صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »اسرار خودی
  3. »بخش 17 - اندرز میر نجات نقشبند المعروف به بابای صحرائی که برای مسلمانان هندوستان رقم فرموده است

بخش 17 - اندرز میر نجات نقشبند المعروف به بابای صحرائی که برای مسلمانان هندوستان رقم فرموده است

باباے صحرائی کے لقب سے مشہور میر نجات نقشبندی کی نصیحت جو انھوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے تحریر فرمائی ہے

Precepts written for the Moslems of India by Mir Najat Nakshband, who is generally known as Baba Sahrai

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: نکلسن
Toggle stanza 1
11

ای که مثل گل ز گل بالیده‌ای

تو هم از بطن خودی زائیده‌ای

میر نجات بقشبند بظاہر ایک فرضی شخصیت ہے جس کے پردے میں اقبال نے اپنے افکار مسلمانوں کے سامنے پیش کئے ۔ قیاس ہے کہ اس سے خود علامہ کی اپنی ذات مراد ہے مطلب: اے (مسلمان) تو جو پھول کی صورت خاک سے پھوٹا ہے (تو نے نشوونما پائی ہے) تو بھی خودی ہی کے بطن سے پیدا ہوا ہے ۔

O thou that hast grown from earth, like a rose, Thou too art born of the womb of Self.

22

از خودی مگذر بقا انجام باش

قطره‌ای می باش و بحر آشام باش

تو خودی کو نہ چھوڑ (خودی پر قائم رہ) اور اس طرح خود کو ایسا بنا لے جس کا انجام بقا پر ہو (دوام حاصل کر لے) تو ایک قطرہ بن جا اور سمندر پی جانے والا بن جا ۔

Do not abandon Self! Persist therein! Be a drop of water and drink up the ocean!

33

تو که از نور خودی تابنده‌ای

گر خودی محکم کنی پاینده‌ای

تیری چمک خودی کے نور سے ہے اگر تو اپنی خودی کو مضبوط مستحکم کر لے تو تجھے دوام حاصل ہو جائے(تو خود بھی استوار و پائندہ رہے گا) ۔

Glowing with the light of Self as thou art, Make Self strong, and thou wilt endure.

44

سود در جیب همین سوداستی

خواجگی از حفظ این کالاستی

اسی سودے کی جیب میں منافع ہے ۔ امیری اسی سامان تجارت کی حفاظت کی وجہ سے ہے ۔

Thou gett’st profit from this trade, Thou gain’st riches by preserving this commodity.

55

هستی و از نیستی ترسیده‌ای

ای سرت گردم غلط فهمیده‌ای

تو تو زندہ ہے (تیرا وجود ہے) اور عدم و نبود (نیست) ہونے سے تو ڈر رہا ہے ۔ میں تیرے صدقے جاؤں ، تو نے غلط سمجھا ہے ۔

Thou hast being, and art thou afraid of not-being? O foolish one, thy understanding is at fault.

66

چون خبر دارم ز ساز زندگی

با تو گویم چیست راز زندگی

چونکہ میں زندگی کے ساز سے آگاہ ہوں اس لیے تجھے بتاتا ہوں کہ زندگی کا راز کیا ہے ۔

Since I am acquainted with the harmony of Life, I will tell thee what is the secret of Life

77

غوطه در خود صورت گوهر زدن

پس ز خلوت گاه خود سر بر زدن

زندگی کا بھید یہ ہے کہ پہلے موتی کی طرح اپنی ذات (خودی) میں غوطہ لگانا، اس کے بعد اپنی خلوت گاہ میں سے سر باہر نکالنا ۔

To sink into thyself like the pearl, Then to emerge from thine inward solitude;

88

زیر خاکستر شرار اندوختن

شعله گردیدن نظرها سوختن

راکھ کے نیچے چنگاریاں جمع کرنا، پھر یکایک شعلے کی صورت اختیار کر لینا، دیکھنے والوں کی نظریں جلا ڈالنا (زندگی کا راز ہے) ۔

To collect sparks beneath the ashes, And become a flame and dazzle men's eyes.

99

خانه سوز محنت چل ساله شو

طوف خود کن شعله ی جواله شو

چالیس سالہ محنت و مشقت کا گھر پھونکنے والا بن جا، اپنے گرد چکر لگا (خودی میں محو ہو جا) اچھلنے اور بھڑکنے والا شعلہ بن جا ۔

Go, burn the house of forty years’ tribulation, Move round thyself! Be a circling flame!

1010

زندگی از طوف دیگر رستن است

خویش را بیت الحرم دانستن است

زندگی نام ہے دوسروں کے گرد چکر لگانے سے نجات پانے کا، اپنی ذات ہی کو بیت الحرم جاننے کا (تاکہ دوسرے تیرے اردگرد چکر لگائیں ) ۔

What is Life but to be freed from moving round others And to regard thyself as the Holy Temple?

1111

پر زن و از جذب خاک آزاد باش

همچو طایر ایمن از افتاد باش

تو پَر کھول (اڑ) اور زمین کی کوشش سے آزاد ہو جا، پرندے کی طرح گرنے سے محفوظ ہو جا ۔

Beat thy wings and escape from the attraction of Earth; Like birds, be safe from falling.

1212

تو اگر طایر نه‌ای ای هوشمند

بر سر غار آشیان خود مبند

عقل مند! اگر تو پرندہ ہے اور اڑ نہیں سکتا تو پھر غار کے منہ پر اپنا گھونسلہ نہ بنا (کیونکہ اگر اڑ نہ سکے گا تو غار میں گر جائے گا) ۔

Unless thou art a bird, thou wilt do wisely Not to build thy nest on the top of a cave.

1313

ای که باشی در پی کسب علوم

با تو می گویم پیام پیر روم

تو علم حاصل کر رہا ہے میں تجھے مرشد روم یعنی مولانا روم کا پیغام سناتا ہوں (وہ فرماتے ہیں کہ) ۔

O thou that seekest to acquire knowledge, I say o’er to thee the message of the Sage of Rúm.

1414

«علم را بر تن زنی ماری بود

علم را بر دل زنی یاری بود»

اگر تو علم سے تن پروری کا کام لے گا تو یہ تیرے لیے ایک سانپ کی مانند ہو گا ( جو تجھے ڈسے گا) ۔ اور اگر تو علم کو دل کی اصلاح کے کام میں لائے گا تو یہ تیرے لیے ایک سچا اور اچھا رفیق ہو گا(یہ شعر مولانا روم کا ہے) ۔

"Knowledge, if it lie on thy skin, is a snake; Knowledge, if thou take it to heart, is a friend."

1515

آگهی از قصه ی آخوند روم

آنکه داد اندر حلب درس علوم

کیا تو روم کے ملا یعنی مولانا جلال الدین رومی کے قصے سے تو واقف ہے وہ جو حلب کے شہر میں مختلف علوم کا درس دیا کرتے تھے ۔

Hast thou heard how the Master of Rúm Gave lectures on philosophy at Aleppo?

1616

پای در زنجیر توجیهات عقل

کشتیش طوفانی «ظلمات» عقل

ان کے پاؤں عقل کے استدلال کی بیڑیوں میں بندھے ہوئے تھے اور ان کی کشتی فلسفہ کی تاریکیوں کے طوفان میں تھپیڑے کھاتی رہتی تھی ۔

Fast in the bonds of intellectual proofs, Drifting o’er the dark and stormy sea of understanding;

1717

موسی بیگانه ی سینای عشق

بیخبر از عشق و از سودای عشق

وہ ایک ایسے موسیٰ تھے جو عشق کے کوہ طور سے آشنانہ تھے، جو عشق سے اس کے جنون سے بالکل ناواقف تھے ۔

A Moses unillumined by Love's Sinai, Ignorant of Love and of Love's passion.

1818

از تشکک گفت و از اشراق گفت

وز حکم صد گوهر تابنده سفت

ان کا وعظ و درس تشکک اور اشراق ایسے نظریات سے متعلق ہوتا اور وہ حکمت و فلسفہ یا حکم کے بارے میں سینکڑوں دانائی کے موتی پروتے ۔

He discoursed on Scepticism and Neoplatonism, And strung many a brilliant pearl of metaphysic.

1919

عقده های قول مشائین گشود

نور فکرش هر خفی را وانمود

مولانا نے مشائین کے افکار و نظریات کی گھتیاں سلجھائیں (سلجھاتے رہتے) ۔ ان کے فکر کے نور نے ہر پوشیدہ معنی کو ظاہر کر دیا ۔

He unravelled the problems of the Peripatetics, The light of his thought made clear whatever was obscure.

2020

گرد و پیشش بود انبار کتب

بر لب او شرح اسرار کتب

ان کے گرد اور سامنے کتابوں کے ڈھیر (انبار) لگے رہتے اور ان کے ہونٹوں (زبان) پر کتابوں کے معانی کی تشریح ہوتی (وہ کتابوں ہی کے اسرار بیان کرتے رہتے) ۔

Heaps of books lay around and in front of him, And on his lips was the key to all their mysteries.

2121

پیر تبریزی ز ارشاد کمال

جست راه مکتب ملا جلال

مرشد تبریزی یعنی شمس تبریزی نے اپنے مرشد کمال کے ایما پر ملا جلال یعنی مولانا روم کے مدرسے کا پتہ چلا لیا (جہاں وہ درس دیتے تھے) وہ درس گاہ پہنچ گئے ۔

Shams-i Tabríz, directed by Kamál Sought his way to the college of Jaláluddín Rúmí.

2222

گفت این غوغا و قیل و قال چیست

این قیاس و وهم و استدلال چیست

شمس نے مولانا سے کہاکہ یہ سب شورو غوغا اور بحث مباحثہ کیا ہے، یہ منطفبانہ اصلاحات قیاس، وہم اور استدلال جن کے حوالے سے یہ بحثیں ہو رہی ہیں ، سب کیا ہیں

And cried out, "What is all this noise and babble? What are all these syllogisms and judgements and demonstrations?"

2323

مولوی فرمود نادان لب ببند

بر مقالات خردمندان مخند

مولانا روم نے جواب میں فرمایا او ناواقف منہ بند رکھ (خاموش رہ) تو عقلمندوں کی باتوں کا مذاق مت اڑا ۔

"Peace, O fool!" exclaimed the Maulavi, "Do not laugh at the doctrines of the sages.

2424

پای خویش از مکتبم بیرون گذار

قیل و قال است این ترا با وی چه کار

تو میرے مدرسے سے نکل جا، یہ بحث مباحثہ (قیل و قال) ہے، تجھے اس سے کیا مطلب

Get thee out of my college! This is argument and discussion: what hast thou to do with it?

2525

قال ما از فهم تو بالاتر است

شیشه ی ادراک را روشنگر است

ہماری بحث و گفتگو تیری سمجھ سے بالکل باہر ہے، یہ قیل و قال ادراک کے شیشے کو چمکانے والی ہے ۔

My discourse is beyond thy understanding, It will not brighten the glass of thy perception."

2626

سوز شمس از گفته ی ملا فزود

آتشی از جان تبریزی گشود

شمس نے جو یہ جواب سنا تو ان کی گرمی (غصہ) بڑھ گئی، ان کی جان میں دبی ہوئی آگ باہر شعلہ زن ہو گئی ۔

These words increased the anger of Shams-i Tabríz And caused a fire to burst forth from his soul.

2727

بر زمین برق نگاه او فتاد

خاک از سوز دم او شعله زاد

زمین پران کی نگاہ کی بجلی گری، ان کی پھونک سے مٹی آگ کی صورت اختیار کر گئی ۔

The lightning of his look fell on the earth, And the glow of his breath made the dust spring into flames.

2828

آتش دل خرمن ادراک سوخت

دفتر آن فلسفی را پاک سوخت

دل کی آگ نے ادراک کا کھلیان جلا ڈالا، اس آگ نے اس فلسفی (مولانا روم) کی کتابوں کا پلندہ جلا کر راکھ کر ڈالا ۔

The spiritual fire burned the intellectual stack And clean consumed the book of philosophy.

2929

مولوی بیگانه از اعجاز عشق

ناشناس نغمه های ساز عشق

مولانا روم عشق کی کرامات سے بے خبر اور ناواقف تھے وہ عشق کے ساز کے نغموں سے ناواقف تھے ۔

The Maulavi, being a stranger to Love's miracles And unversed in Love's harmonies.

3030

گفت این آتش چسان افروختی

دفتر ارباب حکمت سوختی

بولے یہ آگ تو نے کیوں کر روشن کی، تو نے تو حکمت و فلسفہ کی کتابیں ہی جلا ڈالی ہیں ۔

Cried, "How didst thou kindle this fire, Which hath burned the books of the philosophers?"

3131

گفت شیخ ای مسلم زنار دار

ذوق و حال است این ترا با وی چه کار

شمس بولے، اے شرک میں گرفتار مومن، یہ سب ذوق اور وجد حال کا اثر ہے، تجھے ان سے کیا سروکار ۔

The Sheikh answered, "O unbelieving Moslem, This is vision and ecstasy: what hast thou to do with it?

3232

حال ما از فکر تو بالاتر است

شعله ی ما کیمیای احمر است

ہمارا وجد و حال تیری قوت فکر سے کہیں بڑھ کر ہے، ہمارا شعلہ سرخ کیمیا (پارس پتھر) ہے (جو تانبے کو سونا بنا دیتا ہے) ۔

My state is beyond thy thought, My flame is the Alchemist's elixir."

3333

ساختی از برف حکمت ساز و برگ

از سحاب فکر تو بارد تگرگ

تو نے تو حکمت و فلسفہ کی برف سے اپنا ساز و سامان تیار کیا ہے ۔ تیرے فکر کے بادلوں سے تو اولے برستے ہیں ۔

Thou hast drawn thy substance from the snow of philosophy, The cloud of thy thought sheds nothing but hailstones.

3434

آتشی افروز از خاشاک خویش

شعله‌ای تعمیر کن از خاک خویش

تو (رومی) اپنے خاشاک سے (عشق و جذبہ کی)کوئی آگ پیدا کر، اپنی خاک سے کوئی شعلہ بنا ۔

Kindle a fire in thy rubble, Foster a flame in thy earth!

3535

علم مسلم کامل از سوز دل است

معنی اسلام ترک آفل است

مومن کا علم تو دل کے سوز سے درجہ کمال پر ہوتا ہے، اسلام کے معنی غروب کر جانے والوں سے دور رہنے یا انہیں ترک کر دینے کے ہیں ۔

The Moslem's knowledge is perfected by spiritual fervour, The meaning of Islam is Renounce what shall pass away.

3636

چون ز بند آفل ابراهیم رست

در میان شعله ها نیکو نشست

جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسی آفل (غروب کر جانے والوں ) سے نجات پا لی تو وہ آتش نمرود میں بڑے اطمینان سے بیٹھ گئے (اور شعلے انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکے) ۔

When Abraham escaped from the bondage of "that which sets," He sat unhurt in the midst of flames.

3737

علم حق را در قفا انداختی

بهر نانی نقد دین در باختی

تو نے وہ علم پس پشت ڈال دیا جو حق تک پہنچانے والا تھا، محض روٹی کی خاطر تو نے دین کی پونجی ہار دی ۔

Thou hast cast knowledge of God behind thee And squandered thy religion for the sake of a loaf.

3838

گرم رو در جستجوی سرمه‌ای

واقف از چشم سیاه خود نه‌ای

تو سرمے کی تلاش میں تیز تیز ادھر اُدھر دوڑتا پھرا ۔ اپنی سیاہ آنکھوں کی تجھے خبر ہی نہیں (جو سرمے کی محتاج نہیں ) ۔

Thou art hot in pursuit of antimony, Thou art unaware of the blackness of thine own eye.

3939

آب حیوان از دم خنجر طلب

از دهان اژدها کوثر طلب

خنجر کی آب (دھار) سے آب حیات طلب کر،اژدہا کے منہ سے کوثر کا خواہاں ہو ۔

Seek the Fountain of Life from the sword's edge, And the River of Paradise from the dragon's mouth.

4040

سنگ اسود از در بتخانه خواه

نافه ی مشک از سگ دیوانه خواه

سنگ اسود، بت خانے کے دروازے سے لے اور مشک کا نافہ پاگل کتے سے حاصل کر ۔ (ایسی بدیہی ناممکن باتیں ممکن ہو سکتی ہیں ۔ مگر یہ ممکن نہیں کہ دور حاضر کے علوم و فنون سے تجھے عشق کا سوز اور محبت کی تپش مل جائے) ۔

Demand the Black Stone from the door of the house of idols, And the musk-deer's bladder from a mad dog.

4141

سوز عشق از دانش حاضر مجوی

کیف حق از جام این کافر مجوی

دور حاضر کے علوم و فنون میں سوز حق کی جستجو نہ کر، حق کے سرور کی اس کافر کے جام سے توقع مت رکھ ۔

But do not seek the glow of Love from the knowledge of to-day, Do not seek the nature of Truth from this infidel's cup!

4242

مدتی محو تک و دو بوده ام

رازدان دانش نو بوده ام

میں ایک عرصے تک دوڑ دھوپ اور تگ و دو میں رہا ہوں ، میں نے دور حاضر کے علوم و فنون کو بڑے قریب سے دیکھا ، جانا ہے( اس کے تمام بھید جانتا ہوں ) ۔

Long have I been running to and fro, Learning the secrets of the New Knowledge.

4343

باغبانان امتحانم کرده اند

محرم این گلستانم کرده اند

باغبانوں نے مجھے جانچا پرکھا ہے اور مجھے اس گلستان کا رازدان بنایا ہے ۔

Its gardeners have put me to the trial And have made me intimate with their roses.

4444

گلستانی لاله زار عبرتی

چون گل کاغذ سراب نکهتی

(عہد حاضر کے علوم و فنون کا) گلستان ایک ایسا گلستان ہے جو عبرت کا ایک لالہ زار ہے، مراد سراپا عبرت و نصیحت ہے اس کی کیفیت کاغذ کے پھو ل کی مانند ہے یعنی خوشبو سے عاری اور خوشبو کا محض ایک فریب ۔

Roses! Tulips, rather, that warn one not to smell them Like paper roses, a mirage of perfume.

4545

تا ز بند این گلستان رسته ام

آشیان بر شاخ طوبی بسته ام

جب میں اس گلستان کی قید سے آزاد ہو چکا ہوں میں نے طوبیٰ کی شاخ پر اپنا گھونسلا بنا لیا ہے ۔

Since this garden ceased to enthral me, I have nested on the Paradisal tree.

4646

دانش حاضر حجاب اکبر است

بت پرست و بت فروش و بتگر است

موجودہ زمانے کے علوم و فنون (ذہن و دماغ اور قلب روح کے لیے) بہت بڑا پردہ ہیں (یہ پردہ روشنی کو روک لیتا ہے) ۔ یہ علوم و فنون بت پرست ہیں ، بت فروش ہیں اور بت تراش ہیں ۔

Modern knowledge is the greatest blind— Idol-worshipping, idol-selling, idol-making!

4747

پا بزندان مظاهر بسته‌ای

از حدود حس برون نا جسته‌ای

دانش حاضر کی حالت ایسی ہے کہ یہ مظاہر کے قید خانے میں بیٹھ گئے ہیں اور محسوسات کی حدود سے باہر جا ہی نہیں سکتے ۔

Shackled in the prison of phenomena, It has not overleaped the limits of the sensible.

4848

در صراط زندگی از پا فتاد

بر گلوی خویشتن خنجر نهاد

یہ زندگی کے راستے پر چلنے سے عاجز ہے، اس نے اپنے ہی گلے پر خنجر رکھ لیا ہے ۔

It has fallen down in crossing the bridge of Life, It has laid the knife to its own throat.

4949

آتشی دارد مثال لاله سرد

شعله‌ای دارد مثال ژاله سرد

اس میں جو آگ ہے وہ لالہ کے پھول کے رنگ کی طرح سرخ تو ہے لیکن گرمی سے خالی ہے ۔ اس کا شعلہ اولے کی طرح سرد اور ٹھنڈا ہے ۔

Having fire, it is yet cold as the tulip; Having flame, it is yet cold as hail.

5050

فطرتش از سوز عشق آزاد ماند

در جهان جستجو ناشاد ماند

اس کی فطرت عشق کی تپش سے محروم رہی (عشق کا سوز نہ ملا) وہ جستجو کی دنیا میں ناخوش رہی ۔

Its nature remains untouched by the glow of Love, It is ever engaged in a joyless search.

5151

عشق افلاطون علت های عقل

به شود از نشترش سودای عقل

عشق عقل کی بیماریوں کا علاج کرنے والا طبیب (افلاطون) ہے ۔ اس کے نشتر سے عقل کا سودا ٹھیک ہو جاتا ہے ۔

Love is the Plato that heals the sicknesses of the mind: The mind's melancholy is cured by its lancet.

5252

جمله عالم ساجد و مسجود عشق

سومنات عقل را محمود عشق

تمام کائنات سجدہ کرنے والی اور عشق مسجود (سب کی سجدہ گاہ ) ہے ، عقل کے سومنات (یعنی قلعے) کا محمود (فاتح) عشق ہے ۔

The whole world bows in adoration to Love, Love is the Mahmúd that conquers the Somnath of intellect.

5353

این می دیرینه در میناش نیست

شور «یارب» ، قسمت شبهاش نیست

دور حاضر کے علوم و فنون کی صراحی میں پرانی شراب موجود نہیں ، یارب کا شور اس کی راتوں کے مقدر میں نہیں ہے ۔

Modern science lacks this old wine in its cup, Its nights are not loud with passionate prayer.

5454

قیمت شمشاد خود نشناختی

سرو دیگر را بلند انداختی

(اے مسلمان) تو نے اپنے شمشاد یعنی اپنے علوم و فنون کی قدر و قیمت نہ پہچانی اور دوسروں کے سرو کو تو اونچا ماننے لگا ۔

Thou hast misprized thine own cypress And deemed tall the cypress of others.

5555

مثل نی خود را ز خود کردی تهی

بر نوای دیگران دل می نهی

بانسری کی طرح تو نے اپنی ذات کو اپنے آپ سے خالی کر لیا اور اب دوسروں کے نغمے سے دل لگائے ہوئے ہے ۔

Like the reed, thou hast emptied thyself of Self And given thine heart to the music of others.

5656

ای گدای ریزه‌ای از خوان غیر

جنس خود می جوئی از دکان غیر

اے دوسروں کے دستر خوان سے ایک ٹکڑے کی بھیک مانگنے والے تو اپنی جنس غیروں کی دکان سے خریدنے کا آرزومند ہے ۔

O thou that begg’st morsels from another's table, Wilt thou seek thine own kind in another's shop?

5757

بزم مسلم از چراغ غیر سوخت

مسجد او از شرار دیر سوخت

افسوس کہ مسلمان کی محفل بیگانوں کے چراغ سے جل بجھی ۔ اس کی مسجد کو بت خانے کی چنگاری نے راکھ کا ڈھیر بنا دیا ۔

The Moslem's feast is burned up by the lamps of strangers, His mosque is consumed by the Christian monastery.

5858

از سواد کعبه چون آهو رمید

ناوک صیاد پهلویش درید

حرم کی حدود سے جب ہرن بھاگ اٹھاتو شکاری کے تیر نے اس کا پہلو چیر کر رکھ دیا ۔

When the deer fled from the sacred territory of Mecca, The hunter's arrow pierced her side.

5959

شد پریشان برگ گل چون بوی خویش

ای ز خود رم کرده باز آ سوی خویش

پھول کی پتیاں اپنی خوشبو کی طرح منتشر ہو گئیں ، اے اپنی ذات سے بھاگے ہوئے پھر اپنی طرف لو ٹ آ ۔

The leaves of the rose are scattered, like its scent: O thou that hast fled from thy Self, come back to it!

6060

ای امین حکمت ام الکتاب

وحدت گمگشته ی خود بازیاب

اے مسلمان! تو قرآن کریم کی حکمت کا امانت دار ہے تو اپنی گم گشتہ وحدت کو پھر سے پا لے، حاصل کر لے ۔

O trustee of the wisdom of the Koran, Find thy lost unity again!

6161

ما که دربان حصار ملتیم

کافر از ترک شعار ملتیم

ہم کہ ملت کے قلعے کے محافظ و پاسبان ہیں ، ملت کے آداب و شعائر ترک کر کے ہم کافر ٹھہرے ہیں ۔

We, who keep the gate of the citadel of Islam, Have become unbelievers by neglecting the watchword of Islam.

6262

ساقی دیرینه را ساغر شکست

بزم رندان حجازی بر شکست

قدیم ساقی کا جام (پیالہ) ٹوٹ گیا، حجازی رندوں کی محفل درہم برہم ہو گئی ۔

The ancient Saki's bowl is shattered, The wine-party of the Hijáz is broken up.

6363

کعبه آباد است از اصنام ما

خنده زن کفر است بر اسلام ما

کعبہ ہمارے بتوں سے آباد ہے، کفر ہمارے اسلام کا تمسخر اڑا رہا ہے، ہنسی اڑا رہا ہے ۔

The Ka‘ba is filled with our idols, Infidelity mocks at our Islam.

6464

شیخ در عشق بتان اسلام باخت

رشته ی تسبیح از زنار ساخت

شیخ بتوں کے عشق میں اسلام ہی سے ہاتھ دھو بیٹھا ۔ اس نے زنار کی تسبیح کے دھاگے کا کام لیا (اسلامیات غیروں کے شعائر و عقائد سے داغدار ہے) ۔

Our Sheikh hath gambled Islam away for love of idols And made a rosary of the zunnár.

6565

پیر ها پیر از بیاض مو شدند

سخره بهر کودکان کو شدند

بوڑھے محض بالوں کی سفیدی کے سبب بزرگ ٹھہرے، ان کی عملی و عملی حالت یہ ہے کہ گلی کوچوں کے لونڈے ان کا مذاق اڑاتے ہیں ۔

Our spiritual directors owe their rank to their white hairs And are the laughing-stock of children in the street.

6666

دل ز نقش لااله بیگانه‌ای

از صنم های هوس بتخانه‌ای

ان کادل لا الہ کی تحریر سے عاری اور ہوس کے بتوں کا ٹھکانا بنا ہوا ہے ۔

Their hearts bear no impress of the Faith But house the idols of sensuality.

6767

می شود هر مو درازی خرقه پوش

آه ازین سوداگران دین فروش

ہر لمبے بالوں والا گدڑی پوش بن جاتا ہے ان دین فروش سوداگروں کی حالت قابل افسوس ہے ۔

Every long-haired fellow wears the garb of a dervish— Alas for these traffickers in religion!

6868

با مریدان روز و شب اندر سفر

از ضرورت های ملت بی خبر

(یہ نام نہاد صوفیا) شب و روز مریدوں کے ساتھ سفر میں رہتے ہیں ، ملت کے مسائل کیا ہے اس کی انہیں کچھ خبر نہیں (ہرگز واقفیت نہیں ۔

Day and night they are travelling about with disciples, And ignoring their religious duties.

6969

دیده ها بی نور مثل نرگس اند

سینه ها از دولت دل مفلس اند

ان کی آنکھیں نرگس کی آنکھوں کی طرح بے نور ہیں ، ان کے سینے دل کی دولت (عشق ) سے خالی ہیں ۔

Their eyes are without light, like the narcissus, Their breasts devoid of spiritual wealth.

7070

واعظان هم صوفیان منصب پرست

اعتبار ملت بیضا شکست

کیا واعظ اور کیا صوفی سبھی عہدوں کے بھوکے ہیں (ان لوگوں کی ان حرکات سے) ملت بیضا کی عزت و حرمت جاتی رہی ۔

Preachers and Stiffs, all worship worldliness alike; The prestige of the pure religion is ruined.

7171

واعظ ما چشم بر بتخانه دوخت

مفتی دین مبین فتوی فروخت

ہمارے واعظوں کی آنکھیں بت خانوں پر جمی ہوئی ہیں ۔ ہمارے دین روشن کے مفتی فتوے بیچ رہے ہیں ۔

Our preacher fixed his eyes on the pagoda And the mufti of the Faith sold his decision.

7272

چیست یاران بعد ازین تدبیر ما

رخ سوی میخانه دارد پیر ما

دوستو! اب اس کے بعد ہمارے لیے کیا چارہ کار ہے ہمیں کیا کرنا چاہیے ۔ کیونکہ ہمارے پیر ومرشد نے شراب خانے کا رخ کر لیا ہے (وہ راہ راست سے پھر گیا ہے) ۔

After this, O friends, what are we to do? Our guide turns his face towards the wine-house.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

قلب را از صبغة الله رنگ ده

عشق را ناموس و نام و ننگ ده

علامہ اقبال»اسرار خودی»بخش 16 - در بیان اینکه مقصد حیات مسلم ، اعلای کلمة الله است و جهاد ، اگر محرک آن جوع الارض باشد در مذهب اسلام حرام است

اگلی نظم

سبز بادا خاک پاک شافعی

عالمی سر خوش ز تاک شافعی

علامہ اقبال»اسرار خودی»بخش 18 - الوقت سیف

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور