صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »اسرار خودی
  3. »بخش 16 - در بیان اینکه مقصد حیات مسلم ، اعلای کلمة الله است و جهاد ، اگر محرک آن جوع الارض باشد در مذهب اسلام حرام است

بخش 16 - در بیان اینکه مقصد حیات مسلم ، اعلای کلمة الله است و جهاد ، اگر محرک آن جوع الارض باشد در مذهب اسلام حرام است

اس موضوع کے بارے میں کہ مسلمان کی زندگی کا مقصد کلمتہ اللہ کا بلند کرنا ہے اور ایسا جہاد جو تسخیر ممالک کا باعث بنے، اسلام کی رو سے حرام ہے

Showing that the purpose of the Moslem's life is to exalt the word of Allah, and that the Jihad if it be prompted by land-hunger, is unlawful in the religion of islam

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: نکلسن
Toggle stanza 1
1

قلب را از صبغة الله رنگ ده

عشق را ناموس و نام و ننگ ده

اپنے دل کو اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگ لے (جس سے بہتر کوئی رنگ نہیں ) اس طرح عشق کو عزت و احترام اور قدر و منزلت دے ۔

Imbue thine heart with the tincture of Allah, Give honour and glory to Love!

2

طبع مسلم از محبت قاهر است

مسلم ار عاشق نباشد کافر است

مسلمان کی فطرت محبت ہی کے بل پر غلبہ پاتی ہے (لہٰذا) اگر مسلمان عاشق نہیں ، سمجھ لینا چاہیے کہ وہ مسلمان نہیں بلکہ کافر ہے ۔

The Moslem's nature prevails by means of love: The Moslem, if he be not loving, is an infidel.

3

تابع حق دیدنش نا دیدنش

خوردنش ، نوشیدنش ، خوابیدنش

اس کا دیکھنا، اس کا نہ دیکھنا، اس کا کھانا، اس کا پینا اورا س کا سونا سب کچھ خدا کی رضا کے تابع ہوتا ہے ۔

Upon God depends his seeing and not- seeing, His eating, drinking, and sleeping.

4

در رضایش مرضی حق گم شود

«این سخن کی باور مردم شود»

اس کی خوشنودی میں حق کی مرضی کھو جاتی ہے (خدا کی مرضی اس کی مرضی میں گم ہو جاتی ہے ) لیکن عام لوگ اسے کیونکر تسلیم کریں گے(اس شعر کا آخری مصرع مولانا روم کا ہے ۔ )

In his will that which God wills becomes lost— How shall a man believe this saying?"

5

خیمه در میدان الا الله زدست

در جهان شاهد علی الناس آمدست

اس نے الا اللہ (توحید) کے میدان میں ڈیرے جما رکھے ہیں ، دنیا میں وہ (مسلمان، مرد مومن) لوگوں کے لیے (توحید باری تعالیٰ کا) گواہ بن کر آیا ہے ۔

He encamps in the field of "There is no god but Allah"; In the world he is a witness against mankind.

6

شاهد حالش نبی انس و جان

شاهدی صادق ترین شاهدان

اس کے حال کی گواہی دینے والے حضور نبی کریم ہیں جو صرف انسانوں ہی کے نہیں جنوں کے بھی نبی آخر الزمان ہیں اور جو سب گواہوں سے کہیں زیادہ سچے گواہ ہیں ۔

His high estate is attested by the Prophet that was sent to men and Jinn— By the most truthful of witnesses.

7

قال را بگذار و باب حال زن

نور حق بر ظلمت اعمال زن

بحث مباحثے چھوڑ اور حال کا دروازہ کھٹکا ، عمل (اور ولولہ عشق) کو کام میں لا، اعمال کی تاریکی پر نور حق ڈال ۔

Leave words and seek that spiritual state, Shed the light of God o’er the darkness of works!

8

در قبای خسروی درویش زی

دیده بیدار و خدا اندیش زی

سلطانی و شاہی لباس میں رہتے ہوئے بھی درویشوں کی سی زندگی بسر کر، آنکھ بیدار رکھ ، خدا اندیش رہ کر جی(ہر وقت اللہ کو دھیان میں رکھ) ۔

Albeit clad in kingly robe, live as a dervish, Live wakeful and meditating on God!

9

قرب حق از هر عمل مقصود دار

تا ز تو گردد جلالش آشکار

اپنے ہر عمل سے تیرا مقصد حق کے قرب کا حصول ہو تاکہ تجھ سے اس کی عظمت و شکوہ ظاہر ہو ۔

Whatever thou doest, let it be thine aim therein to draw nigh to God, That His glory may be made manifest by thee.

10

صلح ، شر گردد چو مقصود است غیر

گر خدا باشد غرض جنگ است خیر

اگر خدا کے سوا کچھ اور مقصد ہو گا تو صلح بھی، جو بظاہر نیک کام ہے سراسر برائی بن جائے گی اور اگر غرض حق ہو تو جنگ میں بھی جو بظاہر برا کام ہے بلاشبہ خیر کا پہلو ہوتا ہے ۔

Peace becomes an evil, if its object be aught else; War is good if its object is God.

11

گر نگردد حق ز تیغ ما بلند

جنگ باشد قوم را ناارجمند

اگر ہماری تلوار سے کلمہ حق سربلند نہ ہو تو اس قسم کی جنگ ملت کے لیے بے کار اور بے وقعت و قدر ہو گی (نہ اس سے کوئی نفع ملے گا نہ عزت ۔ )

If God be not exalted by our swords, War dishonours the people.

12

حضرت شیخ میانمیر ولی

هر خفی از نور جان او جلی

حضرت شیخ میاں میر اللہ کے خاص اورر برگزیدہ بندے تھے، ان کے روحانی انوار کی بدولت معرفت حق کا ہر چھپا ہوا کلید روشن تھا ۔

The holy Sheikh Miyán Mír Walí, By the light of whose soul every hidden thing was revealed.

13

بر طریق مصطفی محکم پئی

نغمه ی عشق و محبت را نئی

آپ رسول اللہ کی سنت پر مضبوطی سے قائم تھے ۔ آپ ایک ایسی بانسری تھے جس سے عشق و محبت کے نغمے نکلتے تھے ۔

His feet were firmly planted on the path of Mohammed, He was a flute for the impassioned music of love.

14

تربتش ایمان خاک شهر ما

مشعل نور هدایت بهر ما

ان کا مزار ہمارے شہر کی خاک کے لیے ایمان کا سرمایہ ہے اور ہمارے لیے نور ہدایت کی مشعل ہے ۔

His tomb keeps our city safe from harm And causes the beams of true religion to shine on us.

15

بر در او جبه فرسا آسمان

از مریدانش شه هندوستان

(ان کا رتبہ اتنا بلند ہے کہ) آسمان بھی آپ کے دروازے پر پیشانی ملتا تھا، ہندوستان کا شہنشاہ ان کا مرید ہے ۔

Heaven stooped its brow to his threshold, The Emperor of India was one of his disciples.

16

شاه تخم حرص در دل کاشتی

قصد تسخیر ممالک داشتی

بادشاہ نے دل میں حرص و ہوس کا بیج بو رکھا تھا اور اس کا مقصد یہ تھا کہ بہت سے ملک فتح کر لے ۔

Now, this monarch had sown the seed of ambition in his heart And was resolved on conquest.

17

از هوس آتش بجان افروختی

تیغ را «هل من مزید» آموختی

اس ہوس نے اس کی جان میں آگ دہکا دی تھی یعنی اس کی جان اضطراب اور بے قراری کا شکار رہتی ۔ وہ اپنی تلوار کو کیا کچھ اور ہے کا سبق پڑھاتا رہتا تھا ۔

The flames of vain desire were alight in him, He was teaching his sword to ask, "Is there any more?"

18

در دکن هنگامه ها بسیار بود

لشکرش در عرصه ی پیکار بود

(ادھر) دکن میں بہت سی شورشیں برپا تھیں ، اس کا لشکر میدان جنگ میں مصروف تھا ۔

In the Deccan was a great noise of war, His army stood on the battlefield.

19

رفت پیش شیخ گردون پایه ئی

تا بگیرد از دعا سرمایه ئی

وہ (ایک روز) اس باعظمت شیخ (جس کا رتبہ بلندی میں آسمان کے برابر تھا) کی خدمت میں پہنچا تا کہ ان سے دعا کی پونجی حاصل کرے ۔

He went to the Sheikh of heaven-high dignity That he might receive his blessing.

20

مسلم از دنیا سوی حق رم کند

از دعا تدبیر را محکم کند

مسلمان (مرد مومن) تو دنیا کا خیال ترک کر کے خدا کی طرف دوڑتا ہے، وہ اپنی دعا سے تدبیر کو تقویت پہنچاتا ہے ۔

The Moslem turns from this world to God And strengthens policy with prayer.

21

شیخ از گفتار شه خاموش ماند

بزم درویشان سراپا گوش ماند

شیخ (حضرت میاں میر) بادشاہ کی باتیں سن کر خاموش رہے ۔ درویشوں کی یہ محفل پوری طرح ان کی طرف کان لگائے رہی ۔

The Sheikh made no answer to the Emperor's speech, The assembly of dervishes was all ears,

22

تا مریدی سکه سیمین بدست

لب گشود و مهر خاموشی شکست

اسی اثنا میں ایک مرید، جس کے ہاتھ میں چاندی کا ایک سکہ تھا بولا اور مجلس کا سکوت ٹوٹا ۔

Until a disciple, in his hand a silver coin, Opened his lips and broke the silence,

23

گفت این نذر حقیر از من پذیر

ای ز حق آوارگان را دستگیر

اس مرید نے کہا حضرت یہ معمولی سی نذر مجھ سے قبول کیجیے کہ آپ حق کی تلاش میں بھٹکنے والے لوگوں کا ہاتھ تھام لیتے ہیں ۔

Saying, "Accept this poor offering from me, O guide of them that have lost the way to God!

24

غوطه ها زد در خوی محنت تنم

تا گره زد درهمی را دامنم

میرے جسم نے محنت و مشقت کے پسینے میں غوطے کھائے تب کہیں یہ درہم میری جھولی میں آیا ۔

My limbs were bathed in sweat of labour Before I put away a dirhem in my skirt."

25

گفت شیخ این زر حق سلطان ماست

آنکه در پیراهن شاهی گداست

حضرت شیخ (میاں میر) نے فرمایا کہ یہ سکہ ہمارے بادشاہ کا حق ہے وہ جو لباس تو شاہانہ پہنے ہوئے ہے لیکن حقیقت میں بھک منگا ہے(بادشاہی کے لباس میں فقیر ہے) ۔

The Sheikh said: "This money ought to be given to our Sultan, Who is a beggar wearing the raiment of a king.

26

حکمران مهر و ماه و انجم است

شاه ما مفلس ترین مردم است

ہمارا بادشاہ اگرچہ سورج، چاند اور ستارون پر حکمران ہے لیکن (پھر بھی) سب سے زیادہ غریب ہے ۔

Though he holds sway over sun, moon, and stars, Our Emperor is the most penniless of mankind.

27

دیده بر خوان اجانب دوخت است

آتش جوعش جهانی سوخت است

اس نے غیروں کے دستر خوان پر نظریں گاڑ رکھی ہیں ۔ اس کی بھوک (حرص و ہوس) کی آگ نے ایک دنیا کو جلا ڈالا ہے ۔

His eye is fixed on the table of strangers, The fire of his hunger hath consumed a whole world.

28

قحط و طاعون تابع شمشیر او

عالمی ویرانه از تعمیر او

قحط اور طاعون جیسی بیماری بھی اس کی تلوار کی ماتحت ہے(یہ چیزیں اتنا نقصان نہیں پہنچاتیں جتنا اس کی تلوار پہنچاتی ہے ) اس کی فتوحات کے نتیجے میں ایک دنیا ویران ہو گئی ہے ۔

His sword is followed by famine and plague, His culture lays a wide land waste. The folk are crying out because of his indigence.

29

خلق در فریاد از ناداریش

از تهیدستی ضعیف آزاریش

مخلوق خدا اس کی مفلسی اور کمزوروں کو آزار پہنچانے والی کنگالی کے ہاتھوں واویلا مچا رہی ہے ۔

The folk are crying out because of his indigence, His empty-headedness, and his oppression of the weak.

30

سطوتش اهل جهان را دشمن است

نوع انسان کاروان ، او رهزن است

اس کی شان و شوکت دنیا والوں کی دشمن ہے، بنی نوع انسان اگر قافلہ ہیں تو یہ لٹیرا ہے ۔

His power is an enemy to all Humankind are the caravan and he the brigand.

31

از خیال خود فریب و فکر خام

می کند تاراج را تسخیر نام

وہ خود کو دھوکا دینے والے خیال اور ناقص سوچ کے باعث لوٹ مار، بربادی اور غارت گری کو فتوحات کا نام دے رکھا ہے ۔

In his self-delusion and ignorance He calls pillage by the name of empire.

32

عسکر شاهی و افواج غنیم

هر دو از شمشیر جوع او دو نیم

شاہی فوج اور دشمن کی فوجیں سبھی اس کی بھوک (حرص و ہوس) کی تلوار سے دو ٹکڑے ہیں ۔

Both the royal troops and those of the enemy Are cloven in twain by the sword of his hunger.

33

آتش جان گدا جوع گداست

جوع سلطان ملک و ملت را فناست

اگر فقیر بھوکا ہو تو اس کی بھوک صرف اس کی جان کے لیے آگ بن کر اسے جلا دیتی ہے (جب کہ) سلطان کی بھوک ملک اور قوم کو فنا کے گھاٹ اتار دیتی ہے ۔

The beggar's hunger consumes his own soul, But the sultan's hunger destroys state and religion.

34

هر که خنجر بهر غیر الله کشید

تیغ او در سینه ی او آرمید

جو کوئی بھی اللہ سے ہٹ کر کسی اور مقصد کی خاطر خنجر نکالتا یعنی جنگ کرتا ہے اس کی تلوار خود اس کے اپنے سینے میں آرام کرتی ہے (خودی اس کی اپنی ہلاکت کا سبب بنتی ہے) ۔

Whoso shall draw the sword for anything except Allah, His sword is sheathed in his own breast."

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

در بنارس برهمندی محترم

سر فرو اندر یم بود و عدم

علامہ اقبال»اسرار خودی»بخش 15 - حکایت شیخ و برهمن و مکالمه گنگ و هماله در معنی اینکه تسلسل حیات ملیه از محکم گرفتن روایات مخصوصه ملیه می باشد

اگلی نظم

ای که مثل گل ز گل بالیده‌ای

تو هم از بطن خودی زائیده‌ای

علامہ اقبال»اسرار خودی»بخش 17 - اندرز میر نجات نقشبند المعروف به بابای صحرائی که برای مسلمانان هندوستان رقم فرموده است

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور