتھ مضبوطی سے وابستہ رہنے پر موقوف ہے
Story of the Sheikh and the Brahmin, followed by a conversation between Ganges and Himalaya to the effect that the continuation of Social life depends on firm attachment to the charactristic traditions of the community
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
در بنارس برهمندی محترم
سر فرو اندر یم بود و عدم
بنارس شہر میں ایک معزز برہمن ہستی اور نیستی (فنا او ر بقا) کے سمندر میں ڈوبا رہتا تھا ۔ وہ بقا اور فنا کی فلسفیانہ گتھیاں سلجھانے میں مصروف رہتا تھا (کہ زندگی کی حقیقت کیا ہے) ۔
At Benares lived a venerable Brahmin, Whose head was deep in the ocean of Being and Not-being.
بهره ی وافر ز حکمت داشتی
با خدا جویان ارادت داشتی
اسے دانائی کا بہت بڑا حصہ عطا ہوا تھا، اسے اللہ کی تلاش میں رہنے والوں (اللہ والوں ) سے عقیدت تھی ۔
He had a large knowledge of philosophy But was well-disposed to the seekers after God.
ذهن او گیرا و ندرت کوش بود
با ثریا عقل او همدوش بود
اس کا ذہن مطلب کو پا جانے والا اور نت نئی نرالی بات نکالنے کی کوشش کرنے والا تھا ۔ اس کی عقل بلندی میں پروین کے برابر پہنچی ہوئی تھی ۔
His mind was eager to explore new problems, His intellect moved on a level with the Pleiades;
آشیانش صورت عنقا بلند
مهر و مه بر شعله ی فکرش سپند
اس کا آشیانہ عنقا ( کے آشیانے) کی طرح بلند تھا ۔ سورج اور چاند اس کے غور و فکر کے شعلے پر کالے دا نے کی مانند تھے ۔
His nest was as high as that of the Anká; Sun and moon were cast, like rue, on the flame of his thought.
مدتی مینای او در خون نشست
ساقی حکمت بجامش می نبست
مدت تک اس کی صراحی (دل) خون میں رہی (اس کا دل خون ہو گیا) (وہ مدت تک فکری منت و مشقت میں لگا رہا ) لیکن حکمت و دانائی کے ساقی نے اس کے جام میں شراب نہ ڈالی ۔
For a long time he laboured and sweated, But philosophy brought no wine to his Cup.
در ریاض علم و دانش دام چید
چشم دامش طایر معنی ندید
اس نے علم و حکمت کے باغ میں مسلسل جال بچھائے رکھا لیکن اس کے جال کی آنکھ نے حقیقت کا کوئی پرندہ نہ دیکھا ۔ یعنی کوئی پرندہ اس کے حلقہ دام میں نہ پھنسا ۔
Although he set many a snare in the gardens of learning, His snares never caught a glimpse of the Ideal bird;
ناخن فکرش بخون آلوده ماند
عقده ی بود و عدم نگشوده ماند
اس کی فکر کا ناخن عقدے کھولتے کھولتے لہو سے آلودہ ہو کر رہ گیا(لیکن پھر بھی) ہستی اور نیستی (فنا و بقا) کے فلسفے کی گتھی سلجھ نہ سکی ۔
And notwithstanding that the nails of his thought were dabbled with blood, The knot of Being and Not-being remained untied.
آه بر لب شاهد حرمان او
چهره غماز دل حیران او
اس کے لبوں پر آہ تھی جو اس کی محرومی و ناکامی کی گواہ تھی ۔ اس کا چہرہ اس کے حیران دل کا غماز بنا ( اس کا چہرہ دیکھتے ہی دل کی حیرانی نمایاں ہو جاتی تھی) ۔
The sighs on his lips bore witness to his despair, His countenance told tales of his distraction.
رفت روزی نزد شیخ کاملی
آنکه اندر سینه پروردی دلی
ایک روز وہ کسی کامل بزرگ کے پاس گیا ۔ ایسا بزرگ جس کے سینے میں حق شناس دل موجود تھا ۔
One day he visited an excellent Sheikh, A man who had in his breast a heart of gold.
گوش بر گفتار آن فرزانه داد
بر لب خود مهر خاموشی نهاد
برہمن نے اس دانشمند کی باتوں پر کان لگا لیے اور اپنے لبوں پر خاموشی کی مہر لگا لی ۔
The Sheikh laid the seal of silence on his lips While he lent his ear to the Sage's discourse.
گفت شیخ ای طائف چرخ بلند
اندکی عهد وفا با خاک بند
شیخ نے فرمایااے بلند آسمان کا طواف کرنے والے تھوڑی دیر کے لیے خاک (زمین) کے ساتھ بھی پیمان وفا باندھ لے ۔
Then he said: "O wanderer in the lofty sky, Pledge thyself to be true, for a little, to the earth!
تا شدی آواره ی صحرا و دشت
فکر بیباک تو از گردون گذشت
جب تو صحرا و دشت میں آوارہ ہو گیا (مارا مارا پھرنے لگا) تیرا بیباک خیال آسمان سے بھی آگے گزر گیا ۔
Thou hast lost thy way in wildernesses of speculation, Thy fearless thought hath passed beyond Heaven.
با زمین در ساز ای گردون نورد
در تلاش گوهر انجم مگرد
اے آسمان کو طے کرنے والے تو زمین کے ساتھ بھی تعلق پیدا کر، ستاروں کے موتیوں کی تلاش میں پھرنا چھوڑ دے ۔
Be reconciled with earth, O sky-traveller! Do not wander in quest of the essence of the stars!
من نگویم از بتان بیزار شو
کافری شایسته ی زنار شو
میں نہیں کہتا کہ تو بتوں سے بیزار ہو جا، تاہم تو کافر ہے تو کافر ہی رہ لیکن اپنے آپ کو زنار پہننے کے لائق تو کر لے ۔
I do not bid thee abandon thine idols. Art thou an unbeliever? Then be worthy of the badge of unbelief.
ای امانت دار تهذیب کهن
پشت پا بر مسلک آبا مزن
تیرے پاس ایک پرانی تہذیب بطور امانت موجود ہے، اسکا حق ادا کر اور باپ دادا کے طور طریقے نہ چھوڑ ۔
O inheritor of ancient culture, Turn not thy back on the path thy fathers trod!
گر ز جمعیت حیات ملت است
کفر هم سرمایه ی جمعیت است
اگر قومی زندگی جمیعت و اتحاد پر موقوف ہے تو ظاہر ہے کہ کفر بھی جمیعت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا ۔
If a people's life is derived from unity, Unbelief too is a source of unity.
تو که هم در کافری کامل نه ئی
در خور طوف حریم دل نه ئی
تو جو کفر میں بھی کامل نہیں ہے اس لیے تو دل کے حرم کا طواف کرنے کے قابل نہ ہو سکا (صاحب دل نہ بن سکا) ۔
Thou that art not even a perfect infidel Art unfit to worship at the shrine of the spirit.
مانده ایم از جاده ی تسلیم دور
تو ز آزر من ز ابراهیم دور
ہم دونوں تسلیم و رضا کے راستے سے بھٹک گئے ہیں تو آزر (بت پرست) سے دور ہو گیا ہے اور میں ابراہیم سے دور ہو گیا ہوں ۔
We both are far astray from the road of devotion: Thou art far from Ázar, and I from Abraham.
قیس ما سودائی محمل نشد
در جنون عاشقی کامل نشد
ہمارا مجنوں محمل کا دیوانہ نہ بنا، وہ عاشقی کے جنون میں کمال حاصل نہ کر سکا ۔
Our Majnún hath not fallen into melancholy for his Lailá's sake: He hath not become perfect in the madness of love.
مرد چون شمع خودی اندر وجود
از خیال آسمان پیما چه سود
جب خودی کی شمع ہی وجود میں بجھ گئی تو آسمانوں کی سی بلندی والے خیال کا کیا فائدہ حاصل ہو گا ۔
When the lamp of Self expires, What is the use of heaven-surveying imagination?"
آب زد در دامن کهسار چنگ
گفت روزی با هماله رود گنگ
پانی نے پہاڑ کے پلو (دامن) پر پنجہ مارا (یعنی) ایک روز دریائے گنگا نے ہمالیہ پہاڑ سے کہا ۔
Once on a time, laying hold of the skirt of the mountain, Ganges said to Himalaya:
ای ز صبح آفرینش یخ بدوش
پیکرت از رودها زنار پوش
تو کہ کائنات کے وجود میں آنے کے دن سے کندھوں پر برف لیے ہوئے ہے، تیرا جسم ندی نالوں کی وجہ سے اس طرح ہے جیسے تو نے ان کی زنار پہن رکھی ہو ۔
"O thou mantled in snow since the morn of creation, Thou whose form is girdled with streams,
حق ترا با آسمان همراز ساخت
پات محروم خرام ناز ساخت
خدا نے بلندی میں تجھے آسمان کا ہمراز بنا دیا، تیرے پاؤں کو خرام ناز سے محروم رکھا ۔
God made thee a partner in the secrets of heaven, But deprived thy foot of graceful gait.
طاقت رفتار از پایت ربود
این وقار و رفعت و تمکین چه سود
اس (خدا) نے تیرے پاؤں سے چلنے کی طاقت باقی نہ چھوڑی، تو اس وقار، اس بلندی اور شان و عظمت کا کیا فائدہ
He took away from thee the power to walk: What avails this sublimity and stateliness?
زندگانی از خرام پیهم است
برگ و ساز هستی موج از رم است
زندگی تو مسلسل چلتے رہنے کا نام ہے، موج کے وجود کا سروسامان چلنے ہی پر ہے ۔
Life springs from perpetual movement: Motion constitutes the wave's whole existence."
کوه چون این طعنه از دریا شنید
هم چو بحر آتش از کین بر دمید
پہاڑ نے جب دریا سے یہ طعنہ سنا تو وہ غصے سے آگ کے سمندر کی مانند بھڑک اٹھا ۔
When the mountain heard this taunt from the river, He puffed angrily like a sea of fire.
گفت ای پهنای تو آئینه ام
چون تو صد دریا درون سینه ام
وہ بولا، اے دریا، تیری وسعت میرے لیے آئینے کا کام دے رہی ہے تجھ جیسے سینکڑوں دریا میرے سینے میں موجود ہیں ۔
And answered: "Thy wide waters are my looking-glass; Within my bosom are a hundred rivers like thee.
این خرام ناز سامان فناست
هر که از خود رفت شایان فناست
تو جسے خرام ناز کہتا ہے وہ تو اپنے آپ کو ختم کر لینے کا ذریعہ ہے، جو کوئی اپنی ذات سے گیا وہ فنا ہی کے لائق ہے ۔
This graceful gait of thine is an instrument of death: Whoso goeth from Self is meet to die.
از مقام خود نداری آگهی
بر زیان خویش نازی ابلهی
تجھے اپنے مقام سے آگاہی نہیں ہے تو اپنے مقام سے آگاہ نہیں تو اپنے نقصان پر فخر و ناز کر رہا ہے ، تو نادان ہے کہ اپنے نقصان پر نازاں ہے ۔
Thou hast no knowledge of thine own case, Thou exultest in thy misfortune: thou art a fool!
ای ز بطن چرخ گردان زاده ئی
از تو بهتر ساحل افتاده ئی
تو کہ گھومتے ہوئے آسمان کے شکم سے پیدا ہوا ہے، تجھ سے تو وہ ساحل ہی بہتر ہے جو اپنی جگہ پر جما کھڑا ہے ۔
O born of the womb of the revolving sphere, A fallen-in bank is better than thou!
هستی خود نذر قلزم ساختی
پیش رهزن نقد جان انداختی
تو نے اپنا وجود سمندر کی نذر کر دیا اور اپنی جان کا سرمایہ لٹیرے کے آگے ڈال دیا ۔
Thou hast made thine existence an offering to the ocean, Thou hast thrown the rich purse of thy life to the highwayman.
همچو گل در گلستان خوددار شو
بهر نشر بو پی گلچین مرو
باغ میں رہنے والے پھول کی طرح خوددار بن جا، خوشبو پھیلانے کی غرض سے پھول توڑنے والے (مالی) کے پیچھے نہ جا ۔
Be self-contained like the rose in the garden, Do not go to the florist in order to smell sweet!
زندگی بر جای خود بالیدن است
از خیابان خودی گل چیدن است
زندگی اپنی جگہ پر رہ کر نشوونما کا نام ہے، یعنی خودی کی کیاری سے پھول توڑنے کا نام زندگی ہے ۔
To live is to grow in thyself And gather roses from thine own flower-bed.
قرنها بگذشت و من پا در گلم
تو گمان داری که دور از منزلم
(دیکھو) صدیاں گزر گئیں ہیں اور میں اپنی جگہ پر پاؤں جمائے کھڑا ہوں تو یہ خیال کرتا ہے کہ میں اپنی منزل سے دور ہوں ۔
Ages have gone by and my foot is fast in earth: Dost thou fancy that I am far from my goal?
هستیم بالید و تا گردون رسید
زیر دامانم ثریا آرمید
میرا وجود بڑھتے بڑھتے آسمان تک جا پہنچا، اور ثریا جیسے بلند ستاروں نے میرے دامن میں آرام کیا ۔
My being grew and reached the sky, The Pleiads sank to rest under my skirts;
هستی تو بی نشان در قلزم است
ذروه ی من سجده گاه انجم است
تیرا وجود سمندر میں جا کر مٹ جاتا ہے، جب کہ میری چوٹی ستاروں کی سجدہ گا ہ ہے ۔
Thy being vanishes in the ocean, But on my crest the stars bow their heads.
چشم من بینای اسرار فلک
آشنا گوشم ز پرواز ملک
میری آنکھ آسمان کے بھید کو دیکھ لیتی ہے ، میرے کان فرشتون کے اڑنے کی آواز سے واقف ہیں ۔
Mine eye sees the mysteries of heaven, Mine ear is familiar with angels’ wings.
تا ز سوز سعی پیهم سوختم
لعل و الماس و گهر اندوختم
میں مسلسل جدوجہد کرتا رہا اور اس آگ میں جلتا رہا تب کہیں میں نے لعل، ہیرے اور موتی حاصل کیے ۔
Since I glowed with the heat of unceasing toil, I amassed rubies, diamonds, and other gems.
«در درونم سنگ و اندر سنگ نار
آب را بر نار من نبود گذار»
میرے اندر پتھر ہے اور پتھر کے اندر آگ ہے، پانی کی ہمت نہیں کہ وہ میری آگ پر سے گزر سکے ۔ یہ مولانا کا شعر ہے ۔
I am stone within, and in the stone is fire. Water cannot pass over my fire!"
قطره ئی؟ خود را بپای خود مریز
در تلاطم کوش و با قلزم ستیز
کیا تو قطرہ ہے اپنے آ پ کو اپنے پاؤں میں نہ گرا تھپیڑوں میں جدوجہد کر اور سمندر سے الجھ جا ۔
Art thou a drop of water? Do not break at thine own feet, But endeavour to surge and wrestle with the sea.
آب گوهر خواه و گوهر ریزه شو
بهر گوش شاهدی آویزه شو
تو گوہر کی آب و تاب کا طالب بن اور موتی کا ریزہ بن جا، اس طرح کسی حسین کے کانوں کے لیے بندا بن جا ۔
Desire the water of a jewel, become a jewel! Be an ear-drop, adorn a beauty!
یا خود افزا شو سبک رفتار شو
ابر برق انداز و دریا بار شو
یا تو اپنے آپ کوآگے بڑھا اور تیر رفتار ہو جا، بجلی گرانے اور چھاجوں مینہ برسانے والا بادل بن جا ۔
Oh, expand thyself! Move swiftly! Be a cloud that shoots lightning and sheds a flood of rain!
از تو قلزم گدیه ی طوفان کند
شکوه ها از تنگی دامان کند
سمندر تجھ سے طوفان کی بھیک مانگے اور اپنے دامن کے تنگ ہونے کی شکایت کرے ۔
Let the ocean sue for thy storms as a beggar, Let it complain of the straitness of thy skirts!
کمتر از موجی شمارد خویش را
پیش پای تو گذارد خویش را
سمندر تیرے مقابل خود کو محض ایک موج سے بھی کم سمجھے اور اپنے آپ کو تیرے پاؤں میں ڈال دے ۔
Let it deem itself less than a wave And glide along at thy feet!
فارسی متن کا ماخذ: گنجور